اس خطرناک مجرم کا کہنا تھا ”اپنا ٹائم آئے گا“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک پندرہ سالہ لڑکا جس کو چوری کے الزام میں علاقہ مکینوں نے مار مار کر مار ہی ڈالا۔ والدہ کے مطابق وہ لڑکا عیدِ قرباں پر قصاب کا کام کرتا تھا، عید پر کسی کی گائے ذبح کی جس کے پیسے لینے گیا تھا اور خود بھی اس نظام کی قرباں گاہ کی نذر ہو گیا۔ لڑکے کا اپنا کہنا کہ وہ یہاں گھومتا پھرتا رہتا ہے اور پہاڑی پر تاش کھیلنے جا رہا تھا۔

وہاں موجود پستول، ڈنڈا، رسی اور موبائل بردار منصفوں کا کہنا ہے کہ وہ کوئی عام بچہ نہیں تھا بلکہ پروفیشنل چور تھا جو تیسرے فلور سے بغیر کسی سیڑھی کے کھڑکیاں اور دیواریں پھلانگتا ہوا بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا اور جس نے ان کے گھر سے سامان چرایا، چھت سے گلی میں کھڑے اپنے ساتھیوں کو پہنچایا جو سامان لے کر فرار ہو گئے۔

لیکن یہ ”خطرناک“ مجرم بھرپور مارکے کے بعد معاشرے کے ان رضاکارانہ بنیادوں پر کام کرنے والے فرض شناس منصفوں کے ہتھے چڑھ گیا جن کی ذمہ داریاں ریاست کے ملازمین کی طرح نہ تو محدود ہیں نہ کسی ضابطے کی پابند۔ چنانچہ انہوں نے اپنا منصفی کا حق ادا کرتے ہوئے وہیں کے وہیں غیر مرئی تھانہ، کچہری، عدالت، پھانسی گھاٹ اور دیگر تمام انتظامات مکمل کر کے کارروائی شروع کی، ہوائی پرچہ کاٹا، ہنگامی عدالت لگائی اور بغیر چوری کا سامان برآمد کیے، بغیر چور سے کوئی اسلحہ برآمد کیے اس چار فٹ کے سوکھے سڑے بھیانک اور خطرناک چور کے بہیمانہ جرائم کو بغیر کسی ثبوت کے اس کے نہ ثابت ہونے والے جرائم کی سزا دینے کا فیصلہ کیا اور فیصلہ کرنے کے بعد وہیں اسے رسیوں سے باندھ کر، اس کی پتلون اتار کر مار مار کر سرِ عام اسے عبرت کا نشان بنا دیا۔

ان خدائی فوجداروں کو نہ اس کی جانب سے اقبالِ جرم درکار تھا نہ انہوں نے اس کی کسی صفائی یا وضاحت پر کان دھرے، ان کو صرف اور صرف اپنے فرض نبھانے کی لگن تھی اور وہ اپنی فرض شناسی میں ایسے دلیر تھے کہ ویڈیوز کے ذریعے اپنے اس ناک کام کو دنیا کے سامنے بھی لائے، جس کا مقصد ریاکاری نہیں بلکہ تحریک تھا تاکہ دوسرے لوگوں کے دلوں میں بھی یہ جذبہ جگا سکیں۔

چنانچہ انہوں نے مار مار کر اس کا وہ حال کیا کہ آخر وہ خطرناک ڈاکو وہیں دم توڑ گیا اور عبرت کا ایسا نشان بنا کہ دوبارہ ایسا کوئی خطرناک مجرم کسی ایسے گناہ کا ارتکاب کرنے سے پہلے سو بار کسی خدائی فوجدار کے ہاتھوں ہونے والے اپنے انجام کا سوچے گا۔

یہی اصولی طریقہ ہے کسی بھی معاشرے سے جرائم اور ظلم کے خاتمے کا۔ ہر کسی کو حق ہونا چاہیے کہ وہ اپنی عدالت لگائے، اپنے تھانے بنائے، خود ہی تفتیشی افسر ہو، خود ہی تھرڈ ڈگری ٹارچر کر کے مجرم سے اس کے جرائم اگلوائے اور خود ہی فیصلہ سنا کر بطور جلاد اسے پھانسی چڑھا دے یا چاہے تو ڈنڈوں اور ٹھڈوں سے مار مار کے موت کے گھاٹ اتار دے اور ہاں اس ساری کارروائی کے دوران ایک چیز کا خاص خیال رکھا جائے کہ ایسے ”خطرناک“ مجرموں کو سرِعام ننگا ضرور کرنا ہے۔ جتنی عبرتناک سزا ہو گی اتنا ہی دیگر مجرموں کے دل میں گلی گلی لگنے والی عدالتوں کا خوف پیدا ہو گا۔

نیا زمانہ ہے، معاشرت کے نئے طریقے ہیں، اس جدید دور میں صرف ریاستی ادارے ناکافی ہیں، پولیس اور عدالت ان روز افزوں جرائم کے تدارک کی مکمل ذمہ داری نہیں لے سکتی کہ ان کو اور بھی ہزار کام ہوتے ہیں۔ جن میں اپنے سے بڑے افسروں کے بچوں کو سکول سے لانا لے جانا، ان کی بیگمات کو شاپنگ کے لیے لے جانا، ان کے گھروں کی سیکیورٹی کا مکمل انتظام کرنا، اپنی اپنی کرسی پہ بیٹھ کر اونگھنا اور جب کبھی آنکھ کھلے تو کسی میڈیائی یا کسی اور دباؤ کے نتیجے میں پکڑے ہوئے وڈیرے یا سیاستدان کی اولاد کے قیام و طعام کا انتظام کرنا اس کے بعد اشرافیہ اور حکامِ بالا کے تلوے چاٹنا اور عوام کا خون چوسنا سرِ فہرست ہے اور یہ سب کام اور ذمہ داریاں اتنی سخت اور مشقت طلب ہیں کہ اس کے بعد ان گلی محلے میں دندناتے ”اپنا ٹائم آئے گا“ والی شرٹیں پہنے خطرناک قسم کے مجرموں کے لیے ان کے پاس وقت نہیں بچتا، آخر کو وہ بھی انسان ہیں، اب اتنی محنت طلب ڈیوٹیاں پوری کرنے کے بعد جو جیبیں گرم ہوئیں ان کی گرمی کم کرنے کے لیے انہیں ان پر کوئی ٹھنڈا ٹھار مشروب انڈیلنا پڑتا ہے پھر اس کے سرور میں کہاں پتہ چلتا ہے کب ڈیوٹی سے اٹھے اور گھروں کو چل دیے۔

ایسے میں ضروری ہے کہ خدائی فوجدار آگے بڑھیں اور گلی گلی فیصلے ہوں پھر وہیں کھڑے کھڑے ان فیصلوں پر عمل درآمد ہو۔

اس طرح ایک ضمنی فائدہ یہ بھی ہو گا کہ اس نظام کے ستائے ہوئے عوام کے حوصلے بلند ہوں گے۔ انصاف یا اپنے حقوق کے حصول کے لیے جن لوگوں کی حکومت کے ایوانوں اور عدالتوں تک رسائی ممکن نہیں ان کو گلیوں بازاروں میں کسی فلم کے سیٹ کی طرح سجا ہوا یہ سب میسر آئے گا تو وہ آسودہ ہوں گے کہ اب کوئی بھی فردِ واحد کھڑے کھڑے تمام فیصلے اور ان فیصلوں پر فوری عمل درآمد کا حق رکھتا ہے اور ہجوم میں جس کا جی چاہے وہ بطور سہولت کار اپنی خدمات اس منصف کو پیش کر سکتا ہے، اس کے لیے اسے نہ کسی پرمٹ کی ضرورت ہے نہ کسی حکم نامے کی۔ سب با اختیار ہیں، سب آزاد ہیں۔ سب کا اپنا قانون ہے اور اپنا راج۔ نہ کسی کو سوال کا خوف نہ جواب طلبی کا حق۔ جس کے جو جی میں آئے وہ کرے۔ نہ کوئی روکنے والا ہے نہ ٹوکنے والا۔

تبھی ہمارا معاشرہ ایک مثالی معاشرہ بن کر ابھرے گا جس کی انصاف پسندی کا دنیا بھر میں ڈنکا بجے گا۔ جس کی دنیا بھر میں مثالیں دی جائیں گی کہ اسلام کے نام پر وجود میں آنے والی یہ ریاست کیسی انصاف پسند ہے کہ اس میں ہر فرد اپنے آپ میں مکمل نظام ہے۔ اس لیے حکامِ بالا سے اس کارروائی پر کسی ازخود نوٹس کی اپیل ہے نہ کسی عدالت سے توجہ طلبی کی خواہش۔ پاکستان زندہ باد، ریاستی نظام پائندہ باد۔

نوٹ : مجرم بھی ایک انسان ہوتا ہے چنانچہ مارنے سے پہلے اسے صرف ننگا کیا گیا، جنسی زیادتی کا نشانہ نہیں بنایا گیا، انسان دوستی کی یہ ایک عظیم مثال ہے جو زمانوں تک یاد رکھے جانے کے قابل ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •