عامر لیاقت مر گیا

عامر لیاقت کی موت کی خبر سننے کے بعد سے بے شمار سوال دماغ میں گردش کر رہے ہیں۔ عامر لیاقت کی ذاتی زندگی سے لے کر مذہبی وزارت تک اور رمضان ٹرانسمیشن سے لے کر سستے اور نچلے درجے کے شوز تک اور پہلی باوقار شادی سے لے کر دوسری کے بعد پھر تیسری واہیات قسم کی شادیوں سے متعلق سوالات۔ ایک دھماچوکڑی سی مچی ہوئی ہے دماغ میں۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کیا عامر لیاقت

Read more

بدمعاش بچہ

ہم شہر لاہور میں نہر کنارے جس مقام پر رہتے ہیں وہ ایک چھوٹی سی ہاؤسنگ سکیم ہے۔ جیسے شہروں اور دیہات کے بیچ کہیں قصبے ہوتے ہیں جو مکمل شہر بنتے ہیں نہ دیہات رہتے ہیں بالکل اسی طرح یہ ہاؤسنگ سکیم بھی گنجان آباد محلوں اور ایلیٹ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی درمیانی سی حالت میں ہے۔ یعنی یہاں جو چاہے وہ محلے جیسا ماحول بنا کر اک دوسرے سے ملتا ہے اور جو چاہے وہ اسے سوسائٹی سمجھ کر

Read more

پدی گروہ

سب جانتے ہیں کہ ہر جھگڑے، ہر جنگ اور ہر الیکشن میں شامل دو فریقین میں سے، ہر ایک خود کو حق پر اور دوسرے کو باطل پر قائم سمجھتا ہے، اور یہی طریق ازل سے رائج ہے۔ حلقہ ارباب ذوق لاہور کے الیکشن میں بھی یہی ہوتا ہے کہ ہر فریق خود کو زیادہ اہل سمجھتا ہے۔ چند روزہ الیکشن کیمپین کے ذریعے اس بات کو ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش بھی کرتا ہے۔ پھر الیکشن ہوتا ہے اور آخرکار دونوں میں سے کوئی ایک زیادہ ووٹ حاصل کر کے سال بھر کی ذمہ داریاں سنبھال لیتا ہے۔ جب کہ کم ووٹ لینے والا عموماً فتح یاب ہونے والے کی حیثیت کو خوش دلی سے قبول اور تسلیم کرتا ہے۔ سو اس بار بھی یہی ہوا اور تمام معاملات بظاہر خوش اسلوبی سے اپنے انجام کو پہنچے۔ ہارنے والے فریق نے جیتنے والے کو خندہ پیشانی سے مبارک باد دی اور جیتنے والے گروہ نے خوش دلی سے قبول کی۔ لیکن بدقسمتی سے قصہ یہیں تمام نہیں ہوا۔

کوئی جنگ ہو، غزوہ ہو یا کسی بھی نوعیت کا الیکشن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب دو بڑے گروہوں کے اندر چھوٹے چھوٹے مزید گروہ پیدا ہونے لگتے ہیں، جن کے مقاصد تعمیری کے بجائے تخریبی ہوتے ہیں۔ ان گروہوں میں سے کچھ سازشی ہوتے ہیں، کچھ شریر اور کچھ منافق اور یہی سب اصل خرابی کی وجہ بنتے ہیں۔ حلقۂ ارباب ذوق لاہور کا جہاز اس وقت طوفانی لہروں کی زد پہ ہے۔ سنا ہے کہ کپتان مشاق ہو تو تقدیر بھی مہربان ہوتی ہے اور ڈوبتا جہاز بھی کنارے جا لگتا ہے۔ لیکن یہاں تو معاملہ ہی اور سے اور ہوا جاتا ہے۔

Read more

ادبی فسادیات

ہماری تحریکوں کی ناکامیابی کی وجوہات میں ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم کسی بھی ناپسندیدہ اور اپنے لیے ناقابل قبول (جو ضروری نہیں کہ ہر ایک کے لیے نا قابل قبول ہو) شے یا روایت کے خلاف تحریک چلانے یا اس پر احتجاج کرنے کے آداب سے نابلد ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے کہ ہمارا مقصد اصل میں ہے کیا اور شخصی مخاصمت کا شکار ہو کر اپنی مہم کو محدود بلکہ معیوب بنا لیتے ہیں۔

Read more

کھول دو بمقابلہ چھوڑ دو

”کھول دو“ سعادت حسن منٹو کے مقبول ترین افسانوں میں سرفہرست ہے۔ اس افسانے میں تقسیم برصغیر اور ہجرت کے دوران ایک لڑکی سکینہ کے ساتھ ہونے والے مظالم کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ جن سے اس کی ذہنی حالت اس قدر متاثر ہو جاتی ہے کہ کہ وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں جب کھڑکی کے لیے ڈاکٹر کے منہ سے کھول دو کے الفاظ سنتی یے تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس افسانے میں بری سوچ، غلط

Read more

انسانی رویوں کے مختلف پہلو۔ ۔ ۔

آپ میں سے بیشتر افراد نے اپنے ارد گرد ایسے لوگ ضرور دیکھے ہوں گے جو بڑی بے دردی اور بہت آسانی سے دوسرے انسانوں، ان کے احساسات، جذبات اور ان کی پسندیدہ اشیا کو رد کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ بظاہر کوئی چیز انہیں پسند نہیں آتی۔ کوئی انسان ان کے خود ساختہ معیارات پر پورا نہیں اترتا۔ کوئی جذبہ انہیں خالص نہیں لگتا اور کوئی یقین دہانی انہیں مطمئن نہیں کر پاتی۔ وہ نہ کسی کو کھل کر سراہتے ہیں نہ کسی کی خوبی کا اعتراف کرتے ہیں۔ نہ کسی پر اعتبار کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کو جلد اپنا رازدار بناتے ہیں۔

Read more

مشرق یا مغرب: ایک بار پِھر سوچ لیں

دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہمارے ہاں شہریوں کی اوسط عمر لگ بھگ ساٹھ پینسٹھ سال کے درمیان ہے۔ ایک ساٹھ ستر سال کی عمر کا عام انسان جس کی یادداشت کا مقیاس بھی غیر معمولی نہ ہو وہ جب مڑ کر اپنے ماضی کی طرف دیکھتا ہے تو عموماً اسے گزرے ہوئے تمام وقت میں چند نمایاں اور اہم واقعات و سانحات ہی یاد آتے ہیں اور ان میں سے بھی بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو

Read more

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

پچھلے دو تین مہینے میں نے خود کو جی بھر کے نظر انداز کیا اور نتیجہ اس کا حسبِ توقع برآمد ہوا کہ جب کسی خیال بلکہ بے خیالی سے چونک کر نظر آئینے پر ڈالی تو پتہ چلا کے آنکھوں کے نچلے پپوٹوں پر واضح لکیریں بن گئی ہیں۔ آج کل انہی لکیروں کو پیٹتے ہوئے وقت گزر رہا ہے اور اگر یہی صورتحال رہی تو قوی امکان ہے کہ اس پیٹنے سے خار کھا کر لکیریں اور بھی

Read more

وقت سے فائدہ اٹھائیں، اپنی ذات کا نفسیاتی دفاع سیکھیے

دوسروں کی نفسیات سے تو ہم جانے انجانے ہمیشہ ہی کھیلتے ہیں۔ چلیے لاک ڈاؤن کے دنوں میں اپنی نفسیات سے کھیلیے۔ یہ کھیل ضرور آپ کے لیے دلچسپ ثابت ہو گا اور اگر اس میں آپ کی دلچسپی لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد بھی برقرار رہی اور وقتاً فوقتاً آپ یہ کھیل کھیلتے رہے تو آپ اپنی ذہنی صحت پر اس کے مثبت اثرات خود محسوس کریں گے۔ انسانی نفسیات کی گتھیاں سلجھانا الجھے ہوئے ریشم کو سلجھانے

Read more

مختلف اور غلط کا فرق

انسانی نفسیاتی ایک گنجلک اور پیچیدہ موضوع ہے۔ انسانی نفسیات کو مکمل طور پر سمجھنے کا دعویٰ آج تک کوئی نہیں کر پایا۔ یوں سمجھ لیں کہ اس موضوع کے اتنے ہی مضامین یا پہلو ہیں جتنے اس زمین پر رہتے بستے زندہ انسان۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ کوئی اس موضوع کے ہر پہلو پر عبور حاصل کر سکے یا ایسا کوئی دعویٰ کرے۔ میرے مطابق موجودہ دور میں ضرور ہے کہ ہر فرد بنیادی نفسیاتی علوم سے واقف

Read more

اساتذہ کی تربیت اور اہمیت

ہائی اسکول اور کالج کی سطح پر سائنس کی تعلیم دینا آسان ہے کیونکہ اس کا ایک مخصوص طریقہ ہے اور استاد کی اس سبجیکٹ پر کمانڈ ہونا کافی ہوتا ہے۔ لیکن یہ معلوم کرنا مشکل ہو سکتا ہے کہ ہیومینٹیز (آرٹ سبجیکٹس) کلاس میں کیا کرنا ہے۔ طلبا قدرتی طور پر مختلف سطح کی مہارتوں اور صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔ اسی طرح ان میں ذہانت کا مقیاس بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ بعض طلبا بظاہر بہت

Read more

یعنی سارا دوش اس خراب معاشرے کا ہے اور اپنی حریم نِردوش ہے؟

ہمدردی کا جذبہ اچھی چیز ہے اور کسی مظلوم کے لیے آواز اٹھانا قابل صد تحسین امر، لیکن وقت کی ضرورت ہے کہ ایسا کرنے سے پہلے بہت سے عوامل پر غور کریں وہ سب لوگ جو حریم شاہ کی پچھلے کئی مہینوں سے مسلسل کی جانے والی قانون شکنیوں اور سائبر کرائم والے معاملے کو حریم کے والد کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سے ایموشنل ڈرامہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کو خود بھی شاید

Read more

نسلوں کی امانت کو آگے پہنچانے والے اساتذہ

ﺭﻭﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺍﯾﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﯾﺎﻧﺘﺪﺍﺭﺍﻧﮧ ﺗﻨﻘﯿﺪﯼ ﺟﺎﺋﺰﮦ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﺸﮑﯿﻞ ﻧﻮ ﮐﺴﯽ ﺑﻬﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮦ ﺍﻭﺭ ﻣﺘﺤﺮﮎ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻻﺯﻣﯽ ﺍﻣﺮ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺛﻘﺎﻓﺘﯽ ﻭﺭﺛﮯ ﮐﻮ ﺟﺪﯾﺪ ﺗﻘﺎﺿﻮﮞ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺁﮨﻨﮓ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﮔﻠﯽ ﻧﺴﻞ ﮐﻮ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺯﻧﺪﮦ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﯿﺶ ﻗﯿﻤﺖ ﻭﺭﺛﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺭﻭﯾﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺍﯾﺘﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﻗﻮﻣﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﺯﻧﺪﮦ ﻭ ﺟﺎﻭﯾﺪ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﯾﮧ

Read more

دو نمبر روشن خیالوں کی سازش اور عورت

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم دوسرے کے مقام کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور اگر سمجھ بھی لیں تو اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہمیں گراں گزرتا ہے کہ دوسرا جس مقام پر ہے اسے غیر اہم کہتے ہوئے آگے بڑھنا آسان نہیں۔ اصولاً ہونا تو یہ چاہیے کہ مرد کو یہ احساس دلایا جائے کہ گھریلو ذمہ داریاں نبھاتی ہوئی عورت بھی معاشرے اور گھر کی تعمیر و ترقی میں اس کی معاون و

Read more

میں ایسا کیوں ہوں!

میں ایسا کیوں ہوں! جب ﻋﻮﺭﺕ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﻰ ﺧﺮﺍﺏ ﻋﺎﺩﺕ ﯾﺎ ﮐﻮﺋﻰ ﺍﺧﻼﻗﯽ ﺭﺧﻨﮧ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﺭﻫﺘﯽ ﻫﮯ ﺗﻮ ﮐﮩﺘﯽ ﻫﮯ ” ﻣﺮﺩ ﺍﯾﺴﮯ ﻫﯽ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﯿﮟ۔ “ ﻣﺎﮞ ﮐﺎ ﺟﺐ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﺷﺮﺍﺭﺕ ﯾﺎ ﺑﺪﺗﻤﯿﺰﯼ ﭘﮧ ﺑﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ ﺗﻮ ﻣﺎﮞ ﮐﮩﺘﯽ ﻫﮯ ” ﺑﭽﮯ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﺮﺗﮯ ﻫﯿﮟ۔ “ ﻣﺮﺩ ﺟﺐ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺑﺪﺯﺑﺎﻧﯽ، ﺑﺪﺍﺧﻼﻗﯽ ﯾﺎ ﺑﺮﯼ ﻋﺎﺩﺍﺕ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﻫﺎﺭ ﺟﺎﺗﺎ ﻫﮯ ﺗﻮ ﮐﮩﺘﺎ ﻫﮯ ” ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﻫﯽ ﻫﻮﺗﯽ ﻫﯿﮟ۔ “ بزرگ

Read more

ڈینگی پروازیں اور عمران خان کے "کیک” حامی

”راولپنڈی میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں مزید ایک سو پچیس شہری ڈینگی بخار کا شکار۔“ ”وفاق میں ڈینگی سے متاثرہ 32 افراد پمز کے آئیسولیشن وارڈ میں زیرِ علاج۔ “ ”لاہور میں بھی روزانہ ڈینگی متاثرین کی تعداد میں اضافہ، مختلف سرکاری اور نجی ہسپتالوں کی طرف سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق ہر دن مریضوں کی میں اضافہ۔“ ملک بھر کے مختلف شہروں کی طرح لاہور میں بھی ڈینگی پروازیں بلا روک ٹوک جاری مگر لاہور ایئر

Read more

اس خطرناک مجرم کا کہنا تھا ”اپنا ٹائم آئے گا“

ایک پندرہ سالہ لڑکا جس کو چوری کے الزام میں علاقہ مکینوں نے مار مار کر مار ہی ڈالا۔ والدہ کے مطابق وہ لڑکا عیدِ قرباں پر قصاب کا کام کرتا تھا، عید پر کسی کی گائے ذبح کی جس کے پیسے لینے گیا تھا اور خود بھی اس نظام کی قرباں گاہ کی نذر ہو گیا۔ لڑکے کا اپنا کہنا کہ وہ یہاں گھومتا پھرتا رہتا ہے اور پہاڑی پر تاش کھیلنے جا رہا تھا۔

وہاں موجود پستول، ڈنڈا، رسی اور موبائل بردار منصفوں کا کہنا ہے کہ وہ کوئی عام بچہ نہیں تھا بلکہ پروفیشنل چور تھا جو تیسرے فلور سے بغیر کسی سیڑھی کے کھڑکیاں اور دیواریں پھلانگتا ہوا بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا اور جس نے ان کے گھر سے سامان چرایا، چھت سے گلی میں کھڑے اپنے ساتھیوں کو پہنچایا جو سامان لے کر فرار ہو گئے۔

Read more

اصل میں گندی عورت کون ہے؟

عموماً گندی عورت اسے کہا جاتا ہے جو بدکردار ہو، جو کسی ایسے فعل میں ملوث ہو جس کی نہ مذہب اجازت دیتا ہے نہ کوئی معاشرہ اور نہ ہی قانون یا گندی عورت اسے کہا جاتا جو جسم فروشی جیسے قبیح دھندے میں شامل ہو، جو ناچ گانے کو اپنا کاروبار بنائے ہوئے ہو۔ لیکن یہ ایک مخصوص لیبل ہے جو ایک خاص طبقے پر لگا کر اسے معاشرے کا ناسور سمجھ کر معاشرے سے الگ کر دیا جاتا

Read more

عورت مارچ کے اثرات

فی زمانہ کوئی بھی عمل جب کسی خاص مقصد کے تحت کیا جائے تو جلد یا بدیر اس کے منفی اور مثبت ہر دو طرح کے اثرات سامنے آتے ہی ہیں۔ کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ منفی اثرات فوری طور پر سامنے آ جاتے ہیں اور مثبت وقت لیتے ہیں۔ اسی طرح آٹھ مارچ کے خواتین مارچ پر فوری منفی اور مشتعل ردعمل کے بعد اب تبدیلی کی ایک خوشگوار لہر سامنے آئی ہے جس سے ثابت ہو رہا

Read more

عورت رے عورت!

عورت کو ہمارے معاشرے میں ہمیشہ برتا گیا ہے۔ مذہبی لوگ ہوں، لبرل یا کوئی تیسرا طبقہ جو کسی حد تک مذہبی اور تھوڑا بہت لبرل ہو ہر کسی نے ممکنہ حد تک عورت کا استحصال کیا اور مضحکہ خیز بات یہ کہ ہر طبقے نے اپنے علاوہ باقی سب پر یہ الزام دھرا کہ وہ عورت کے حقوق کے پاسدار نہیں۔ مذہبی مذہب کے نام پر بے جا پابندیاں لگا کر اور کالے کفن میں لپیٹ کر عورت کا استحصال کرتا رہا اور لبرل آزادی کے نام پر کھلے بندوں اسے سڑکوں پر آنے کے لیے اکسا کر یہی سب کر رہا ہے۔

عورت کو روایات سے بغاوت کے نام پر انتشار اور بدنظمی پھیلانے کے ٹول کے طور پر کام میں لایا جاتا رہا۔ مذہبی اور لبرل دونوں ہی طبقے خصوصاً عورت کے معاملے میں دو انتہاؤں پر کھڑے ایک دوسرے کو کھائی میں دھکیلنے کے خواہاں ہیں۔ اعتدال کا راستہ کسی نے نہیں اپنایا اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ عورت نے خود اپنے آپ کو ہمیشہ آسان ہدف بنائے رکھا۔ اس نے اپنے حقوق کو سمجھا نہ انہیں حاصل کرنے کے طریق پر توجہ دی۔

Read more

آٹھ مارچ کا عورت مارچ

ﻣﺠﮭﮯ اب ﺩﮬﻮﭖ ﭼﮑﮭﻨﮯ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﮯ ﺩﮮ
ﺗﺮﮮ ﺳﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺲ ﯾﺦ ﺑﺴﺘﮕﯽ ہے ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ہے

عورت کو ہمارے معاشرے میں ہمیشہ برتا گیا ہے۔ مذہبی لوگ ہوں، لبرل یا کوئی تیسرا طبقہ جو کسی حد تک مذہبی اور تھوڑا بہت لبرل ہو ہر کسی نے ممکنہ حد تک عورت کا استحصال کیا اور مضحکہ خیز بات یہ کہ ہر طبقے نے اپنے علاوہ باقی سب پر یہ الزام دھرا کہ وہ عورت کے حقوق کے پاسدار نہیں۔ مذہبی مذہب کے نام پر بے جا پابندیاں لگا کر اور کالے کفن میں لپیٹ کر عورت کا استحصال کرتا رہا اور لبرل آزادی کے نام پر کھلے بندوں اسے سڑکوں پر آنے کے لیے اکسا کر یہی سب کر رہا ہے۔

Read more

حسین مجروح کے مجموعہ فردیات ”اشعار“ پر کچھ بات

محترم جناب حسین مجروح ادبی حلقوں میں کسی تعارف کے محتاج نہ ہیں بلکہ ایک ایسا معتبر نام ہیں جن کے بارے میں ان کی غیر موجودگی میں بھی ہمیشہ اچھا ہی سنا اور لوگوں کو ان کے کلام کے ساتھ ساتھ ان کے عمدہ اخلاق اور زندہ دلی کی تعریف کرتے پایا۔ آپ سے پہچان حلقہ ارباب ذوق کے توسط سے ہوئی جب آپ حلقہ کے کرتا دھرتا تھے اور ایوانِ اقبال میں شاندار ہفتہ وار اجلاس کا انعقاد و اہتمام کیا کرتے تھے اور آنے والے مہمانوں کو ایسی گرم جوشی اور خلوص سے خوش آمدید کہتے کہ ہر کوئی خود کو اجلاس میں مہمانِ خاص تصور کرتا۔

Read more

ہائے مزے مزے۔ ۔ ۔

کچھ روز پہلے پاکستان حدود میں دراندازی کرنے والا بھارتی طیارہ مار گرایا، پائلٹ کی عوامی چھترول کے بعد اسے فوجی حراست میں لے لیا گیا۔ ایک ایک لمحے کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئیں۔ فوج اور حکومت کے طرف سے اعلان کیا گیا کہ ایک پائلٹ زندہ گرفتار کیا گیا جس نے بہتیری بھاگنے کی کوشش کی لیکن پکڑا گیا اور پاکستانی مہمان نوازی کے مزے لوٹ رہا ہے۔اس پائلٹ کی تصاویر اور ویڈیوز کو دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ اسے نا صرف گن پوائنٹ پر چائے پلائی گئی بلکہ چائے اور پاکستانی مہمان نوازی کی تعریف پہ مجبور بھی کیا گیا۔ پھر مزید لطف کے لیے چائے کے سڑکے بھی لگوائے گئے تاکہ اسے اور اس کے ملک اور اس کی آرمی ٹریننگ کو زیادہ سے زیادہ مذاق کا نشانہ بنایا جا سکے۔ بعد میں طے پایا کہ مہمان پائلٹ کو واپس جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔

Read more

سوشل میڈیا آرمی

ہمارے ہاں یہ عام روایت بن چکی ہے کہ کوئی عید تہوار ہو، کرکٹ میچ ہو، سیاسی الیکشن ہو یا جنگ، ہر چیز کا انعقاد و اہتمام دو جگہ پہ ہوتا ہے۔ ایک جگہ کے بارے میں تو سبھی جانتے ہیں کہ عید تہوار لوگوں کے درمیان شہروں دیہاتوں گلی محلوں میں منائے جاتے ہیں۔ کھیل میدان میں کھیلے جاتے ہیں اور عموماً گھروں میں بیٹھ کے ٹی وی پر ملاحظہ کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح الیکشن کا بھی مخصوص

Read more

ہر شاعرہ میں پروین شاکر کو تلاش کرنے کا رویہ

پروین شاکر شاعری کا ایک منفرد نام ایک منفرد حوالہ۔ پاکستان میں بہت سی ایسی خواتین ہیں جن کی شاعری شاندار بھی ہے اور باکمال بھی لیکن جو شہرت اور ناموری پروین شاکر کے حصے میں آئی وہ کسی اور شاعرہ کو آج تک نصیب نہیں ہوئی۔ پروین شاکر روایتوں کی باغی اور نڈر شاعرہ تھیں جنہوں نے جرات مندی سے شعر کہا، بے باکی سے نظم لکھی اور اپنے دلی احساسات اور جذبات کو زبان دی۔

انکی شاعری کا حسن یہ ہے کہ اسے کسی مخصوص کیٹگری میں نہیں رکھا جا سکتا۔ ہر انسان مختلف اوقات میں مختلف طرح کے احساسات میں مبتلا ہوتا ہے۔ ان کی شاعری میں بھی مختلف رنگ ہیں۔ ان کی شاعری نہ تو مکمل طور پر مزاحمتی شاعری ہے اور نہ ہی مکمل طور پر مخصوص نسائی رنگ ان کی تخلیقات میں غالب نظر آتا ہے۔ بلکہ ان کی شاعری میں ایک مکمل حساس انسان دکھائی دیتا ہے جو بغاوت بھی کرتا ہے سیاست بھی کرتا ہے اور مصلحت سے بھی کام لیتا ہے۔

Read more

علی اعجاز: چلو چلو منہ کلیئر کرو

علی اعجاز جو کل اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے ایسے فنکار تھے جنہوں نے پاکستان فلم اور ڈرامہ انڈسٹری میں عروج کا دور بھی دیکھا اور پھر رنگوں روشنیوں کی اس دنیا سے مکمل طور پر کنارہ کشی تو اختیار نہیں کی البتہ رفتہ رفتہ کسی حد تک الگ ہوتے چلے گئے اور کبھی کبھار ہی ان کا کوئی نیا کام سامنے آتا۔

لیکن اس کے باوجود یہ اپنی عمدہ اداکاری اور منفرد قسم کے انداز کی وجہ سے بے شمار ذہنوں اور دلوں میں ایک مسرور کن احساس کی طرح جاگزیں رہے اور مدتوں رہیں گے۔ بہت سے لوگوں کا یہ خیال بھی ہے کہ علی اعجاز اوور ایکٹنگ کرتے تھے تو ان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مزاح دراصل اسی کا نام ہے۔ نارمل حالت سے ایب نارمل حالت میں آئے بغیر نہ تو مزاح پیدا کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس سے بھرپور طور پر لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔

Read more

سہل پسندی

سنتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب برصغیر پاک و ہند میں ایسا نظام تعلیم رائج تھا جس میں کردار سازی پہ بھرپور توجہ دی جاتی تھی جس میں اخلاق و اطوار کو نکھار کر آدمی کو انسان بنایا جاتا تھا اور تعلیم کا اصل مقصد انسان کی ایسی تربیت کرنا تھا جس کے بعد انسان حقیقی معنوں میں اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز ہونے کا اہل بن سکے۔ نیابت کا منصب سنبھالنے کے قابل بن سکے۔ پھر انگریز بہادر نے تجارت کی غرض سے سرزمین برصغیر پر قدم رکھا اور اسے سونے کی چڑیا کہہ کر اپنے قبضے میں کر لیا۔

Read more

16 دسمبر 2014 جیسے کالے دن موم بتیاں جلانے سے روشن نہیں ہوا کرتے

16 دسمبر 2014 جیسے کالے دن موم بتیاں جلانے سے روشن نہیں ہوا کرتے۔ ہاں البتہ ذہنوں دلوں اور ضمیروں کو روشن کر لیا جائے تو عین ممکن کہ آنے والے دنوں میں سولہ دسمبر 2014 جیسا سیاہ دن دوبارہ نہ آئے۔ ہماری اپنی کوتاہی، سکول کی ناقص سکیورٹی اور ریاست انتظامیہ کی انتظامیہ نا اہلی کی وجہ سے درندوں کی بربریت کا شکار ہونے والے ان معصوم بچوں کو شہداء کہہ کر ہم نہ جانے اپنے کون سے جذبے کی تسکین کرتے ہیں یا شاید اپنی شرمندگی کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ان معصوم بچوں پر ہوئے ظلم پر احتجاج کرنے اور اس طرح کے تمام مظالم کی مذمت کرنے اور اپنے آپ کے ساتھ یہ عہد کرنے کی بجائے کہ ہم آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے کچھ ایسا اہتمام کر جائیں کہ وہ اپنی زندگیوں کو خوف کی بجائے امن و آشتی کے سائبان تلے بسر کریں، ہم موم بتیاں جلا رہے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ کی طرح اس معاملے میں بھی سہل پسندی کا راستہ اپنایا اور ان بچوں کو جن کا حق تھا کہ انہیں جینے دیا جاتا ان پھولوں کو جن کا حق تھا کہ انہیں کھلنے دیا جاتا انہیں بچوں کے بے دردی سے پرخچے اڑا دیے جانے پر ہم ان ناسوروں کو بددعائیں دیتے ہوئے اور بچوں کی بہادری کے نغمے گاتے ہوئے اپنے آپ کو کس بے شرمی سے ایک عظیم قوم تصور کرتے ہیں۔

Read more

دوسری شادی کے حق میں بولنے والی ایک خاتون

خود کو نمایاں کرنے کے چکر میں انوکھی حرکات اور انوکھی بات کرنے کی روایت نئی تو نہیں البتہ دور حاضر میں اس کی شدت میں کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ان دنوں ہماری ایک پیاری دوست مرد کی دوسری شادی کو لے کر پوسٹ پر پوسٹ داغے چلی جا رہی ہیں اور انداز ایسا ہے کہ جیسے مذہب میں دوسری شادی کی مشروط اجازت نہ ہو بلکہ یہ حکم ہو کہ ہر مرد کو دوسری شادی لازمی طور پر کرنی ہے اور لوگ اس خاص حکم کو بھولے ہوئے ہیں جب کہ وہ پیاری دوست اس حکم کو یاد دلانے کے مشن پر ہیں۔

Read more

دیسی انڈے

سو دن کی کارکردگی۔۔۔ خادمِ اعلیٰ سے لے کر خادم رضوی تک سب اندر اور دیسی انڈے باہر ۔۔۔ ہمارے ہاں یہ ایک عام رویہ ہے کہ جب عورت اپنے مرد کی کوئى خراب عادت یا کوئى اخلاقی رخنہ (اخلاقی رخنہ کی تفصیل موضوع کے اعتبار سے غیر ضروری ہے) دور کرنے میں ناکام رهتی هے تو کہتی هے "مرد ایسے هی هوتے هیں”- ماں کا جب بچے کی شرارت یا بدتمیزی پر بس نہیں چلتا تو وہ اپنی ناکام

Read more

فہمیدہ ریاض

جب ڈر اور خوف کے مارے ہوئے لوگ اپنی زندگی کے ہر معاملے میں مستقل طور پر مفاہمت اور مصالحت کی ڈگر پہ چلنے کے عادی ہو چکے ہوں اور اپنی محکومی کو ذہنی طور پر قبول کر چکے ہوں تو ایسے لوگوں کے وجود سے جنم لینے والے معاشرے مردہ معاشرے قرار پاتے ہیں۔ اور مرے ہوئے کو تو کوئی ایک رات سے زیادہ اپنے آنگن میں جگہ نہیں دیتا، چاہے وہ کسی کے کتنے ہی پیارے کا مردہ کیوں نہ ہو۔ تو کسی مردہ معاشرے کو زندہ اور متحرک زمانہ کیسے اپنے ساتھ باندھے رکھنے پر تیار ہو سکتا ہے۔

معاشرے دراصل زندہ انسانوں کے قبرستان ہوتے ہیں جو ہنستے بستے شہروں سے دور بنائے جاتے ہیں۔ جن کا شہروں سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ یہ دنیا زندوں کی قدر کرتی ہے، زندوں کو قبول کرتی ہے۔ اس لیے اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے ایک زندہ اور سانس لیتی ہوئی سوچ کے ساتھ ساتھ ایک دھڑکتا ہوا نظریہ ناگزیر ہے۔ مزاحمتی ادب حقیقی معنوں میں تبھی تخلیق ہوتا ہے جب تخلیق کار نے ان حالات کو خود پر جھیلا ہو جن کے نتیجے میں کسی بھی ذی شعور فرد کے اندر مزاحمت پنپتی ہے۔

Read more

سموگ اور نیا پاکستان

تُو سانس نہ لے پائے اِس طور کے موسم میں ہم شعر بھی کہتے ہیں لاہور کے موسم میں محکمۂ موسمیات اور محکمۂ شعریات کی ملی بھگت سے حاصل ہونے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شاعر ان دنوں شدومد سے شعر کہنے میں مشغول ہیں اور پھیپھڑوں اور سانس کے امراض میں مبتلا افراد شاعروں سے بھی زیادہ دلجمعی سے کھانسنے اور نامعلوم افراد کو ”کوسنے“ میں مصروف ہیں۔ یوں تو زیادہ تر شعراء کو شعر کہنے کے لیے

Read more

ایک اور فرقہ ابھر رہا ہے

ایک زمانے میں عرب کے لوگ اپنی زبان دانی اور اپنی شاعری کی فصاحت و بلاغت کی وجہ سے اپنے علاوہ تمام دنیا کو عجمی گردانتے تھے۔ حالیہ ادبی منظر نامے کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہاں ہر شاعر ہی اپنے تئیں عربی اور باقی سب کے سب عجمی ہیں۔ ہمارے ہاں شاعری میں کسی بھی مذہب کے مقابلے میں زیادہ فرقہ بندی پائی جاتی ہے۔ چاہیں تو ان فرقوں کو باآسانی الگ الگ نام بھی دیے جا سکتے

Read more

عافیہ اور آسیہ

دو مختلف مذاہب دو متضاد نظریات و عقائد اور دو مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی ایک ہی جمہوری ملک کی دو آزاد شہری عافیہ صدیقی اور آسیہ مسیح جن میں سے ایک کا تعلق ملک کی اکثریت اور دوسری کا تعلق اقلیتی برادری سے ہے۔ ان دونوں کی پوزیشن کے آپسی موازنے کے حوالے سے ایک دوست شاھدہ مجید کی فیس بک ٹائم لائن پر ان کا سٹیٹس پڑھا تو اس معاملے پر ذرا تفصیل سے لکھنے کا خیال

Read more

سوچ سمجھ کے دستخط کریں

آپ کا دستخط آپ کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے جو آپ لاشعوری طور پر دوسروں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ مختلف کاغذات پر آپ کی شناخت کے علاوہ یہ آپ کے اندرونی عکس کو بھی کاغذ پر اتارتا ہے۔ دستخط ایک طرح سے کسی بھی کمپنی کے لوگو سے مماثل چیز ہے۔ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مختلف کمپنیاں اور ادارے اپنا لوگو بنانے کے معاملے میں کتنے حساس ہوتے ہیں اور اس پر کتنی انویسٹمنٹ کرتے

Read more

فاخرہ نورین کی / کا "خندہ ہائے زن”

یہ کوئی فخر کی بات نہیں اس لئے شرمندگی سے بتا رہے ہیں کہ ادب سے تعلق ہونے کے باوجود خصوصاً فکاہیہ مضامین کو باقاعدہ کتابی شکل میں پڑهنے کا یہ ہمارا پہلا موقع ہے- طنز اور مزاح سے الگ الگ تو ہمیشہ واسطہ پڑا- کبهی طنز کے تیروں سے زخم زحم ہوئے اور کبهی مزاح سے حظ اٹهایا- لیکن انہیں بیاہتا جوڑے کی صورت ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو بلکہ ایک دوسرے سے بغل ہوتے ہوئے دیکهنے کا

Read more

وزارتِ تعلیم کو محبوب کے بارے میں تجویز

کچھ لوگوں میں پیدائشی طور پر ایک اچھے استاد کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ کچھ کو تدریس کے فن میں مہارت حاصل کرنی پڑتی ہے۔ تدریس ایک پیچیدہ عمل ہے جس کو جانچنا، سمجھنا اور اس میں مہارت حاصل کرنا ضروری ہے۔ ایک اچھا استاد ہونے کے لیے اس کا نصاب کے مقاصد کو سمجھنا ضروری ہے۔ نصاب کا مقصد طلباء کو ایسا علم، مہارت، اقدار اور رجحانات سکھانا ہیں جو انہیں زندگی میں کامیابی سے ہمکنار کر سکیں۔ کوئی

Read more

کیا نیب واقعی ایک خودمختار ادارہ ہے؟

دیگر مخلوقات کی نسبت انسان اپنی عملی زندگی میں قدم قدم پر تعلیم و تربیت کا محتاج ہے۔ اللہ تعالی نے معلم اول پہلے انسان آدم علیہ السلام کو خود تعلیم سے بہرہ مند فرمایا۔ ایک زمانہ تھا جب تعلیم و تدریس کے نظام میں مرکزی کردار استاد کا ہوا کرتا تھا۔ والدین اپنے بچوں کو استاد کے حوالے کرتے ہوئے کہا کرتے کہ اب اس کی ہڈیاں ہماری اور کھال آپ کی یعنی جیسے چاہیں اس کی تربیت کر

Read more

نئی حکومت بھی نئی بہو جیسی ہوتی ہے

ثابت ہوا کہ کنٹینر پر کھڑے ہو کر مغلظات نما نعرے لگانا اور خرافات نما تقریریں کرنا، ماضی میں ملک کے دیگر حکمرانوں کی طرح قرض لینے پر خودکشی کو ترجیح دینے کی قسمیں کھانا اور کنٹینر کو ریمپ سمجھ کر اس پر کیٹ واک کرتے ہوئے رک رک کر میڈیا کے فوٹو گرافروں اور موبائل بردار مجاہدوں اور مجاہداؤں کو پوز دینا، یا گراؤنڈ میں کھڑے ہو کر گیند بازوں کی پھینکی ہوئی کمزور گیندوں کو تاک کر چھکے چوکے لگانا اور چند حربے سیکھ کر بلّے بازوں کے عقب میں چھپ کر کھڑی وکٹوں کو اڑانا، پھر کھیل کے میدان سے کمائی ہوئی شہرت اور ماں باپ کے جینز سے پائی ہوئی شکل و صورت کے بل بوتے پر عورتوں کی توجہ حاصل کرنا اور دیگر عیش و عشرت کے علاوہ تین تین شادیاں بھی کرنا۔ کینسر کے مرض میں مبتلا ہو کر وفات پا جانے والی والدہ کے نام پر برسوں ملکوں ملکوں گھوم کر چندہ جمع کر کے ایک ہسپتال بنا لینا اور اسے چلانے کے لیے پھر مزید چندہ مانگنے نکل پڑنا یہ سب بھی آسان نہ سہی لیکن ایک بظاہر ترقی پذیر مملکت کی باگ ڈور سنبھالنا مختلف چیز ہے۔ یہ کوئی ایسا ایڈونچر نہیں جیسے ہمارے وزیرِ اعظم صاحب اپنے ماضی میں کرتے آئے ہیں۔

Read more

خاتونِ اول اور وزیراعظم کے تین پھٹے پرانے سوٹ

چند روز پہلے بشریٰ بی بی کا پہلا انٹرویو منظر عام پر آیا جس میں عوام کو پہلی بار موقع ملا کہ اخبارات ٹی وی شوز اور سوشل میڈیا کی بجائے وہ خود خاتونِ اوّل کی زبانی ان کے بارے میں جانیں۔ ان سے ان تمام باتوں کی تصدیق یا تردید سنیں جو ان کے عمران خان کی زوجیت میں آنے سے اب تک ہر طرح کے میڈیا سے منظرِ عام پر آتی رہی ہیں اور یہ بھی کہ اپنی

Read more

منفیات

ﮬﻢ ﻟﻮﮒ ﺧﻮﺩ ﺳﺎﺧﺘﮧ ﺩﺍﺋﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻗﯿﺪ ﮐﺌﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﮬﯿﮟ۔ ہم اپنی خوشیوں اور دکھوں کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہیں، انہیں ان کا واجب حق اور مقام نہیں دیتے۔ ﻧﺠﺎﻧﮯ ﻛﻴﻮﮞ ﮬﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩِﻟﻮﮞ ﻣﻴﮟ ﺍِﺗﻨﮯ ﺳﮩﻢ ﭘﺎﻝ ﺭﻛﮭﮯ ہیں ﻛﮧ ﻛﻮﺋﻰ ﺧﻮﺷﻰ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻣُﺴﻜﺮﺍﺗﮯ ﺗﮏ ﻣُﻨﮧ ﭼﮭﭙﺎ ﻛﺮ ہیں۔ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻢ ﮐﯿﻮﮞ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﺘﮯ ہیں ﻛﮧ ہماﺭﮮ ﺁﺱ ﭘﺎﺱ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻧﮩﻴﮟ ﺑﺴﺘﮯ ﺑﻠﮑﮧ بھیڑیے ہیں یا سروں پر ﮔﺪﻫ منڈلاتے پھرتے ہیں۔ ﺟﻮ

Read more

سوال کرنا بدتمیزی ہے یا ذہانت؟

مجھے موسیقی کے بارے میں زیادہ جانکاری تو نہیں لیکن سنا ہے کہ اس میں سات سُر ہوتے ہیں جن سے سارے راگ تخلیق ہوتے ہیں۔ ان سُروں میں کچھ تِیور ہوتے ہیں اور کچھ مدّھم۔ میرا تو بس یہ خیال ہے کہ مدّھم سُروں پر اگر میٹھے بول گائے جائیں تو ان کو اور بھی مسحور کن بنایا جا سکتا اور تِیور سُروں پر شوخ و چنچل گیت گا کر ان کو مزید چمکایا جا سکتا ہے اور میرا

Read more