عورت مارچ کے اثرات

فی زمانہ کوئی بھی عمل جب کسی خاص مقصد کے تحت کیا جائے تو جلد یا بدیر اس کے منفی اور مثبت ہر دو طرح کے اثرات سامنے آتے ہی ہیں۔ کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ منفی اثرات فوری طور پر سامنے آ جاتے ہیں اور مثبت وقت لیتے ہیں۔ اسی طرح آٹھ مارچ…

Read more

عورت رے عورت!

عورت کو ہمارے معاشرے میں ہمیشہ برتا گیا ہے۔ مذہبی لوگ ہوں، لبرل یا کوئی تیسرا طبقہ جو کسی حد تک مذہبی اور تھوڑا بہت لبرل ہو ہر کسی نے ممکنہ حد تک عورت کا استحصال کیا اور مضحکہ خیز بات یہ کہ ہر طبقے نے اپنے علاوہ باقی سب پر یہ الزام دھرا کہ وہ عورت کے حقوق کے پاسدار نہیں۔ مذہبی مذہب کے نام پر بے جا پابندیاں لگا کر اور کالے کفن میں لپیٹ کر عورت کا استحصال کرتا رہا اور لبرل آزادی کے نام پر کھلے بندوں اسے سڑکوں پر آنے کے لیے اکسا کر یہی سب کر رہا ہے۔

عورت کو روایات سے بغاوت کے نام پر انتشار اور بدنظمی پھیلانے کے ٹول کے طور پر کام میں لایا جاتا رہا۔ مذہبی اور لبرل دونوں ہی طبقے خصوصاً عورت کے معاملے میں دو انتہاؤں پر کھڑے ایک دوسرے کو کھائی میں دھکیلنے کے خواہاں ہیں۔ اعتدال کا راستہ کسی نے نہیں اپنایا اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ عورت نے خود اپنے آپ کو ہمیشہ آسان ہدف بنائے رکھا۔ اس نے اپنے حقوق کو سمجھا نہ انہیں حاصل کرنے کے طریق پر توجہ دی۔

Read more

آٹھ مارچ کا عورت مارچ

ﻣﺠﮭﮯ اب ﺩﮬﻮﭖ ﭼﮑﮭﻨﮯ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﮯ ﺩﮮ
ﺗﺮﮮ ﺳﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺲ ﯾﺦ ﺑﺴﺘﮕﯽ ہے ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ہے

عورت کو ہمارے معاشرے میں ہمیشہ برتا گیا ہے۔ مذہبی لوگ ہوں، لبرل یا کوئی تیسرا طبقہ جو کسی حد تک مذہبی اور تھوڑا بہت لبرل ہو ہر کسی نے ممکنہ حد تک عورت کا استحصال کیا اور مضحکہ خیز بات یہ کہ ہر طبقے نے اپنے علاوہ باقی سب پر یہ الزام دھرا کہ وہ عورت کے حقوق کے پاسدار نہیں۔ مذہبی مذہب کے نام پر بے جا پابندیاں لگا کر اور کالے کفن میں لپیٹ کر عورت کا استحصال کرتا رہا اور لبرل آزادی کے نام پر کھلے بندوں اسے سڑکوں پر آنے کے لیے اکسا کر یہی سب کر رہا ہے۔

Read more

حسین مجروح کے مجموعہ فردیات ”اشعار“ پر کچھ بات

محترم جناب حسین مجروح ادبی حلقوں میں کسی تعارف کے محتاج نہ ہیں بلکہ ایک ایسا معتبر نام ہیں جن کے بارے میں ان کی غیر موجودگی میں بھی ہمیشہ اچھا ہی سنا اور لوگوں کو ان کے کلام کے ساتھ ساتھ ان کے عمدہ اخلاق اور زندہ دلی کی تعریف کرتے پایا۔ آپ سے پہچان حلقہ ارباب ذوق کے توسط سے ہوئی جب آپ حلقہ کے کرتا دھرتا تھے اور ایوانِ اقبال میں شاندار ہفتہ وار اجلاس کا انعقاد و اہتمام کیا کرتے تھے اور آنے والے مہمانوں کو ایسی گرم جوشی اور خلوص سے خوش آمدید کہتے کہ ہر کوئی خود کو اجلاس میں مہمانِ خاص تصور کرتا۔

Read more

ہائے مزے مزے۔ ۔ ۔

کچھ روز پہلے پاکستان حدود میں دراندازی کرنے والا بھارتی طیارہ مار گرایا، پائلٹ کی عوامی چھترول کے بعد اسے فوجی حراست میں لے لیا گیا۔ ایک ایک لمحے کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئیں۔ فوج اور حکومت کے طرف سے اعلان کیا گیا کہ ایک پائلٹ زندہ گرفتار کیا گیا جس نے بہتیری بھاگنے کی کوشش کی لیکن پکڑا گیا اور پاکستانی مہمان نوازی کے مزے لوٹ رہا ہے۔اس پائلٹ کی تصاویر اور ویڈیوز کو دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ اسے نا صرف گن پوائنٹ پر چائے پلائی گئی بلکہ چائے اور پاکستانی مہمان نوازی کی تعریف پہ مجبور بھی کیا گیا۔ پھر مزید لطف کے لیے چائے کے سڑکے بھی لگوائے گئے تاکہ اسے اور اس کے ملک اور اس کی آرمی ٹریننگ کو زیادہ سے زیادہ مذاق کا نشانہ بنایا جا سکے۔ بعد میں طے پایا کہ مہمان پائلٹ کو واپس جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔

Read more

سوشل میڈیا آرمی

ہمارے ہاں یہ عام روایت بن چکی ہے کہ کوئی عید تہوار ہو، کرکٹ میچ ہو، سیاسی الیکشن ہو یا جنگ، ہر چیز کا انعقاد و اہتمام دو جگہ پہ ہوتا ہے۔ ایک جگہ کے بارے میں تو سبھی جانتے ہیں کہ عید تہوار لوگوں کے درمیان شہروں دیہاتوں گلی محلوں میں منائے جاتے ہیں۔…

Read more

ہر شاعرہ میں پروین شاکر کو تلاش کرنے کا رویہ

پروین شاکر شاعری کا ایک منفرد نام ایک منفرد حوالہ۔ پاکستان میں بہت سی ایسی خواتین ہیں جن کی شاعری شاندار بھی ہے اور باکمال بھی لیکن جو شہرت اور ناموری پروین شاکر کے حصے میں آئی وہ کسی اور شاعرہ کو آج تک نصیب نہیں ہوئی۔ پروین شاکر روایتوں کی باغی اور نڈر شاعرہ تھیں جنہوں نے جرات مندی سے شعر کہا، بے باکی سے نظم لکھی اور اپنے دلی احساسات اور جذبات کو زبان دی۔

انکی شاعری کا حسن یہ ہے کہ اسے کسی مخصوص کیٹگری میں نہیں رکھا جا سکتا۔ ہر انسان مختلف اوقات میں مختلف طرح کے احساسات میں مبتلا ہوتا ہے۔ ان کی شاعری میں بھی مختلف رنگ ہیں۔ ان کی شاعری نہ تو مکمل طور پر مزاحمتی شاعری ہے اور نہ ہی مکمل طور پر مخصوص نسائی رنگ ان کی تخلیقات میں غالب نظر آتا ہے۔ بلکہ ان کی شاعری میں ایک مکمل حساس انسان دکھائی دیتا ہے جو بغاوت بھی کرتا ہے سیاست بھی کرتا ہے اور مصلحت سے بھی کام لیتا ہے۔

Read more

علی اعجاز: چلو چلو منہ کلیئر کرو

علی اعجاز جو کل اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے ایسے فنکار تھے جنہوں نے پاکستان فلم اور ڈرامہ انڈسٹری میں عروج کا دور بھی دیکھا اور پھر رنگوں روشنیوں کی اس دنیا سے مکمل طور پر کنارہ کشی تو اختیار نہیں کی البتہ رفتہ رفتہ کسی حد تک الگ ہوتے چلے گئے اور کبھی کبھار ہی ان کا کوئی نیا کام سامنے آتا۔

لیکن اس کے باوجود یہ اپنی عمدہ اداکاری اور منفرد قسم کے انداز کی وجہ سے بے شمار ذہنوں اور دلوں میں ایک مسرور کن احساس کی طرح جاگزیں رہے اور مدتوں رہیں گے۔ بہت سے لوگوں کا یہ خیال بھی ہے کہ علی اعجاز اوور ایکٹنگ کرتے تھے تو ان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مزاح دراصل اسی کا نام ہے۔ نارمل حالت سے ایب نارمل حالت میں آئے بغیر نہ تو مزاح پیدا کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس سے بھرپور طور پر لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔

Read more

سہل پسندی

سنتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب برصغیر پاک و ہند میں ایسا نظام تعلیم رائج تھا جس میں کردار سازی پہ بھرپور توجہ دی جاتی تھی جس میں اخلاق و اطوار کو نکھار کر آدمی کو انسان بنایا جاتا تھا اور تعلیم کا اصل مقصد انسان کی ایسی تربیت کرنا تھا جس کے بعد انسان حقیقی معنوں میں اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز ہونے کا اہل بن سکے۔ نیابت کا منصب سنبھالنے کے قابل بن سکے۔ پھر انگریز بہادر نے تجارت کی غرض سے سرزمین برصغیر پر قدم رکھا اور اسے سونے کی چڑیا کہہ کر اپنے قبضے میں کر لیا۔

Read more

16 دسمبر 2014 جیسے کالے دن موم بتیاں جلانے سے روشن نہیں ہوا کرتے

16 دسمبر 2014 جیسے کالے دن موم بتیاں جلانے سے روشن نہیں ہوا کرتے۔ ہاں البتہ ذہنوں دلوں اور ضمیروں کو روشن کر لیا جائے تو عین ممکن کہ آنے والے دنوں میں سولہ دسمبر 2014 جیسا سیاہ دن دوبارہ نہ آئے۔ ہماری اپنی کوتاہی، سکول کی ناقص سکیورٹی اور ریاست انتظامیہ کی انتظامیہ نا اہلی کی وجہ سے درندوں کی بربریت کا شکار ہونے والے ان معصوم بچوں کو شہداء کہہ کر ہم نہ جانے اپنے کون سے جذبے کی تسکین کرتے ہیں یا شاید اپنی شرمندگی کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ان معصوم بچوں پر ہوئے ظلم پر احتجاج کرنے اور اس طرح کے تمام مظالم کی مذمت کرنے اور اپنے آپ کے ساتھ یہ عہد کرنے کی بجائے کہ ہم آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے کچھ ایسا اہتمام کر جائیں کہ وہ اپنی زندگیوں کو خوف کی بجائے امن و آشتی کے سائبان تلے بسر کریں، ہم موم بتیاں جلا رہے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ کی طرح اس معاملے میں بھی سہل پسندی کا راستہ اپنایا اور ان بچوں کو جن کا حق تھا کہ انہیں جینے دیا جاتا ان پھولوں کو جن کا حق تھا کہ انہیں کھلنے دیا جاتا انہیں بچوں کے بے دردی سے پرخچے اڑا دیے جانے پر ہم ان ناسوروں کو بددعائیں دیتے ہوئے اور بچوں کی بہادری کے نغمے گاتے ہوئے اپنے آپ کو کس بے شرمی سے ایک عظیم قوم تصور کرتے ہیں۔

Read more