غریبوں پہ ہمیشہ ایک ہی وقت آتا ہے اور وہ ہے برا وقت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم ایک ”متشدد“ قوم بن چکے ہیں اور تشدد ہمارا ”قومی رویہ“۔ گالی ہماری قومی زبان ہے اور ”بے غیرتی“ ہماری پہچان۔ یہ معاشرہ اس قدر جنسی گھٹن کا شکار ہے کہ بچہ، بچی، چور، مزدور، ہاری جو جس کے ہاتھ آ جائے وہ سب سے پہلے اس کی شلوار اتارتا ہے۔ پیشگی معذرت، الفاظ ”نرم“ نہیں ہیں مگر یہاں دل الفاظ سے بھی زیادہ سخت ہیں۔ پولیس، عوام، زمیندار، پیر، فقیر جس کا بھی داؤ لگے وہ پہلے ”شلوار“ تک پہنچتا ہے۔ اب تو اس بات کا بھی فرق نہیں رہا کہ جنس کیا ہے اور عمر کی ”حد“ بھی بے معنی ہے۔ یہ بھی فرق نہیں کہ درندے کی اپنی ”جنس“ کیا ہے۔

کل اس بچی کی سالگرہ تھی جس نے میرے ”مردہ قلم“ کو لہو رلایا تھا اور برسوں سے ”بے حس“ الفاظ کو جگایا تھا۔ وہ ننھی زینب جس کی زندگی کو ایک گدھ نے ”نوچ“ کھایا اور لاش بے زبان جانوروں کے کھانے کے لئے چھوڑ دی۔ کتنا عرصہ میری آنکھیں ”بے خواب“ رہیں۔ کتنی مدت میری نیند مجھ سے ”خفا“ رہی۔ اور پھر اس کے نام نہاد قاتل کو سزا ملی تو دل کی ”وحشت“ کو قرار آیا۔ کون جانے ابھی اور کتنے ”گدھ“ زندہ ماس کھانے کو بے تاب ہیں۔ کچھ دن سکون سے گزرتے نہیں کہ پھر کوئی ”سانحہ“ ہو جاتا ہے اور زندگی جو ایک دھارے میں آنے کی سعی میں سر گرداں ہوتی ہے تلپٹ ہو جاتی ہے۔

ابھی کچھ دن پہلے لاہور میں ایک سیلز گرل پہ تشدد کی ویڈیو نظر سے گزری۔ وہاں ایک ”ریسلر“ کی جان نشین کو ایک کمزور سی، سہمی چڑیا سی لڑکی کو ”بالوں“ سے پکڑ کے گھسیٹتے دیکھا۔ اس میں طاقت اتنی کہ مردوں سے بھی الجھ پڑی، یہ تو اس لڑکی کی قسمت اچھی تھی کہ خاتون کی ”وحشت“ بالوں کو پکڑ کے گھسیٹنے تک رہی۔ اگر وہ بھی ”شلوار“ تک پہنچ جاتی تو بھی کسی مائی کے لال کی ”جرات“ نہیں تھی کہ اس ”وحشی سانڈنی“ کو روک پاتا۔

ہماری یاداشت میں تو وہ فرشتوں سی معصومیت والی ”فرشتہ“ بھی محفوظ ہے جو گھر سے کھیلنے نکلی تو ان وحشی درندوں سے محفوظ نہیں رہی جن کی ”وحشت“ کسی بھی بچی کو دیکھ کے ”جاگ“ جاتی ہے اور بچیوں کی زندگی روٹھ کے بھاگ جاتی ہے۔

”ہوس“ کی کوئی حد نہیں، یقین نہیں آتا تو اس درندے کی خبر پڑھ لیجیے جو بیوی کے ہوتے اور اسی کے ساتھ مل کے معصوم بچیوں کی عصمت دری کرتا اور بیوی ویڈیو بناتی رہتی۔

اور ایک معصوم ”چور“ جسے اس کی ماں قصائی کا مددگار کہتی ہے اس بے دردی سے مار مار کے اس کے ”جرم“ کی سزا دی گئی کہ اس کی جان ہی چلی گئی۔ جس نے شرٹ بھی ایسی پہنی کہ جس پہ لکھا ہے ”اپنا ٹائم آئے گا“۔ اس غریب کو کوئی یہ ہی بتا دیتا کہ بیٹا یہ پاکستان ہے اور یہاں غریبوں پہ فقط ایک ہی وقت آتا ہے اور وہ ہے ”برا وقت“۔ اچھے وقت تو ”بخت اور تخت“ والوں کے آیا کرتے ہیں۔ یہ نیا پاکستان ہے پرانا نہیں کہ ایک ہی کیس سالوں تک ”لٹکتا“ رہے۔ یہاں فوری ”انصاف“ ہے۔

اب یہاں قانون اتنا تیز ہے کہ ”ملزم“ کو پکڑتا ہے، فرد جرم عائد کرتا ہے اور ”سر عام ننگی سزا“ سنا دیتا ہے۔ کون ثبوت اور گواہ کے ”رولوں“ میں پڑے؟ اور کون ملزم سے پوچھے کہ ”اپنی صفائی“ میں کچھ کہنا ہے کہ نہیں؟ قانون تو ان کے لئے بنے ہیں جن کو ”چھوٹ“ دینی ہو۔ تو یاد رکھئے گاریحان کی ”موت“ ایک پیغام ہے کہ غریبوں پہ صرف ایک ہی وقت آتا ہے اور ہمیشہ رہتا ہے۔ وہ ہے ان کا برا وقت۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •