استنبول میں حضرت ابو ایوب انصاری کا مزار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے جولائی 2010 میں ترکی کے سفر کا موقع میسر آیا۔ انقرہ، قونیہ، ازمیر سے ہوتا ہوا،20 جولائی کو استنبول پہنچا۔21 جولائی کو میرا حضرت ابوایوب انصاری کے مزار پر جانے کا پروگرام تھا۔ میرا ہوٹل سلطان احمت (احمد) ایریا میں تھا۔ ہوٹل والے سے میں نے مزار پر جانے کا راستہ اور ذریعہ دریافت کیا۔ اس نے نقشے پر ایک ایسی جگہ پر نشان لگایا جو یورپی استنبول کے شمال مغرب میں شاخ زریں (گولڈن ہارن) کے دہانے سے کئی کلومیٹر دور تھی۔ شاخ زریں استنبول شہر کے شمال مغرب میں گیارہ کلومیٹر طویل سمندر کی شاخ ہے۔ میں نے حیرت زدہ ہو کر پوچھا تمھیں یقین ہے کہ یہی جگہ ہے تو اس نے جواب دیا مشہور جگہ ہے اور بہت لوگ وہاں جاتے ہیں۔

 میں ایمینونو کے علاقے میں بذریعہ ٹرین پہنچا۔ وہاں سے بس پر سوار ہوا۔ تقریباً 8 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے بس نے ایک جگہ اتار دیا۔ وہاں سے اتر کر مزار کی زیارت کی اور فاتحہ خوانی کی۔ مزار کے ساتھ ایک مسجد بھی ہے جسے سلطان محمد فاتح نے بنوایا تھا اسے ایوپ سلطان جامی (جامع) کہتے ہیں۔ موجودہ مسجد بعد کے زمانے میں دوبارہ تعمیر ہوئی کیونکہ محمد فاتح کی بنوائی ہوئی مسجد ایک زلزلے میں مسمار ہو گئی تھی۔ متصل ایک وسیع قبرستان ہے جس میں بہت سے شیوخ الاسلام کے مزارات ہیں۔

مجھے مزار کی لوکیشن پر تعجب کیوں ہوا تھا؟ اس کا جواب دینے کے لیے کچھ پس منظر بیان کرنا پڑے گا۔

قیصر روم کے شہر پر حملے اور اس کی فتح کے متعلق متعدد احادیث بیان کی جاتی ہیں جن کے بارے میں کچھ نہ کہنا ہی مناسب ہو گا۔ لیکن ہمارے مورخین کے بیان کردہ واقعات میں بھی بہت تضاد و تخالف ہے۔ اول تو یہی پتہ نہیں چلتا کہ مسلمانوں نے پہلا حملہ کس سن میں کیا تھا اور حضرت ابو ایوب انصاری کی وفات کس برس ہوئی تھی؟ ابن اثیر کے مطابق یہ حملہ سنہ 49 ھ میں ہوا تھا لیکن یہ کسی طور پر بھی درست نہیں ہو سکتا۔ ابن کثیر کے مطابق 52 ھ میں یہ حملہ کیا گیا تھا۔ لیکن وہ یہ بھی لکھتا ہے کہ بعض نے 51 اور بعض نے 53 کہا ہے۔ ایک قول 55 کا بھی ہے۔ طبری اور ابن خلدون نے اس واقعہ کا ذکر ہی نہیں کیا۔ انسائیکلوپیڈیا آف اسلام میں حضرت ابو ایوب انصاری پر مضمون میں ان کا سن وفات 52 ھ بمطابق 672 ء ہی دیا گیا ہے۔

بازنطینی تاریخ میں بھی سنین کے حوالے سے اچھا خاصا اختلاف پایا جاتا ہے۔ لیکن جدید مورخین کا کہنا ہے کہ حضرت معاویہ کے زمانے میں بحری راستے سے پہلا حملہ 670 ء بمطابق 50 ھ کیا گیا اور بحیرہ مارمرا میں ایک جزیرے پر قبضہ کر لیا گیا تاکہ اسے قسطنطنیہ پر حملوں کے لیے اڈے کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ تاہم اگلے برس مسلم لشکر واپس ہو گیا اور بازنطینیوں نے جزیرے پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ 672 میں ایک بار پھر عرب لشکر سمندری راستے سے حملہ آور ہوا اور جنوب مغربی اناطولیہ کے تین جزائر میں تاخت و تاراج کی۔ مسلم لشکر نے قسطنطنیہ کا پہلی بار محاصرہ 674ء میں کیا۔ اگلے برس یعنی 675 ء بمطابق 55 ھ میں مسلمانوں نے دوبارہ شہر کا محاصرہ کیا۔ رومی مورخ کے مطابق اس بار امیرمعاویہ نے اپنے بیٹے یزید کو لشکر کی امداد کے لیے خشکی کے راستے روانہ کیا۔ اس کے بعد قسطنطنیہ پر حملہ آور ہونا تقریباً سالانہ معمول بن گیا تھا۔ 676 میں بھی حملہ کیا گیا۔ 677 میں جب حملہ ہوا تو اس بار رومیوں نے پہلی بار اس تباہ کن ہتھیار کا استعمال کیا جسے “یونانی آگ” کا نام دیا گیا تھا۔ اس کی وجہ سے مسلم لشکر کو بہت زیادہ نقصان اٹھا کر پسپا ہونا پڑا۔ واپسی کے سفر میں بہت سے جہاز طوفان کی وجہ سے تباہ ہو گئے۔ خشکی پر بھی رومی لشکر نے حملہ کرکے مسلمان فوجوں کو شکست سے دوچار کیا۔

اگر مسلم اور رومی تاریخوں کا موازنہ کیا جائے تو 55 ھ والا قول زیادہ صحیح دکھائی دیتا ہے جسے ہمارے ہاں بالعموم رد کر دیا گیا ہے۔ لگتا ہے کہ مسلمان مورخین نے امیر معاویہ کے عہد میں ہونے والی بحری جنگوں کو خلط ملط کر دیا ہے۔ ان کی توجہ کا مرکز بعض بشارتوں کی بنا پر قسطنطنیہ پر ہونے والا پہلا حملہ ہی رہا ہے۔ بہرحال

 جس لشکر میں یزید شامل تھا حضرت ابو ایوب انصاری بھی اس میں شامل تھے وہ 54 ھ یا 55 ھ میں ہوا تھا۔ ان کی وہاں وفات ہوئی اور ان کی وصیت کے مطابق انھیں شہر کی فصیل کے پاس دفن کر دیا گیا۔

حضرت ابو ایوب انصاری کی وفات کے کوئی آٹھ سو سال بعد جب سلطان محمد فاتح نے استنبول فتح کیا تو اسے جستجو ہوئی کہ ان کی قبر دریافت کی جائے۔ اس نے اپنے استاد اور شیخ الاسلام کو یہ ذمہ داری تفویض کی۔ اس نے مراقبہ یا استخارہ کیا ۔ وہ نماز ادا کرنے کے بعد سو گیا اور بیدار ہو کر اس نے سلطان سے کہا قبر اسی مقام پر ہے جہاں میں نے نماز کے لیے مصلا بچھایا تھا۔ جب وہاں کھدائی کی گئی تو تقریباً تین گز کی گہرائی میں ایک پتھر ملا جس پر خط کوفی میں تحریر تھا یہ ابو ایوب کی قبر ہے۔ پتھر کو اٹھایا تو نیچے ایک جسد خاکی ملا جو زرد رنگ کے کفن میں لپٹا ہوا تھا اور بالکل تروتازہ تھا۔ اس پر مٹی ڈال کر تربت بنا دی گئی۔ جس پر بعد میں مزار تعمیر کیا گیا۔

مزار کے موجودہ مقام کے تعین کی یہ داستان گائیڈ حضرات بڑے ذوق و شوق سے بیان کرتے ہیں لیکن اس پر یقین کرنا کافی مشکل ہے۔ ہماری کتابوں میں بالعموم لکھا ہوتا ہے کہ اس قبر پر رومی بھی حاضر ہو کر خشک سالی کے دور میں بارش کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ اگر یہ بات درست ہے تو قبر کی جگہ کو معروف و مشہور ہونا چاہیے تھا۔ تیرھویں صدی کے ایک سیاح زکریا الخوارزمی کا کہنا ہے کہ اس نے اس قبر کی زیارت کی تھی۔ اگر یہ بات درست بھی ہو تو مجھے یقین ہے اس سیاح نے قبر کا مقام لکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی ہو گی جیسا کہ ہمارے مورخین کا عام دستور رہا ہے۔

ان تمام واقعات کو ذہن میں رکھتے ہوئے مزار کی لوکیشن دیکھ کر میرا شک تقریباً یقین میں بدل گیا کہ مزار کی یہ جگہ کسی طور نہیں ہو سکتی۔ مسلمان لشکر وہاں سے بہت دور مارمرا سمندر میں تھا۔ رومیوں کا شہر کا سب سے بڑا دفاع یہی تھا کہ وہ شاخ زریں میں کسی کو داخل نہیں ہونے دیتے تھے۔ حتی کہ کئی صدیاں بعد سلطان محمد فاتح بھی داخل نہیں ہو سکا تھا۔ مسلمانوں کا لشکر وہاں سے بہت دور مارمرا سمندر میں تھا۔ اس کے لیے کسی طور اس مقام تک رسائی ممکن نہیں ہو سکتی تھی۔ مجھے لگتا ہے کہ اس مزار کی بھی وہی حیثیت ہے جو دنیا میں اور بہت سے مقامات پر مختلف صحابہ کرام کے مزارات کی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •