پاکستان میں طلبہ تنظیموں کی تاریخ اور جمعیت کی ٹریڈ مارک بدنیتی

\"zaidi2\"جامعہ پنجاب کے شعبہ ابلاغیات سے چار دوست یونہی چہل قدمی کرنے کے لیے نکلے۔ ظاہر ہے کہ چار میں سے ایک دوست ایسا بھی ہوتا ہے جو خود کو باقی تین کا لیڈر سمجھتا ہے اور آتے جاتوں کو \’گھوری\’ کرانے کو اپنی شان گردانتا ہے۔ ان چار دوستوں میں بھی ایک ایسا تھا۔ سامنے سوشیالوجی ڈپارٹمنٹ سے ایک نوجوان جوڑا چلا آ رہا تھا۔ دوستوں کے لیڈر نے عادت کے مطابق سامنے سے آتے ہوئے جوڑے کو دیکھا اور پھر لڑکے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گھورتا ہوا چلا گیا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ سامنے سے آنے والے بھائی کوئی عام آدمی نہیں بلکہ اپنے ڈپارٹمنٹ کے جمعیت کے ناظم کے دوست کے دوست ہیں۔ آناً فاناً موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پر پچیس کے قریب لڑکے جمع ہو گئے اور گھورنے کی پاداش میں دوستوں کے لیڈر کو ایک سبق آموز \’پھینٹی\’ لگا ڈالی۔ بیچارے دوست ترلے کرتے رہے کہ اس غریب نے ایسا کوئی جرم نہیں کیا کہ پچیس آدمی مل کر ماریں مگر ان کی کسی نے نہ سنی۔ مزے کی بات یہ تھی کہ ناظم صاحب کے دوست کے دوست نے یہ شکایت بھی نہیں لگائی تھی کہ لڑکوں کے لیڈر نے لڑکی کو چھیڑا یا بدتمیزی کی تھی۔ کیونکہ دورانِ پھینٹی جمعیت کے کارکنان کی جانب سے یہ استفسار جاری رہا کہ \”ساڈے منڈے نوں گھورنا ایں؟\”۔

اس تمام قضیے میں انتظامیہ محض تماشائی تھی۔ کسی ایک گارڈ نے بھی ترلے تک کرنے کی زحمت نہیں کی۔ اس خوفناک منظر کو رکوانے کے لیے بھی جمعیت ہی کے ایک پاس ہی کھڑے باڈی بلڈر ٹائپ رہنما آگے آئے اور اس بیچارے لیڈر کی جان چھڑائی جو آتے جاتے شریف لڑکوں کو گھورا کرتا تھا۔ اب یہ کسی شریف لڑکے کو گھور کر نہیں دیکھتا۔

چند ہی روز بعد شام کے وقت شعبہ ابلاغیات ہی کے باہر پوائنٹ کا انتظار کرتے ایک لڑکے کو اس لیے شدید زد و کوب کا نشانہ بنایا گیا کہ اس کے ساتھ اس کی کچھ ہم جماعت لڑکیاں بھی پوائنٹ کا انتظار کر رہی تھیں۔ بیچاری لڑکیوں نے لاکھ سمجھانے کی کوشش کی کہ ہم بہن بھائی کی طرح ہیں مگر جذبہ جہاد جوش میں تھا۔ ایسے میں مومن سنا نہیں کرتے، کیا کرتے ہیں۔

ایسے واقعات جامعہ پنجاب میں ہر چوتھے روز دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کچھ کو چھوڑ کر باقی اساتذہ بھی ان لوگوں سے ڈرتے ہیں۔ بعض تو اگر کلاس میں ایک دن تھوڑی بہت لبرل مثال دے دیں تو اگلے دن اچانک یوٹرن لیتے ہوئے جہاد کے فضائل پر نہ صرف درس دیتے ہیں بلکہ حکومت پاکستان کی جانب سے میٹرک کے کورس میں سے جہاد سے متعلق ابواب کو حذف کرنے کے حوالے سے نوحہ کناں بھی نظر آتے ہیں۔ میں نے خود ایسا ہوتے کم از کم دو بار دیکھا ہے۔

مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ آئے روز اخبارات اور بلاگز میں جمعیت کی ان حرکتوں کی بجائے ان کے کارناموں، مثلاً کتاب میلہ کا انعقاد پر تعریفوں کے پل باندھے جا رہے ہوتے ہیں۔ حال ہی میں دنیا بلاگ پر امجد حسین بخاری صاحب نے ایک تحریر میں بتایا کہ کس طرح جمعیت نے یونیورسٹی میں کرکٹ ٹورنامنٹ کا \’پر امن\’ انعقاد کروا کر اپنے مخالفین کا منہ بند کروا دیا تھا۔

طلبہ کی رائے مگر مختلف ہے۔ جامعہ پنجاب میں دو سال کا مختصر سا عرصہ گزار کر میں تو کم از کم اسی نتیجے پر پہنچا کہ عام طالب علم کے دل میں اس تنظیم کے لیے کوئی محبت نہیں۔ زیادہ تر اس سے نالاں نظر آئے، کئی ان کے ڈسے ہوئے بھی ملے جب کہ بیشتر کے نزدیک اس تنظیم کی حیثیت ایک مافیا کی تھی جو خود کو نہ صرف یونیورسٹی کا ٹھیکیدار سمجھتی ہے بلکہ لوگوں کی ذاتی زندگیوں پر بھی خود کو مالک و مختار سمجھتی ہے۔ \’آپ کہاں بیٹھے ہیں، کس سے بات کر رہے ہیں، کس انداز میں کھڑے ہیں، کس طرف دیکھ رہے ہیں\’ جیسے معاملات سے لے کر آپ کلاس میں کیا پڑھ اور پڑھا رہے ہیں جیسے معاملات تک تمام چیزوں پر یہ مافیا اپنا اختیار جمانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسلام کی انہوں نے اپنے تئیں ایک تنگ نظر سی تشریح کر رکھی ہے اور خود اس پر عمل پیرا ہوں یا نہ، باقی ساری دنیا کو اسی پر چلانا چاہتے ہیں۔

دہری مصیبت یہ ہے کہ یہ جماعت خود کو طلبہ کی نمائندہ جماعت نہ صرف کہتی ہے بلکہ سمجھتی بھی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان ایک ہی جھوٹ اتنے تواتر کے ساتھ بولتا ہے کہ خود بھی یہی سمجھنے لگتا ہے کہ جو وہ کہہ رہا ہے، وہی سچ ہے۔ جمعیت کی موجودہ نسل بھی غالباً اسی بیماری کا شکار ہے۔ کوئی ان سے پوچھ کہ جب بتیس سال سے انتخابات ہی نہیں ہوئے تو کوئی بھی تنظیم خود کو طلبہ کی نمائندہ تنظیم کیسے سمجھ سکتی ہے؟ نوے کی دہائی میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی نے اپنی اپنی طلبہ تنظیموں کو تھوڑا مضبوط کرنے کی کوشش کی تھی مگر ان تنظیموں کے آپے سے باہر ہو جانے کے بعد انہی کے خلاف آپریشن بھی ہوئے اور کم از کم یہ دو جماعتیں تو اس تجربے سے باز آ گئیں۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا ہوا کیوں؟ یہ طلبہ تنظیمیں بے قابو کیوں ہوئیں؟ جواب شاید ہمیں ہمیشہ کی طرح جنرل ضیاء کے سیاہ دور کی طرف لے جائے گا کہ جس میں کلاشنکوف کلچر عام ہوا اور ظاہر ہے کہ ہاتھوں میں اسلحہ لیے یہ سیاسی طور پر غیر تربیت یافتہ نوجوان نہتے سیاستدانوں کے قابو میں رہ بھی نہیں سکتے تھے۔ مگر ضیاء صاحب نے صرف کلاشنکوف کلچر ہی عام نہیں کیا۔ ان کے دور کا ایک اور تحفہ تعلیمی اداروں میں سیاست پر پابندی بھی تھا۔

آگے بڑھنے سے پہلے لازمی ہے کہ پاکستان میں طلبہ تنظیموں کی تاریخ پر بھی تھوڑی نظر ڈالی جائے۔ پاکستان بننے کے وقت ملک میں ایم ایس ایف ہی ایک واحد طلبہ تنظیم تھی اور ان چار صوبوں میں اس کا بھی کوئی خاطر خواہ اثر و رسوخ نہیں تھا۔ پاکستان بننے کے بعد پہلی قابل ذکر طلبہ تنظیم جو وجود میں آئی وہ ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن (ڈی ایس ایف) تھی جو کہ 1952 میں کراچی میں قائم کی گئی اور 1954 میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کی ذیلی تنظیم کے الزام کے ساتھ اس جماعت کے ساتھ ہی پابندی کا شکار ہو گئی۔ اس تنظیم پر پابندی کے بعد طلبہ کو کنٹرول کرنے کے لیے بیوروکریسی نے نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن قائم کی مگر 1956 تک ڈی ایس ایف کے سرخے اس تنظیم میں نہ صرف شامل ہو چکے تھے بلکہ اس کو نظریاتی طور پر ایک مکمل بائیں بازو کی جماعت میں ڈھال چکے تھے۔ گو کہ اس تنظیم نے 1968 تک پاکستان کے تقریباً تمام تعلیمی اداروں پر بلا شرکت غیرے حکمرانی کی مگر 1969 میں اسلامی جمعیت طلبہ نے بالآخر پنجاب یونیورسٹی سمیت ملک کی دیگر یونیورسٹیوں میں بڑی کامیابی حاصل کی اور اگلے تین سال ملک کے تعلیمی اداروں پر جمعیت کا راج رہا۔

تاہم 1971 میں اپنا عروج دیکھنے کے بعد جمعیت ایک مرتبہ پھر پنجاب، اسلام آباد، کراچی اور پشاور کے بیشتر کالجوں میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کے مقابلے میں پے در پے شکستوں سے دو چار ہوئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ترقی پسند تنظیموں کی آپسی لڑائیوں کا جو فائدہ جمعیت نے اٹھایا تھا، وہ بالآخر بھٹو دور حکومت کے خاتمے کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا کیونکہ ترقی پسند تنظیموں نے ایک بار پھر اکٹھے ہو کر آمریت اور اس کے حواریوں کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ 1983 کے انتخابات میں پنجاب کے بیشتر کالجوں، یونیورسٹیوں اور اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی میں شکست کے بعد ضیاء حکومت کو اندازہ ہو چکا تھا کہ شاید جلد ہی پنجاب یونیورسٹی بھی اس کی B-team کے ہاتھ سے نکلنے والی تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ تمام طلبہ تنظیموں پر ہی پابندی لگا دی گئی۔

ابتدا میں جمعیت نے دیگر طلبہ تنظیموں کے ساتھ مل کر احتجاج کیا لیکن بالآخر جماعت اسلامی نے جنرل ضیاء کے ساتھ ایک مک مکا کے ذریعے ضیاء حکومت کی بلاواسطہ حمایت کا فیصلہ کیا اور بدلے میں یہ وعدہ کہ طلبہ تنظیموں پر پابندی کے باوجود جمعیت کے کارکنان اپنا کام جاری رکھیں گے جب کہ دیگر تنظیموں کے کارکنان کو پکڑ پکڑ کر جیلوں میں ڈالنا شروع کر دیا گیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج ملک میں ایک بھی قابل ذکر ترقی پسند طلبہ تنظیم موجود نہیں ہے اور شدت پسندی اس تمام عرصے میں بتدریج بڑھتی رہی ہے۔

ریاست کی چھتر چھایا میں زہر کی طرح اس ملک کی تمام یونیورسٹیوں کی رگوں میں سرایت کر جانے والی یہ تنظیم اگر اپنی ٹریڈ مارک بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 1984 میں ابن الوقتی کا ثبوت نہ دیتی تو نہ صرف آج تعلیمی درسگاہوں میں ایک مثبت سیاسی عمل جاری و ساری ہوتا بلکہ شاید قوم کو مزید ڈاکٹر مبشر حسن، جاوید ہاشمی اور معراج محمد خان بھی میسر آجاتے۔

اب آتے ہیں جمعیت کے اس دعویٰ کی جانب کہ اس کے کارکنان ایسا کچھ نہیں کر رہے جو ترقی پسند طلبہ تنظیمیں ماضی میں نہیں کرتی رہیں۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ ترقی پسند تنظیمیں بھی \’بد معاشی\’ کرتی تھیں اور کیمپس میں مار پیٹ ان کے کارکنان کا بھی وطیرہ تھا۔ تو جواب یہ ہے کہ ان تنظیموں نے شخصی آزادیوں پر کوئی قدغن نہیں لگائی۔ کوئی لڑکا اور لڑکی پوائنٹ پر کھڑے آپس میں باتیں کیوں کر رہے ہیں، اس سے ان تنظیموں یا ان کے کارکنان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کا نظریہ لڑکے لڑکیوں کے آپس میں باتیں کرنے سے خطرے میں نہیں پڑتا۔ ان کی تنظیم کے مقاصد میں طلبہ کی سیاسی تربیت ضرور ہے مگر اس تربیت کا تعلق بنیادی طور پر ریاست اور فرد کے درمیان تعلق کی حد تک ہے۔ یہ کسی کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہیں کرتے۔ اگر کوئی استاد طلبہ کو سمجھانے کی غرض سے پولیو مہم کی ناکامی کا ذمہ دار جاہل ملّا کو قرار دے تو یہ ترقی پسند تنظیمیں اس سچ کو دبانے کے لئے استاد کو دھمکیاں نہیں دیں گی۔

بات یہ ہے کہ شخصی غنڈہ گردی اور نظریاتی غنڈہ گردی میں فرق ہوتا ہے۔ ایک شخص کی غنڈہ گردی کو سدھارا جاسکتا ہے لیکن اگر یہی غنڈہ گردی نظریہ بن جائے تو سدھار کی کوئی راہ باقی نہیں رہتی۔ آپ کا تو نظریہ ہی لوگوں کی ذاتی زندگیوں میں گھس کر امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے۔ اسے ترقی پسند تنظیموں سے ماضی میں وابستہ رہنے والی چند لوگوں کی غنڈہ گردی سے نہ ملائیں۔ کوئی لبرل تنظیم لوگوں کی ذاتی زندگیوں کو میں مداخلت کا درس نہیں دے سکتی۔

آج بھی اگر اسلحے پر قابو پا کر جامعات اور کالجوں میں سیاسی عمل کو فروغ دیا جائے تو طلبہ تنظیمیں ایک مرتبہ پھر ملک میں مردم سازی کا سامان پیدا کر سکتی ہیں۔ اور گو کہ یہ دعویٰ نہیں مگر اندازہ ہے کہ پانچ سال کے عرصے میں تنظیم سازی کے ذریعے ترقی پسند طلبہ جمعیت کو پنجاب یونیورسٹی تک میں ناکوں چنے چبوا سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے جس سازگار ماحول کی ضرورت ہے اسے فراہم کرنے میں ریاست فی الحال سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ اس کی اپنی مجبوریاں ہیں لیکن اس کا ذکر پھر سہی۔ فی الحال کے لئے اتنا ہی کہ جب تک طلبہ تنظیموں کے انتخابات نہیں ہوتے کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ خود کو طلبہ کا نمائندہ سمجھے۔

____________

اس مضمون کے لئے ندیم ایف پراچہ کی کتاب \”End of the Past\” سے مدد لی گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words