سلامتی کونسل کی مشاورت : کشمیر پر بیان دینے سے معذوری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشمیر کی صورت حال پر غور کرنے کے لئے سلامتی کونسل کے پندرہ رکن ملکوں کا خفیہ اجلاس کسی باقاعدہ اعلامیہ کے بغیر ختم ہوگیا ہے۔ اجلاس کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی استبداد کو روکنے کے لئے کوئی قدم اٹھانا تو ایک طرف، اس بارے میں کوئی بیان جاری کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا گیا۔

 اقوام متحدہ میں پاکستان ، چین اور بھارت کے مندوبین نے البتہ اپنے اپنے طور پر اس اجلاس کی صورت حال کو اپنے سرکاری مؤقف کی بنیاد پر بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کی مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ بھلے بھارت نے کشمیریوں کو گھروں میں بند کرکے ان کی آواز کا گلا گھونٹا ہؤا ہے لیکن آج پوری دنیا نے ان کی آواز سنی ہے اور ان کی صورت حال پر غور کیا گیا ہے۔

پاکستان کا اصرار ہے کہ 50 برس بعد سلامتی کونسل کے کسی اجلاس میں کشمیر کے معاملہ پر گفتگو ایک اہم پیش رفت ہے ۔ پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کا آغاز ہے ۔ اس معاملہ کو دنیا کے ہر فورم پر اٹھانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔ سلامتی کونسل کے پندرہ رکن ممالک ہیں ۔ ان میں سے چین، امریکہ، روس، برطانیہ اور فرانس مستقل رکن ہیں اور انہیں کسی بھی تجویز یا قرارداد کو ویٹو کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے۔ جبکہ دس ممالک سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن ہوتے ہیں۔ اس وقت سلامتی کونسل کی صدارت ایک غیر مستقل رکن ملک پولینڈ کے پاس ہے۔

آج منعقد ہونے والے اجلاس کی نوعیت مشاورتی تھی اور اس میں صرف رکن ممالک کے مندوب شریک ہوسکتے تھے۔ پاکستان یا بھارت کے نمائیندوں کو اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ اس اجلاس میں دیگر پہلوؤں کے علاوہ اس بات پر غور کیا گیا کہ کیا کشمیر کی صورت حال پر غور کے لئے سلامتی کونسل کا باقاعدہ اجلاس منعقد کیا جائے ؟ یا اس حوالے سے کون سے سفارتی اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔

بند کمرے میں منعقد ہونے والے اس خفیہ اجلاس میں چونکہ پاکستان اور بھارت کے نمائیندے شریک نہیں تھے اس لئے ان کے بیانات کو عمومی قومی پالیسی کا عکاس ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کے پاس اجلاس کی کارروائی کے بارے میں جو بھی معلومات ہیں ، وہ خفیہ میٹنگ میں شریک ہونے والے سلامتی کونسل کے رکن ممالک کے مندوبین کے ذریعے ہی ان تک پہنچی ہیں۔ البتہ چینی مندوب ژانگ جن سلامتی کونسل کے مستقل رکن کے طور پر اس اجلاس میں شریک تھے۔ انہوں نے اس مشاورتی اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا ہے کہ کشمیر کی صورت حال پر عمومی پریشانی موجود ہے اور دنیا چاہتی ہے کہ پاکستان اور بھارت اس معاملہ پر یک طرفہ طور سے کوئی اقدام نہ کریں۔ انہوں نے کشمیریوں کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے معاملہ کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پیچدگی پیدا ہوئی ہے۔

چینی مندوب کا بیان عمومی نوعیت کا ہے اور اس میں وہی باتیں کی گئی ہیں جو چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے گزشتہ ہفتہ کے دوران پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ملاقات میں بھی کہی تھیں۔ اس لئے چینی مندوب کے بیان کو سلامتی کونسل کے اجلاس کا سرکاری مؤقف قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس اجلاس کے خاتمہ پر اگر سب اراکین کشمیر کی صورت حال کو سنگین قرار دینے پر متفق ہوتے تو کسی نہ قسم کا بیان جاری کیا جاسکتا تھا یا مبصر بھیجنے اور صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے کوئی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ بھی ہو سکتا تھا۔ اور اگر رکن ممالک مناسب خیال کرتے اور کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورت حال کو امن عالم کے لئے بنیادی خطرہ سمجھتے تو فوری طور سے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلا کر معاملہ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جاسکتی تھی۔

سلامتی کونسل نے ان میں سے کوئی بھی اقدام کرنے سے گریز کیا ہے۔ بلکہ خاموش رہنا ہی بہتر متبادل سمجھا گیا ہے۔ اس صورت حال کی روشنی میں یہ سمجھنا غلط نہیں ہوگا کہ سلامتی کونسل نے فوری طور سے اس معاملہ میں مداخلت سے گریز کی پالیسی اختیار کی ہے اور کوئی اقدام نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حتی کہ تشویش جاری کرنے کے لئے بیان جاری کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا گیا۔ حالانکہ اگر پاکستان کے مؤقف کو یک طرفہ قرار دے کر نظر انداز بھی کردیا جائے تو بھی مقبوضہ کشمیر میں ایک کروڑ انسانوں کا دنیا سے رابطہ منقطع ہوئے دو ہفتے ہونے والے ہیں۔ وہاں ٹیلی فون اور انٹر نیٹ کی سہولتیں بند کی گئی ہیں ۔ بھارت کے سرکاری نمائیندوں کے علاوہ کوئی بھی کشمیر کی صورت حال اور وہاں کے لوگوں کی خیریت کے بارے میں کوئی بات وثوق سے نہیں کہہ سکتا۔ بھارتی نمائیندے اس معاملہ میں مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر سے اس دوران موصول ہونے والی خبروں کے مطابق آج نماز جمعہ کے بعد بھی لوگوں نے احتجاج کیا اور بھارتی سیکورٹی فورسز نے ان پر فائرنگ کی۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران بھی اسی قسم کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ شروع میں بھارتی حکومت نے ان کی تردید کی لیکن بعد میں وزارت داخلہ نے اس احتجاج اور تصادم کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں مٹھی بھر شر پسندوں کی کارستانی قرار دیا۔ اقوام متحدہ میں بھارت کے مندوب سید اکبرالدین نے بھی آج سلامتی کونسل کے رکن ممالک کے اجلاس کے بعد میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے اسی جھوٹ کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ کشمیر بالکل پر امن ہے اور بھارتی حکومت کشمیری عوام کی سلامتی کی ضامن ہے۔ ایک حکم نامہ کے ذریعے ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں کو ان کے مسلمہ اور متفقہ حقوق سے محروم کرنے والی حکومت کے نمائندے نہ جانے کس منہ سے یہ دعویٰ کرنے کا حوصلہ کرتے ہیں۔

بھارتی مندوب سید اکبرالدین کی اس بات سے تو اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ پاکستانی اور چینی مندوب نے اپنی قومی سفارتی پوزیشن کے تناظر میں آج منعقد ہونے والے اجلاس کے بارے میں میڈیا سے بات چیت کی ہے اور اسے سلامتی کونسل کی رائے یا اس کے رکن ممالک کا متفقہ مؤقف نہیں سمجھا جاسکتا۔ اس بات کو درست مانتے ہوئے بھی ، کشمیر کی سنگین صورت حال اور وہاں کے لوگوں کی بے بسی سے نظریں نہیں چرائی جاسکتیں۔

سید اکبرالدین کی سفارتی ڈھٹائی اور سفاکی کا یہ عالم ہے کہ ایک طرف وہ کشمیر کے بارے میں کئے گئے فیصلوں کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہیں تو اسی سانس میں یہ مضحکہ خیر دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ’بھارت اس معاملہ پر عالمی برادری سے کئے ہوئے ہر وعدہ کا پابند ہے‘۔ سید اکبرالدین سے زیادہ کون اس بات کو جانتا ہو گا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تسلیم کرتے ہوئے بھارت 70 برس قبل کشمیر میں استصواب کروانے کا وعدہ کرچکا تھا۔ لیکن اب اس وعدہ کو یاد کرنے کی بجائے کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دے کر وہاں آباد شہریوں کو قیدی بنایا گیا ہے لیکن اس کے باوجود بھارت امن کا خواہاں اور پاکستان شر پسند ہے۔

اقوام متحدہ میں بھارتی مندوب کا یہ دعویٰ بھی قابل قبول نہیں ہوسکتا کہ’ پاکستان دہشت گردی بند کرے تو اس سے مذاکرات ہوسکتے ہیں‘۔ بھارت نے تسلسل سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا پروپیگنڈا کرکے اس کے لئے عالمی اداروں میں مشکلات پیدا کی ہیں اور علاقے میں تصادم کی کیفیت پیدا کی ہوئی ہے۔ پاکستان کی ہر حکومت نے ہمیشہ امن اور بھائی چارے کی بات کی ہے۔ پاکستان کا ہمیشہ یہی مؤقف رہا ہے کہ کشمیر سمیت سب معاملات کو بات چیت سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ نریندر مودی کی حکومت نے دنیا میں پاکستان کو تنہا کرنے کی ناکام خواہش کی تکمیل کے لئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا ہے۔ پاکستانی لیڈروں کی طرف سے خیر سگالی کے ہر قدم کا منفی اور جارحانہ جواب دیا گیا ہے۔ اب پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگانے کا جھوٹ زیادہ دیر تک نہیں بیچا جاسکتا۔

بھارتی نمائندے کا سب سے مضحکہ خیز یہ مؤقف ہے کہ کشمیری عوام کو دہشت گردی سے بچانے کے لئے وہاں پابندیاں لگائی گئی ہیں جو بتدریج نرم کردی جائیں گی۔ گویا مٹھی بھر دہشت گردوں کو روکنے کے لئے ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو قید کیاگیا ہے اور ان پر زندگی کی ہر سہولت حرام کردی گئی ہے۔ یہ اگر بھارت جیسے بڑے ملک کی مکمل ناکامی نہیں تو بھارتی حکومت کا سفید جھوٹ ضرور ہے۔ یہ پابندیاں کشمیری عوام کی حفاظت کے لئے نہیں بلکہ انہیں محصور کرکے ان کے زمین پر قبضہ کرنے کا مجرمانہ فیصلہ کرنے کے لئے عائد کی گئی ہیں۔

جب بھی کشمیری عوام کو موقع ملا ،ان کی آواز نئی دہلی میں کئے گئے فیصلوں کے خلاف ہی بلند ہوگی۔ کوئی عالمی ادارہ یا سفارتی جھوٹ نہ تو کشمیریوں کی آواز کو تادیر خاموش کر سکتا ہے اور نہ ہی اس سے چشم پوشی کی جا سکے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1260 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali