نسلوں کی امانت کو آگے پہنچانے والے اساتذہ

ﺭﻭﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺍﯾﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﯾﺎﻧﺘﺪﺍﺭﺍﻧﮧ ﺗﻨﻘﯿﺪﯼ ﺟﺎﺋﺰﮦ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﺸﮑﯿﻞ ﻧﻮ ﮐﺴﯽ ﺑﻬﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮦ ﺍﻭﺭ ﻣﺘﺤﺮﮎ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻻﺯﻣﯽ ﺍﻣﺮ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺛﻘﺎﻓﺘﯽ ﻭﺭﺛﮯ ﮐﻮ ﺟﺪﯾﺪ ﺗﻘﺎﺿﻮﮞ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺁﮨﻨﮓ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﮔﻠﯽ ﻧﺴﻞ ﮐﻮ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺯﻧﺪﮦ…

Read more

دو نمبر روشن خیالوں کی سازش اور عورت

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم دوسرے کے مقام کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور اگر سمجھ بھی لیں تو اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہمیں گراں گزرتا ہے کہ دوسرا جس مقام پر ہے اسے غیر اہم کہتے ہوئے آگے بڑھنا آسان نہیں۔ اصولاً ہونا تو یہ چاہیے کہ مرد…

Read more

میں ایسا کیوں ہوں!

میں ایسا کیوں ہوں! جب ﻋﻮﺭﺕ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﻰ ﺧﺮﺍﺏ ﻋﺎﺩﺕ ﯾﺎ ﮐﻮﺋﻰ ﺍﺧﻼﻗﯽ ﺭﺧﻨﮧ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﺭﻫﺘﯽ ﻫﮯ ﺗﻮ ﮐﮩﺘﯽ ﻫﮯ ” ﻣﺮﺩ ﺍﯾﺴﮯ ﻫﯽ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﯿﮟ۔ “ ﻣﺎﮞ ﮐﺎ ﺟﺐ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﺷﺮﺍﺭﺕ ﯾﺎ ﺑﺪﺗﻤﯿﺰﯼ ﭘﮧ ﺑﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ ﺗﻮ ﻣﺎﮞ ﮐﮩﺘﯽ ﻫﮯ ” ﺑﭽﮯ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﺮﺗﮯ ﻫﯿﮟ۔ “…

Read more

ڈینگی پروازیں اور عمران خان کے “کیک” حامی

”راولپنڈی میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں مزید ایک سو پچیس شہری ڈینگی بخار کا شکار۔“ ”وفاق میں ڈینگی سے متاثرہ 32 افراد پمز کے آئیسولیشن وارڈ میں زیرِ علاج۔ “ ”لاہور میں بھی روزانہ ڈینگی متاثرین کی تعداد میں اضافہ، مختلف سرکاری اور نجی ہسپتالوں کی طرف سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق…

Read more

اس خطرناک مجرم کا کہنا تھا ”اپنا ٹائم آئے گا“

ایک پندرہ سالہ لڑکا جس کو چوری کے الزام میں علاقہ مکینوں نے مار مار کر مار ہی ڈالا۔ والدہ کے مطابق وہ لڑکا عیدِ قرباں پر قصاب کا کام کرتا تھا، عید پر کسی کی گائے ذبح کی جس کے پیسے لینے گیا تھا اور خود بھی اس نظام کی قرباں گاہ کی نذر ہو گیا۔ لڑکے کا اپنا کہنا کہ وہ یہاں گھومتا پھرتا رہتا ہے اور پہاڑی پر تاش کھیلنے جا رہا تھا۔

وہاں موجود پستول، ڈنڈا، رسی اور موبائل بردار منصفوں کا کہنا ہے کہ وہ کوئی عام بچہ نہیں تھا بلکہ پروفیشنل چور تھا جو تیسرے فلور سے بغیر کسی سیڑھی کے کھڑکیاں اور دیواریں پھلانگتا ہوا بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا اور جس نے ان کے گھر سے سامان چرایا، چھت سے گلی میں کھڑے اپنے ساتھیوں کو پہنچایا جو سامان لے کر فرار ہو گئے۔

Read more

اصل میں گندی عورت کون ہے؟

عموماً گندی عورت اسے کہا جاتا ہے جو بدکردار ہو، جو کسی ایسے فعل میں ملوث ہو جس کی نہ مذہب اجازت دیتا ہے نہ کوئی معاشرہ اور نہ ہی قانون یا گندی عورت اسے کہا جاتا جو جسم فروشی جیسے قبیح دھندے میں شامل ہو، جو ناچ گانے کو اپنا کاروبار بنائے ہوئے ہو۔…

Read more

عورت مارچ کے اثرات

فی زمانہ کوئی بھی عمل جب کسی خاص مقصد کے تحت کیا جائے تو جلد یا بدیر اس کے منفی اور مثبت ہر دو طرح کے اثرات سامنے آتے ہی ہیں۔ کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ منفی اثرات فوری طور پر سامنے آ جاتے ہیں اور مثبت وقت لیتے ہیں۔ اسی طرح آٹھ مارچ…

Read more

عورت رے عورت!

عورت کو ہمارے معاشرے میں ہمیشہ برتا گیا ہے۔ مذہبی لوگ ہوں، لبرل یا کوئی تیسرا طبقہ جو کسی حد تک مذہبی اور تھوڑا بہت لبرل ہو ہر کسی نے ممکنہ حد تک عورت کا استحصال کیا اور مضحکہ خیز بات یہ کہ ہر طبقے نے اپنے علاوہ باقی سب پر یہ الزام دھرا کہ وہ عورت کے حقوق کے پاسدار نہیں۔ مذہبی مذہب کے نام پر بے جا پابندیاں لگا کر اور کالے کفن میں لپیٹ کر عورت کا استحصال کرتا رہا اور لبرل آزادی کے نام پر کھلے بندوں اسے سڑکوں پر آنے کے لیے اکسا کر یہی سب کر رہا ہے۔

عورت کو روایات سے بغاوت کے نام پر انتشار اور بدنظمی پھیلانے کے ٹول کے طور پر کام میں لایا جاتا رہا۔ مذہبی اور لبرل دونوں ہی طبقے خصوصاً عورت کے معاملے میں دو انتہاؤں پر کھڑے ایک دوسرے کو کھائی میں دھکیلنے کے خواہاں ہیں۔ اعتدال کا راستہ کسی نے نہیں اپنایا اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ عورت نے خود اپنے آپ کو ہمیشہ آسان ہدف بنائے رکھا۔ اس نے اپنے حقوق کو سمجھا نہ انہیں حاصل کرنے کے طریق پر توجہ دی۔

Read more

آٹھ مارچ کا عورت مارچ

ﻣﺠﮭﮯ اب ﺩﮬﻮﭖ ﭼﮑﮭﻨﮯ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﮯ ﺩﮮ
ﺗﺮﮮ ﺳﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺲ ﯾﺦ ﺑﺴﺘﮕﯽ ہے ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ہے

عورت کو ہمارے معاشرے میں ہمیشہ برتا گیا ہے۔ مذہبی لوگ ہوں، لبرل یا کوئی تیسرا طبقہ جو کسی حد تک مذہبی اور تھوڑا بہت لبرل ہو ہر کسی نے ممکنہ حد تک عورت کا استحصال کیا اور مضحکہ خیز بات یہ کہ ہر طبقے نے اپنے علاوہ باقی سب پر یہ الزام دھرا کہ وہ عورت کے حقوق کے پاسدار نہیں۔ مذہبی مذہب کے نام پر بے جا پابندیاں لگا کر اور کالے کفن میں لپیٹ کر عورت کا استحصال کرتا رہا اور لبرل آزادی کے نام پر کھلے بندوں اسے سڑکوں پر آنے کے لیے اکسا کر یہی سب کر رہا ہے۔

Read more

حسین مجروح کے مجموعہ فردیات ”اشعار“ پر کچھ بات

محترم جناب حسین مجروح ادبی حلقوں میں کسی تعارف کے محتاج نہ ہیں بلکہ ایک ایسا معتبر نام ہیں جن کے بارے میں ان کی غیر موجودگی میں بھی ہمیشہ اچھا ہی سنا اور لوگوں کو ان کے کلام کے ساتھ ساتھ ان کے عمدہ اخلاق اور زندہ دلی کی تعریف کرتے پایا۔ آپ سے پہچان حلقہ ارباب ذوق کے توسط سے ہوئی جب آپ حلقہ کے کرتا دھرتا تھے اور ایوانِ اقبال میں شاندار ہفتہ وار اجلاس کا انعقاد و اہتمام کیا کرتے تھے اور آنے والے مہمانوں کو ایسی گرم جوشی اور خلوص سے خوش آمدید کہتے کہ ہر کوئی خود کو اجلاس میں مہمانِ خاص تصور کرتا۔

Read more