آپ نے ضیاء الحق کا چھکا نہیں دیکھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فروری 1987۔ چک لالہ ائر پورٹ کے وی آئی پی لاؤنج میں ایک ہڑبونگ مچی ہوئی تھی. جنرل ضیاء الحق بھارت کے شہر جے پور میں پاک بھارت کرکٹ میچ دیکھنے کے بعد واپس آ رہے تھے۔ ائر پورٹ پر ہی پریس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اسلام آباد کی پریس کور یہ بات طے کرنے میں مصروف تھی کہ پہلا سوال جنگ کے رپورٹر حنیف خالد کو نہیں کرنے دیا جائے گا۔ مسئلہ یہ تھا کہ پھر پہلا سوال کرے گا کون؟ کیونکہ جنرل ضیاء الحق ابتدائی گفتگو کے بعد خود کہتے تھے جی حنیف خالد صاحب۔ لیکن آج اس کو روکنے کے لیے بحث مباحثے کے بعد بزنس نیوز پیپر کے کارسپانڈنٹ اظہر مسعود نے ذمہ لیا کہ پہلا سوال آج وہ کریں گے۔

اظہر مسعود کے جارحانہ مزاج کے باعث سب کو اعتماد تھا کہ آج حنیف خالد کے پہلے سوال کی روایت ٹوٹ جائے گی۔ جنرل ضیاء الحق پہنچے۔ سٹیج پر آئے اور پاک بھارت تعلقات پر محتاط گفتگو شروع کی۔ ابتدائیے کے بعد انہوں نے حنیف خالد کی طرف دیکھا ہی تھا کہ اظہر مسعود کھڑے ہوئے اور بلند آواز میں بولنے لگے۔ میرا نام اظہر مسعود ہے اور میں پاکستان کے سب سے بڑے بزنس نیوز پیپر کا نمائندہ ہوں۔ جنرل ضیاء الحق مسکرائے اور بولے۔ ماشاءاللہ۔ اظہر مسعود صاحب۔ بہت اچھا اخبار ہے آپ کا۔ اظہر مسعود نے جنرل ضیاء کا کمنٹ سننے کے لمحے بھر توقف کیا تو جنرل ضیاء نے حنیف خالد کی طرف دیکھ کرکہا۔ جی حنیف خالد صاحب۔ اس پر زبردست قہقہ پڑا۔ حنیف خالد نے بولنا شروع کیا۔ سر آپ نے پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے لیے کرکٹ ڈپلومیسی متعارف کرائی ہے۔ آپ ہر بال پر بہت محتاط کھیل رہے ہیں لیکن آپ کا مخالف باؤنسر پر باؤنسر مارتا چلا جا رہا ہے۔ ضیا الحق نے اپنی مخصوص مسکراہٹ چہرے پر بکھیرتے ہوئے اونچی آواز میں جواب دیا۔ آپ نے ضیاء الحق کا چھکا نہیں دیکھا؟ پوری پریس کانفرنس میں زور کا قہقہہ پڑا لیکن کوئی نہ سمجھ پایا کہ یہ سوال کیوں کرایا گیا تھا اور جواب میں جنرل ضیاء الحق نے کیا اشارہ دیا تھا۔

یہ وہ دن تھے جب بھارت اپنی مغربی سرحدوں کے قریب بھاری فوجی سازوسامان کے ساتھ جارحانہ انداز میں فوجی مشقیں کرتے ہوئے پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کا فیصلہ کر ہی چکا تھا۔ جنگ کے بادل اتنے گہرے تھے کہ ٹلتے نظر نہیں آ رہے تھے۔ اچانک 21 فروری کو جنرل ضیاء الحق بن بلائے جے پور میں پانچ روزہ پاک بھارت ٹیسٹ میچ دیکھنے کے لیے جا پہنچتے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کے لیے یہ صورتحال انتہائی ناگوار تھی لیکن فرار کی کوئی راہ جنرل ضیاء نے چھوڑی ہی نہیں تھی۔ راجیو گاندھی کے مشیر بہرا مینن کا کہنا تھا کہ راجیو گاندھی نے استقبال کرتے ہوئے جنرل ضیاء الحق سے انتہائی سرد مہری سے ہاتھ ملایا جب کہ اس کے برعکس جنرل ضیاء الحق کے چہرے پر روایتی مسکراہٹ تھی۔ راجیو گاندھی نے بہرا مینن کو جنرل ضیاء الحق کی میزبانی کی ذمہ داری دی۔

بعد ازاں انڈیا ٹو ڈے میں لکھے جانے آرٹیکل میں بہرہ مینن نے لکھا کہ میچ سے واپسی پر دونوں رہنماوں کا آمنا سامنا ہوا تو راجیو گاندھی کا رویہ ایک بار پھر انتہائی سرد اور جنرل ضیاء بہت پرجوش تھے۔ مصافحے کے لیے دونوں آگے بڑھے تو بقول بہرہ مینن جنرل ضیاء الحق نے راجیو گاندھی سے سرگوشی کے انداز میں کہا کہ۔ مسٹر راجیو گاندھی۔ آپ پاکستان پر حملہ کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کیجیے۔ لیکن یاد رکھیئے کہ یہ روایتی نہیں۔ نیوکلیئر جنگ ہو گی۔ پاکستان تو ممکن ہے مکمل طور پر تباہ ہو جائے لیکن مسلمان دنیا کے دوسرے خطوں میں باقی رہیں گے۔ لیکن جب بھارت تباہ ہو گا تو ہندوؤں کا روئے زمین سے نام و نشان مٹ جائے گا۔ بہرہ مینن نے لکھا ہے کہ۔ راجیو گاندھی کے ماتھے پر پسینہ آ گیا۔ جنرل ضیا کے الفاظ نے راجیو کو توڑ کر رکھ دیا تھا۔

ڈنر پر ملاقات میں طے پا گیا کہ انتہا کو پہنچی ہوئی کشیدگی میں فوری کمی کے لیے دونوں ملک پہلے مرحلے پر 80۔ 80 ہزار فوجی سرحد سے واپس بلائیں گے۔ اور پھر بھارت کی ایک مذاکراتی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی تا کہ اعتماد کی فضا قائم کی جا سکے۔ اور پھر فالو اپ کے طور پر بھارتی وزیر خزانہ وی پی سنگھ نے پاکستان کا دورہ کیا اور اس وقت کے ہم منصب ڈاکٹر محبوب الحق سے نتیجہ خیز مذاکرات کیے۔

ذاتی طور پر میں کبھی بھی پاکستان میں فوجی اقتدار کا حامی نہیں رہا لیکن گذشتہ دو ہفتوں کے دوران مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے نریندر مودی حکومت کے اقدامات اور جوابی طور پر وطن عزیز میں مچی دھما چوکڑی نے مایوسی طاری کر رکھی ہے ایسے میں پتہ نہیں کیوں۔ نا چاہتے ہوئے بھی وہ آمر مطلق مجھے یاد آ رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •