کیا پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت خطرے میں ہے؟


پاکستان کی سیاست بھی عجیب نظارے پیش کرتی رہتی ہے کب کوئی وزیراعظم ہاؤس سے جیل چلا جائے کب کوئی زیرو سے ہیرو بن جائے یا پھر ایک سیٹ والا بندہ چیئرمین سینیٹ منتخب ہو جائے پتہ ہی نہیں چلتا۔ یھی وجہ ہے کہ 2018 کے الیکشن میں سندھ میں اکثریت سے کامیاب ہوکر صوبائی حکومت بنانے والی پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت خطرے میں پڑ گئی ہے! ابھی سے یہ باتیں گردش میں ہیں کہ اگلا وزیراعلی سندھ کون ہوگا؟

وہ بات الگ ہے کہ الیکشن سے پہلے ایسا ماحول بنایا گیا تھا کہ پی ٹی آئی، جی ڈی اے اور ایم کیو ایم پاکستان آپس میں مل کر سندھ گورنمنٹ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور پیپلز پارٹی کو اپوزیشن کی بینچوں پر بیٹھنا پڑے گا مگر پھر وہی بات کہ یہاں پر سیاست عجیب نظارہ پیش کرتی ہے۔ اور ایسے ہی بھیانک انتخابی نتائج، پر امید، جی ڈی اے کے لیے ثابت ہوئے۔ جہاں پر وہ اپنے یقینی حلقے بھی گنوا بیٹھے تھے، جن میں سید صدر الدین شاہ راشدی، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، ارباب غلام رحیم، ایاز لطیف پلیجو کے نام قابل ذکر ہیں۔

اب ہم سندھ میں ان ہاؤس تبدیلی کی طرف آتے ہیں۔ جس دن جعلی بینک اکاؤنٹس میں بنائی گئی جے آئی ٹی ( جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم ) رپورٹ کو پبلک کیا گیا تھا اس دن سے تحریک انصاف ( سندھ ) کے رہنماؤں کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا کہ سندھ میں ان ہاؤس تبدیلی کا وقت آن پہنچا ہے۔ اور بہت جلد سندھ اسمبلی میں موجود اپوزیشن جماعتوں سمیت پیپلز پارٹی کے ناراض ارکان اسمبلی سے مل کر اپنا وزیر اعلیٰ لایا جائے گا۔ مگر اس سلسلے میں نا تجربے کار تحریک انصاف نے جلد بازی کر ڈالی کیونکہ جی آئی ٹی رپورٹ کے چند روز بعد وزیر اعظم عمران خان نے اس وقت کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو سندھ کے دورے پر روانہ کیا تا کہ وہ اپوزیشن جماعتوں سے مل کر سندھ میں ان ہاؤس تبدیلی کا ماحول بنائیں مگر جی ڈی اے اور ایم کیو ایم پاکستان نے فواد چوہدری کو ”نو لفٹ“ سے نوازا اور سندھ میں پیپلز پارٹی کے نہایت کڑے سیاسی حریف، جی ڈی اے کے سربراہ، پیر پگارا نے بھی انہوں سے ملنے کی زحمت نہ کی۔

کیوں کہ انہیں علم تھا کہ آصف علی زرداری یا پھر مراد علی شاہ کی گرفتاری کے سوا بہت مشکل کام ہے۔ یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ یہی بات گھوٹکی سے تعلق رکھنے والے جی ڈی اے کے ایم پی اے سردار علی گوہر خان مہر نے وزیراعظم کو اسلام آباد میں ملاقات کے دوران کہی ہو مگر اس ساری صورتحال میں تحریک انصاف کی جلد بازی کا فائدہ ہر طرح سے پیپلز پارٹی کو پہنچا۔ مگر اب جب آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سمیت اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی بھی گرفتار ہیں تو اس بات کے امکان کو خارج نہیں کیا جا سکتا کہ سندھ میں کسی وقت بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔

اس کی ایک وجہ عمران خان کی لمبے وقت سے سندھ میں تبدیلی کی خواہش ہے۔ مگر یہ تب ہی ممکن ہے جب نیب وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے خلاف کوئی کارروائی کرے گی۔ اس وقت اگر سندھ اسمبلی میں نمبر دیکھے جائیں تو اپوزیشن جماعتوں کے ممبران کی تعداد 69 ہے۔ اور ان ہاؤس تبدیلی کے لیے 84 ممبر درکار ہیں اس حساب سے اپوزیشن جماعتوں کو اپنا وزیر اعلیٰ سندھ لانے کے لیے 16 پیپلز پارٹی کے ایم پی اے توڑنے پڑیں گے جو کہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ کیونکہ اگر ”کوئی“ بغیر کسی وزارت کی لالچ سے چیئرمین سینیٹ کو بچا سکتا ہے تو اس کہ لیے 16 ایم پی ایز توڑنا کوئی مشکل کام نہیں جبکہ یہاں وزیر اور مشیر بننے کا لولی پاپ بھی موجود ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ یہ ہوم ورک مکمل کر لیا گیا ہے بس اب مناسب وقت کا انتظار ہے۔ اور شاید یہ وقت اسی سال ہی آ جائے گا۔

Facebook Comments HS