یہ نون لیگ کی حکومت نہیں ہے

یہ نون لیگ کی حکومت نہیں ہے لیکن یہ پیپلز پارٹی کی حکومت بھی نہیں ہے۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ جب وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری ہیں تو پھر یہ نون لیگ یا پیپلز پارٹی کی حکومت کیوں نہیں ہے؟ اگر ایسا ہی ہے تو پھر یہ پی ڈی ایم کی حکومت ہو گی؟ نہیں ایسا بھی نہیں ہے، یہ پی ڈی ایم کی حکومت بھی نہیں ہے۔ میری رائے میں 8 فروری کو

Read more

شدت پسندی کا جن بوتل میں کیسے بند ہو گا؟

ایسے لگتا ہے کہ پاکستان ایک گول دائرے میں چل رہا ہے۔ یہ 1985 کے جنرل ضیاء الحق کے دور میں 8 سال کے وقفے سے قائم ہونے والی پارلیمنٹ کا ایوان بالا یعنی سینیٹ تھا۔ چیئرمین غلام اسحاق خان کی صدارت میں اجلاس جاری تھا کہ سینیٹر مولانا کوثر نیازی توجہ دلاؤ نوٹس پر بول رہے تھے۔ مولانا کوثر نیازی کے ہاتھ میں اس روز کا ایک قومی روزنامہ تھا جس میں جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد کے حوالے

Read more

نواز شریف اور اقتدار کی سیاست

چار دہائیوں سے زائد پاکستان کے سیاسی منظر پر متحرک رہنے والے میاں محمد نواز شریف کے بارے میں تاثر یہ ہے کہ وہ اب ریٹائرمنٹ کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن ان کو قریب سے جاننے والوں کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ نواز شریف پہلے سے زیادہ قوت سے آگے بڑھنے کے لیے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ 1981 میں گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی خان کی کابینہ میں وزیر خزانہ کے منصب سے عوامی سیاست

Read more

نواز شریف الوداع؟

یہ منظر راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ کا ہے۔ اپریل 1986 میں بہار کی خوبصورت شام ہے۔ کرسیوں کے تکلف کے بغیر انسانوں سے بھرے لیاقت باغ میں ارد گرد سڑکوں سے آگے پھیل کر پیپلز پارٹی کے جوشیلے کارکن ایک طرف کمیٹی چوک، دوسری طرف مریڑ چوک اور تیسری جانب راجہ بازار کے فوارہ چوک تک نعرہ زن ہیں۔ لیاقت باغ کے سٹیج پر موجود نوجوان بے نظیر بھٹو ”جاوے جاوے کا نعرہ بلند کرتی ہے تو جواب میں

Read more

عدلیہ سے: امید بہار رکھ

کچہری کے درختوں سے گرے پتے بھی پاؤں رکھنے کا معاوضہ مانگتے ہیں، یہ مسئلہ شاید صرف پاکستان کا نہیں پورے برصغیر کا ہے لیکن ہماری غرض تو اس ارض وطن سے ہے جہاں کے نظام انصاف کی ہر فائل کو جب تک نوٹ کے پہیے نہ لگائے جائیں وہ آگے بڑھنے سے انکار کر دیتی ہے۔ معروف پراپرٹی ٹائیکون نے ٹی وی انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ ان کی ادارے کی کوئی فائل کبھی بھی نہیں رکتی کیونکہ

Read more

احوال زوال

حقیقت یہی ہے کہ 8 لاکھ 81 ہزار 913 کلو میٹر کے رقبے پر مشتمل ملک پاکستان میں حال مست 24 کروڑ لوگ رہتے ہیں۔ انہیں اس بات کو کوئی غرض نہیں کہ ان کے ارد گرد کی دنیا میں کیا چل رہا ہے۔ یوکرین میں جاری جنگ دوسرے سالگرہ منانے کے قریب ہے جبکہ مشرق وسطیٰ میں فلسطینی شہریوں کی نسل کشی زور و شور سے جاری ہے۔ دنیا کی پانچویں ایٹمی طاقت ملک کا میڈیا صبح سے شام

Read more

بھٹو زندہ ہے لیکن پیپلز پارٹی؟

4 اپریل 1979 کو جب راولپنڈی کی سینٹرل جیل میں جلاد تارا مسیح سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے گلے میں پھانسی کا پھندا کس رہا تھا تو وہ نہیں جانتا تھا کہ طبعی موت کے باوجود بھٹو پاکستان کی سیاست میں آئندہ آنے والی کئی دہائیوں میں ایک استعارہ بن جائے گا اور پاکستان کی سیاست بھٹو کے حامیوں اور بھٹو کے مخالفین میں تقسیم ہو جائے گی۔ بھٹو کو پھانسی کے پھندے پر لٹکانے کی سزا کے خلاف

Read more

سوشل میڈیا اور صحافتی اقدار

80 کی دہائی کے نصف میں جب میں نے پرنٹ میڈیا کے میدان میں قدم رکھا تو چند ہی ماہ پہلے جنرل ضیاء الحق کے طویل دور آمریت کے بعد عام انتخابات منعقد ہوئے تھے اور سندھڑی سے تعلق رکھنے والے شریف النفس محمد خان جونیجو کو جنرل ضیاء الحق نے وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بٹھایا تھا۔ یہ پرنٹ میڈیا کے عروج کا زمانہ تھا۔ کیلیگرافی کو خیرباد کہا جا رہا تھا اور کمپیوٹر پر کمپوزنگ اخبارات کے دفتروں

Read more

جب نواز شریف نے اپنی پارٹی قیادت کے خلاف بغاوت کی

یہ بات اس ہنگامی اجلاس کی ہے جب نواز شریف نے جونیجو کو مخاطب کر کے کہا ’سائیں، لوگ سخت غصے میں ہیں، ان کو ٹھنڈا کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آپ استعفیٰ دے دیں۔‘

Read more

روہتاس میں مائی رانی کا تعزیہ

جی ٹی روڈ پر ضلع جہلم کے بڑے قصبے دینہ کی عالمی شہرت معروف بھارتی فلم ڈائریکٹر، شاعر اور کہانی نویس گلزار کی جنم بھومی ہونا ہے اور قومی لحاظ سے یہ بابائے ظرافت ضمیر جعفری کا شہر ہے۔ گلزار کا بچپن دینہ کے مرزا محلہ میں گزرا اور ضمیر جعفری دینہ کے نواحی گاؤں چک عبدالخالق کے باسی تھے۔ راولپنڈی سے لاہور کی جانب عازم سفر ہوں تو تو دینہ شہر سے باہر نکلتے ہی ریلوے لائن پر بنے اوور ہیڈ برج کو کراس کرتے ہوئے دائیں جانب نظر اٹھائیں تو تو قلعہ روہتاس کے پرشکوہ لیکن شکستہ برج اور دیواروں کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔

Read more

کاش، ایم ایم عالم یہ سب دیکھ سکتے

ستمبر 2006 کا پہلا ہفتہ، کراچی میں پی اے ایف بیس فیصل کے گیسٹ روم کا ایک کمرہ، میں اور جمال حسین انتظار میں بیٹھے تھے، خدمتگار کا کہنا تھا کہ صاحب مسجد میں نماز پڑھ کر آتے ہی ہوں گے، میں رشک بھری نظروں سے کمرے کا جائزہ لے رہا تھا، داخلی دروازے سے لے کر اندر تک کتابیں ہی کتابیں تھیں، سب کی سب انگریزی زبان میں، کارپٹ پر صرف گزرنے کا راستہ تھا، کارنس بھی کتابوں سے بھرا، حتیٰ کہ سنگل بیڈ کا بھی صرف اتنا حصہ خالی کہ سونے کی جگہ تھی، ان کتابوں کے موضوعات میں سٹریٹیجک افیئرز سب سے زیادہ نمایاں تھا، مجھے بار بار اپنی کم مائیگی کا احساس ہو رہا تھا اور انتظار میں شدت آ رہی تھی، جمال حسین مجھ سے ہلکی پھلکی گپ شپ کر رہے تھے لیکن میری توجہ کتابوں اور ان کتابوں کے پڑھنے والے کی طرف تھی کہ کب ملاقات ہو۔

Read more

آپ نے ضیاء الحق کا چھکا نہیں دیکھا؟

فروری 1987۔ چک لالہ ائر پورٹ کے وی آئی پی لاؤنج میں ایک ہڑبونگ مچی ہوئی تھی. جنرل ضیاء الحق بھارت کے شہر جے پور میں پاک بھارت کرکٹ میچ دیکھنے کے بعد واپس آ رہے تھے۔ ائر پورٹ پر ہی پریس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اسلام آباد کی پریس کور یہ بات طے کرنے میں مصروف تھی کہ پہلا سوال جنگ کے رپورٹر حنیف خالد کو نہیں کرنے دیا جائے گا۔ مسئلہ یہ تھا کہ پھر پہلا

Read more

17 اگست، بیگم شفیقہ ضیاء الحق نے کہا، مجھے سب پتہ ہے کون کرا رہا ہے

1988، یہ 17 اگست کی سہ پہر تھی، بھادوں کا حبس فضا کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے تھا، راولپنڈی میں بینک روڈ پر نوائے وقت کے رپورٹنگ روم میں ریزیڈنٹ ایڈیٹر طارق وارثی داخل ہوئے اور لہجے میں گہری سوچ اور تشویش پیدا کرتے ہوئے کہا، ”ایک وی آئی پی فلائیٹ لاپتہ ہے، اللہ خیر کرے“ سب رپورٹر ان کی طرف متوجہ وہ گئے، کہنے لگے، ”آف دی ریکارڈ یہ ہے کہ طیارے میں صدر جنرل ضیاءالحق سوار تھے، لیکن جب تک اعلان نہ ہو کسی سے ذکر نہ کریں“۔

شام کو سرکاری اعلان جاری ہوا، سی 130 میں سوار صدر جنرل محمد ضیاءالحق، متعدد جرنیل و سینئر فوجی افسران بشمول ”میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا“ اور ”پریشر ککر“ کے خالق بریگیڈئر صدیق سالک بہاولپور کے باہر خیر پور ٹامیوالی میں جاں بحق ہو گئے، طیارے میں امریکی سفیر آرنلڈ رافیل بھی سوار تھے۔

Read more

13 اگست 1988: میاں نواز شریف کو یاد تو ہو گا؟

جنرل ضیاء الحق نے 29 مئی 1988 کو محمد خان جونیجو کو وزیر اعظم ہاؤس سے بیک بینی و دو گوش نکال باہر کیا۔ بظاہر اعلان تو عام انتخابات منعقد کرانے کا کیا گیا لیکن ان کے بیانات سے ارادے اچھے معلوم نہیں ہو رہے تھے۔ بات کچھ خلافت کے نظام کی طرف بڑھتی نظر آ رہی تھی۔ میاں نواز شریف پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر قائم تھے اور جنرل ریٹائرڈ فضل حق کا طوطی اس وقت کے صوبہ سرحد

Read more

جو بات بے نظیر نہیں سمجھ پائیں وہ عمران خان کیسے سمجھیں گے؟

یہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت تھی، 1988 کے عام انتخابات کے بعد آئی جے آئی کے مقابلے میں انہوں نے بمشکل ہی کامیابی حاصل کی تھی، جنرل حمید گل کا تشکیل کردہ اسلامی جمہوری اتحاد وفاق میں تو بے نظیر بھٹو کی حکومت کے قیام کے راستے میں بند نہ باندھ سکا لیکن پنجاب میں میاں نواز شریف بطور وزیر اعلیٰ خم ٹھونک کر آ گئے۔ سینئر اور جہاندیدہ ملک معراج خالد کو بے نظیر بھٹو نے قومی اسمبلی کا سپیکر بنا دیا۔ سرد و گرم چشیدہ ملک معراج خالد نہایت ہی دانش مندی سے ایوان کو کسی بڑی محاذ آرائی کے بغیر لے کر آگے بڑھ رہے تھے۔ ملک معراج خالد ذوالفقار علی بھٹو کے دیرینہ رفیق تھے، لاہور کے سرحدی علاقے سے تعلق رکھنے والے بزرگ سیاست دان نے اوائل عمری میں خود ریڑھے پر ڈبے رکھ کر دودھ بیچا۔ اور ساتھ تعلیم کا حصول جاری رکھا۔ انہیں ہمیشہ اپنے ماضی پر فخر رہا

Read more