اچھا ہوا ایک چور مار ڈالا، سب کا ٹائم آئے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی سے خبر آئی ہے کہ ادھر درجن بھر نہایت ہی نیک دل لوگوں نے جو معاشرے میں کوئی برائی برداشت کرنے کے روادار نہیں ہیں، ایک بچے کو چور پا کر مار ڈالا۔ انہوں نے باقی تمام بچوں، بڑوں اور چوروں کو عبرت دلانے کے لئے اس قتل کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر ڈال دی۔ اچھا ہوا چور مار ڈالا، سب چوروں کا ٹائم آئے گا، اب آپ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کی نیت نیک تھی بس طریقہ غلط تھا۔ ورنہ ایسا کہنے کی بھی چنداں ضرورت نہیں ہے۔

ہمیں ویڈیو دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا کیونکہ طبعاً بزدل اور رقیق القلب ہونے کی وجہ سے ہم ایسی ویڈیوز نہیں دیکھتے۔ ہاں جنہوں نے دیکھی ہے وہ بتاتے ہیں کہ چور کو گرل سے باندھ کر ڈنڈوں سے مارا گیا۔ ایسا نہیں کہ ادھر سب ظالم اکٹھے ہو گئے تھے۔ ایک صاحب کے بارے میں بتایا جاتا تھا کہ وہ منع کرتے رہے کہ ڈنڈا سر پر مت مارو کہیں بچہ مر نہ جائے۔ بچے کی پینٹ اتارنے کا معاملہ ابھی تحقیق طلب ہے۔ شاید اگست کے احترام میں ایسا کیا گیا ہو۔ منٹو وغیرہ بتاتے ہیں کہ اگست 1947 میں شلوار پاجامہ اتارنے کے بعد ہی فیصلہ کیا جاتا تھا کہ بندہ نیک ہے یا واجب القتل۔ شاید یہ لوگ بھی ویسی ہی تحقیق کر رہے ہوں۔ بچہ واجب القتل نکلا۔

دیکھیں ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کا یہ برا حال چوری ڈاکے کی وجہ سے ہی ہوا ہے۔ یہی چھوٹے چھوٹے چور جب ریڑھی لگاتے ہیں تو گاہکوں کو لوٹتے ہیں، جب سرکاری اہلکار بنتے ہیں تو عوام کو لوٹتے ہیں، جب ملک کے حکمران بنتے ہیں تو پورا ملک لوٹ لیتے ہیں۔ اس لوٹ مار کو تو ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ بعض افراد کا خیال تھا کہ اگر سربراہ ٹھیک ہو تو سب ٹھیک ہو جاتا ہے، یہ نظریہ غلط ثابت ہو چکا ہے۔ اس لئے اب اس کے مخالف نظریے کو فروغ دینا ہو گا کہ عام آدمی ٹھیک ہوں تو سربراہ بھی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اس تناظر میں ان نیک افراد کے اٹھائے ہوئے قدم کی تعریف کرنی چاہیے۔

ویسے بھی ہمارے لیڈر بارہا قوم کی راہنمائی کر چکے ہیں کہ چوروں کو سڑک پر گھسیٹنا چاہیے، ان کا پیٹ پھاڑ کر لوٹا ہوا مال نکالنا چاہیے، انہیں لٹکا دینا چاہیے، پانچ ہزار چوروں لٹیروں کو مار ڈالنا چاہیے، ملک میں خمینی کی طرح کا انقلاب آنا چاہیے جو سرسری سماعت کے بعد ہر کرپٹ شخص کو فائرنگ سکواڈ کے حوالے کر دے۔

ہمارے لیڈروں کو علم ہے کہ ہمارا عدالتی نظام ناکارہ ہے، کسی مجرم کو سزا نہیں مل پاتی۔ عدالتوں میں تاریخیں پڑتی رہتی ہیں، جج ناحق ضد کرتے ہیں کہ ثبوت ہو گا تو ملزم کو سزا ہو گی۔ اب آپ خود ایمان سے کہیں کہ جب ہمیں پتہ ہے کہ فلاں شخص چور ڈاکو ہے تو پھر مزید کسی ثبوت کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ کراچی میں ان لوگوں نے اپنے لیڈروں کی بات پر ہی تو عمل کیا ہے۔ جب پتہ تھا کہ چور ہے تو سزا دے ڈالی۔

جہاں تک اس چور کا تعلق ہے تو اسے دیکھ کر تعجب ہوتا ہے۔ نہایت معصوم شکل۔ بالکل عام سے بچوں جیسا۔ ہاں ایک عیب تھا۔ غریب لگتا تھا ورنہ ویسا ہی ہوتا جیسے ہمارے آپ کے بچے ہوتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ نسلاً بنگالی تھا اور کراچی کے اس راندہ درگاہ قبیلے سے تعلق رکھتا تھا جس نے 1971 میں بنگلہ دیش پر پاکستان کو ترجیح دی۔ یعنی اپنی نسل سے غداری کر دی۔

نتیجہ یہ کہ انہیں آخرت میں تو جو بھی سزا ملے، مگر اس دنیا میں مملکت خداداد ان کو بھرپور سزا دے رہی ہے۔ انہیں شہری تسلیم نہیں کیا جاتا اور شناختی کارڈ نہیں بنتا۔ پھر یہ چھوٹے موٹے کام کرتے ہیں، پولیس والوں کو نذرانے دیتے ہیں اور بعضے چوری چکاری بھی کر لیتے ہیں۔ پتہ نہیں یہ بھوک کیوں نہیں برداشت کر سکتے؟ کیا ہو گا زیادہ سے زیادہ؟ بھوک سے مر ہی جائیں گے نا؟ مر جائیں۔ ریاست یہی تو انہیں عملی کوششوں سے سمجھا رہی ہے۔

اس بچے کے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ اس کا پولیس ریکارڈ ہے۔ اب موم بتی مافیا کہے گی کہ ”وہ کہیں آ جا رہا ہو گا، پولیس نے روک لیا، بنگالی تھا، کم عمر تھا، شناختی کارڈ ہو گا نہیں، اور غریب بھی تھا، پاکستان سے اپنی محبت ثابت کرنے کے لئے پولیس کو قائداعظم کی تصویر بھی جیب سے نکال کر پیش نہیں کر سکا ہو گا، پولیس ریکارڈ تو بننا ہی تھا۔ “ بھلا یہ قابلِ یقین بات ہے؟ کچھ کیا ہو گا تو پھر ہی پولیس نے پکڑا ہو گا۔ پولیس بلاوجہ تو کسی کو نہیں پکڑتی۔

اس کے گھر والے دعوی کر رہے ہیں کہ ”ریحان عید پر قصاب کا کام کر رہا تھا۔ جس گھر میں مارا گیا ہے اس کے ساتھ والے گھر سے قربانی کی اجرت وصول کرنے گیا تھا، وہ دے نہیں رہے تھے، اسی اثنا میں اس گھر کے لوگوں نے دیکھا کہ ایک لڑکا ان کے پاک صاف محلے میں چکر لگا رہا ہے۔ انہوں نے پکڑ کر تفتیش شروع کر دی اور بے گناہ کو ہی مار ڈالا۔ “

اب آپ خود اس کے گھر والوں کے بیان کو دیکھیں۔ یعنی یہ چور قصاب صفت تھا۔ چھریاں ٹوکے لہراتا تھا۔ اب گھر والوں نے دیکھا ہو گا کہ ایک چور دکھنے والا مشکوک سا قصاب بار بار ان کی گلی کے چکر لگا رہا تو وہ ڈر گئے ہوں گے کہ کہیں یہ گھر میں گھس کر مار ہی نہ ڈالے۔ اس لئے انہوں نے اسے پکڑ کر اپنے گھر میں باندھا اور اسے بے بس کر کے سیلف ڈیفینس میں مار ڈالا۔

انڈیا کی فلم ”گلی بوائے“ سے فقرہ مشہور ہوا تھا، ”اپنا ٹائم آئے گا“۔ اس میں ہیرو کو ایک نہایت غریب لڑکا دکھایا گیا تھا جو غربت سے نکلنے کے خواب دیکھتا تھا اور سوچتا تھا کہ اپنا ٹائم آئے گا اور سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اب یہ غریب لوگ سب سوچنے لگے ہیں کہ ان کا ٹائم آئے گا۔ ریحان بھی یہی سوچ رہا تھا۔ اب سب پرسا دینے والے اس کے گھر والوں سے مل کر یہی کہہ رہے ہیں کہ ”بس جی اس کی اتنی ہی لکھی تھی، اس کا ٹائم آ گیا“۔

تمام انصاف پسند افراد اور ہمارے لیڈر اس فوری اور تیز تر انصاف پر ضرور خوش ہوں گے۔ ہونا بھی چاہیے کہ اس پاک وطن سے ایک چور کم ہوا، بس ایک پریشانی ہے۔ چلو ریحان تو غریب غربا میں سے تھا۔ اچھا ہوا اس کا ٹائم آ گیا اور عذاب سے مکتی مل گئی۔ لیکن یہ ”اپنا ٹائم آئے گا“ والی شرٹ ہمارے آپ کے عالی نسب بچے بھی پہن رہے ہیں۔ کہیں ایسے ہی ان کا وقت نہ آ جائے۔ آپ کو سیالکوٹ کے ایسے دو بچے یاد ہوں گے جن کا ایسے ہی وقت آ گیا تھا حالانکہ وہ غریب بھی نہیں تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1183 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar