سب جانتے ہیں کہ ہر جھگڑے، ہر جنگ اور ہر الیکشن میں شامل دو فریقین میں سے، ہر ایک خود کو حق پر اور دوسرے کو باطل پر قائم سمجھتا ہے، اور یہی طریق ازل سے رائج ہے۔ حلقہ ارباب ذوق لاہور کے الیکشن میں بھی یہی ہوتا ہے کہ ہر فریق خود کو زیادہ اہل سمجھتا ہے۔ چند روزہ الیکشن کیمپین کے ذریعے اس بات کو ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش بھی کرتا ہے۔ پھر الیکشن ہوتا ہے اور آخرکار دونوں میں سے کوئی ایک زیادہ ووٹ حاصل کر کے سال بھر کی ذمہ داریاں سنبھال لیتا ہے۔ جب کہ کم ووٹ لینے والا عموماً فتح یاب ہونے والے کی حیثیت کو خوش دلی سے قبول اور تسلیم کرتا ہے۔ سو اس بار بھی یہی ہوا اور تمام معاملات بظاہر خوش اسلوبی سے اپنے انجام کو پہنچے۔ ہارنے والے فریق نے جیتنے والے کو خندہ پیشانی سے مبارک باد دی اور جیتنے والے گروہ نے خوش دلی سے قبول کی۔ لیکن بدقسمتی سے قصہ یہیں تمام نہیں ہوا۔
کوئی جنگ ہو، غزوہ ہو یا کسی بھی نوعیت کا الیکشن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب دو بڑے گروہوں کے اندر چھوٹے چھوٹے مزید گروہ پیدا ہونے لگتے ہیں، جن کے مقاصد تعمیری کے بجائے تخریبی ہوتے ہیں۔ ان گروہوں میں سے کچھ سازشی ہوتے ہیں، کچھ شریر اور کچھ منافق اور یہی سب اصل خرابی کی وجہ بنتے ہیں۔ حلقۂ ارباب ذوق لاہور کا جہاز اس وقت طوفانی لہروں کی زد پہ ہے۔ سنا ہے کہ کپتان مشاق ہو تو تقدیر بھی مہربان ہوتی ہے اور ڈوبتا جہاز بھی کنارے جا لگتا ہے۔ لیکن یہاں تو معاملہ ہی اور سے اور ہوا جاتا ہے۔
Read more