حقوق کی جدوجہد: ہانگ کانگ سے سیکھنے کو بہت کچھ ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشل میڈیا تو آج کی پیداوار ہے مگر مزاحمتی تحریکوں کو منظم کرنے میں سوشل میڈیا بہت زمانے سے کام آ رہا ہے۔

اٹھارہ سو ستاون کی جنگِ آزادی میں انگریز جاسوسوں سے بچنے کے لیے ہندوستانی باغی سوکھی چپاتیوں کو پیغام رسانی کے لیے استعمال کرتے تھے۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد جب مولانا عبید اللہ سندھی نے ترکوں اور کابل کے امیر کے وعدے پر اعتبار کرتے ہوئے برصغیر کی آزادی کے لیے مزاحمت منظم کرنے کی کوشش کی تو پیغام رساں ایلچی سرخ ریشمی رومال بطور وٹس ایپ استعمال کرتے رہے۔ اس کا انکشاف تب ہوا جب پنجاب میں انگریز سی آئی ڈی نے ایک قاصد سے ریشمی رومال برآمد کیا جس پر عبید اللہ سندھی کی جانب سے مولانا محمود الحسن کے لیے پیغام درج تھا۔

ستر کی دہائی کا شاہی ایران جہاں ساوک کے خفیہ ایجنٹ قدم قدم پر پھیلے ہوئے تھے ایک خفیہ مزاحمتی نیٹ ورک آیت اللہ خمینی کی تقاریر آڈیو کیسٹس کے ذریعے ملک کے طول و عرض میں پہنچاتا رہا۔ اس کے سبب انیس سو اٹہتر میں شاہ کے خلاف عام آدمی کو گھر سے نکالنا ممکن ہو سکا۔

اکیسویں صدی میں قاصد، چپاتی، رومال اور کیسٹ کا کام وٹس ایپ، ٹویٹر، فیس بک اور انسٹا گرام وغیرہ نے سنبھال لیا۔ سوشل میڈیا کی طاقت کا اندازہ دو ہزار گیارہ میں ہوا جب بولنے اور لکھنے کی کڑی پابندیوں کے باوجود تیونس، قاہرہ، عمان، طرابلس اور بحرین میں روزانہ ہزاروں افراد کہ جن میں نوجوانوں کی اکثریت تھی اچانک ایک مقررہ وقت پر چیونٹیوں کی طرح جمع ہو کر شاہراہ بند کر دیتے یاکھلے میدان میں جلسہ، دھرنا شروع کر دیتے۔

حکومتوں کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ مظاہرین کون سا اطلاعاتی نظام استعمال کر رہے ہیں۔ اس زمانے میں اسمارٹ فونز کا استعمال بھی زیادہ نہیں تھا لہذا ایپس بھی اتنے نہیں تھے۔ فیس بک پیغام رسانی کا سب سے آسان و مقبول ذریعہ تھا۔ ایک میسیج رات گئے جاری ہوتا کہ فلاں اسکوائر میں کل دوپہر اتنے بجے مظاہرہ ہے۔ اور پھر یہ میسیج لاکھوں کی تعداد میں شیئر ہوجاتا۔ اسی لیے عرب اسپرنگ کو فیس بک اسپرنگ بھی کہا جاتا ہے۔

مگر جس طرح مزاحمت کار ہر دور میں رابطہ کاری کے لیے ریاستی و سرکاری ہتھکنڈوں کا توڑ نکالتے رہتے ہیں اسی طرح حکومتیں بھی توڑ کا توڑ کرنے میں پیچھے نہیں رہتیں۔ عرب اسپرنگ کے نتیجے میں حکومتوں نے عام شہریوں کا ڈیٹا جمع کرنے اور مصنوعی ذہانت کو اپنے مطلب کے لیے بھر پور طریقے سے استعمال کرنا شروع کیا۔ اس جدید آنکھ مچولی کا تازہ ترین مظہر ہانگ کانگ میں ہونے والے مظاہرے ہیں۔

ہانگ کانگ کی نوآبادی کو برطانیہ نے انیس سو ستانوے میں اس معاہدے کے تحت چین کے حوالے کیا کہ اگلے پچاس برس یعنی دو ہزار سینتالیس تک ہانگ کانگ اندرونی طور پر خود مختار رہے گا اور اپنی اقتصادی و انتظامی پالیسیاں وضع کرنے میں آزاد ہوگا۔ مگر پچھلے بائیس برس کے دوران ہانگ کانگ کے باشندوں کو کئی بار لگا کہ چین غیر علانیہ طور پر اپنی گرفت مسلسل مضبوط کر رہا ہے۔ چنانچہ دو ہزار چودہ میں کچھ مظاہرے ہوئے اور مقامی انتظامیہ نے کچھ لچک اور کچھ سختی کی پالیسی اپنا کر ان پر قابو پالیا۔

مظاہروں کی تازہ لہر جون میں شروع ہوئی جب ہانگ کانگ کی مقامی حکومت نے یہ مبہم قانون منظور کیا کہ سنگین جرائم میں ملوث ہانگ کانگ کے شہریوں کو مقدمہ چلانے کے لیے چین کی عدالتوں میں بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس قانون کے سبب بہت سے مقامیوں کو خدشہ ہوا کہ اس کا غلط اور عام استعمال بھی ہو سکتا ہے۔ چنانچہ پچھلے گیارہ ہفتے سے ہانگ کانگ بڑے بڑے احتجاجی مظاہروں کی لپیٹ میں ہے۔

اسٹیبلشمنٹ کی نظر سے بچنے کے لیے ان مظاہروں کی کوئی مرکزی قیادت بظاہر تشکیل نہیں دی گئی۔ حکومت مظاہرین کی شناخت کے لیے سوشل میڈیا کا ڈیٹا استعمال کر رہی ہے۔ چنانچہ لاکھوں شہریوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے ہیں، تصاویر اتار لی ہیں، انٹرنیٹ کی نگرانی سے بچنے کے لیے وٹس ایپ کے بجائے ٹیلی گرام نامی ایپ استعمال کیا جا رہا ہے جب کہ اسمارٹ فونز پر سے سوائے بہت ہی ضروری ایپس کے تمام ڈیٹا ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔

بظاہر مرکزی قیادت نہ ہونے کے باوجود لاکھوں مظاہرین خاصے منظم ہیں۔ پچھلے دنوں آپ میں سے اکثر نے ایک وائرل ویڈیو دیکھی ہو گی جس میں ایک ایمبولینس کو کس طرح احتجاجیوں کے جمِ غفیر نے پلک جھپکتے کائی کی طرح چھٹ کے سیدھاراستہ دیا اور ایمبولینس گزرتے ہی ہجوم پھر شیر و شکر ہو گیا۔

مظاہرین کو پولیس کے ڈنڈوں اور ڈھالوں سے اتنا ڈر نہیں جتنا ہائی اسپیڈ ڈیجیٹل کیمروں سے ہے۔ یہ کیمرے کسی بھی شخص کی تصویر لیتے ہیں اور اس کا پورا ڈیٹا پولیس کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ مظاہرین اس کیمرے سے بچنے کے لیے لیزر ٹارچیں بھی استعمال کر رہے ہیں۔ کیونکہ لیزر کا استعمال ان کیمروں کو درست تصاویر لینے سے روکتا ہے۔ اب پولیس ان لوگوں کے پیچھے ہے جنھوں نے لیزر ٹارچیں خریدیں۔

آج کل کسی بھی تحریک کو کچلنے کے لیے حکومتیں طاقت کے بھرپور استعمال سے پہلے اس تحریک کو غدار اور دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ہانگ کانگ میں یہ مرحلہ گزشتہ پیر کو آیا جب مظاہرین نے ایئرپورٹ کے لاؤنج پر قبضہ کر لیا۔ اگلے بہتر گھنٹے میں چار سو سے زائد پروازیں منسوخ کرنا پڑیں۔ چند مظاہرین بے قابو ہو گئے اور انھوں نے سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک پولیس افسر کو دھون کے رکھ دیا اور چین کے اخبار گلوبل ٹائمز کے رپورٹر فو گو ہاؤ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے ہاتھ ٹرالی سے باندھ دیے۔ یہ تصاویر وائرل ہونے سے مظاہرین کے رویے اور سمت پر نہ صرف عام شہریوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا بلکہ ہانگ کانگ کی انتظامیہ اور بیجنگ حکومت کی جانب سے بھی مظاہرین کے ڈانڈے دہشت گردی سے ملائے جانے لگے۔

چنانچہ مظاہرین کی قیادت ( جس کا بظاہر کوئی وجود نہیں ) نے حالات کو قابو سے باہر ہونے اور تحریک کو ریاستی طاقت کی جانب سے کچلنے کے امکان سے بچانے کے لیے عدالتی حکم کی روشنی میں ایئرپورٹ فوری طور پر خالی کر دیا۔ نئی حکمتِ عملی وضع ہونے اور تحریک کو پرامن رکھنے کی خاطر تین دن کے لیے مظاہرے معطل کر دیے اور بہت سے نوجوان ایئر پورٹ لاؤنج میں پلے کارڈز لے کر کھڑے ہو گئے جن پر کچھ اس قسم کی عبارتیں تھیں۔

” پیارے سیاحو کل ( منگل ) یہاں جو ہوا ہم اس پر معذرت خواہ ہیں۔ ہم سے جلد بازی میں کچھ ناپختہ فیصلے ہوئے۔ ان پر ہمیں انتہائی افسوس ہے“۔

” دوستو ہم نوعمر ہیں اور جمہوریت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اگر کوئی غلطی ہو جائے تو دل بڑا کر کے درگزر کر دیں“۔

اکیسویں صدی میں ٹیکنالوجی جہاں حقوق کی جد و جہد کو آسان بنا رہی ہے وہیں ٹیکنالوجی کا جوابی استعمال اس جدوجہد کو پہلے سے زیادہ مشکل اور پر خطر بھی بنا رہا ہے۔ ہانگ کانگ میں جو بھی نتائج نکلتے ہیں اس سے سیکھنے کے لیے ہم سب کے لیے بہت کچھ ہوگا۔ اگلی جدوجہد کے لیے بھی اور اگلے جبر کے لیے بھی۔
بشکریہ ایکسپریس۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •