بھائی کے نیم لفٹین سلیکٹ ہونے پر ایک بہن کا خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

\"pakistan-army-soldier\"میرے پیارے فوجی شیر دل جوان
میرے ڈھول سپاہی میری قوم کے جری جوان
میرے ملک کے لعل

تمہارے جذبے، پاک آرمی میں شامل ہونے کے جذبے، تمہاری روح کی شدتوں سے واقف ہوں۔ دن رات کی محنت اور تڑپ کی گواہ ہوں۔ لوگ کہتے ہیں آرمی کی پرکشش تنخواہ مراعات اور اسٹیٹس اس کو جوائن کرنے کا سبب ہوتا ہے۔ آرمی سے ملنے والے بنگلے گھر پلاٹ اور گاڑی کا لالچ ہوتا ہے۔ سطحی لوگ ایسا ہی سوچتے ہیں۔

کوئی ماں باپ اپنے جوان بیٹے کو ”لہو نہایا“ نہیں دیکھنا چاہتے۔ کسی والد کی خواہش بیٹے کے بدلے پلاٹ حاصل کرنا نہیں ہوتی ہے۔ کسی ماں کو کوئی بھی اسٹیٹس اپنے بیٹے سے پیارا نہیں ہوا کرتا ہے۔ کوئی بیوی اپنے سر کے تاج کو کھونا نہیں چاہتی۔ کوئی اولاد یتیمی کے دکھ جھیلنا نہیں چاہتی اور کوئی بہن اپنی ڈولی اپنے بھائی کے بغیر وداع نہیں کروانا چاہتی۔

یہ حوصلہ چنیدہ لوگوں میں ہی پایا جاتا ہے۔ جو اپنے کڑیل جوان کو ملک و قوم کے لیے وقف کر دیتے ہیں اور پھر سبز ہلال میں لپٹا سرخ خون وصول کرنے کا حوصلہ کر سکتے ہیں۔

اگر بنگلا، گاڑی، جائیداد اور اسٹیٹس ہی فوج کی نوکری کا مقصود ہوتا تو تمہارے تمام ہم جماعت تمہارے ساتھ فوج میں جاتے کہ آسان شارٹ کٹ ہر ایک کو درکار ہے، لیکن موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا حوصلہ وہ کہاں سے لاتے۔ آرمی میں شامل ہونے والا ہر نوجوان ایک سے جذبات سے گزرتا ہے ۔۔ جوش، ولولہ اور وطن پر قربان ہونے کی خواہش۔

”خاکی“ میرا آئیڈیل ہے۔ خاکی سے محبت میرے دل میں ایمان کی طرح موجزن ہے اور تمہارے جذبے نے میرے ایمان کو استقامت بخشی۔

میرے برادر تمہارے دل میں ہر وقت ”موت کی خواہش“ نے تمہیں وہ بیداری بخش دی ہے جو عام آدمی کی سوچ سے بھی بالاتر ہے۔ جب موت محبوب بن جائے تو یہ محبوب رگوں میں دوڑتے خون کی گواہی چاہتا ہے۔ اس پر اپنے تازہ گرم جوان ”شہید لہو“ کی مہر ثبت کرنا ہر بہادر فوجی کا خواب ہوتا ہے۔ تمہارا بھی یہی خواب ہے۔

لیکن ذرا ٹھہرو! رکو! دیکھو! کہیں گھر پر ماں اکیلی تو نہیں ہے؟ اس کی خدمت کے لیے کسے چھوڑ کر آئے ہو؟

بوڑھا ضعیف باپ اپنی کمزور بصارت سے کس کی راہ تکتا رہتا ہے۔

اگر تو تمہارے ماں باپ کے پاس اور جوان بیٹے ہیں تو جاؤ، اپنی مادر وطن کو اپنے لہو کا خراج شہادت کی موت کی صورت ادا کر ڈالو۔ لیکن اپنے اپنے ماں باپ کو بڑھاپے میں، ضعف و کمزوری میں، بے آسرا تنہا و اکیلا کر کے شہادت قبول کرنا کہیں ذمہ داری سے تمہارا فرار نہ لکھا جائے۔

شہید کی موت قوم کی حیات ضرور ہے لیکن اس قوم کو اپنے تمام جوان شہید ہی نہیں کرنے ہیں۔ اس قوم کو غازی جوان بھی چاہئیں۔ لڑو اور جیتو، اور جیت کر واپس آؤ۔ اٹھے ہوئے سر اور تنی ہوئی گردن کے ساتھ واپس آؤ۔

ہم سب مائیں بہنیں اور بیٹیاں تمہاری فتح اور درازی عمر کے لئے دعاگو ہیں۔

ہاں جہاں جان دیے بغیر ملک کی آن نہ بچتی ہو وہاں جان کی کوئی بات نہیں، دے دو اور رب سے ہمیشہ کی زندگی کا سودا کر لو۔ بہادری اور استقامت کے ساتھ دشمن سے جا بھڑو۔

اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو۔

دعاگو تمہاری بہن

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply