کشمیر کے معاملے پر امن کو موقع دینا ہی آخری آپشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پانی کا ریلہ جتنا بھی زور آور ہو اوپر کی جانب نہیں چڑھتا ہے جبکہ پانی کا بہاؤ تھوڑا بھی ہو نیچے کی جانب تو تیزی سے بہتا ہے۔ عوامی رائے کا عمومی مزاج بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ ریاست نے کشمیر کی حالیہ صورتحال پر عوامی رائے بنانے کی بجائے ٹھنڈ پروگرام کو ترجیح دی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں کشمیر پر روایتی انداز میں احتجاج نہیں ہوا ہے۔ بالخصوص مذہبی جماعتوں میں غم و غصہ نہیں دیکھا گیا ہے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے ہم پچھلے ستر سالوں سے لگاتے آرہے ہیں مگر آج یہ بیانیہ کچھ پھیکا پھیکا کیوں لگ رہا ہے؟

پاکستان کے عوام باہر کیوں نہیں نکلے ہیں؟ ایل او سی پر ہاتھوں کی زنجیر کیوں نہیں بنائی گئی ہے؟ اقوام متحدہ کے دفتر میں احتجاجی مراسلے پیش کرنے کوئی کیوں نہیں گیا ہے؟ کیا نئے پاکستان میں ”امن کی آشا“ میں کشمیر کی قربانی بھی دینی ہوگی؟ جو تھوڑا بہت احتجاج کیا بھی گیا اس میں نیم دلی کا عنصر نمایاں تھا۔ پاکستان کی تاریخ میں شاید یہ بھی پہلا موقع ہے کہ کشمیر کے معاملے پر پاکستانی عوام کا وہ غم و غصہ دکھائی نہیں دیا ہے جو کہ پاکستان کے عوام کی راویت تھا۔

نوید ہو نیاپاکستان کھل کر سامنے آیا ہے۔ پرانے پاکستان میں کشمیر ایشو سمیت کئی معاملات پر کچھ طبقات کی ایک قسم کی اجارہ داری رہی ہے جو کبھی ان پر بات کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ اگر کسی نے بات کی بھی تو بھڑک اٹھتے تھے بلکہ اینٹ سے اینٹ بجانے پر اترآتے تھے۔ معروضی حالات اس امر کی چغلی کھا رہے ہیں کہ تحریک لیبک کی طرح کشمیر کے ایشو پر جماعت اسلامی اور حافظ سعید کو بھی منیج کیا گیا ہے۔ بصورت دیگر احتجاجی ریلیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوتا۔

یہ خاموشی مرگ بے وجہ نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان جو امن کی باشا بول رہے ہیں او ر تدریسی خطاب فرماتے ہیں۔ جس میں قائداعظم کے فرمودات کی لمبی فہرست ہر فورم پر پیش کرتے ہیں۔ مودی اور آر ایس ایس کے نظریات سے پاکستانی عوام کو روشناس کرا رہے ہیں، وزیراعظم کے تدریسی خطاب کا کرشمہ ہے کہ پاکستان کی عوام میں عمومی سطح پر کشمیر کے متعلق بیانیہ بدل گیا ہے اور بدل رہا ہے۔ اس بات سے انکار نہیں ہے کہ سب کچھ بدل گیا ہے۔

مگر مجموعی طور پر عام لوگوں کے خیالات میں بدلاؤ ضرور آیا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ سپہ سالار کا بددل ہونا ہے۔ ماضی میں ہمارے جتنے بھی سپہ سالار گزرے ہیں، کرپٹ نواز شریف، آصف علی زرداری سے لے کر سیکیورٹی رسک محترمہ بے نظیر بھٹو تک کم ازکم ان کی للکارضرور ہوتی تھی۔ مگر آج کشمیر کے ساتھ کھڑے ہونے والے عوام للکار سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔ ہمارے سپہ سالاروں بشمول سیاسی اور عسکری سپہ سالار نے بیانات ضرور دیے ہیں مگرہر بیان دو معانی لئے ہوتا ہے۔

ایک طرف بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کی بات کی جاتی ہے اور ساتھ ہی جنگ کی تباہی سے بھی ڈرایا جاتا ہے کہ خدانخواستہ جنگ ہوئی تو کچھ نہیں بچے گا۔ سب کچھ تباہ و برباد ہوجائے گا۔ عالمی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امہ ہمارے ساتھ نہیں ہے۔ ہم مزید تنہا ہوجائیں گے۔ مر جائیں گے، تباہ ہو جائیں گے، دانشور، تجزیہ کار، لکھنے والے، کالم نگار جو مرضی کہیں جو دل کرتا ہے لکھیں۔ حقیقت یہی ہے کہ ہم عالم میں بھی تنہا ہیں اور گھر میں بھی ہمارے ساتھ کوئی نہیں ہے۔ سپہ سالاران قوم بالکل حق بجانب ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ کشمیر کے معاملے پر امن کو موقع دینا ہی آخری آپشن ہے۔ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ جنگیں، بڑے فیصلے تنہا ہی نہیں ہوتے ہیں۔ للکار وہی سکتا ہے جس کو عوام نے للکارنے کا مینڈیٹ دیا ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •