جنوبی پنجاب کے سیاسی نمائندوں کی خوش بیانی کے نمونے : میں شرمندہ ہوں


اس طرح کی گفتگو نہ صرف تھل کے ان چند سیاستدانوں تک محدود ہے بلکہ اور بھی اس طرح بہت سارے کردار ہیں جن کی گفتگو ریکارڈ پر ہے، جوکہ تھل کے عوام کے مزاج کی ترجمانی نہیں کرتی ہے۔

اب واپس آتے ہیں رکن قومی اسمبلی مجید خان نیازی اور احمد علی اولکھ کے واقعہ کی طرف۔ مجید خان کے الفاظ کو یہاں پر قلمبند ہی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس کوشش کے باوجود کہ ان کے کہے گئے لفظوں کی زہر نکالنے کی کوشش بھی کروں۔ پہلی بات تو یہ ہے کچہ کے علاقہ میں سیاست کے لئے ایک سلیبس یہ بنا دیا گیا ہے کہ آپ کو سیاستدان کے ساتھ ایک بدنام زمانہ کردار یا خود بننا ہوگا یا پھر فیملی ممبر کو متعارف کروانا ہوگا تاکہ آپ کامیاب سیاستدان بن سکیں اور لوگ آپ سے خوف کھائیں۔

یوں اسی سلیبس کا شکار مجید خان نیازی ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا خیال نہیں رکھا کہ ان کی اس طرح کی گندی زبان موصوف کو خود بھی مشکلات کا شکار کررہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ ان کے چاہنے والوں کو بھی بددلی کا شکار کررہی ہے۔ دریائے سندھ کے کٹاؤ سے عوام کو بچانے کے لئے فنڈز انہوں نے منظور کروائے تھے تو عوام کو جلسہ کرکے اپنی اس عوام دوستی کے بارے میں بتاتے اور واضح کرتے کہ احمد علی اولکھ کا ان فنڈز سے کوئی تعلق نہیں ہے، بات ختم ہوجاتی۔

لیکن انہوں نے اس کے برعکس کرکے الٹا اپنے آپ کو اس جال میں پھنسا لیا ہے جوکہ اس کے سیاسی مخالف بڑی دیر سے لگا کر بیٹھے تھے کہ موصوف غلطی کرے اور وہ اس کی سیاست کی کشتی کو دریا برد کریں۔ اسی طرح احمد علی اولکھ بھی اگر سمجھتے تھے کہ فنڈز ان کی وجہ سے تھے تو وہ بھی جلسہ کرسکتے تھے یاپھر کوئی کارنر میٹنگ کرسکتے تھے کہ انہوں نے دریا کے کٹاوکو روکنے کے لئے فنڈز منظور کروائے ہیں لیکن انہوں نے بھی ایسا نہیں کیا اور اپنی سیاسی زندگی کو ایک الجھن میں ڈال لیا ہے۔

پھر ان کے بیٹے اور حمایتوں کی طرف سے بھی کوئی ایسی زبان استعمال نہیں کی گئی جوکہ حوصلہ افزا ہوتی۔ اس بات سے اتفاق ہے کہ اولکھ کے ساتھ قابل مذمت واقعہ ہوا ہے۔ اب ان کی اس گفتگو سے نکلتے ہیں اور ان کی طرف آتے ہیں جن کی سونا اگلتی زمینیں، گھر بار اور زندگی کا پورا چل چلاؤ دریائے سندھ لے گیا ہے اور وہ دربدر ہوگئے ہیں اور باقی ماندہ لوگوں کے سر پر تلوار لٹک رہی ہے کہ کب دریائے سندھ ان کا بھی سب کچھ نہ لے جائے۔

ڈاکٹر جاوید کنجال کا دریائے کے کٹاؤ پر کہنا تھا کہ، ”بھاہ دا سڑیا وس پوندے لیکن ڈھا دا رلیا نی وسدا،“ مطلب جو آگ سے جل جائے وہ تو آباد ہوسکتاہے لیکن جو دریائے کے کٹاؤ کا شکار ہوجائے وہ دوبارہ نہیں آباد ہو سکتا ہے۔ ظاہر دریا کا کٹاؤ تو زلزلہ سے بھی زیادہ خطرناک یوں ہے کہ زلزلہ میں پھر بھی بہت کچھ بچ جاتاہے لیکن دریا کاٹے تو پھر زندگی نہیں ہوتی حد نظر پانی ہوتا ہے۔ آپ کا گھر، ڈھور ڈنگر سے زمینوں تک دریا لے جاتا ہے۔

دریائے سندھ کے ساتھ علاقوں کو خوشحالی کی بدولت ایک وقت میں کچہ کے علاقہ کو، ”کچھی سونے کی پچھی،“ قرار دیا جاتا تھا لیکن دریائے سندھ کے مسلسل کٹاؤ کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کی زندگی نا قابل بیان حد تک مشکلات کا شکار ہوگئیں ہیں۔ پنجاب حکومت خاص طور ضلعی انتظامیہ لیہ کا کردار رکن قومی اسمبلی مجید خان نیازی اور اولکھ کے واقعہ کے بعد انتہائی مایوس کن یوں ہے کہ ابھی تک دریائی کٹاؤ کو روکنے کے لئے سروے نہیں کروایا گیاہے، ہاتھ پر ہاتھ دھرے انتظامیہ بیٹھی ہوئی ہے۔

فنڈز اسی طرح پڑے ہوئے ہیں، ڈر ہے کہ پہلے کی طرح لیہ کے فنڈز لہور یا پھر ڈیرہ غازی خان منتقل نہ کردیئے جائیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ڈپٹی کمشنر لیہ سروے کرواتے اور ہنگامی طورپر دریائے سندھ کے کٹاؤ کو روکنے کے لئے عملی اقدامات کرتے لیکن پتہ نہیں وہ ایسے کیوں نہیں کررہے ہیں؟ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ کچھ مقامی لوگ اس بات کا تذکرہ کر رہے ہیں کہ دریائی کٹاؤ کو روکنے کے لئے ملنے والے فنڈز پر بڑا بننے کے پیچھے کمیشن کا عمل دخل ہے، ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔

اس کٹاؤ کو ہمیشہ کے لئے نہ روکنے کے پیچھے بھی یہاں وہی سائنس ہے کہ کمیشن چلتا رہے۔ دریا میں ہی پتھر ڈالنا ہے نا، اس کو بھلا کس نے چیک کرنا ہے؟ سمجھداروں کا کہنا ہے، ظالم منہ کو لگی بھلا کب چھوٹتی ہے، اس کے لئے جو زبان اور جو ذلت اٹھانی پڑے، بڑے بڑے گر جاتے ہیں، اس بات کو بھی نہیں دیکھتے ہیں کہ ان کی اس واردات کی وجہ سے دریائے سندھ کے کنارے آباد لوگ اور زمینیں تیزی کے ساتھ دریا نگل رہا ہے۔

اس طرف بھی توجہ اور تحقیقات کی ضرورت ہے کہ لیہ میں دریائی کٹاؤ کے سامنے سپر باندھنے کے لئے کس کس دور میں کتنے فنڈز جاری کیے گئے ہیں؟ اور کتنے پتھر دریا میں ڈال کر مستقل بند باندھے گئے ہیں تاکہ پتہ چلے کہ عملی طورپر اس حوالےسے کیا ہوا ہے یا پھر وہی بات ہے، دھندہ ہے پر گندا ہے۔ ان ساری حقیقتوں کے باوجود عرض اتنا کرناہے کہ فوری طورپر لیہ اوراس کی تحصیل کہروڑ کے کچہ کے علاقہ میں دریائے سندھ کے کٹاؤ کو روکنے کے لئے پنجاب حکومت فوری اقدامات کرے، وزیراعلی لیہ کا دورہ کریں۔ آخر پر میں بحیثیت تھل کے شہری یہاں کے سیاستدانوں کی گندی اور اخلاق سے گری ہوئی زبان پر شرمندہ ہوں اور آپ سے معذرت خواہ ہوں۔ وہ اس پر فخر کرتے ہیں تو کرتے رہیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2