محبت اور جنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گھر کے سربراہ کی ناگہانی جدائی سے گھرانے صدیوں پیچھے چلے جاتے ہیں۔ ایک ایک اینٹ اینٹ اور ٹکا ٹکا جوڑ کر بنائے گھر پل بھر میں ریت کی دیوار کی طرح ڈھے جاتے ہیں۔ دنیا کا ہر انسان ماں کو یاد کر کے تڑپتا ہے۔ ہر شاعر ہر مرثیہ گو ماں کی شفقت، محبت اور ایثار کو ادب کے ساگر سے انمول موتی چن چن کر ایسی تسبیح بناتا ہے کہ دنیا میں ہر بن ماں کا بچہ زندگی بھر اُس کی مالا جپتا رہتا ہے۔

جب میری دادی کا انتقال ہوا تب میرے والد صاحب دس سال کے تھے۔ ساری زندگی اُنھیں اپنی ماں کو یاد کر کے روتے دیکھا۔

مگر جب میرے دادا فوت ہوئے تو والد صاحب کی عمر پچاس کے لگ بھگ تھی۔ برسرروزگار اور آل اولاد والے تھے۔ میں نے اُنھیں روتے تو نہیں مگر خالی خالی نگاہوں سے اکثر خلا میں گھورتے دیکھا۔ وہ ایک جملہ بہت بولا کرتے تھے کہ ”باپ کی وفات کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میں ننگے سر آسمان تلے کھڑا ہوں اور سورج سوا نیزے پر ہے“

مجھے یہ بات کبھی سمجھ نہ آتی پھر والد صاحب نے فوت کر ایسا سمجھایا کہ چاروں طبق روشن ہو گئے۔

آج احساس ہوتا ہے کہ ماں کی محبت اپنی جگہ، مگر رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم اور مولا کریم نے یتماء کے حقوق بارے کیوں بار بار تاکید کی؟ اُن کے ساتھ سختی برتنے اور ان کا مال کھانے والے کو وعیدیں سنائی یقینا باپ کا سایہ سر سے اٹھ جاناہی دنیا کا سب سے بڑا نقصان ہے۔

باپ اور شوہر کا رشتہ بھی ایک عجیب رشتہ ہے۔ اگر وہ اپنی اولاد کے لیے کچھ ترکہ چھوڑ یا اُنھیں اپنے پیروں پر کھڑا کرجائے تو نالائق اور نا اہل بیٹا بھی عزت سے زندگی گزار سکتا ہے۔ مگر کچھ ایسی اولاد ہوتی ہے جو باپ کے نام کو اپنے کرتوتوں سے بٹا لگا دیتی ہے۔

محبت مشقت سے کمائی دولت نشے پانی اور نالائقی کی بدولت برباد اور ڈنڈے یا شرافت سے کمائی عزت کو گہن لگا دیتی ہے۔ لائف انشورنس کے کاروبار سے منسلک لوگ ہمیشہ ایسے عمدہ دلائل دے کر گاہکوں کو نا گہانی آفات اور گھر کے سربراہ کے اچانک فوت ہو جانے کا منظر دکھا دکھا کر انشورنس بیچتے ہیں۔

دانشور لوگ تو لفظ ”فوت“ کے بجائے ”انتقال“ اور ڈیتھ کے بجائے پاس اوے استعمال کرتے ہیں کیونکہ بقول اُن کے انسان مر کر ختم نہیں ہوتا بلکہ اپنی اولاد میں منتقل ہو جاتا ہے۔

شوہر کے چلے جانے کے بعد بیوی اولاد کا بوجھ اٹھانے کو بے شک سپارے پڑھانے گھر سے نکلے مگر یہ بے رحم معاشرہ اسے اُس کے نام سے نہیں بلکہ مرحوم کا نام لے کر اچھا یا برا کہتا ہے۔ ایسے ہی نشی نا اہل اور نالائق اولاد بھی باپ کے نام کو ہی دھبہ لگاتی ہے۔

ریاست بھی ایک گھر ہی مانند ہوتی ہے۔ ایسا گھر جہاں پانچ چھ بھائی بہن مل کر رہتے ہیں۔ سب کا دکھ درد خوشی غمی سانجھی ہوتی ہے۔ کوئی زیادہ کماتا ہے تو کوئی کم۔ کوئی لائق ہوتا ہے تو کوئی نالائق۔ سب اپنی اپنی کمائی سے کچھ کچھ سربراہ کے ہاتھ پر رکھتے ہیں جس سے گھر چلتا ہے۔ کسی لڑائی بیماری یا نقصان میں سب مل کر ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں اور ایک انصاف پسند سربراہ کی زیر کمان، یہی محبت قربانی ایک اچھا با عزت گھرانہ تشکیل دیتی ہے۔

براہوی زبان کی ایک مشہور کہاوت ہے کہ ”بات کرو ہمیشہ خدا لگتی مگر جب لڑائی ہو جائے تو لاٹھی ہمیشہ بھائی کی طرف سے مارو۔ “

چیف صاحب کی مدت ملازمت میں توسیع پر جو بھائی دبے دبے لہجوں میں اعتراضات کر رہے ہیں میں اُن سے مخاطب ہوں۔

دوستوں دہائیوں سے ہماری انڈیا سے مسئلہ کشمیر پر بات چل رہی تھی۔ ایسے میں ہم حق اور خدا لگتی بات کر رہے تھے مگر اب لڑائی ہو چکی تو حق و انصاف قانوں اور آئین کو ایک طرف رکھتے ہوئے لاٹھی اپنے بھائی کی طرف سے مارنی چاہیے۔

اس وقت ملک حالت جنگ میں ہے، جیسے جنگ کے دوران عدالتیں جاسوسوں غداروں اور مخالفین کے ثبوت نہیں بلکہ ملکی مفاد دیکھتی ہیں ایسے ہی اِس نازک موقع پر ہمیں اپنی افواج کا دست و بازو بننا چاہیے اُن کے خلاف کسی ایسے اقدام سے گریز کرنا چاہیے جس سے اُنکا مورال ڈاون ہو۔

چیف صاحب نے بھی گھر کے سربراہ کی طرح اِس ملک کی بہتری اور دشمنوں سے نمٹنے کو بہت کچھ پلان کر رکھا ہو گا اور یوں اُن کے اچانک چلے جانے سے کئی منصوبے دھرے رہ سکتے تھے۔ ہوشیار، چالاک دشمن اور لائق اور نالائق بیٹوں کے لیے مسائل یا آسانیاں پیدا ہو سکتی تھیں۔ اس لیے اِس موقع پر چیف صاحب کے ریٹائر ہونے سے دنیا بھر میں ملک کے کمزور ہونے کا تاثر جاتا جو کسی بھی صورت ملکی مفاد میں نہیں۔ سیانے فرماگئے ہیں کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے اور اِس وقت تو ملک میں محبت بھی ہے اور جنگ کے خطرات بھی منڈلا رہے ہیں۔

مگر نہ جانے کیوں مجھے آج وہ نالائق اور نا اہل مغل شہزادے بہت یاد آ رہے ہیں جو بادشاہ کی طرف سے ولی عہد قرار پائے بھائیوں کو قتل اور باپ کو قید کروا دیا کرتے، پھر اُن کے لائق اور سمجھدار بیٹوں کے کٹے سر تشتریوں میں سجا کراُنھیں پیش کیا کرتے تھے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے کہ جس پر احسان کرو اُس کے شر سے بچو۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں وقوع پزیر ہوئے واقعات سے باآسانی سمجھا جا سکتا ہے کہ کون کس پر احسان کر رہا ہے؟

مگر دوسری طرف والیِ حیدرآباد دکن سے جنگِ پلاسی اور مسیور کی تیسری جنگ میں ٹیپو سلطان سے غداری کرنے والے میر جعفر اور میر صادق کی نسلیں آج بھی شرمندہ ہیں۔

انگریز کی مکمل حمایت کے باوجود وہ نا اہل اور نالائق غدار یا تو فوری قتل ہو گئے یا پھر چند سال ہی بامشکل اقتدار کے مزے لے سکے تھے۔ اس لیے احسان اگر نالائق اور نا اہل لاڈلے پرکیا جائے تو وہ زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ وہ اپنے اقتدارکو طول دیتے یا اپنی نا اہلی سے گرتی ساکھ کو سہارا دینے کو کسی کا بھی سر کاٹ کر اپنے ووٹروں کو خوش کرسکتا ہے۔ کیونکہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •