روہتاس میں مائی رانی کا تعزیہ

جی ٹی روڈ پر ضلع جہلم کے بڑے قصبے دینہ کی عالمی شہرت معروف بھارتی فلم ڈائریکٹر، شاعر اور کہانی نویس گلزار کی جنم بھومی ہونا ہے اور قومی لحاظ سے یہ بابائے ظرافت ضمیر جعفری کا شہر ہے۔ گلزار کا بچپن دینہ کے مرزا محلہ میں گزرا اور ضمیر جعفری دینہ کے نواحی گاؤں چک عبدالخالق کے باسی تھے۔ راولپنڈی سے لاہور کی جانب عازم سفر ہوں تو تو دینہ شہر سے باہر نکلتے ہی ریلوے لائن پر بنے اوور ہیڈ برج کو کراس کرتے ہوئے دائیں جانب نظر اٹھائیں تو تو قلعہ روہتاس کے پرشکوہ لیکن شکستہ برج اور دیواروں کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔

Read more

کاش، ایم ایم عالم یہ سب دیکھ سکتے

ستمبر 2006 کا پہلا ہفتہ، کراچی میں پی اے ایف بیس فیصل کے گیسٹ روم کا ایک کمرہ، میں اور جمال حسین انتظار میں بیٹھے تھے، خدمتگار کا کہنا تھا کہ صاحب مسجد میں نماز پڑھ کر آتے ہی ہوں گے، میں رشک بھری نظروں سے کمرے کا جائزہ لے رہا تھا، داخلی دروازے سے لے کر اندر تک کتابیں ہی کتابیں تھیں، سب کی سب انگریزی زبان میں، کارپٹ پر صرف گزرنے کا راستہ تھا، کارنس بھی کتابوں سے بھرا، حتیٰ کہ سنگل بیڈ کا بھی صرف اتنا حصہ خالی کہ سونے کی جگہ تھی، ان کتابوں کے موضوعات میں سٹریٹیجک افیئرز سب سے زیادہ نمایاں تھا، مجھے بار بار اپنی کم مائیگی کا احساس ہو رہا تھا اور انتظار میں شدت آ رہی تھی، جمال حسین مجھ سے ہلکی پھلکی گپ شپ کر رہے تھے لیکن میری توجہ کتابوں اور ان کتابوں کے پڑھنے والے کی طرف تھی کہ کب ملاقات ہو۔

Read more

آپ نے ضیاء الحق کا چھکا نہیں دیکھا؟

فروری 1987۔ چک لالہ ائر پورٹ کے وی آئی پی لاؤنج میں ایک ہڑبونگ مچی ہوئی تھی. جنرل ضیاء الحق بھارت کے شہر جے پور میں پاک بھارت کرکٹ میچ دیکھنے کے بعد واپس آ رہے تھے۔ ائر پورٹ پر ہی پریس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اسلام آباد کی پریس کور یہ بات…

Read more

17 اگست، بیگم شفیقہ ضیاء الحق نے کہا، مجھے سب پتہ ہے کون کرا رہا ہے

1988، یہ 17 اگست کی سہ پہر تھی، بھادوں کا حبس فضا کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے تھا، راولپنڈی میں بینک روڈ پر نوائے وقت کے رپورٹنگ روم میں ریزیڈنٹ ایڈیٹر طارق وارثی داخل ہوئے اور لہجے میں گہری سوچ اور تشویش پیدا کرتے ہوئے کہا، ”ایک وی آئی پی فلائیٹ لاپتہ ہے، اللہ خیر کرے“ سب رپورٹر ان کی طرف متوجہ وہ گئے، کہنے لگے، ”آف دی ریکارڈ یہ ہے کہ طیارے میں صدر جنرل ضیاءالحق سوار تھے، لیکن جب تک اعلان نہ ہو کسی سے ذکر نہ کریں“۔

شام کو سرکاری اعلان جاری ہوا، سی 130 میں سوار صدر جنرل محمد ضیاءالحق، متعدد جرنیل و سینئر فوجی افسران بشمول ”میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا“ اور ”پریشر ککر“ کے خالق بریگیڈئر صدیق سالک بہاولپور کے باہر خیر پور ٹامیوالی میں جاں بحق ہو گئے، طیارے میں امریکی سفیر آرنلڈ رافیل بھی سوار تھے۔

Read more

13 اگست 1988: میاں نواز شریف کو یاد تو ہو گا؟

جنرل ضیاء الحق نے 29 مئی 1988 کو محمد خان جونیجو کو وزیر اعظم ہاؤس سے بیک بینی و دو گوش نکال باہر کیا۔ بظاہر اعلان تو عام انتخابات منعقد کرانے کا کیا گیا لیکن ان کے بیانات سے ارادے اچھے معلوم نہیں ہو رہے تھے۔ بات کچھ خلافت کے نظام کی طرف بڑھتی نظر…

Read more

جو بات بے نظیر نہیں سمجھ پائیں وہ عمران خان کیسے سمجھیں گے؟

یہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت تھی، 1988 کے عام انتخابات کے بعد آئی جے آئی کے مقابلے میں انہوں نے بمشکل ہی کامیابی حاصل کی تھی، جنرل حمید گل کا تشکیل کردہ اسلامی جمہوری اتحاد وفاق میں تو بے نظیر بھٹو کی حکومت کے قیام کے راستے میں بند نہ باندھ سکا لیکن پنجاب میں میاں نواز شریف بطور وزیر اعلیٰ خم ٹھونک کر آ گئے۔ سینئر اور جہاندیدہ ملک معراج خالد کو بے نظیر بھٹو نے قومی اسمبلی کا سپیکر بنا دیا۔ سرد و گرم چشیدہ ملک معراج خالد نہایت ہی دانش مندی سے ایوان کو کسی بڑی محاذ آرائی کے بغیر لے کر آگے بڑھ رہے تھے۔ ملک معراج خالد ذوالفقار علی بھٹو کے دیرینہ رفیق تھے، لاہور کے سرحدی علاقے سے تعلق رکھنے والے بزرگ سیاست دان نے اوائل عمری میں خود ریڑھے پر ڈبے رکھ کر دودھ بیچا۔ اور ساتھ تعلیم کا حصول جاری رکھا۔ انہیں ہمیشہ اپنے ماضی پر فخر رہا

Read more