اپنا ٹائم آئے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
غالب نے اپنے لاڈلے بھتیجے عارف کی مرگِ جواں سال پے یہ شعر کہا۔ وہ شہرہ آفاق شاعر تھے تو اج تک عارف اس شعر کے پس منظر کی صورت زندہ ہے۔

ریحان جس کی ابھی مسیں بھی نہ بھیگی تھیں۔ پندرہ سال کا غریب بچہ تھا۔ نہ تعلیم کی جانب کسی نے رغبت کرائی نہ تربیت کے لئے ماں باپ کو فکرِ معاش نے فرصت دی۔ جیسے ایسے گھر کے بچے پل جاتے ہیں اسی انداز میں ریحان بھی اس قابل ہو گیا تھا کہ قصائی کے کام میں مددگار کے طور پے دیہاڑی لگا سکے۔ دیہاڑی کے چار پیسے اس نادان عمر میں ہاتھ آتے ہوں گے تو کیا کیا نہ کرنے کو دل مچلتا ہو گا؟ تکے بوٹی پیٹ بھر کے کھا لوں، ٹھنڈی بوتل پی لوں، اپنے لئے نئی ٹی شرٹ اور جنیز لے لوں۔ ایسی ہی ایک شرٹ جس پے لکھا تھا، اپنا ٹائم آئے گا۔ اس جملے کو شہرت تو ایک مصرعے کے طور پے ملی لیکن اس ایک جملے میں کتنے خوابوں گندھے ہیں؟ کتنی امید بندھی ہے؟ یہ ہم سب جانتے ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ اس بچے نے یہ فلم ضرور دیکھی ہو گی جس میں جھونپڑ پٹی کا ایک لڑکا یہی گاتے ہوئے امیروں کی دنیا میں در آتا ہے اور اپنی تذلیل سہہ کے بھی ان امیر زادوں کی ناک نیچی کر کے مقابلہ جیت جاتا ہے۔

کون نہیں جانتا کہ بڑے بڑے بنگلوں میں رہنے والے بیشتر لوگ جوڑ توڑ، ٹیکس، بجلی، گیس کی چوری کرتے اور رشوت دیتے یا لیتے ہوئے ان عالیشان محلوں میں آ بیٹھے ہیں۔ ریحان بھی جانتا ہو گا۔ کہ اس کی غربت جی وجہ کہیں نہ کہیں ان کروڑوں کی گاڑیوں میں پھرنے والے ہی ہیں!

ریحان کی جس بے رحمی سے تذلیل کی گئی اور پھر تشدد سے اپنی ذہنی تسکین کرتے ہوئے جان لے لی گئی۔ اگر اب اس بچے کو انصاف نہ ملا تو یہ بے عدلی نجانے کتنے نئے ریحان پیدا کرنے کا باعث ہو گی۔

لیاری، قصبہ کالونی، اورنگی، کورنگی، عیسی نگری، ضیاء کالونی، سرجانی ٹاؤن، آل آصف اسکوائر، شیریں جناح کالونی، خیر آباد یہ کراچی کے وہ علاقے ہیں جہاں کے جرائم پیشہ گروہ پچھلے تیس سال سے سنسی خیز خبروں کا مواد رہے ہیں۔ دہشت کا نام بن کے ابھرنے والے مافیا ڈان علاقے میں خوف کی دھاک بھی تھے اور ریحان جیسے ہزاروں بچوں کی نظر میں غریبوں کے مسیحا بھی! کچھ بعید نہیں کہ وہ وقت بھی آجآئے کہ انڈین مافیا لارڈز کی طرح ان پے پاکستان میں بھی فلمیں بن جائیں۔ بابا لاڈلا۔ رحمان ڈکیت۔ عذیر بلوچ اور ارشد پپو افسانوی کردار بن جائیں۔

ایک جانب ان پسماندہ علاقوں میں کسی قسم کی تعلیمی، تفریحی اور گھریلو صنعت کی تربیت کے لئے کام کرنے والے نجی ارادوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔ حکومت نے کبھی اس جانب خود بھی توجہ نہ دی۔ یہ سچ نہیں کہ ان بچوں کے والدین ان کے بہتر مستقبل کے لئے بساط بھر کوشش نہیں کرتے یا فکر مند نہیں ہیں۔ در حقیقت وسائل کی کمی ان کی راہیں مسدود کر دیتی ہے۔

ریحان کی بہیمانہ تشدد کی ویڈیو کم مائیگی۔ نفرت اور معاشرتی نا انصافی کے آتش گیر ڈرم میں ایک چنگاری ثابت ہو سکتی ہے۔ اس وقت کسی نے اس ظلم کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کر لیا تو جرائم اور قتل و غارت کا وہ بازار گرم ہو گا کہ بات ہاتھوں سے نکل جآئے گی۔ جو ڈاکو پہلے گھر کا صفایا کرتے ہوئے، خواتین کو ایک کمرے میں بند کر کے نگاۂ بد ڈالنا بھی گناہ سمجھتے ہیں۔ مردوں کو دھمکا کے محض اسباب لوٹنے پے اکتفا چاھتے ہیں۔ وہ اگر بدلے پے اتر آئے تو؟

ریحان ہمارا بچہ تھا۔ سول سوسائٹی کی ذمہ داری ہے کہ اس معصوم کے قتل ناحق پے اواز بلند کرے۔ اس کے جرم کی سزا اتنی سنگین تو قانون کے مطابق بھی نہیں ناکہ یہاں قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے اسے برہنہ کر کے ویڈیو بنائی گئی، وہ بچہ سب تفصیل دے چکا تھا پھر بھی اسے پولیس کے حوالے نہیں کیا گیا۔ اوّل تو تفتیش کرنا ہی ان افراد کا کام نہیں تھا جو اس کی سانسوں کے مالک بن کے اسے کے لئے موت کے فرشتے ثابت ہوئے۔ یہ قتلِ عمد کا کیس ہے۔ یہ خونِ ناحق ہے۔ یہ ایک معصوم کی فریاد ہے۔

غریب کو روٹی دو نہ دو اس کی جان تو نہ لو!
ریحان کی قمیض پے لکھے الفاظ اگر نعرہ بن گئے تو اچھے اچھوں کا ٹائم خراب ہو گا۔

سچ ہے کہ ہم زندگی کی روزمرہ چکی میں ایسے پس رہے ہیں کہ اپنی ناک سے آگے کچھ دکھائی دینا تقریباً بند ہو گیا ہے۔ جو ہوتا ہے چند دن کے سوشل میڈیا واویلا کے بعد تاریخ کے پنّوں میں دفنا دیا جاتا ہے۔ لیکن کچھ جنازے اٹھ تو جاتے ہیں مگر اپنے ساتھ قوموں کی سلامتی و سکون بھی ساتھ لے جاتے ہیں۔ سیالکوٹ میں منیب اور مغیث بٹ کے ساتھ چوری کے الزام پے جو ستم ہوا تھا اس کی کیا شنوائی ہوئی؟ یاد ہے کہ دو جوان بچوں کو مار کے چین نہ ملا تو ان کی لاشیں گلیوں میں گھسیٹی گئیں اور پھر انہیں لٹکا کے جلا دیا گیا! کسی کو علم ہے کہ اس کیس کے مجرمان کو کیفرِ کردار تک پہنچایا گیا؟

یہ واقعات عوام کی ذہنی کیفیت کے غماز ہیں۔ یہ اشارہ ہیں کہ ہم ایک حیوانی معاشرے میں تبدیل ہو چکے ہیں، ذرا انکھ چُوکی تو وہ کہرام بپا ہو گا کہ کوئی گھر شاید ہی سلامت رہ پائے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •