ایک وعدہ تو سچا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سترہ اگست کے حوالے سے عرض ہے کہ میرا شمار ان لوگوں میں نہیں ہوتا جو ضیا الحق کو پاکستان کی تمام تر مصیبتوں اور عذاب کی واحد اور تنہا وجہ مانتے ہیں۔ ضیاء الحق نے اپنے سفر کی ابتدا جس رستے سے کی وہ اس نے خود نہیں بنایا تھا اور جس گڑھے میں وہ قوم کو پھینک گیا وہ گڑھا بھی اس کا کھودا ہوا نہیں تھا۔ اسکندر مرزا، ایوب خان اور یحییٰ خان وہ مرکزی تین افراد ہیں جن کے پیدا کئے حالات اور ماحول سے ضیاء الحق اور پرویز مشرف کی سیاسی یا سماجی پیدائش ہوئی۔ اس کی مثال ایوب خان کا اپنی ہی بنائی ہوئی اسمبلی کے سپیکر کو لکھا ہوا وہ خط ہے جس میں اس نے لکھا تھا کہ پاکستان کے تمام قومی ادارے تباہی کا شکار ہو چکے اور یہ صرف مسلح افواج ہیں جو ملک کا آخری اور واحد ادارہ ہے اور ملک کی آخری امید ہے جس کی وجہ سے وہ اب اقتدار یحییٰ خان کو سونپ رہے ہیں۔ اس خط کو پڑھنے کے بعد انسان حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ تاریخ کے سفر میں ہم کس حد تک منجمد ہو چکے ہیں کہ آج تک وہیں کھڑے ہیں۔

جذبات  کو ایک طرف رکھ کے اس بات کو سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ہماری مشکلات اور حیرت انگیز ناکامیوں کے ذمہ دار افراد نہایت خلوص اور دیانت داری سے وطن پرستی کا ثبوت دے رہے تھے، ان کے نزدیک وہ حقیقت میں ملک کی بھلائی اور سر بلندی کے لئے کام کر رہے تھے۔ یہ ایسے ہی تھا جیسے ہٹلر پر تمام الزام لگائے جا سکتے ہیں مگر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ وطن پرست یا نسل پرست نہیں تھا یا یہ وہ جرمنی سے محبت نہیں کرتا تھا۔ اس نے بھی اپنے ملک اور اپنی قوم کے لئے جو بہترین سمجھا، عین وہ ہی کیا اور ہوش کی ہر بات یا اصول کو اٹھا کر پھینک دیا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اس کی دیوانگی کی حد تک پہنچتی وطن پرستی کا انجام خود اس کی قوم اور ملک کے لئے کیسا ہوا۔

مسلہ کشمیر اپنے حل کی طرف چل پڑا ہے، ہمیں اچھا لگے یا برا، دنیا میں ہماری مرضی یا خوشی کی حیثیت اتنی ہی ہے جتنی کہ ہمارے پاسپورٹ کی، باقی سب کہانیاں ہیں۔ یہ جو کچھ ہو رہا ہے یا طے شدہ ہے یا اس بندوست کو مستقل کرنے کے لئے عالمی دنیا تل چکی ہے۔ 14 اگست کو وزیر اعظم عمران خان نے اپنا یا قوم کا غصہ بھارتی قیادت پر جی بھر کے نکالا، مگر اگلے دن 15 اگست کو نریندر مودی نے اپنی بانوے منٹ کی تقریر میں ایک مرتبہ بھی عمران خان یا پاکستان کا ذکر نہیں کیا، اس نے کشمیر کے بھارت میں ضم ہونے کا کریڈٹ ضرور لیا مگر پاکستان کے بارے میں کوئی توہین آمیز ریمارکس نہیں دیئے، کسی دھمکی یا تنقید کا جواب نہیں دیا۔ وہ جانتا تھا کہ اس سے عمران حکومت کی مشکل بڑھ جائے گی، سوال پیدا ہوتا ہے وہ ایسا کیوں چاہے گا کہ عمران حکومت کے لئے مزید مشکل پیدا نہ ہو؟ یہ کیا ہوا کہ اقوام متحدہ میں بھارتی سفیر آگے بڑھ کے پاکستانی صحافیوں سے ہاتھ ملا رہا ہے، مسکراہٹوں کے تبادلوں میں وہ کہتا ہے کہ بھارت نے پہل کی اور پاکستان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ ہمارے وزیر اعظم کو فون ملاتا ہے اور بیس منٹ کی بات چیت کا لب لباب یہ کہ بھارت اور پاکستان کو طاقت کا استعمال کئے بغیر بات چیت کرنی چائیے۔ یہ سب کشمیر کے موجودہ بندوبست کو مستقل کرنے کی کوششیں ہیں اور کچھ نہیں۔

مجھے یقین ہے کہ ہم اپنی روش چھوڑنے پر تیار نہیں اور نہ ہی راستہ بدلنے پر، اس لئے ہمارا مستقبل بھی ویسا ہی ہو گا جس طرح کا ہمارا ماضی ہے۔ آج بھی حب الوطنی سے بھرپور اذہان، ملک کی باگ دوڑ چلانے پر مصر ہیں۔ ان کو یقین کامل ہے کہ ملکی مفاد کو ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا، جو بھی ان سے اختلاف کرتا ہے وہ در اصل قومی مفاد کے خلاف ہے لہذا غدار ہے اور ہر اس سزا کا مستحق ہے جو اسے دی جا سکتی ہے۔

سچی بات چاہے کتنی بھی کڑوی ہو ماننی پڑتی ہےکہ ہم ان پر خلوص افراد کو سمجھانے، سکھانے یا مجبور کرنے میں ناکام رہے کہ وہ اپنی قومی ذمہ داریوں تک ہی محدود رہیں جس کا انہوں نے در اصل حلف بھی اٹھایا تھا، تو یہ ہی ملک اور قوم کی سب سے بڑی خدمت ہو گی۔ چونکہ ناکام رہے ہیں اس لئے قیمت بھی دے رہے ہیں اور دیتے رہے گے۔ مثلاً میڈیا کے سب سرپھروں کو سمجھانا مشکل تھا اس لئے ایک پوری کی پوری پلٹن کو میڈیا میں گھسا دیا گیا جو اب اکثریت میں ہے اور پیشہ ور صحافی آج اپنی ہی دنیا میں اقلیت ہے۔

سیکیورٹی اور سنسر شپ دنیا بھر میں ایک ہی وجہ سے لگائے اور چلائے جاتے ہیں اور وجہ ہے خوف۔ حکمران کا خوف جتنا بڑھے گا اس کی سیکیورٹی اتنی ہی بڑھتی چلی جائے گی۔ اسی طرح عوامی ردعمل کا خوف جتنا زیادہ بڑھتا چلا جائے گا سنسر شپ گہری ہوتی چلی جائے گی۔ ہم جانتے ہیں کہ اٹلی کے فاشسٹ حکمران دیانتداری سے سمجھتے تھے کہ ریاست کے سامنے فرد کی حیثیت کچھ بھی نہیں کیونکہ یہ فرد ہے جس کا فرض ریاست کی خدمت ہے نہ کہ ریاست افراد کی خدمت پر معمور کسی بندوبست کا نام ہے۔ اگر اس اصول کو آپ بھی صدق دل سے مان لیں تو پھر آپ کو بھی ہر تنقید کرنے والے سے ویسی ہی نفرت محسوس ہوگی جس طرح کی مسولینی یا اس کے ساتھیوں کو ہوتی ہو گی۔

 ماضی قریب کی بات ہے جب پرویز مشرف فرمایا کرتے تھے کہ ہم سے غلطی ہو سکتی ہے مگر ہمارے خلوص یا نیت پر شک نہ کیا جائے۔ مطلب یہ کہ کسی پالیسی پر تنقید کو دراصل نیتوں پر شک سمجھا جاتا ہے جس کے بعد رحم کی گنجائش کہاں بچتی ہے۔

موجودہ پرخلوص حکمرانوں کو بتانا، سمجھانا کہ بین الاقوامی دنیا میں جس مقام پر ہم آج کھڑے ہیں اس کی وجہ بھی وطن پرستی کے جذبات سے گندھے ہوئے سابق حکمران ہی تھے، جن کی نیت پر شبہ نہیں مگر ملک چلانے کے لئے جو ہنر درکار ہے، نہ ان کے پاس تھا اور نہ ہی آپ کے پاس ہے۔ قوم کی ترقی تب ہی ممکن ہوتی ہے جب اس قوم کے تمام طبقات، یکسو ہو کر اپنا اپنا مورچہ سنبھالنے کو تیار ہوں۔ مثال کے طور پر فوج کو بہترین ہتھیار چاہئیں، اس کے لئے پیسہ درکار ہے، یہ پیسہ، سرمایہ کار ہی کمائے گا خود فوج نہیں۔ سائنسی میدان میں تخلیق کار دماغ ہی ایجادات کرے گا یہ کسی ایگزیکٹو آرڈر سے وجود میں نہیں آتیں۔ کوئی شک نہیں کہ کشمیر کے محاذ پر قوم بہت جذبات میں ہے، ہونا بھی چاہیے مگر اس سچائی کو مان کر آئندہ ایسی صورت حال سے بچنے کی تدبیر کیا ہو سکتی ہے، اس پر غور کرنے یا عمل کرنے سے کون روکتا ہے۔

آپ سوچیں تو ٹیکنالوجی کے انقلاب نے ہمارے سمیت ہر ایک قوم کو موقع فراہم کیا ہے کہ وہ صحیح معنوں میں خود مختار بن سکتی ہے۔ کبھی سوچیں کہ ایک اوبر نامی ایپ دنیا بھر میں اتنے لوگوں کو خاموشی سے روزگار فراہم کر چکا جو شاید کسی حکومت کے بس کی بات نہیں۔ آج دنیا کے پانچ سو سے زائد شہروں میں اوبر یومیہ ایک کروڑ پچاس لاکھ سفری سہولت مہیا کر کے کم و بیش بیس لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ خود پاکستان میں کتنے ہی سفید پوش افراد، طلباء اس سروس سے استفادہ کر کے اخراجات کو پورا کر کے اپنی سفید پوشی کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔

یہاں تک لکھا تھا کہ ایک خبر دیکھی۔ کراچی کے علاقے بہادرآباد میں ایک پندرہ سال کے بچے کو بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا گیا۔ دو افراد نے پہلے اس کو زنجیر سے باندھا اس کی فلم بنائی جس میں وہ ایک پندرہ سال کے بچے ہی کی طرح ہلتا جلتا بندھا کچھ کہہ رہا تھا، اس کی آنکھوں میں ویسی ہی معصومیت اورخوف تھا جیسا اس عمر میں ہو سکتا ہے۔ اس کے وہم وگمان میں نہ ہوگا کہ یہ فلم تو ابتدا ہے، تھوڑی دیر میں اس کو چوری کے شبے میں تشدد کر کے مار دیا جائے گا۔ ایک ایک چوٹ پر وہ درد سے کیسے بلبلایا ہو گا۔

 مجھے شرم آتی ہے، ندامت ہے کہ میں اس قوم سے تعلق رکھتا ہوں جہاں درندے سر عام بچوں کو ہلاک کرتے ہیں۔ میں خود پر نفرین بھیجتا ہوں کہ اس بچے اور اس جیسے لاکھوں بے بسوں کے لئے میں کچھ نہ کر سکا۔ ایک پندرہ سال کا بچہ، رنگا رنگ سکرینوں پر دولت کی فحاشی دیکھ کر نہ جانے کس ضروت کے تحت چوری کر بھی بیٹھا جو ثابت نہیں۔ اسے محض ایک شبے پر باندھ کر درندوں نے مار دیا۔ میرا دل ماتم کرتا ہے کہ ظلم کے جس نظام میں ہم جی رہے ہیں اس کو بدلنے کی بات کہیں شروع تک نہیں ہوئی۔ اس کے قاتلوں کو کچھ نہیں ہو گا۔ وہ جیتے رہیں گے۔

ان جیسے لاکھوں بچوں کو زیادہ پیسہ خرچ کئے بغیر صرف مقامی حکومتوں کا نظام لا کر بچایا جا سکتا تھا، آج بھی بچایا جا سکتا ہے، سب جانتے ہیں مگر کوئی مقامی حکومتیں نہیں بننے دیتا۔ اور نہ ہی کبھی بننے دے گا کیونکہ طاقت چھوڑنے پر کوئی تیار نہیں۔ اس جیسے ان گنت بچے ہر روز راستوں پر بھیک مانگتے، معصوم دلوں میں خوف اور خواہش کے ساتھ بربریت کا نشانہ بنتے ہیں۔ میرے جیسے لوگ صرف بکواس کرتے ہیں۔ تو چلیں شروع کریں، بھارت کشمیر میں ظلم کرتا ہے، زرداری نواز چور ہیں۔ ضیاء الحق ظالم تھا۔ عمران خان مسیحا ہیں۔

اس بچے نے آدھے بازوؤں کی کالی ٹی شرٹ پہنی تھی جس پر سفید رنگ میں لکھا تھا ” اپنا وقت بھی آئے گا” بعد میں اس کی لاش کی تصویر اسی ٹی شرٹ میں دیکھی۔ اس کا وقت آ ہی گیا تھا۔ ہماری ساری نوجوان نسل اور بچے اسی خواب کو دیکھتے اسی طرح دنیا سے جائیں گے اور یہاں نعرے لگتے رہیں گے، یہ چور ہے وہ ڈاکو ہے، بھارت ظالم ہے، دنیا بے حس ہے۔

ہم جو اپنے بچوں کے نہ بن سکے، کسی اور کے کیا بنیں گے۔ مجھے اپنے بے رحم نظام اور معاشرے سے اب کوئی جھوٹی امید بھی نہیں۔ ہم ٹھیک ہونے والوں میں سے نہ کبھی تھے اور نہ کبھی ہو پائیں گے۔ یہاں کبھی خوشحالی نہیں آئے گی، یہاں کبھی انصاف نہیں ملے گا۔ یہ ہر طرح کے حسین خوابوں، امیدوں، اچھائیوں اور معصومیت کی قتل گاہ ہے اور رہے گی۔ یہاں صرف باتوں اور نعروں کے تاجر اپنی دیہاڑیاں لگائیں گے اور کبھی کچھ نہیں بدلے گا۔ میں اپنے رب کے حضور دعاگو ہوں کہ قیامت برپا کرنے میں اور دیر نہ لگائیے، جب ایک دن مقرر ہے تو پھر انتظار کیسا؟ ان بے رحم مناظر سے روح گھائل ہو کر چھلنی ہو چکی۔ اور کتنا ظلم یہاں ہو گا میرے مالک، بہت ہو چکی، یہاں سب جھوٹے وعدے ہیں، سب جھوٹ، بس قیامت کو برپا کر دے اور پورا کر دے اپنا وعدہ، یوم حساب کا سچا وعدہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •