چھانگا اور چیف

ڈھاڈر کے مین چوک میں، ہمارے گھر اور مارکیٹ کے سامنے، جہاں سندھ نصیرآباد سبی سے کوئٹہ جانے والی ہر بس اور ویگن رکھتی۔ وہاں چھانگا نامی ایک ہندو نے عجیب کاروبار شروع کیا۔ اس نے کیکر کے بلند و بالا گھنے درخت کے نیچے درجن بھر نئے نکور مٹکے رکھے۔ رات کو ان میں پانی بھر دیتا اور صبح پہلی بس کے آتے ہی جگ بھر کر، ایک کلاس اٹھا کر بس کی کھڑکیوں سے مسافروں کو ٹھنڈا ٹھار

Read more

سستی بجلی کا حصول

نگران حکومت نے بجلی کمپنیوں کے ملازمین کو ملنے والے فری یونٹس کی تفصیلات لیتے ہوئے انھیں ختم کرنے کا اظہار کیا۔ جس کی کمپنیوں کی جانب سے شدید مخالفت کی گئی اور بتایا گیا کہ فری یونٹس ختم کرنے سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو گا۔ حکومت کی طرف سے دوسرا پلان پیش کیا گیا ہے کہ فری یونٹس ختم کر کے اتنی رقم ملازمین کی تنخواہوں میں لگا دی جائے۔ دونوں پلان ہی نہایت بچگانہ ہیں۔ واپڈا

Read more

جنرل اور جمعہ سیٹی والا

جنرل ضیاء کے مارشل لا کا دور تھا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو نو سال قبل پھانسی دی گئی تھی۔ سیاسی قیدیوں کو چھڑانے کے لیے پاکستان ائر لاین کا جہاز اغوا کیے ابھی چند برس ہی ہوئے تھے۔ سیاسی جماعتوں پر مکمل پابندی تھی۔ جلسے جلوس کارنر میٹنگز و سیاسی اکھنڈ پر خاص نظر رکھی جاتی تھی۔ لوگ سیاست پر یا ملک پر قابض آمر کے بارے میں سرگوشیوں میں بھی بات کرنے سے کتراتے تھے۔ ادیب اور شاعر

Read more

بھوک

درختوں پر شور مچاتے پرندے سورج کے ڈھلنے کی نوید سنا رہے تھے۔ سڑک پر گاڑیوں کا اژدہام تھا۔ ہر انسان تیزی میں تھا۔ وہ بس اسٹاپ پر کھڑا گھر کی جانب جانے والی بس کا انتظار کر رہا تھا۔ ہر آنے والی بس رکتے ہی مسافروں سے بھر جاتی یہاں تک کہ بسوں کی چھتوں پر لد کر فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدور اپنے گھروں کی جانب روا دواں تھے۔ منٹھار نے کئی بسوں میں سوار ہونے کی

Read more

ایمانداری سے زندہ رہنا دشوار ہو رہا ہے

ماں ایک کہانی سناتی تھیں : اندھیری رات میں ایک ڈاکو پہاڑ کی چوٹی پر گھوڑا لیے کھڑا اپنے بیٹے کو فخریہ بتا رہا تھا کہ وہ دور جنگل میں جو روشنی ہو رہی ہے وہ ایک کسان کا گھر ہے جیسے میں نے پانچ بار لوٹا ہے۔ بیٹے نے کہا ابا پانچ بار لٹنے کے باوجود اُس گھر میں آج بھی اجالا ہے جبکہ اتنے ڈاکے مارنے کے باوجود ہمارے گھر میں آج بھی اندھیرا ہی ہے۔ لیکن اب

Read more

چار گاف، اٹک اور عمران

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ملکی سیاست نے عوام میں نفرت کا ایسا بیج بویا ہے کہ دوست دوست کا دشمن بن گیا۔ بزرگ کہتے ہیں کہ خون کو خون سے نہیں دھویا جا سکتا اور نہ ہی نفرت کو نفرت سے ختم نہیں کیا جا سکتا اس لیے میں ہمیں سیاست سے ہٹ کر کچھ ایسا لکھنا چاہیں جس سے ہم لوگوں کے چہروں کو مسکراہٹیں دے سکیں۔ سنتے ہیں کہ کائنات بھی مسکرا اٹھتی ہے جب آپ

Read more

خان، خون، خاک اور خاکی

PK326 پاکستان تحریک انصاف کے نوے فیصد سے زیادہ ووٹر نہیں جانتے ہوں گے کہ پی کے تین سو چھبیس کیا ہے؟ چلیں میں ان بچوں کو ایک کہانی سناتا ہوں۔ دو مارچ انیس سو اکیاسی کو کراچی سے پشاور جانے والی پاکستان ائر لاین کی فلائٹ نمبر Pk 326 وہ بدنصیب فلائٹ تھی جیسے پشاور لینڈنگ سے چند منٹ قبل کراچی کے نوجوان اسلام الدین عرف ٹیپو نے دو پنجابی نوجوانوں کی مدد سے ہائی جیک کر کے کابل

Read more

افسانہ: جب آئے گا شیطان

یہ لٹل لندن کہلانے والے شہر کوئٹہ کی ایک سرد شام تھی۔ گھروں کی چمنیوں سے نکلتا دھواں ایک عظیم لیڈر کے دیے پروگرامز کی طرح آسمانوں میں گم ہو رہا تھا۔ میں اور میرا سالا جلد از جلد امیر ہونے کی پلاننگ کرتے ہوئے گھر کی جانب رواں دواں تھے۔ روڈ کنارے دس بیس ہیروئنچی آج کی خوراک نہ ملنے پر پریشان بیٹھے تھے۔ میں اور میرا سالا وہاں سے گزرے، میرا سالا پیسے کمانے کے طریقوں پر مجھ

Read more

ووٹر بتائے گا کہ کتنے ہی بیس کا سو ہوتا ہے

کیا جلسوں کا بڑا ہونا اور سوشل میڈیا پر زیادہ لوگوں کا کسی ایک ٹرینڈ یا سپیس میں شامل ہونا کسی پارٹی کی اگلے الیکشن میں کارگردگی کا بتا سکتا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو ان دنوں عوام میں زیر بحث ہے۔ میں نے اس ملک کی سیاست کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ شہید بے نظیر بھٹو کی پاکستان آمد سے سے لے تحریک عدم اعتماد تک تمام ایونٹ بڑے قریب سے دیکھے۔ والد صاحب کے ساتھ لاہور

Read more

جیم عباسی کاناول ”رقص نامہ“

ناول نگار جیم عباسی پبلشر۔ ”آج“ خصوصی شمارہ نمبر 114 تبصرہ۔ محمد وسیم شاہد ۔ ۔ جیم عباسی کا ناول ”رقص نامہ“ پڑھا جس میں سندھ کی رومانوی دھرتی سے کشید کی کہانی خوبصورت اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ ملک میں مذہبی شدت پسندی کے ہوتے ہوئے ناول نگار نے دلیری سے ان طاقتوں کے منفی رویوں کو بیان کیا ہے۔ یہ ایک ایسے گاؤں کہ کتھا ہے جہاں کا پیر گاؤں کے لوگوں کو اپنی رعایا سمجھ کر

Read more

سور پر رحم کرو

عید الاضحی کی آمد کے ساتھ ہی ملک میں درد مند دل رکھنے والے کئی لوگ سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹس لگانے لگتے ہیں جس میں بے زبان جانوروں پر ظلم کو لے کر تنقید کی جاتی ہے۔ یہ درس دیا جاتا ہے کہ یہ رقم غریبوں کی بھلائی کے لیے استعمال کرنی چاہیے۔ کئی دوست تو اسے وحشی پن، جنگلی اور ظالمانہ رویہ قرار دیتے ہیں۔ اس سال بھی چند دوستوں کے گزشتہ برسوں میں اپنے لگائے واٹر کولر

Read more

علی اکبر ناطق کا ناول: کماری والا

بچپن میں ہمارے گاؤں ایک مداری آیا کرتا تھا۔ جو سڑک کنارے اپنی ڈگڈگی بجا کر مجمع لگاتا تھا۔ اس کا کم سن بیٹا بانسری بجا بجا کر لوگوں سے پیسے وصول کر رہا ہوتا تھا کہ اچانک باپ بیٹے کی ڈگڈگی اور بانسری بجنا بند ہو جاتی تھی۔ وہ مجمعے کی جانب منہ کر قسمیں دیتا کہ اس مجمعے میں کوئی جادوگر موجود ہے وہ مہربانی کرے ہماری بانسری اور ڈگڈگی پر سے اپنا جادو ختم کردے۔ جادو گر

Read more

زندہ لاش(افسانہ)

قندھار شہر کے آسمان میں سرمئی بادلوں نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ وقفے وقفے سے بجلی ایسے کوندتی گویا شہر جلا کر راکھ کر دے گی۔ تیز ہوا نوجوان بیوہ کی مانند سسک رہی تھی۔ اچانک بادلوں نے زار و قطار رونا شروع کر دیا۔ تیز بارش سے یوں سڑک پر جگہ جگہ پانی کے بلبلے بننے لگے تھے جیسے کوئی مریض جان دینے سے قبل اپنے لبوں پر آکسیجن کے آخری گھونٹ مانند بلبلے چھوڑ رہا ہو۔ بیس سالہ

Read more

ناول، ادھ ادھورے لوگ

انسان تو کیا پرندے درخت اور پودے بھی اگر اپنی جڑیں کسی انجانی زمین میں پائیں تو آپ ان کے مزاج، گیت سنگیت اور پھلوں کو بد مزا ہی پائیں گے۔

فارس کے لوگ کہتے ہیں کہ ”وطن شیراز است“ انسان کے دل سے اس کے وطن کی محبت نکالنا ناممکن ہے، کون نہیں جانتا کہ ظہیر الدین بابر کے ساتھ سمر قند و بخارا سے آئے لوگوں نے اپنے وطن کی خاطر فتح کی سرزمین ہندوستان کے تخت و تاج کو ٹھوکر ماری اور واپس اپنے پہاڑوں پر جا آباد ہوئے تھے۔ تاریخ آج ان کا نام و نشان نہیں جانتی مگر مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے وطن کی خاک میں خاک ہو کر سو سال حکومت کرنے والے بابر کے بیٹے بہادر شاہ ظفر کی رنگون میں تڑپتی روح پر مسکراتے ہوں گے۔

Read more

جندر: اختر ر ضا سلیمی کا ناول

ناول ”جندر“ ازل سے ابد تک کی کہانی ہے، جس کی ابتدا اس روز ہو چکی تھی، جب حضرت آدم علیہ السلام نے گندم کا پہلا دانہ چبایا تھا۔ یہ کہانی رو زمین پر انسان کے قدم دھرتے ہی شروع ہوئی اور روز قیامت صور پھونکے جاتے تک چلتی رہے گی۔ گندم کا پہلا دانہ کھا کر انسان نے اپنے وجود کو چکی کے دو پاٹوں بیج دے کر اپنی روح کو تار تار اور اپنے جسم پر موجود گوشت

Read more

فارس مغل کا افسانوی مجموعہ: آخری لفظ

سلیمان رینج کے بلند و بالا پہاڑوں سوئی ڈیرہ بگٹی کے ٹیلوں اور کچھی کے بنجر میدانوں تک بکریاں چراتے بلوچ اور اونٹوں کے کاروان ہانکتے جت ساراوان بتاتے ہیں کہ انھیں بلوچستان کی مشہور حقیقی رومانی داستان کے ہیرو مست توکلی کی شاعری کی باز گشت آج بھی ہر اور سنائی دیتی ہے۔ جس میں وہ اپنی محبوبہ کے حسن و جمال کو ایسی ایسی چیزوں سے تشبیہ دیتا ہے جو اس علاقے کے کسی بندے کے لیے دیکھ

Read more

مردے وہاں نوکریاں یہاں

بلوچستان کے حقوق پر ڈاکا مارنا کوئی نئی بات نہیں۔ زیر زمین معدنیات اور وسائل پر قبضے بارے سوشل میڈیا کی آمد کے بعد کافی لکھا اور دکھایا جا رہا ہے۔ اب لوگوں کو اندھا تصور کر کے سب ہرا دکھانا صاحب اقتدار طبقے کے لیے نا ممکن ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے اب پاکستان کے دیگر لوگ بھی بلوچستان کے مسائل کو بہتر طور پر سمجھنے اور ان پر بولنے لگے ہیں۔

Read more

مزار، مجاور یا پی ایچ ڈی

کائنات کے پیدا کرنے والا بھی اُس وقت مسکرا اٹھتا ہوگا جب امان اللہ خان اسٹیج پر اُس کی مخلوق کو مسکرانے پر مجبور کر دیتا ہوگا۔ وہ قہقہے بکھیرتا انسان ہم سے رخصت ہوا تو دل کو ایسا ہاتھ پڑا جیسے کوئی اپنا، کوئی بہت پیارا، بہت قریبی ہمارے چہروں سے مسکراہٹیں چھین کر منوں مٹی تلے چلا گیا ہو۔ امان اللہ خان کی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ وہ روتے چہروں کو ہنسانے والا انسان نہیں، بلکہ فرشتہ

Read more

تمہارے جسم پر کوئی تھوکتا بھی نہیں

ہر مرد و زن، ہر مذہب ہر فرقے کے انسان کی زبان پر اپنی بیٹی، بیوی اور بہن کو دیکھ کر ایک دعا بے ساختہ آ جاتی ہے ”اے مولا کریم انھیں سیرتِ فاطمہ الزہراءجیسی، حضرت عائشہ جیسی پاکیزگی اور زینتِ فردوس حضرت زینب جیسی بہادری استقامت اور صبر عطا فرما“ مگر ہم مردوں کا من بہت شاد ہوتا ہے جب ہم روڈ پر کسی دوسرے کی بہن بیٹی یا بیوی کو ناچتے مستاتے یا مٹکتے دیکھیں، ہماری پوری کوشش

Read more

کرونا وائرس: پہلی اینٹ بلوچستان

بلوچستان کا نو سو انسٹھ کلو میٹر بارڈر ایران کے ساتھ لگتا ہے۔ دونوں اطراف بلوچ آباد ہیں جن کی آپس میں رشتہ داریاں اور بنا روک ٹوک آنا جانا ہے۔ ماہی گیر روزانہ گہرے پانیوں میں ایرانیوں کے ساتھ ملاقاتیں اور کھانے پینے کی اشیا کا تبادلہ کرتے ہیں۔ لاکھوں لیٹر ڈیزل کی روزانہ سمگلنگ ہوتی ہے اِس کے علاوہ دیگر سیکڑوں قسم کی اشیا بھی روزانہ لائی جاتی ہیں جن میں کھانے کی اشیا سے لے کر کمبل،

Read more

"عوام کے لیے بڑی خوش خبری”

حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب اپنے کارکنوں کو ہر ہفتے خوش خبری دی جائے گی۔ کیونکہ مہنگائی بڑھنے، بے روزگاری پھیلنے اور سو دن میں نہ آنے والی تبدیلی کی وجہ سے کارکنوں میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ ایسے میں ملکی کارکنوں کو سوشل میڈیا پر انھیں دیگر جماعتوں کے کارکنوں سے بات کرنا، اپنے کپتان کا دفاع کرنا اور عمران کے وژن پر دلائل دینا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ گو کہ بیرون ملک رہنے والے

Read more

کیا میرے پاس تم ہو، ایک ناکام ڈرامہ تھا؟

میں نے اِس ڈرامے کی ایک دو اقساط چلتے پھرتے دیکھیں۔ جس روز آخری قسط آنی تھی ہم کسی کے ہاں مہمان تھے۔ اُن کی فیملی مع میری فیملی کے یہ ڈرامہ دیکھ رہے تھے۔ پن ڈراپ سائلنس تھی۔ میں صوفے پر بیٹھا موبائل پر فیس بک چیک کر رہا تھا۔ فیس بک پر میرے دوست نوٹیفکیشن بند ہونے کی وجہ سے ماتم کر رہے تھے۔ اِس دوران ڈرامہ ختم ہو گیا۔ پھر فیس بک اور میزبان کے گھر کا

Read more

فاسٹ بولر، سیاست اور بوٹ

زندگی میں کسی سے بھی مقابلہ کرنا ہو تو سب سے پہلے اپنے مدِ مخالف کی جسمانی و ذہنی کمزوروں کو جانچنا اور اُس کی طاقتور حربے کا توڑ سوچنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی فٹ بال ٹیم کے خلاف کھیل رہے ہیں تو آپ کو سب سے پہلے اُس ٹیم کے کھلاڑیوں بارے جاننا ہوگا کہ آیا اُن کا فارورڈ بہت تیز ہے، اُن کا گول کپبر بہت جست پھرتیلا یا اُن کا فل بیک میدان کے کسی

Read more

میرا کپتان، قبر میں سکون اور بڑھیا کا طوطا

کل سے بکاؤ میڈیا میرے کپتان کی تقریر کو سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگ شغل لگا رہے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ میرے کپتان نے ملکی ترقی اور معاشی بحالی کو کوئی نایاب اور یونیک قسم کا آئیڈیا دیا ہو گا، مگر یہ پیلے سکولوں کے پڑھے پٹواری اس کی فہم و فراست کو کہاں پہنچ سکتے ہیں؟ تو لگ گئے مذاق اڑانے۔ میں تو اِس ملک کے باسیوں کی قوت

Read more

معذور افراد کے حقوق

ڈبلیو ایچ او اور نیشنل ہیلتھ سروسز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً تیس ملین افراد معذوری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جن میں سے تین لاکھ کے قریب افراد نابینا ہیں۔ تیس سمبتر دو ہزار اٹھارہ کو سابقہ وزیر خزانہ اسد عمر صاحب نے اسٹیٹ بنک آف پاکستان کو ہدایات دی تھیں کہ تمام بنکز کو نابینا افراد کے لیے اے ٹی ایم مشیز لگانے کا حکم دے۔ اِس پر ہوئی سرکاری خط و خطابت سے معلوم

Read more

اب آپ کے ووٹ کو عزت ملی ہے

مسلم لیگ ن کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت کے ترمیمی بل کی حمایت نے ملک میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان کی ایک بڑی آبادی نواز شریف کے سول سوپرمیسی کے بیانیے کو اپنے نظریات سے ہم آہنگ اور اپنے دل کی آواز سمجھتے ہوئے ان کا ساتھ دے رہی تھی۔ کسی بھی طرح، ان طاقتوں کے ہاتھوں ستائے لوگ نواز شریف کو نجات دہندہ کے روپ میں دیکھ رہے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ

Read more

میرا کراچی مر چکا ہے

عالم شباب میں، میں جب کراچی آیا تھا تو یہ شہر واقعی روشنیوں اور رنگوں کا شہر ہوا کرتا تھا۔ جوڑیا بازار میں سلور کے برتنوں کا کاروبار کرتے محمد حسین اور لیاری ڈگری کالج کے سامنے رہائش پزیر ارشار کچھی نے مجھے سارا کراچی گھومایا تھا۔ ان کی باوا پٹ میں رشتہ داری تھی تو باوا پٹ، منوڑا سے کلفٹن اور ہاکس بے تک اُن کی فیملی کے ساتھ پکنک کے لیے گیا۔ اُن کی والدہ بڑی شفیق اور

Read more

ڈی چوک میں لاش اور جمہوریت کی بساط

سابقہ آمر پرویز مشرف کو عبرت کا نشان بنانے کے لیے عدالت کے کندھے پر بندوق رکھ کر لبلبی ججوں سے دبوائی جا رہی ہے۔ یہ ممکن اس لیے ہو رہا ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف ثبوت بہت ہیں اور عدالتیں ثبوت دیکھتی اور میرٹ پر فیصلے کرتی ہیں وہ فیصلوں کے فوائد یا نقصانات پر غور کر کے انصاف سے پیچھے نہیں ہٹتیں۔ ایک ماہ قبل آرمی چیف کی ایکسٹینشن بارے آئے فیصلے کے بعد اب پرویز مشرف

Read more

نواب بگٹی، چراغ بالی اور نیازی

کئی دہائیوں قبل سیاسی رنجشوں کی بنیاد پر صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں نواب اکبر خان بگٹی کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو گئے تھے۔ وزیر داخلہ سے لے کر آئی جی تک کسی کی ہمت نہ تھی کہ نواب صاحب کے گھر واقع فاطمہ جناح روڈ پر انھیں گرفتار کرنے کا حکم دے سکے۔ ہر افسر اپنی جان چھڑاتا رہا اور سرکاری آرڈر اپنے طریقہ سے ایک دفتر سے دوسرے دفتر کو مارک ہوتے ہوتے علاقہ ایس ایچ او تک آپہنچا،

Read more

وکیل بھانجا اور میرا کپتان

چند جاہل لوگ مین میڈیا اور سوشل میڈیا میں عمران خان کے بھانجے حسان خان نیازی کی پرتشدد کارروائیاں کرنے کی ویڈیو لگا کر اُس کے خلاف ایکشن کا کہہ رہے ہیں۔ ہم سیاست میں اِس حد تک گر جائیں گے کہ اپنے باپ دادا کی روایات تک بھلا دیں گے ایسا میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ میرے دوست جانتے ہیں کہ میں اِس حکومت کا بہت بڑا ناقد ہوں مگر میں ایک بہن یا اُس کی اولاد

Read more

” دو نہیں ایک پاکستان”

اللہ بخشے اماں محترمہ کو، کہا کرتی تھیں کہ خدا اپنے نیک بندوں کو اک ذرا سی غلطی پر آزمائش میں ڈال دیتا ہے تا کہ وہ توبہ کر کے اِسی دنیا میں اپنے گناہ بخشوا لے۔ میرے کپتان جیسا اللہ کا ولی اِس وقت ارض وطن کیا پوری دنیا میں شاید ہی کوئی دوسرا ہو۔ اس لیے جب جب میرے کپتان کے منہ سے کوئی ایسا جملہ پھسلا جس میں ذرا سا تکبر غرور یا بڑائی کا شاہبہ تک

Read more

شمع پھول یا شمع فضول

ہم کوئٹہ کی شدید سردیوں سے بچنے کو ہمیشہ دسمبر سے مارچ تک کراچی جا بستے ہیں۔ میں نے کم و بیش بارہ سال قبل جمشید روڈ کی حیدرآباد کالونی میں ایک فلیٹ لے رکھا ہے۔ جہاں ہر سال سائبیریا کی ٹھنڈی ہواؤں سے بچنے کو پناہ لی جاتی ہے۔ جوانی میں کچھی پاڑہ لیاری میں تایا ابو کے گھر رہا کرتا تھا اُن دنوں لیاری اتنا گنجان آباد نہ تھا۔ کُھلے کُھلے روشن ہوادار مکانات اور کھیل کے میدان

Read more

مینٹل کو میڈل

اس وقت کوئٹہ پہ بارانِ رحمت سے لبریز بادل چھائے ہوئے ہیں، موسم کا مزاج بھی قاتل محبوب جیسا ہو رہا ہے، سرمئی شام چشمِ یار کی مانند مستانی ہے۔ اِس سہانے موسم میں بھی نہ جانے کیوں مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ فضاؤں میں پھر سے بارود کی خوشبو رچی ہے۔ کانوں میں بھی بمبارطیاروں کی گھن گرج گونج رہی ہے۔ پھر خون آلود لاشے تڑپتے دکھائی دیتے ہیں۔ پھر معصوم بچوں کو یتیم کرنے کے اسباب

Read more

محبت اور جنگ

گھر کے سربراہ کی ناگہانی جدائی سے گھرانے صدیوں پیچھے چلے جاتے ہیں۔ ایک ایک اینٹ اینٹ اور ٹکا ٹکا جوڑ کر بنائے گھر پل بھر میں ریت کی دیوار کی طرح ڈھے جاتے ہیں۔ دنیا کا ہر انسان ماں کو یاد کر کے تڑپتا ہے۔ ہر شاعر ہر مرثیہ گو ماں کی شفقت، محبت اور ایثار کو ادب کے ساگر سے انمول موتی چن چن کر ایسی تسبیح بناتا ہے کہ دنیا میں ہر بن ماں کا بچہ زندگی بھر اُس کی مالا جپتا رہتا ہے۔

Read more

گالیاں جو زندہ رہیں

برائی کسی وادی میں لگائی صدا کی طرح واپس پلٹ کر انسان کے پاس چلی آتی ہے۔ یہ برے انسان کی پانی پر تیرتی پرچھائی بن جاتی ہے جو ہر لحمے اُس کا منہ چڑاتی رہتی ہے۔ یہ ایک ایسا بیج ہے جو تناور درخت بننے تک انسان کو دکھائی نہیں دیتا مگر اچانک اِس کی چھاؤں ذلت کی برچھیاں بن کر انسان کی رگ رگ میں پیوست ہونے لگتی ہیں۔ تب انسان پلٹ کر بھاگنا چاہتا ہے، اپنے بولے

Read more

سلطنتِ مغلیہ سے سلطنتِ شغلیہ تک

موجودہ حکومت اپنی سی پوری کوشش کر رہی ہے کہ کچھ ایسا کر گزرے کہ عوام کو پرانے پاکستان کی نسبت تبدیلی محسوس ہو، حلف اٹھاتے ہی حکومت نے معیشت کی ترقی کو انقلابی اقدامات کرنے شروع کیے جن میں سب سے پہلے ”مرغی انڈا“ اسکیم متعارف کروائی گئی تھی مگر خدا برا کرے اُن حکمرانوں کا جو عوام کو لیپ ٹاپ، اسکالرز شپ اور مفت تعلیم کے خواب دکھا دکھا کر ہڈحرام بناچکے تھے، نوجوانوں کی سہل پسندی کا یہ حال ہے کہ سامنے لیپ ٹاپ دھر کر تھیسس، اسائمنٹس اور سمسٹرز کا مکر کر کے والدین کو دکھاتے رہتے ہیں، مجال ہے جو کوئی اُٹھ کر ڈربہ صاف کرنے، مرغیوں کو دانہ ڈالنے یا بازار جا کر انڈے بیچنے کو راضی ہو، ملک میں ویسے بھی عقل مندوں کی کمی ہے جب ہی زرداری اور نواز کو ووٹ زیادہ ملتے ہیں تو عوام کو اِس اسکیم کی اہمیت کیسے سمجھ آتی؟ اِس لیے اس اسکیم کی افادیت سمجھانے کو ایک پرانا لطیفہ یاد آ رہا ہے، وہ سناتا ہوں

Read more

سلیبریٹی گدھا، لیاری اور انگلی

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں اپنے تایا کے ساتھ لیاری میں رہا کرتا تھا۔ ہمارے گھر کے ساتھ موجود چھوٹے سے سرکاری قطعہِ زمین پر نیم کے درخت کے نیچے شیدی فقیر محمد عرف بجلی کا ”راکٹ“ بندھا رہتا تھا۔ شیدی فقیر محمد جوانی میں مشہور فٹ بالر اور باکسر تھے۔ اپنی طاقت، پھرتی اورمخالف پر برساتے برق رفتار گھونسوں کی وجہ سے ”ماما بجلی“ کے نام سے شہرت پائی ماما نے عمر ڈھلنے کے بعد سپورٹ سے وابستہ زندگی کا حق ادا کرتے ہوئے دنیا کو ایک نئی گیم متعارف کروائی۔

Read more

فواد چوہدری کو جادو کی جھپی دو

وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی محترم فواد چوہدری صاحب نے چند روز قبل دیے ایک انٹرویو کے دوران اچانک ”منتخب لوگوں اور بغیر مشاورت فیصلوں“ کے بارے میں بیان دے کر سیاسی حالات کی نبض پر ہاتھ رکھنے والے تمام تجزیہ کاروں کو چونکا دیا۔ مشرف صاحب کے دست شفقت تلے سیاسی قد کاٹھ بنانے والے فواد چوہدری مشرف کے بعد ہوا کا رخ پی پی کی جانب محسوس کرتے ہوئے فوراً زرداری کے جیالے بن کر دشمنوں پر جے

Read more

اُسے اس کا گولا گنڈا کھانے دو

آج زوجہ محترمہ کو لینے اُن کے سکول گیا اور حسبِ عادت سکول کے سامنے گاڑی پارک کر کے اُن کا انتظار کرنے لگا۔ جوں ہی پرائمری سیکشن کی چھٹی ہوئی، معصوم بچیوں کا ایک ریلہ سکول سے نکلا اور سٹرک کنارے کھڑے گولے گنڈے، پاپڑ اور قلفی والوں پر دھاوا بول دیا۔ گو کہ رمضان کا مہینہ ہے مگر مجھے خوشی ہوئی کہ سکول انتظامیہ اور اہل محلہ نے بے جا پابندی لگا کر اِن دیہاڑی داروں کے گھروں

Read more

مرگ پر شادیانے بجانے والے

کل پنجاب کے شہر لالہ موسی میں قمر زمان کائرہ صاحب کا نوجوان بیٹا اسامہ کائرہ اپنے دوست حمزہ بٹ کے ساتھ روڈ ایکسڈنٹ میں شہید ہو گیا۔پاکستانی قوم جو نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کی تصاویر پوسٹ کرتے نہ تھکتی تھی اس افسوسناک حادثہ پر بالکل عجیب انداز میں اپنے اپنے تبصرے کر رہی ہے۔ پاکستان کی اکثریت اس حادثے پر شدید صدمے کا شکار ہے۔ ہر بال بچے دار انسان کا دل کانپ رہا ہے، ماہ صیام میں ہر انسان کے ہونٹوں پر اپنی آل ولاد، دوستوں اور رشتہ داروں کے علاوہ ہر انسان کی سلامتی کی دعائیں ہیں۔ مگر وہیں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو کرپشن، لوٹ مار اور بدامنی کا اسٹیج سجائے اپنی جھوٹی انا، محرومی، سیاسی بغض، ذاتی عداوت اور صوبائیت کو لے کر خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں۔

Read more

اس ہندو کے نام جس نے ہمیں چھ کلمے سکھائے

سات سال کا ہوتے ہی مجھے بھائی کے ساتھ گورنمنٹ سکول میں داخل کروا دیا گیا۔ تب پہلی جماعت میں آج کی طرح کئی کتب نہیں ہواکرتیں تھیں، صرف ایک اردو کا قاعدہ اور تختی ہوتی جیسے ایک بار گھر سے لکھ کر لے جانا ہوتا اور دوسری بار وہی سکول کے ساتھ موجود نہر پر دھو کر ہاتھ سے تیز تیز گما کر سکھایا جاتا اور آدھی چھٹی کے بعد سکول میں ہی لکھی جاتی۔ سیاہی دوات کا کام اور چھوٹے چھوٹے بچے۔ ہر بچے کے چہرے پر ایک الگ ڈیزائن بنا ہوتا۔کچھ بچوں کے رونے اور بار بار آنکھیں پونچھنے سے گالوں پر آنسوں سے دو کالی لکیریں بن جاتیں۔ جو شاید نیکی اور بدی کی لکیریں ہوتیں۔ دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیم پر بھی کافی زور دیا جاتا تمام طلباءکو سختی سے چھ کلمے رٹائے جاتے۔ ایک طالبعلم با آوازِ بلند کلمے پڑھتا اور دیگر طلباء بھی حلق پھاڑ پھاڑ کر کلمے دوہراتے۔ اس دوران ہندو طلباء کو کلاس سے باہر بھیج دیا جاتا جن کی اکثریت برآمدے میں کھیلتی رہتی مگر چند ایک ہماری آواز کے ساتھ آواز ملا کر بغیر کسی جذبہِ ایمانی کے تمام کلمے دوہراتے رہتے، یوں اکثر ہندو بچوں کو پورے چھ کلمے ازبر ہو چکے تھے۔

Read more