جنرل باجوہ کی مدت میں توسیع: پاکستان محفوظ و مضبوط ہاتھوں میں رہے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک انصاف کی حکومت کا ایک سال مکمل ہونے کے فوری بعد وزیراعظم عمران خان نے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کا حکم جاری کیا ہے۔ اس طرح ’بحرانی حالات‘ میں ملکی فوج کو ایک آزمودہ، تجربہ کار اور مضبوط فوجی جنرل کی کمان میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکومت اورفوج کے درمیان تال میل، تعاون اور ایک پیج پر ہونے کی موجودہ حکمت عملی کی روشنی میں مبصر اور اسلام آباد میں رونما ہونے والے حالات پر نظر رکھنے والے رپورٹر پہلے ہی یہ توقع لگائے بیٹھے تھے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی جائے گی۔ تاہم اس کے ساتھ ہی یہ اندازے بھی قائم کیے جارہے تھے کہ شاید یہ توسیع پورے تین برس کے لئے نہ دی جائے بلکہ ایک برس کی توسیع یا اس سے کچھ زیادہ مدت کے لئے پاک فوج کے پاور اسٹرکچر کو موجودہ قیادت کے ساتھ ہی چلنے دیا جائے۔

اس دوران سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے والے احتساب جج کی ویڈیو سامنے آنے اور دباؤ میں فیصلہ کرنے کی قیاس آرائیوں کی وجہ سے بعض حلقے یہ اندازہ بھی قائم کرنے لگے تھے کہ ان حالات میں جبکہ فوج پر براہ راست سیاسی معاملات میں مداخلت کا الزام عائد ہوتا ہے اور احتساب جج کی بد اعتدالی کا پردہ فاش ہونے کے بارے میں چونکہ اہم انٹیلی جنس اداروں پر انگلیاں اٹھی ہیں، اس لئے وزیر اعظم کی خواہش کے باوجود شاید جنرل باجوہ خود ہی توسیع لینے سے انکار کردیں۔ تاہم وزیر اعظم کے حکم نامہ کے بعد دونوں طرح کے اندازے غلط ثابت ہوئے ہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے 29 نومبر 2016 کو پاک فوج کی کمان سنبھالی تھی۔ ان سے پہلے آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف نے اپنے عہدے کی مدت کا بیشتر وقت اپنی امیج بلڈنگ پر صرف کیا اور اس دوران ملک کے در و دیوار ’جانے کی باتیں نہ کرو‘ کے نعروں سے سجے رہے لیکن اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے ڈان لیکس کے سبب پیدا ہونے والی بدگمانی کی وجہ سے انہیں توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہوا تھا۔ اس کا حتمی یقین ہونے کے بعد ہی سابق آرمی چیف کو آئی ایس پی آر کے ذریعے یہ اعلان کرنا پڑا تھا کہ وہ اپنے عہدے کی مدت میں توسیع لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ وگرنہ یا وش بخیر اس وقت بھی ملکی سلامتی کچھ ایسے ہی چیلنجز کا سامنا کررہی تھی، جس کا اندیشہ اس وقت لاحق ہے۔

ہٹ دھرم وزیر اعظم کی ناسمجھی کی وجہ سے جنرل (ر) راحیل شریف کو مجبوراً سعودی عرب کے تعاون سے اسلامی فوج کا کمانڈر بننا پڑا اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو اس مقصد کے لئے ’صدیوں میں پیدا ہونے والے اس جنرل‘ کو آرمی چیف کا عہدہ چھوڑنے کے فوری بعد غیر ملک میں ایک عسکری عہدہ پر کام کرنے کا ’این او سی‘ جاری کرتے ہی بنی تھی۔ تاہم جنرل (ر) راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کی امید و نومیدی کے دورانیہ میں ان مباحث نے اس قدر شدت اختیار کی کہ یہ معلوم نہیں پڑتا تھا کہ پاکستان کو فوجی سربراہ کی تعیناتی کے علاوہ بھی کسی مسئلہ کا سامنا ہے۔ اس وقت چونکہ نئے پاکستان کی بنیاد نہیں رکھی گئی تھی، اس لئے میڈیا اتنا ’آزاد‘ نہیں ہوا تھا جتنا وزیر اعظم کے اپنے الفاظ میں اس وقت آزاد بلکہ بے لگام ہے، اس لئے ’نیا آرمی چیف کون ہو گا؟ ‘ کے عنوان سے مباحث اور ٹاک شوز کا انتھک سلسلہ کئی ماہ تک جاری رہا تھا۔

اب اگرچہ میڈیا مکمل ’آزاد‘ ہے اور حکومت صرف ’بہترین قومی مفاد‘ میں اس کی رہنمائی کا فریضہ ادا کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن اس کے باوجود گزشتہ چند ماہ سے جنرل قمر جاوید باجوہ کے مستقبل کے بارے میں سرگوشیاں ہونے لگی تھیں۔ ابھی ان کے موجودہ عہدہ کی مدت ختم ہونے میں تین ماہ دس دن باقی ہیں، اس لئے ماضی کے تجربہ کی روشنی میں یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ پاکستانی مبصرین کو بدعنوانی ختم کرنے اور کشمیر آزاد کروانے سے جوں ہی فرصت ملتی تو وہ اس موضوع پر اپنی فصاحت و بلاغت کے دفتر کھولنا شروع کرتے۔ حالانکہ اب میڈیا کو ’ذمہ دار اور قومی مفاد کا محافظ‘ بنانے کے لئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے علاوہ میجر جنرل آصف غفور بھی اپنی سی کاوش کرتے رہتے ہیں۔ ا س کے باوجود چونکہ ہر شعبہ میں سابقہ کرپٹ حکمرانوں کے ’گماشتے‘ موجود ہیں، اس لئے اس موضوع پر ضرور بھد اڑائی جاتی۔ اس لحاظ سے وزیر اعظم نے وقت سے بہت پہلے ہی یہ اعلان کرکے اس غیر ضروری ذہنی وفکری مشقت کا امکان ختم کردیا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ ہی 29 نومبر کے بعد مزید تین برس تک پاک فوج کے سربراہ رہیں گے۔ اس حد تک عمران خان کے فیصلہ کی ضرور توصیف ہونی چاہیے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1260 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali