گالیاں جو زندہ رہیں

برائی کسی وادی میں لگائی صدا کی طرح واپس پلٹ کر انسان کے پاس چلی آتی ہے۔ یہ برے انسان کی پانی پر تیرتی پرچھائی بن جاتی ہے جو ہر لحمے اُس کا منہ چڑاتی رہتی ہے۔ یہ ایک ایسا بیج ہے جو تناور درخت بننے تک انسان کو دکھائی نہیں دیتا مگر اچانک اِس…

Read more

سلطنتِ مغلیہ سے سلطنتِ شغلیہ تک

موجودہ حکومت اپنی سی پوری کوشش کر رہی ہے کہ کچھ ایسا کر گزرے کہ عوام کو پرانے پاکستان کی نسبت تبدیلی محسوس ہو، حلف اٹھاتے ہی حکومت نے معیشت کی ترقی کو انقلابی اقدامات کرنے شروع کیے جن میں سب سے پہلے ”مرغی انڈا“ اسکیم متعارف کروائی گئی تھی مگر خدا برا کرے اُن حکمرانوں کا جو عوام کو لیپ ٹاپ، اسکالرز شپ اور مفت تعلیم کے خواب دکھا دکھا کر ہڈحرام بناچکے تھے، نوجوانوں کی سہل پسندی کا یہ حال ہے کہ سامنے لیپ ٹاپ دھر کر تھیسس، اسائمنٹس اور سمسٹرز کا مکر کر کے والدین کو دکھاتے رہتے ہیں، مجال ہے جو کوئی اُٹھ کر ڈربہ صاف کرنے، مرغیوں کو دانہ ڈالنے یا بازار جا کر انڈے بیچنے کو راضی ہو، ملک میں ویسے بھی عقل مندوں کی کمی ہے جب ہی زرداری اور نواز کو ووٹ زیادہ ملتے ہیں تو عوام کو اِس اسکیم کی اہمیت کیسے سمجھ آتی؟ اِس لیے اس اسکیم کی افادیت سمجھانے کو ایک پرانا لطیفہ یاد آ رہا ہے، وہ سناتا ہوں

Read more

سلیبریٹی گدھا، لیاری اور انگلی

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں اپنے تایا کے ساتھ لیاری میں رہا کرتا تھا۔ ہمارے گھر کے ساتھ موجود چھوٹے سے سرکاری قطعہِ زمین پر نیم کے درخت کے نیچے شیدی فقیر محمد عرف بجلی کا ”راکٹ“ بندھا رہتا تھا۔ شیدی فقیر محمد جوانی میں مشہور فٹ بالر اور باکسر تھے۔ اپنی طاقت، پھرتی اورمخالف پر برساتے برق رفتار گھونسوں کی وجہ سے ”ماما بجلی“ کے نام سے شہرت پائی ماما نے عمر ڈھلنے کے بعد سپورٹ سے وابستہ زندگی کا حق ادا کرتے ہوئے دنیا کو ایک نئی گیم متعارف کروائی۔

Read more

فواد چوہدری کو جادو کی جھپی دو

وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی محترم فواد چوہدری صاحب نے چند روز قبل دیے ایک انٹرویو کے دوران اچانک ”منتخب لوگوں اور بغیر مشاورت فیصلوں“ کے بارے میں بیان دے کر سیاسی حالات کی نبض پر ہاتھ رکھنے والے تمام تجزیہ کاروں کو چونکا دیا۔ مشرف صاحب کے دست شفقت تلے سیاسی قد کاٹھ بنانے…

Read more

اُسے اس کا گولا گنڈا کھانے دو

آج زوجہ محترمہ کو لینے اُن کے سکول گیا اور حسبِ عادت سکول کے سامنے گاڑی پارک کر کے اُن کا انتظار کرنے لگا۔ جوں ہی پرائمری سیکشن کی چھٹی ہوئی، معصوم بچیوں کا ایک ریلہ سکول سے نکلا اور سٹرک کنارے کھڑے گولے گنڈے، پاپڑ اور قلفی والوں پر دھاوا بول دیا۔ گو کہ…

Read more

مرگ پر شادیانے بجانے والے

کل پنجاب کے شہر لالہ موسی میں قمر زمان کائرہ صاحب کا نوجوان بیٹا اسامہ کائرہ اپنے دوست حمزہ بٹ کے ساتھ روڈ ایکسڈنٹ میں شہید ہو گیا۔پاکستانی قوم جو نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کی تصاویر پوسٹ کرتے نہ تھکتی تھی اس افسوسناک حادثہ پر بالکل عجیب انداز میں اپنے اپنے تبصرے کر رہی ہے۔ پاکستان کی اکثریت اس حادثے پر شدید صدمے کا شکار ہے۔ ہر بال بچے دار انسان کا دل کانپ رہا ہے، ماہ صیام میں ہر انسان کے ہونٹوں پر اپنی آل ولاد، دوستوں اور رشتہ داروں کے علاوہ ہر انسان کی سلامتی کی دعائیں ہیں۔ مگر وہیں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو کرپشن، لوٹ مار اور بدامنی کا اسٹیج سجائے اپنی جھوٹی انا، محرومی، سیاسی بغض، ذاتی عداوت اور صوبائیت کو لے کر خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں۔

Read more

اس ہندو کے نام جس نے ہمیں چھ کلمے سکھائے

سات سال کا ہوتے ہی مجھے بھائی کے ساتھ گورنمنٹ سکول میں داخل کروا دیا گیا۔ تب پہلی جماعت میں آج کی طرح کئی کتب نہیں ہواکرتیں تھیں، صرف ایک اردو کا قاعدہ اور تختی ہوتی جیسے ایک بار گھر سے لکھ کر لے جانا ہوتا اور دوسری بار وہی سکول کے ساتھ موجود نہر پر دھو کر ہاتھ سے تیز تیز گما کر سکھایا جاتا اور آدھی چھٹی کے بعد سکول میں ہی لکھی جاتی۔ سیاہی دوات کا کام اور چھوٹے چھوٹے بچے۔ ہر بچے کے چہرے پر ایک الگ ڈیزائن بنا ہوتا۔کچھ بچوں کے رونے اور بار بار آنکھیں پونچھنے سے گالوں پر آنسوں سے دو کالی لکیریں بن جاتیں۔ جو شاید نیکی اور بدی کی لکیریں ہوتیں۔ دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیم پر بھی کافی زور دیا جاتا تمام طلباءکو سختی سے چھ کلمے رٹائے جاتے۔ ایک طالبعلم با آوازِ بلند کلمے پڑھتا اور دیگر طلباء بھی حلق پھاڑ پھاڑ کر کلمے دوہراتے۔ اس دوران ہندو طلباء کو کلاس سے باہر بھیج دیا جاتا جن کی اکثریت برآمدے میں کھیلتی رہتی مگر چند ایک ہماری آواز کے ساتھ آواز ملا کر بغیر کسی جذبہِ ایمانی کے تمام کلمے دوہراتے رہتے، یوں اکثر ہندو بچوں کو پورے چھ کلمے ازبر ہو چکے تھے۔

Read more