سوشل میڈیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موجودہ دور میں سوشل میڈیا کی حقیقت اور اثرات سے متاثر ہوئے بغیر کوئی بھی نہیں رہ سکتا۔ پچھلے چند سالوں میں دنیا میں جو تبدیلی آئی ہے وہ الیکڑونک میڈیا، خصوصی طور پر سوشل میڈیا کی مرہونِ منت ہے۔ آج ہر انسان اس سہولیت سے مستفید ہو رہا ہے بلکہ ہر شخص جس کے پاس سمارٹ فون ہے وہ چند بنیادی اسکلز سیکھ کر اینکرپرسن اور رپورٹر بن سکتا ہے۔ میڈیا انڈسٹری میں MOJO اور سینٹرن جرنلزم نے انقلاب برپا کر دیا ہے جو آنے والے دنوں میں روایتی میڈیا کی سمت کا تعین کرے گا۔

آج ہم دنیا کے لئے گلوبل ولیج کی اصطلاح سے بخوبی واقف ہوچکے ہیں۔ آپ ایک سمارٹ فون کے ذریعے پوری دنیا کو اپنی مٹھی میں سمو سکتے ہیں۔ ہم اس بات سے بھی انکار نہیں کرسکتے کہ میڈ یا، چاہے وہ موبائل فون ہو یا کیبل، ٹی وی ہو یا انٹرنیٹ، اس نے ہماری زندگی کو متاثر کیا ہے۔ بیشک سوشل میڈ یا کے فوائد و نقصانات دونوں ہیں لیکن ہم آج صرف اُس کے فوائد اور موثر استعمال پر گفتگو کریں گے۔ سوشل میڈیا موجودہ دور کی ایجاد ہے اس لئے اس نے نوجوان نسل کو سب سے زیادہ اپنی طرف مائل کیا ہوا ہے۔

اس لئے نوجوانوں کی سوچ اور نفسیات کو سمجھنے کے لئے ان ذرائع کا استعمال بہت ضروری ہے۔ آج ہماری نوجوان نسل کو رہنمائی اور سمت کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں اُن تک پہنچنے اور اُن سے گفتگو کے لئے سوشل میڈ یا کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے نوجوانوں میں بے پناہ قدرتی صلاحیتیں موجودہیں لیکن ان کو مناسب سہولیات، مواقع اور رہنمائی ناگزیر ہے۔ نوجوان ہماری قوم کا چہرہ ہیں۔ نوجوان ”نئی صج کے امین ہیں“۔

میں نے ایک مرتبہ میڈیا کے سیمینار میں مقرر سے پوچھا کہ ”آپ کے خیال میں میڈیا اچھا ہے یا بُرا ہے؟“ تو اُنہوں نے بڑا خوبصورت جواب دیا کہ ”It ’s Heaven and hell. It‘ s up to you where you want to go“

ہمارے معاشرے میں ہمیشہ چیزوں کا استعمال منفی انداز میں کیا جاتا ہے۔ بد قسمتی سے اس کونوجوانوں کی زندگی میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت داخل کیا جاتا ہے تاکہ اُن کی زندگی کو برباد کرکے اپنے عزائم و مقاصد حاصل کیے جائیں۔ سوشل میڈ یا اس وقت ہر انسان کے زیرِ استعمال ہے، جس میں سب سے زیادہ فیس بک، ٹوئٹر، انسٹا گرام، وٹس ایپ، ایم ایم ایس اور ایس ایم ایس قا بلِ ذکر ہے۔ یہ تمام ذارئع جہاں انسان کے لئے معاشر تی، اخلاقی، مذہبی معلومات حاصل کرنے کا باعث ہیں، وہا ں یہ اپنے عزیز واقارب سے بات چیت کا ذریعہ بھی ہیں۔

سوشل میڈیا امن، تعلیم اور شعور کے پر چارکا بہترین اور آسان ترین ذریعہ ہے۔ ہمیں سوشل میڈ یا کو موثر انداز میں نوجوانوں کی رہنمائی کے لئے استعمال کرنے کے لئے ہر ممکن اقدام کرنے چاہئیں۔ دنیا ترقی کی منزل طے کرچکی ہے۔ آنے والے دور میں سوشل میڈ یا ایک بڑا ہتھیار ہو گا۔ ہمیں بھی وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ابھی یہ لائحہ عمل تیار کرنا ہو گا۔

انٹرنیٹ پر ایک مضمون پڑھتے ہوئے مجھے ایک بات بہت اچھی لگی جس کا میں نے خود بھی مشاہد ہ کیا ہے اور یقیناً آپ بھی اس بات سے اتفاق کریں گے کہ سوشل میڈ یا کے مثبت استعمال کو ایک عام انسان کبھی بھی نہیں سمجھ سکتا۔ وہ صرف اس کو اپنی ذاتی دل چسپی اور وقت گزارنے کے لئے استعمال کرتا ہے حالانکہ یہ ایجاد اس سے بہت بڑھ کر ہے، جس کی وجہ سے ہم اپنی زندگی، معاشرے اور قوم میں ایک مثبت تبدیلی، شعور، سوچ اور تحریک پید اکر سکتے ہیں۔

اس کے ذریعے ہم معاشرے، واقعات و حالات اور مختلف چیزوں کے متعلق اپنے رائے اور خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ آج کل سوشل میڈ یا انسان کی سوچ، خیالات اور رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ سوشل میڈ یا لمحہ بہ لمحہ تازہ ترین، بحث وتکرار، فیس بک لائیو، آن لائن ٹی وی، ریڈیو، ویڈیوز، ملکی اور عالمی میڈیا، دین ودنیا، علم وہنر، فنون، لطیفہ اور کھیل کُود کی مفید معلومات اور کارآمد لنکس کا عظیم مجموعہ ہے۔ سوشل میڈیا مختلف لوگوں سے ملاقات کابہترین ذریعہ ہے۔ موجودہ دور میں افراتفری، بے چینی، مایوسی اور ٹینشن ایک بیماری کی طرح پھیل رہی ہے۔ ہر انسان وقت، حالات، مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے پریشان ہے۔ ہمارا ذمہ صرف یہ کام ہے کہ ہمیں دوسروں کے لئے روشنی، اُمید اور تسلی کا وسیلہ بننا ہے۔

نوجوانوں میں سوشل میڈیا کے موثر، بامقصد اور مثبت استعمال کو فروغ دینا ہو گا۔ نوجوانوں میں اس تجسس کو پالش کر کے اُن کو مناسب ٹریننگ دی جائے تو وہ اپنے شوق کو معاشرے میں بہتری کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے ہم سب کو اپنی رائے اور آواز کو دوسروں تک پہنچانے کی سہولیت دی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سوشل میڈیا کے مثبت استعمال سے لوگوں کی زندگی میں بہتری لائی جاسکے۔ سوشل میڈیا کے غیر ضروری، منفی اور بے تحاشا استعمال نے نوجوانوں اور خاندانوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ایسی صورتحال میں امن کے سفیروں، اچھائی کے پیامبروں اور دوسروں کی بھلائی کے لئے دردِ دل رکھنے والے انسانوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •