الیکشن میں دھاندلی کیسے ہوتی ہے؟

مورخہ 8 فروری بروز جمعرات، الیکشن 2024 کے لئے یہ دن قرار پایا۔ اس دن کے آنے سے پہلے تک کئی آرا سامنے آئیں الیکشن نہیں ہوں گے الیکشن ہوں گے الیکشن کے دوران سسٹم بیٹھ جائے گا ابو سے بات ہو گئی ہے، فلاں فلاں حکومت بنے گی عوام پر جوش بھی تھے اور پروپیگنڈا کے زیر اثر بھی۔ ہم میں سے اکثر سرکاری ملازمین الیکشن ٹریننگ لینے کے باوجود بھی اس بات پہ بضد رہے کہ الیکشن نہیں

Read more

دوسری شادی، تیسرا رخ

آج صبح سے سوشل میڈیا پر ایک ہی خبر ٹرینڈنگ پر ہے، کرکٹر شعیب ملک نے اداکارہ ثنا جاوید سے دوسری شادی کر لی۔ معلوم نہیں یہ ان کی دوسری شادی ہے یا تیسری، شادی ہے اور کنفرم بھی ہے کہ ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا کے مطابق اداکارہ ثنا جاوید بھی پہلے سے نکاح میں تھیں اور کچھ عرصہ کے بعد ان کا نکاح ختم ہو گیا تھا۔ شادی کی تصاویر دیکھ کے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں اپنے

Read more

طلاق ایک سہولت یا ذہنی اذیت کا اوزار؟

میں قسم کھا کر کہتا ہوں اس عورت کو طلاق دے دوں گا، میری زندگی عذاب کر کے رکھ دی ہے اس عورت نے۔ منہ سے جھاگ اڑاتا، وہ پڑھا لکھا سرکاری افسر جہالت کی انتہا پر تھا۔ بیوی ششدر سی اس کو تک رہی تھی اور اپنا ناکردہ گناہ تلاش کر رہی تھی جس کی پاداش میں جیتے جی اس کے حصے میں دوزخ کی اذیت آئی تھی۔ آپ کو یہی ملی تھی میرے لئے؟ کوئی اور گھر نہیں

Read more

بیوہ کا نکاح اور پدر شاہی معاشرہ

ہمارے دادا جب عالم بالا کو سدھارے تو اس وقت ہماری ایک دادی کی عمر پینتیس سال اور دوسری کی عمر سینتیس کے قریب تھی۔ اگر دادا جی مزید ایک ہفتہ جیتے تو اپنے پیچھے دو نہیں تین بیوائیں چھوڑ جاتے کہ اسی ہفتے وہ ”سنت“ کو پورا کرتے ہوئے تیسرا نکاح کر رہے تھے مگر اجل نے مہلت نا دی۔ دادا کو رخصت ہوئے چالیس برس بیت چکے ہیں پندرہ برس ہوئے ہماری بڑی دادی ان کے پاس پہنچ

Read more

امجد اسلام امجد: کہاں تم چلے گئے

زندگی کے میلے میں خواہشوں کے ریلے میں تم سے کیا کہیں جاناں اس قدر جھمیلے میں یہ نظم ہماری انگلش کی کتاب کے سرورق کے پیچھے لکھی ہے، اور دل کے سب سے اوپر سجی ہے۔ ”معروف شاعر امجد اسلام امجد انتقال کر گئے“ آج موبائل اٹھایا تو سب سے پہلے اسی دو سطری خبر پر نظر ٹھہر گئی۔ اک پل کو دل تھم سا گیا، یہ خبر سچ ہے یا جھوٹ؟ اس کشمکش میں کافی وقت گزر گیا۔

Read more

برین ڈرین کے معشیت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

معاشیات کی سمجھ بوجھ رکھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ ”برین ڈرین یا ذہانت کا انخلا“ کس بلا کا نام ہے۔ عام افراد کی آسانی کے لئے بتائے دیتے ہیں کہ انسانی سرمایہ کی ایک ملک سے دوسرے ملک منتقلی کو ”برین ڈرین“ کا نام دیا جاتا ہے۔ وہ ملک جہاں انسانی سرمایہ منتقل ہوتا ہے اس ملک میں اس انسانی سرمائے کی منتقلی کو ”برین گین“ کہا جاتا ہے۔ عوام اپنے ملک کے لئے یا تو سرمایہ ہوتے

Read more

والدین کی لاپرواہی یا ریاست کی غیر ذمہ داری

اس کی عمر دس سے گیارہ سال کے درمیان تھی۔ ملگجے سے کپڑے، الجھے ہوئے بال، کندھے پہ پرانا سا سکول کا بستہ، دائیں بائیں دو چھوٹے سے لڑکے۔ ایک کی عمر لگ بھگ نو سال اور دوسرا بمشکل آٹھ سال کا دکھائی دیتا تھا۔ شکل سے تینوں بہن بھائی معلوم ہوتے تھے۔ سارے بچے ہاتھوں میں چھوٹے چھوٹے پتھر تھامے کھڑے ہوتے۔ یہ روز کا معمول تھا۔ صبح کے ساڑھے سات کا وقت ہوتا اور وہ ہر راہگیر کو

Read more

خط بنام وزیر اعظم بسلسلہ سیلاب کا عذاب

محترم جناب وزیر اعظم شہباز شریف صاحب! اسلام وعلیکم، آپ کا اقبال بلند ہو، سدا خوش رہیں، حکومت کرتے رہیں اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں اپنا بھر پور حصہ ڈالتے رہیں۔ آپ کی حکومت کو قریب قریب آٹھ ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس عرصے میں معیشت کہاں تک سدھری یہ تجزیہ کار بہتر بتا سکتے ہیں۔ ہماری ”سیلاب“ سے بکھری زندگی آج بھی ویسے ہی بکھری ہے۔ اگست 2022 شدید بارشوں کے باعث

Read more

میرا سارا شہر بہہ گیا

بلخ شیر بھائی بتاتے تھے کہ ہر سال ”رود کوہی“ کا پانی ان کی فصلیں اجاڑ دیتا ہے۔ مظفر گڑھ کے لوگ تو خوش نصیب ہیں کہ ان کی زمین پہاڑوں سے دور ہے اور سونا اگلتی ہے۔ بلخ شیر نتکانی کا تعلق تونسہ شریف سے تھا اور قسمت ان کو نوکری کے لئے مظفر گڑھ کھینچ لائی۔ ہم اکثر ان کو سردار کہہ کر چھیڑتے کہ اب یہ وقت بھی دیکھنا تھا کہ سردار ہمارے ساتھ ”سردار“ چڑھے ہیں۔

Read more

نئی نسل اور پرانے مسائل

سال 2022 اپریل کا مہینہ اور رمضان کے با برکت دن، ان ہی دنوں کراچی کی تین کم عمر لڑکیوں کی گھر چھوڑنے کی خبر، تینوں ہی کم عمر، ناسمجھ اور نا تجربہ کار۔ باقی دو کیس دعا زہرہ کے کیس کے شور میں دب گئے کہ دعا کے والدین نے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔ والدین کی پہلی ویڈیو دیکھی تو ماں کے آنسو دل کو چیر گئے۔ والد کا غمزدہ چہرہ، جھکے کندھے اس بات کی گواہی دیتے

Read more

کووڈ ویکسین، افواہیں، مشاہدات، تجربہ

دنیا میں جب سے کرونا کی ویکسین کا آغاز ہوا ہے، تب سے وطن عزیز میں اس کے متعلق نت نئی افواہوں اور خدشات کا سلسلہ شد و مد سے جاری ہے۔ روزانہ ایک نئی نویلی افواہ جنگل کی آگ کی مانند سوشل میڈیا پر پھیل جاتی ہے۔ فقط دوا پر ہی کیا موقوف، جب سے کووڈ 19 کی وبا پھیلی تو اسے بھی عالمی سازش قرار دے کر احتیاط کرنا تو درکنار، بیماری کے وجود کو ہی کفار کے ساتھ نتھی کر دیا گیا۔ کہ یہ بیماری تو حرام جانور کھانے سے ہوتی ہے (حرام کی کمائی کے متعلق کیا خیال ہے یہ نہیں بتایا گیا) ۔ ہم کہ ٹھہرے پیدائشی مسلمان، ہمیں تو یہ چھو کر بھی نا گزرے گی۔

Read more

پرواز پی کے 8303

شہادت کا رتبہ بہت عظیم سہی، والدین کبھی بھی اتنا حوصلہ نہیں رکھتے کہ جوان اولاد کی شہادت کی عظمت اپنے نحیف کندھوں پہ اٹھا سکیں۔ شہادت کی موت ہر ایک کا خواب ہو سکتی ہے لیکن ایک ماں ”خواب“ میں بھی اپنے بچے کی موت دیکھے تو اس کی روح تک لرز جاتی ہے۔ جب اولاد کے ”لاشے“ باپ کو وصول کرنے پڑ جائیں تو شہادت کی عظمت میں سر بے شک ”اٹھا“ ہو لیکن اولاد کی موت کا دکھ کندھے ”جھکا“ دیتا ہے۔ ساری عمر اولاد کو کندھوں پہ اٹھانے والے والدین عمر کے کسی بھی حصے میں اولاد کی ”میت“ کا بوجھ اٹھائیں تو جیتے جی مر جاتے ہیں۔

Read more

آن لائن شغلیاں جاری ہیں

ان دنوں وبا نے پوری دنیا کو جیسے جادو کی چھڑی گھما کر روک دیا ہے۔ راوی اب فرصت ہی فرصت لکھتا ہے کہ چین ہی چین کے دن اب ہوا ہوئے۔ ہم ہیں، قرنطینہ ہے، گھر ہے اور بچے، گھر کے نا ختم ہونے والے کام بھی کہیں چھپ گئے ہیں۔ عجیب سی روٹین ہے آج کل، سونے کا کوئی وقت مقرر نہیں، جاگنے کی کوئی فکر نہیں، سوائے ان دنوں کے جب آن لائن کلاسز ہوتی ہیں۔ دن

Read more

بڑے شہر کے سرکاری ہسپتال میں ہم پر کیا گزری؟

ابھی ہم سب پر صبیحہ شاہین صاحبہ کا ایک کالم پڑھا ہے جس میں انہوں نے ایک پرائیویٹ فائیو سٹار ہسپتال میں موجود ٹو سٹار سہولیات کا ذکر کیا۔ اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ محترمہ تنویر جہاں صاحبہ نے اپنے آرٹیکل میں لکھا ہے کہ اس حوالے سے اپنے ذاتی تجربات بیان کیے جائیں۔ ایک عدد ذاتی تجربہ ہمارے پاس بھی ہے سرکاری ہسپتال اور طبی سہولیات کے حوالے سے، جس کے بعد ہم نے دعا کی تھی

Read more

احتیاط کیجئے! کرونا بہت بد لحاظ ہے

معلوم نہیں ”کرونا“ کی وبا اٹلی سے پھوٹی یا چین اس کا ابتدائی مرکز ہے؟ اس کا فیصلہ سائنس دانوں پہ چھوڑ دیجئے۔ ہمیں بس اتنا معلوم ہے کہ ایک ”چھوٹا“ سا وائرس اس قدر ”طاقتور“ ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ سپرپاورز سے لے کر ترقی پزیر ممالک سب اس کی ”زد“ میں آ چکے ہیں۔ ”تاریخی“ شہروں سے لے کر ”معمولی“ گاؤں تک اس کا نشانہ بن چکے

Read more

عورت کو کتنی آزادی چاہیے؟

عورت مارچ کے نعروں کا آغاز کیا ہوا، مانو میڈیا پر اک طبل جنگ بج اٹھا، یوں لگا کہ کوئی طوفان آگیا۔ چہار جانب سے ”سوشل میڈیائی“ مرد مجاہد سینہ تان کر ”میدان جنگ“ میں آگئے۔ رہی سہی کسر ماروی سرمد اور خلیل قمر صاحب کی ایک پروگرام کے دوران ہوئی بحث نے پوری کری۔ وہ طوفان ”بد تمیزی“ برپا ہوا کہ اس کی دھول میں عورت کو درپیش ”حقیقی مسائل“ پر گرد پڑ گئی۔ عورت مارچ جو درحقیت خواتین کے حقوق اور آزادی کے لئے ہونا تھا، ماروی سرمد اور خلیل قمر کی ”بحث“ میں الجھ گیا۔

Read more

پروردگار بول، کہاں جائیں تیرے لوگ؟

میں ایک ماں ہوں، وہ ماں جسے ہمیشہ حسرت ہی رہی کہ کبھی ”گہری نیند“ کا تجربہ کر کے دیکھوں کہ ”سکون“ سے سونے والوں کے خواب بھلا کیسے ہوا کرتے ہیں؟ کبھی ایک وقت کا کھانا ”ایک ہی نشست“ میں کھا کر محسوس کروںکہ پروردگار نے جو نعمتیں زمیں پر اتاری ہیں وہ کتنی لذیذ اور خوش ذائقہ ہیں؟ کبھی دو گھڑی آرام سے بیٹھ کر یہ غور کروں کہ جب آفتاب ”طلوع“ ہوتا ہے تو اس کی کرنیں

Read more

کیا جذبات اور مردانگی صرف پاکستانی مردوں کی میراث ہیں؟

ابھی ابھی فیس بک پر ایک پوسٹ نظر سے گزری ہے جس میں طلباء کے یکجہتی مارچ کی ایک تصویر جس میں ایک خاتون واضح طور پر دکھائی گئی تھی اور تصویر کے ساتھ لکھا تھا ”لال لال تو جب لہرائے گا لہرائے گا، ابھی تو تیرے ابھار نے میرے جذبات میں ہلچل مچا دی ہے“۔ یہ ایک فقرہ نہیں، ہماری قوم کے مردوں کی اجتماعی سوچ کی نشاندہی کرتا ایک مکمل پیکج ہے۔ عورت اس معا شرے کے لئے

Read more

 ایک جولاہا اور بھینس کے سینگ

پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک گاؤں میں ایک جولاہا رہتا تھا۔ روزانہ صبح سویرے اٹھتا اور گھر سے باہر بنی کھڈی پر کپڑے بنتا۔ اسے اپنے فن پر مکمل عبور حاصل تھا۔ اس کے بنائے کپڑوں کی دھوم آس پاس کے کئی گاؤں تک پھیلی ہوئی تھی۔ ”کھدر“ بھی بنتا تو ”مخمل“ کا گماں ہوتا۔ اس کا بنایا کپڑا ”ریشم“ کی مانند ہاتھ سے پھسل پھسل جاتا۔ جو ایک بار اس کے ہاتھ کا بنا کپڑا پہن لیتا، دوبارہ کسی اور سے کپڑا بنوانے کو راضی نہ ہوتا۔

Read more

حرم میں جنسی ہراسانی: دہائی ہے رب کعبہ کی

ان کہے لفظوں کا بوجھ بڑا ہی بھاری ہوتا ہے، اٹھایا ہی نہیں جاتا۔ غریب کی خالی جیب کی طرح، جس کے ساتھ ”چلنا“ ہی نہیں ”جینا“ بھی دشوار ہوتا ہے۔ ہم بھی گزشتہ پانچ ماہ سے یہی بوجھ اٹھائے پھر رہے ہیں۔ ایک جنگ تھی جو اندر ہی اندر برپا تھی، کہیں یا چپ رہیں؟ فیصلہ کٹھن تھا۔ اللہ بھلا کرے ”ہم سب“ والوں کا جنہوں نے بڑی ”جرات“ سے اس موضوع پر مضامین شائع کر کے ہماری ہمت

Read more

غریبوں پہ ہمیشہ ایک ہی وقت آتا ہے اور وہ ہے برا وقت

ہم ایک ”متشدد“ قوم بن چکے ہیں اور تشدد ہمارا ”قومی رویہ“۔ گالی ہماری قومی زبان ہے اور ”بے غیرتی“ ہماری پہچان۔ یہ معاشرہ اس قدر جنسی گھٹن کا شکار ہے کہ بچہ، بچی، چور، مزدور، ہاری جو جس کے ہاتھ آ جائے وہ سب سے پہلے اس کی شلوار اتارتا ہے۔ پیشگی معذرت، الفاظ ”نرم“ نہیں ہیں مگر یہاں دل الفاظ سے بھی زیادہ سخت ہیں۔ پولیس، عوام، زمیندار، پیر، فقیر جس کا بھی داؤ لگے وہ پہلے ”شلوار“

Read more

والدین کی مصروفیت اور جنسی ہراسانی

انسان اپنے لئے کم اور اپنی اولاد کے لئے زیادہ جیتا ہے۔ اولاد کی تکلیف پہ درد والدین کو ہوتا ہے اور اولاد کی خوشی والدین کے سکھ کو بڑھاتی ہے۔ اولاد کو ہر سکھ، ہر خوشی اور ہر طرح کی آسائش دینے کے لئے والدین اپنی نیندیں قربان کرتے ہیں، اپنا سکھ تیاگ دیتے ہیں۔ پہلے یہ بات صرف پڑھنے اور سننے تک محدود تھی۔ جب خود والدین بنے تو جانا کہ یہ تو حرف بہ حرف سچ کی کتھا ہے۔ یہ تو لفظ لفظ حقیقت ہے۔

Read more

سیاست اب بچوں کا کھیل ہے

بچپن بہت سہانا دور ہے اور اتنا سنہری کہ گزرتا وقت بھی اس کی چمک کو ماند نہیں کر سکتا۔ بچپن میں کھیلے گئے کھیل ہمیشہ یاد رہتے ہیں اور ”بڑھتی“ عمر میں ”گھٹتی“ یاداشت بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ ہم نے بچپن میں جو کھیل کھیلے وہ آج تک ازبر ہیں۔ کہیں بھی بچوں کو کھیلتا دیکھ لیں تو شدت سے وہی کھیل یاد آتے ہیں۔ جب بھی موقع ملے اپنے ہم عصر لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر وہ پرانی یادیں ضرور تازہ کرتے ہیں۔

Read more

تبدیلی سرکار آج تھوڑا گھبرانے کی اجازت دی جائے

معاشیات ہمیشہ ہمارا پسندیدہ مضمون رہا ہے اور اتنا پسندیدہ کہ اسی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر لی۔ اردو کے پروفیسرز کو ہمیشہ ہم سے یہ گلہ رہا کہ ہم نے ”معاشیات“ میں داخلہ لے کر ”اردو ادب“ پہ بہت بڑا ظلم کیا ہے۔ ہم نے بصد احترام ہمیشہ یہی جواب دیا کہ سر اگر ہم معاشیات میں ماسٹرز نہ کرتے تو یہ معاشیات پہ ”ظلم“ ہوتا۔

معاشیات کا مضمون جتنا پسندیدہ تھا، سیاسیات سے اتنی ہی الرجی تھی۔ لیکن یہ بھلا کہاں ممکن تھا کہ مائیکرو اکنامکس پڑھی جائے اور میکرو کو چھوڑ دیا جائے؟ پبلک فائنانس پڑھیں اور انٹر نیشنل اکنامکس کو بھول جائیں؟ قصہ مختصر وہ بھی پڑھنا پڑا جس سے کوسوں دور بھاگتے تھے۔ قومی آمدنی، سرمایہ کاری، طلب ورسد، بجٹ سب پڑھا۔

Read more

مشترکہ خاندانی نظام کا عذاب

شادی نام ہے خوشی خوشی ایک نئے گھر کی بنیاد رکھنے کا، نئی امیدوں کا، نئے چراغ جلنے کا۔ ایک خاندان کا دوسرے خاندان کے ساتھ رشتہ جوڑنے کا۔ جب بھی کوئی شادی کارڈ چھپتا ہے تو جلی حروف میں ”شادی خانہ آبادی“ لکھوایا جاتا ہے۔ ہے تو یہ رسم دنیا، لیکن ان الفاظ کو پڑھ کے ایک سرور سا رگوں میں دوڑنے لگتا ہے۔ ہمارے یہاں 70 فیصد سے زیادہ دیہی آبادی والے ملک میں اکثریت آج بھی ”مشترکہ

Read more

باپ مہرباں ہے تو بھائی بھی سائباں ہے

جذباتی لوگوں میں ایک بڑی خرابی ہے، ہمیشہ جذبات سے ہی سوچتے ہیں۔ عقل کا استعمال کم ہی کرتے ہیں۔ جہاں ”دماغ“ کا کام ہو وہاں ”دل“ کو آگے کر دیتے ہیں اور جہاں ”دل“ کی باری آئے وہاں عقل کو ”پاسباں“ بنا لیتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں نقصان بے چارہ دل ہی اٹھاتا ہے۔پچھلے دنوں ہم سب کے پیج پر میڈم رابعہ الربا کا مضمون ”بہن کا جہاں اور ہے بیٹی کا جہاں اور“ ہے پڑھا۔ رابعہ الربا بہت ”دلربا“ لکھتی ہیں۔ لیکن یہ وہ واحد مضمون ہے جسے پڑھ کر ہمارا حساس دل کچھ پریشان سا ہو گیا۔ ایک کمنٹ کے ذریعے اپنے آپ کو کچھ ”رام“ کرنے کی کوشش کی مگر لا حاصل۔ دل ہے کہ مسلسل ضد پہ اڑا ہے اور دل کی ضد کے آگے بھلا کسی کی چلی ہے؟

Read more

کیا خدا خواتین کے لئے نامہربان ہو سکتا ہے؟

گردش دوراں کہیے یا نصیب کا کوئی چکر، ہمارا ہر کام اکثر الٹا ہو جاتا ہے۔ لاکھ کوشش کریں اس سے بچنے کی مگر مجال ہے جو کبھی بچ پائے ہوں۔ اب یہی دیکھ لیجیے جو مضمون ہم نے خواتین کے عالمی دن سے پہلے لکھنا تھا وہ اتنے دن بعد لکھ رہے ہیں۔ کہا ناں اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہے، یہ تو بس ہمارا ”نصیب“ ہے جو لکھنے والے نے اپنی من مرضی کا تحریر کیا ہے۔ہم سب نے اس دن کے حوالے سے بہت سے مضامین شائع کیے ہیں۔ کچھ کو پڑھ لیا ہے اور کچھ انتطار کی قطار میں ہیں۔ آج کل میں پڑھ ہی لیں گے۔ ابھی تو لکھنا ہے۔ خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے دو انتہا پسند مکتبہ فکر سامنے آئے ہیں۔ ایک وہ جو عورت کی آزادی سے خائف ہیں اور عورت کو پردوں کی تہہ میں چھپا کے رکھنا چاہتے ہیں۔ اپنے نظریات کو مسلط کرنے کے لئے ”مذہب“ کا سہارا لیتے ہیں۔ اور مذہب میں سے بھی ”اپنی مرضی“ کا دین چن لیتے ہیں۔

Read more

ویلنٹائن ڈے کے لڈو

آج ویلنٹائین ڈے تھا۔ محبت کرنے والوں کا دن، محبت میں امر ہو جانے والوں کا دن۔ اس کی تاریخ جو بھی رہی ہو، جب سے ہوش سنبھالا ہے اس کا ذکر سنتے آئے ہیں۔ کبھی تو یہ ذکر ”خیر“ کے زمرے میں ہوتا ہے اور کبھی وہ ”شر“ کہ الاماں۔ فروری کے آغاز سے ہی سوشل میڈیا پہ اس جنگ کا آغاز شروع ہوا کہ اس سال یہ دن کس طرح منایا جائے؟

تجاویز تو بڑی نایاب اور بہترین پیش کی گئیں کہ اس دن کو ”حیا ڈے“ اور ”سسٹر ڈے“ کے نام سے منایا جائے گا۔ یہاں تک کہ ہماری گنہگار آنکھوں نے یہ بھی پڑھا کہ اس دن لڑکے اپنی اپنی بہنوں کو ”حجاب“ اور ”عبایا“ گفٹ کریں گے۔

Read more

بستیاں الو بولنے سے نہیں،نا انصافی سے ویران ہوتی ہیں

محبت گولیوں سے بو رہے ہو وطن کا چہرہ خون سے دھو رہے ہو گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو۔ زندگی اتنی مصروف ہو جائے گی، کبھی سوچا نہ تھا۔ ہم جو کبھی ”غم جاناں“ کے تصور سے نہ نکلے تھے، اب ”غم دوراں“ میں الجھ بیٹھے ہیں۔ زندگی ہے کہ الجھا ہوا اون کا گولہ بنتی جا رہی ہے۔ کوئی سرا ہاتھ ہی نہیں آتا۔ سارے دھاگے الجھ گئے

Read more

پاکستان سے زندہ بھاگ

یہ سال 2019 ء ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ سب پہلی بار ہوا ہے۔ ایسا صرف اس لئے ہوا ہے کہ اب نیا پاکستان بن گیا ہے اور تبدیلی آ گئی ہے۔ اس تبدیلی کو آئے ابھی چھ ماہ بھی نہیں ہوئے لیکن انتہا دیکھئے کہ میڈیا اب فقط مثبت رپورٹنگ کر رہا ہے۔ منفی رپورٹنگ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ہر جگہ امن و سکون ہے۔ انصاف کا بول بالا ہے اور تحریک انصاف کا بھی۔ عدلیہ

Read more

کیا استاد کی تکریم کے اسٹیکر "قبر” پہ لگانے کی اجازت ہے؟

دسمبر درد کا موسم۔۔۔ دسمبر کرب کا نوحہ۔۔۔۔ نجانے دسمبر کا درد سے کیا رشتہ ہے، جو سال کے آخری دنوں میں پڑتی سردی، احساسات کو بھی منجمد کر دیتی ہے۔ اک باقی رہ جاتا ہے تو فقط کرب، جو نہ لفظوں میں بیان ہوتا ہے نہ ہی دل میں نہاں رہتا ہے۔ کئی دنوں سے یہ برفیلا موسم روح کے اندر تک سرایت کیے ہوئے ہے۔ بے سبب اداسی نے قلم کو جکڑ لیا ہے، اور لفظ اندر کہیں بین کرتے

Read more

معذور افراد کا دن ضرور منائیں، لیکن پہلے انہیں حقوق دلائیں

گونگے بہت بولتے ہیں۔ یہ فقرہ جو بھی پڑھے گا ہمیں عقل سے عاری سے سمجھے گا۔ لیکن یقین مانئیے گونگے واقعی بہت بولتے ہیں۔ خصوصی تعلیم میں بطور ٹیچر فرائض سر انجام دیتے ہمیں تقریباً آٹھ سال ہو گئے ہیں۔ اس دروان جتنی گفتگو ہم نے گونگوں سے کی ہے شائد ہی کسی بولنے والے سے کی ہو۔ خصوصی افراد اور خصوصی تعلیم سے ہمارا تعلق بہت پرانا ہے۔ اس وقت سے جب ہم ابھی "سپیشل” کے مفہوم سے

Read more

وزیر اعظم کے انڈے اور لکھنے والے کا ہاتھ

قصہ، کہانی، رسالے، کتابیں ہمیشہ سے ہمارا اوڑھنا بچھونا رہے ہیں۔ وہ عمر جس میں بچے جیب خرچ سے "ٹافیاں اور بلے(لالی پاپ)” کھایا کرتے ہیں ہم نے وہ عمر اس جیب خرچ سےعمروعیار اور ٹارزن کی کہانیاں خرید کر پڑھنے میں گزار دی۔ والدین کو ہمیشہ گلہ ہی رہا کہ کبھی "ڈھنگ” کی کوئی شے نہیں خریدی۔ کہانیوں کا چسکہ ایسا کہ کبھی سکون سے کھانا بھی نہ کھایا کہ جتنا وقت کھانے پہ ضائع ہوتا اس میں کہانی

Read more

حوصلہ کیجیے صاحب، جگہ چھینی نہیں جاتی، بنانی پڑتی ہے

کلاس روم میں ایسی خاموشی ہے کہ سوئی بھی گرے تو آواز دور تک سنائی دے۔ طلباء وائٹ بورڈ پہ نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ پروفیسر صاحب نے سوال ہی ایسا کیا ہے کہ سب گنگ ہو گئے ہیں۔ وائٹ بورڈ پہ ایک سیاہ لکیر لگی ہے۔ سب پریشان ہیں کہ اس لے کر کوچھوئے بنا یا مٹائے بغیر بڑا کیسے کیا جائے؟ کیونکہ پروفیسر صاحب نے شرط رکھی ہے کہ اسے ”چھیڑے اور چھوئے“ بغیر بڑا کیا جائے۔ ہر کسی

Read more

اقبال ہے، اقبال ہے، اقبال ہمارا

سہل پسندی ہمارا قومی شیوہ سہی، پر جب سے تھوڑا بہت اقبال کو پڑھا، یہ تن آسانی ترک کر دی ہے۔ مشکلوں سے یارانہ گانٹھنے والے گو کہ ہمیشہ ”مشکل“ میں ہی ر ہتے ہیں مگر ”اقبال“ کو لہو رونے سے بچا لیتے ہیں۔ کیونکہ اقبال نے بہت پہلے یہ کہہ دیا تھا کہ ”کرگس کا جہاں اور ہے شاہین کا جہاں اور“۔ اقبال کا شاہین بننے کے لئے تو ”پہاڑوں کی چٹانوں“ پہ بسیرا لازم ہے۔ آج ہمارا پورا

Read more

عشق میں روگ ہزار او سائیں

نفرت ہے کہ ہر سو پھیلی ہے۔ مایوسی ہے کہ چاروں اور چھائی ہے۔ قلم لفظ محبت لکھنا بھول گیا ہے۔ کان ہیں کہ عشق کے گیت سننے کو ترس گئے ہیں۔ اک آگ سی ہے جو جسم و جان کو بھسم کیے جاتی ہے۔ اک اضطراب ہے جو رگوں میں محشر برپا کیے رکھتا ہے۔ بے کلی ہے جو کہیں سکون نہیں لینے دیتی۔ وصل کی لذت تو نصیب والوں کے حصے میں لکھی ہے۔ ہجر اور ہجرت کا

Read more

نیوٹن کا تیسرا قانون

”ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے“ عمل جتنا شدید ہو گاردعمل بھی اتنا ہی شدید ہو گا۔ یہ نیوٹن کا بیان کردہ تیسرا قانون ہے جو ہم نے میٹرک کے نصاب میں پڑھا تھا۔ نیوٹن کے پہلے دو قوانین ہمیں کچھ خاص پسند نہیں تھے کیونکہ سائنس کے مضامین سے ہمیں کوئی شغف ہی نہ تھا۔ والد صاحب کی طرف سے اگر تعلیم جاری رکھنے کہ لئے سائنس پڑھنا بنیادی شرط نہ ہوتی تو آج ہم نیوٹن کے نام

Read more

ایک نالائق ممی کی التجا

کہیں پڑھا تھا کہ اگر آپ اپنے بچے کو تمیز دار بنانا چا ہتے ہیں تو آپ کو ہمسا ئے کے بچوں کو بھی تمیز سکھانی ہو گی۔ ہو سکتا ہے الفاظ تھوڑے مختلف ہوں، مفہوم بہرحال یہی تھا۔ آج کل مصروفیت اتنی بڑھ گئی ہے کہ سر کھجانے کی فرصت نہیں مل رہی۔ لیکن اس پروگرام کو دیکھ کر اضطراب اتنا بڑھ گیا کہ نا چار لکھنے بیٹھ گئے۔ یونہی کام کے دوران چلتے پھرتے غلطی سے ٹی وی

Read more

استاد ”محترم“ سے ”مجرم“ ہو گئے

معلوم نہیں یہ تقدیر کا ”پھیر“ ہے یا الفاظ کا ”ہیرپھیر“، وہ جو ایک مدت سے سب سے محترم قرار پائے تھےوہی آج سب سے بڑے ”مجرم“ ٹھہرائے جا رہے ہیں۔ آج دل خون کے آنسو رو رہا ہے کہ وائے نادانی ہم ”کم فہم“ جسے پیشہ پیغمبری سمجھتے رہے اور اسی ”خوش فہمی“ میں اس پیشے کا انتخاب بھی کر بیٹھے، اب کہاں جائیں؟ اپنے ایک مضمون (کیمروں کی نہیں کمروں کی ضرورت ہے صاحب ) میں ہم پہلے

Read more

بندر کے ہاتھ میں استرا ہے

بچپن ایسا سنہرا دور ہے کہ انسان چاہے بھی تو بھول نہیں سکتا۔ یادیں اتنا قیمتی خزانہ کہ آخری سانس بھی حفاظت کرتی ہے اس متاع کی۔ وہ بچپن کے کھیل، وہ میلے تماشے بڑی شان سے لاشعور میں رہتے ہیں۔ دل میں بستے ہیں اور آنکھ بند کرتے ہی پردہ سکرین پہ لہراتے ہیں۔ کوئی فلم سی چل پڑتی ہے گویا اور ہم اسی دور میں جا پہنچتے ہیں جسے آج کی مشینی زندگی نے گم کر دیا ہے۔

Read more

چلتے پھرتے خود کش بمبار

کل جنوبی پنجاب کے پسماندہ شہرمظفر گڑھ کے ایک قصبہ چوک قریشی میں سکول وین کو آگ لگ گئی۔ سکول وین میں سوار 24 بچوں میں سے تین موقع پر ہی لقمہ اجل کا شکار ہو گئے اور باقی بچے ادھ جلی حالت میں مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ جن میں سے تین بچوں کی حالت بہت نازک بتائی جا رہی ہے۔ خدا معلوم ان والدین کے دلوں پہ کیا گزری ہو گی؟ جن کے بچے اس حادثے کا

Read more

میرا بیٹا وزیراعظم بن کر اپنے دوستوں کو وزیر بنائے گا

آج میرے سات سالہ بیٹے نے مجھ سے ایک سوال کیا، جسے سن کر میں ابھی تک ”بحر حیرت“ میں غوطہ زن ہوں۔ ”مما جب کوئی وزیراعظم بن جاتا ہے تو پھر وہ اپنے دوستوں کو بھی کوئی وزیر بنا سکتا ہے؟ سوال ایسا تھا کہ ایک لمحے کے لئے میں چکرا گئی۔ میں اپنے بچوں سے ہر قسم کے سوالات کی توقع رکھتی ہوں اور ایک دن میں تقریبا دو سو سوالات کے جواب دینے کے لئے ذہنی طور

Read more

صرف دو بچوں کی ممی اور ہمارا تجربہ

پچھلے دنوں ہم سب کے پیج پر ایک مضمون پڑھاتھا۔”ممی اور صرف دو بچے"۔ ایسا لگا جیسے کسی نے چوری چوری دل میں سیندھ لگا کر ہمارے درد کو چرایا اور سرراہ رکھ دیا۔ ممی اور ہمارا دکھ "سانجھا”سا لگا، ہمارا درد مشترک ہے۔ اس مضمون پہ قارئین کے کمنٹس بھی پڑھے، کچھ حق میں تھےاور کچھ مخالفت میں۔ تو سوچا کیوں نہ ہم بھی اپنا ” تجربہ” آپ کے ساتھ بانٹ لیں۔ ہم نے جتنی زندگی گزاری ہےدو انتہاوءں

Read more

خوش رہنا ہے تو منافقت سیکھیے

آج کل ہر دوسرا فرد ڈپریشن کا شکار ہے، جسے دیکھیے وہی زندگی سے بیزار ہے۔ ڈپریشن بہت بری بیماری ہے، یہ مایوسی کی بگڑی شکل ہے، جس کو چمٹ جائے اس کی زندگی کا نقشہ بگاڑ کے رکھ دیتی ہے۔ بعض اوقات تو مریض کی جان تک لے لیتی ہے۔ اس بیماری نے ہماری جان سے پیاری دوستیوں کو نگل لیا ہے، اور گاہے بگاہے ہمیں بھی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ ہم اکثر یہ سوچا کرتے ہیں کہ

Read more

ہاتھی کو گھڑے میں کیسے ڈالیں؟

ہمارے نانا کمال کے قصہ گو تھے، جب بھی ملتے نیا قصہ سناتے، قصے کے ساتھ کوئی نہ کوئی کہاوت بھی جڑی ہوتی۔ کچھ قصے غم دوراں میں کھو گئے، کچھ آج بھی ازبرہیں۔ نجانے کیوں آج وہ قصے بہت یاد آ رہے ہیں۔ شاید اپنے بچوں کے دادا کو دیکھ کر۔ ان کی عادت بھی ہمارے نانا جیسی ہے، جب موڈ میں ہوں تو اپنے پوتے کو قصہ ضرور سناتے ہیں۔ تو چلئے آج ہم آپ کو وہی قصے

Read more

کیمروں کی نہیں، کمروں کی ضرورت ہے صاحب

سابقہ حکومت بھلائے نہیں بھولتی۔ اور بھولیں بھی تو کیسے؟ کہ ہر میدان میں اتنے کار ہائے نمایاں سر انجام دیے ہیں کہ گنتی ناممکن۔ حساب سے ہمارا کوئی لینا دینا ہی نہیں کہ اس لئے عدالتیں اور نیب ہی کافی ہیں۔ ہمارا کام تو فقط کچھ مسئلوں کی نشاندہی کرنا ہے جو سابقہ حکومت کے کیے گئے فیصلوں کے نتیجے میں ہم استاد بھگت رہے ہیں۔ خدا معلوم کہ خادم اعلی کو سرکاری ملازمین سے کیا پرخاش تھی کہ

Read more

تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آ چکی ہے

آج کل ہر جگہ ایک ہی نعرہ سنائی دے رہا ہے۔ "تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آ چکی ہے”۔ بات تو سچ ہے! الیکشن 2018 ہو چکے، نئی حکومت آ چکی، نئے وزیر اعظم نے حلف اٹھا لیا ہے۔ نئی کابینہ آ چکی۔ نئے صدر کا انتخاب ہو گیا۔ سی ایم پنجاب کا انتخاب ہو چکا، جو کہ خوش قسمتی سے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہو سکتا ہے اب جنوبی پنجاب کی قسمت بدل جائے۔ الیکشن سے پہلے

Read more