جنگ زدہ خونی لبرل اور امن کے داعی مجاہدینِ اکبر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیارے بچو، تم جانتے ہی ہو کہ ہر غلط کام کے ذمہ دار خونی لبرل ہیں، نیز جیسے ہی زمانہ ہمیں غلط ثابت کرے ویسے ہی تاریخ کو نئے سرے سے لکھ کر خونی لبرلوں کو ان کے درست مقام پر پہنچا دینا چاہیے۔ جیسا کہ تحریک پاکستان کے دنوں میں ہم لکھتے تھے کہ پاکستان کے قیام کے خواہشمند احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں اور انہیں دیکھو تو سارے لبرل، کمیونسٹ اور روشن خیال لوگ ہیں جو قیام پاکستان کی تحریک چلا رہے ہیں۔ جبکہ پاکستان کے قیام کے بعد تاریخ کو نئے سرے سے رقم کرتے ہوئے لکھا گیا کہ قیام پاکستان میں مرکزی کردار دائیں بازو کے مجاہد مولویوں نے ادا کیا تھا اور اس موقف کی حمایت کے لئے نظریہ پاکستان بھی ایجاد کر لیا گیا۔

بلکہ ایک بڑے مولانا نے تو اپنے خواب کی رو سے یہ ثابت بھی کر دیا کہ محمد علی جناح کو انبیا اور رسولوں نے پاکستان بنانے کے مشن پر مامور کیا تھا۔ اب کیونکہ ہمیں دوبارہ خبردار کیا گیا ہے کہ ہم احمقوں کی جنت میں نہ رہیں تو بہتر ہے کہ تاریخ کو دوبارہ رقم کر دیا جائے اور خونی لبرلوں کو دوبارہ درست مقام پر فائز کیا جائے۔

مطالعہ پاکستان۔ سنہ اشاعت 2030۔ منظور شدہ برائے جماعت نہم دہم۔

پیارے بچو۔ جب پاکستان بنا تھا تو قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات ایسے ہی ہوں گے جیسے امریکہ اور کینیڈا کے ہیں۔ ان کی حیات میں ایسا ہی رہا۔ بس ایک مرتبہ کچھ بدمزگی ہوئی جب ادھر صوبہ سرحد سے خونی لبرلوں نے قبائلی لشکر بنا کر کشمیر پر چڑھائی کر دی۔

دوسری طرف دائیں بازو کے مجاہدینِ اکبر ٹپوریا نیم جان، زائد جامد اور میجر مست فل جیسے دانشور کہتے تھے کہ ہمیں جنگ کی بجائے جہاد اکبر کرنا چاہیے۔ یعنی قتال نہیں بلکہ اپنے نفس کے خلاف جہاد اور انڈیا کے ساتھ تمام مسائل کو بات چیت سے حل کیا جائے کیونکہ آدمی اپنے دوست تو چن سکتا ہے، اپنے ہمسائے نہیں۔ ان کے ساتھ ہی جینا مرنا ہوتا ہے۔ جو ہیں ان کے ساتھ ہی رہنا ہے اور رہنے کے لئے باہمی گفت و شنید سے کچھ معاہدے کر لئے جائیں تو سب کا بھلا ہے۔

انہیں ہمارے گرم جذبات کو عقل پر ترجیح دینے والے خونی لبرل ہمیشہ غدار اور بے غیرت قرار دیتے تھے۔ وہ زور دیتے تھے کہ انڈیا پر حملہ کر دیا جائے۔ پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے کے بعد خونی لبرل ہمیشہ یہ راگ الاپتے رہتے کہ ہم نے ایٹم بم گودام میں رکھنے کے لئے تو نہیں بنایا، انڈیا سے مذاکرات کرنے کی بجائے ان پر ایٹم بم مار دیا جائے۔ ایک لبرل لیڈر تو سرعام تقریریں کرتے پھرتے کہ مودی کو کہو کہ بندہ بن جائے اور کشمیر، حیدرآباد اور جونا گڑھ ہمارے حوالے کر دے ورنہ پھر آیا جے غوری۔

دائیں بازو کے مجاہدینِ اکبر تو عرصے سے کہہ رہے تھے کہ دنیا پیسے کی ہے، برادر مسلم ممالک وغیرہ ایک ڈھکوسلا ہیں، دنیا کے تمام مسلم غیر مسلم ممالک مفادات کی بنیاد پر خارجہ پالیسی کا تعین کرتے ہیں، جذبات کی بنیاد پر نہیں لیکن خونی لبرل احمقانہ انداز میں اس بات پر مصر تھے کہ جیسے ہی انڈیا اور پاکستان کی جنگ ہوئی تو تمام مسلم ممالک اپنی فوجیں ہماری حمایت میں بھیج دیں گے۔

یہی سوچ کر 1965 میں خونی لبرل وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے صدر مملکت ایوب خان کو بتائے بغیر ہی کشمیر میں آپریشن جبرالٹر شروع کر دیا جس کے نتیجے میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان بھرپور جنگ چھڑ گئی۔ اس وقت تک دونوں ممالک کے تعلقات خوشگوار تھے اور سرحدیں نرم مگر خونی لبرلوں کی اس حماقت کے نتیجے میں دونوں پڑوسیوں کے باہمی تعلقات ایسے خراب ہوئے کہ اب تک درست نہ ہو پائے۔

پھر 1970 کے انتخابات کے نتیجے میں خونی لبرلوں نے مطالبہ کیا کہ جسے عوام نے اکثریت دی ہے اسے اقتدار دیا جائے۔ حالانکہ قومی مفادات کے تقاضے یہ کہتے تھے کہ جو صاحب ملک میں استحکام کی خاطر اپنے دن رات ایک کیے ہوئے ہے، کبھی ترنم کا سوز و گداز ان کے لبوں پر ہوتا ہے تو کبھی وہ ترانہ بجاتے ہیں، انہیں صدر برقرار رکھا جائے اور ان کی مرضی سے ہی اقتدار کا انتقال کیا جائے۔ خونی لبرلوں نے فساد کیا تو مشرقی پاکسان میں خانہ جنگی چھڑ گئی اور انڈیا نے حملہ کر دیا۔ اس وقت دائیں بازو مجاہدینِ اکبر نے البدر اور الشمس نامی تنظیمیں بنا کر خونی لبرلوں کی سازش کا توڑ کرنے کی کوشش کی مگر انہیں ناکامی ہوئی۔

اس شکست کے بعد سب ختم ہو گیا۔ خونی لبرل بھٹو نے ملک کی رہی سہی عزت اس وقت خاک میں ملا دی جب اس نے اندرا گاندھی سے نہایت تباہ کن شملہ معاہدہ کیا اور بہانہ یہ بنایا کہ انڈیا نوے ہزار جنگی قیدی اور اپنا مقبوضہ علاقہ چھوڑ دے گا۔ اس معاہدے میں خرابی کی صورت یہ رکھی گئی تھی کہ دونوں ممالک مسئلہ کشمیر کو کسی تیسرے فریق کی مداخلت کے بغیر باہمی طور پر حل کریں گے۔ یعنی یہ مسئلہ کبھی حل نہیں ہو گا۔

اس کے بعد خونی لبرلوں نے انڈیا کے خلاف نفرت پھیلانی شروع کر دی۔ کہا کہ ہم لال قلعے پر سبز ہلالی پرچم لہرائیں گے۔ انڈیا کے خلاف ہزار سال تک جنگ لڑیں گے۔ گھاس کھائیں گے اور ایٹم بم بنائیں گے۔ دائیں بازو کے مجاہدینِ اکبر نے بہت سمجھایا کہ ہم ہزار سال تک اکٹھے رہے ہیں تو اب بھی اکٹھے رہ سکتے ہیں، جنگ کیوں کرتے ہو؟ مگر خونی لبرل تباہی کے شیدائی ہیں، ایک نہ سنی۔

اسی اثنا میں سوویت یونین نے لبرلوں کی شہ پر افغانستان پر حملہ کر دیا۔ کہنے کو تو وہ کمیونسٹ تھے مگر ہم جانتے ہیں کہ سب کمیونسٹ لبرل ہی ہوتے ہیں۔ کیا سٹالن لبرل نہیں تھا؟ اس پر ان کی سازش میں شریک مقامی لبرلوں نے بھولے بھالے نوجوانوں کو جہاد کے نام پر بہکا کر ان کی عسکری تنظیمیں کھڑی کر دیں اور افغانستان میں فساد شروع کر دیا اور ہمارے مغربی پڑوسی کو بھی ہمارا دشمن بنا ڈالا۔

اس وقت مذہبی تنظیموں کے مجاہدینِ اکبر نے شہر شہر کیمپ لگا کر یہی مہم چلائی کہ جہاد کا اعلان صرف ریاست کر سکتی ہے مگر بدقسمتی سے خونی لبرلوں کے پروپیگنڈے کے آگے ان کی ایک نہ چلی۔ افغانستان سے سوویت یونین کے رخصت ہوتے ہی خونی لبرلوں نے اپنی جہادی مشینری کا رخ کشمیر کی طرف کر دیا اور انڈیا سے امن کی آشا کے خواہاں دائیں بازو کے مجاہدینِ اکبر ہاتھ ملتے رہ گئے۔

بیسویں صدی کے اختتامی برسوں میں خونی لبرلوں نے انڈیا سے تعلقات مزید بگاڑنے کے لئے اپنے آدمی کارگل پر بھیج دیے اور کوشش کی کہ انڈیا اور پاکستان کی بھرپور جنگ چھڑ جائے۔ خوش قسمتی سے اس وقت ملک پر دائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والے نواز شریف کی حکومت تھی جنہوں نے امریکی صدر بل کلنٹن سے مل کر یہ جنگ روک دی۔

اسی اثنا میں خونی لبرلوں نے افغانستان میں جہاد کے نام پر بلائے ہوئے عربوں کو اس بات پر قائل کر لیا کہ انہیں اب مغرب پر حملہ کرنے کی تیاری کرنی چاہیے۔ یوں القاعدہ نامی تنظیم وجود میں آئی جس نے نیویارک میں حملہ کر کے ہزاروں پرامن امریکی شہری مار ڈالے۔ یہ خونی لبرلوں کی ایک سوچی سمجھی چال تھی تاکہ سوویت یونین کے نکلنے کے بعد ان کی افغان جنگ سے ہونے والی کمائی بند نہ ہو جائے اور امریکہ افغانستان پر حملہ کرے تو ان کی کمائی ہوتی رہے۔ اس کے بعد خونی لبرلوں نے لبرل ازم کے نام پر داعش اور ایسی دوسری تنظیمیں بنائیں جنہوں نے مشرق وسطی میں جنگ چھیڑ دی۔

سنہ 2019 میں انڈیا نے کشمیر کے ڈوگرہ راجہ سے الحاق کے معاہدے کو پس پشت ڈالتے ہوئے اس کا سپیشل سٹیٹس ختم کیا تو خونی لبرل دوبارہ کوشش کرنے لگے کہ پاکستان انڈیا پر حملہ کر دے۔ وہ کشمیر کے مسئلے کا ایک مرتبہ پھر فوجی حل کرنا چاہتے تھے۔ خوش قسمتی سے اس مرتبہ دائیں بازو کے دانشمند مجاہدینِ اکبر ان کی سازش کا توڑ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

انہوں نے دنیا کو بتا دیا کہ بھارت سے جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اگر پاکستان بھارت سے جنگ کرے گا تو ہار جائے گا۔ پاکستانیوں کے پاس صرف دو آپشن ہوں گی، یا تو بہادر شاہ ظفر کی طرح مر جائیں یا پھر ٹیپو سلطان کی طرح۔ انہوں نے پاکستانی قوم کو خبردار کیا کہ وہ لبرل احمقوں کی دنیا میں نہ رہے۔ کشمیر کو جنگ سے جیتنا ناممکن ہے۔

یوں سات دہائیوں بعد خونی لبرلوں کی جنگ پسندی سے وطن عزیز کو نجات ملی اور مجاہدینِ اکبر کے خیالات کے تحت پاکستان نے سنجیدگی سے کوششیں شروع کیں کہ بھارت سے تمام معاملات گفت و شنید سے حل ہوں، لبرلوں کی بنائی ہوئی جہادی تنظیموں کا خاتمہ کیا جائے اور یہ خطہ قائد اعظم کے خوابوں کی تعبیر بنے اور دونوں ملک امریکہ اور کینیڈا کی طرح اچھے دوست بن کر رہنے لگیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1180 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar