ایک جولاہا اور بھینس کے سینگ

پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک گاؤں میں ایک جولاہا رہتا تھا۔ روزانہ صبح سویرے اٹھتا اور گھر سے باہر بنی کھڈی پر کپڑے بنتا۔ اسے اپنے فن پر مکمل عبور حاصل تھا۔ اس کے بنائے کپڑوں کی دھوم آس پاس کے کئی گاؤں تک پھیلی ہوئی تھی۔ ”کھدر“ بھی بنتا تو ”مخمل“ کا گماں ہوتا۔ اس کا بنایا کپڑا ”ریشم“ کی مانند ہاتھ سے پھسل پھسل جاتا۔ جو ایک بار اس کے ہاتھ کا بنا کپڑا پہن لیتا، دوبارہ کسی اور سے کپڑا بنوانے کو راضی نہ ہوتا۔

Read more

حرم میں جنسی ہراسانی: دہائی ہے رب کعبہ کی

ان کہے لفظوں کا بوجھ بڑا ہی بھاری ہوتا ہے، اٹھایا ہی نہیں جاتا۔ غریب کی خالی جیب کی طرح، جس کے ساتھ ”چلنا“ ہی نہیں ”جینا“ بھی دشوار ہوتا ہے۔ ہم بھی گزشتہ پانچ ماہ سے یہی بوجھ اٹھائے پھر رہے ہیں۔ ایک جنگ تھی جو اندر ہی اندر برپا تھی، کہیں یا چپ…

Read more

غریبوں پہ ہمیشہ ایک ہی وقت آتا ہے اور وہ ہے برا وقت

ہم ایک ”متشدد“ قوم بن چکے ہیں اور تشدد ہمارا ”قومی رویہ“۔ گالی ہماری قومی زبان ہے اور ”بے غیرتی“ ہماری پہچان۔ یہ معاشرہ اس قدر جنسی گھٹن کا شکار ہے کہ بچہ، بچی، چور، مزدور، ہاری جو جس کے ہاتھ آ جائے وہ سب سے پہلے اس کی شلوار اتارتا ہے۔ پیشگی معذرت، الفاظ…

Read more

والدین کی مصروفیت اور جنسی ہراسانی

انسان اپنے لئے کم اور اپنی اولاد کے لئے زیادہ جیتا ہے۔ اولاد کی تکلیف پہ درد والدین کو ہوتا ہے اور اولاد کی خوشی والدین کے سکھ کو بڑھاتی ہے۔ اولاد کو ہر سکھ، ہر خوشی اور ہر طرح کی آسائش دینے کے لئے والدین اپنی نیندیں قربان کرتے ہیں، اپنا سکھ تیاگ دیتے ہیں۔ پہلے یہ بات صرف پڑھنے اور سننے تک محدود تھی۔ جب خود والدین بنے تو جانا کہ یہ تو حرف بہ حرف سچ کی کتھا ہے۔ یہ تو لفظ لفظ حقیقت ہے۔

Read more

سیاست اب بچوں کا کھیل ہے

بچپن بہت سہانا دور ہے اور اتنا سنہری کہ گزرتا وقت بھی اس کی چمک کو ماند نہیں کر سکتا۔ بچپن میں کھیلے گئے کھیل ہمیشہ یاد رہتے ہیں اور ”بڑھتی“ عمر میں ”گھٹتی“ یاداشت بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ ہم نے بچپن میں جو کھیل کھیلے وہ آج تک ازبر ہیں۔ کہیں بھی بچوں کو کھیلتا دیکھ لیں تو شدت سے وہی کھیل یاد آتے ہیں۔ جب بھی موقع ملے اپنے ہم عصر لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر وہ پرانی یادیں ضرور تازہ کرتے ہیں۔

Read more

تبدیلی سرکار آج تھوڑا گھبرانے کی اجازت دی جائے

معاشیات ہمیشہ ہمارا پسندیدہ مضمون رہا ہے اور اتنا پسندیدہ کہ اسی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر لی۔ اردو کے پروفیسرز کو ہمیشہ ہم سے یہ گلہ رہا کہ ہم نے ”معاشیات“ میں داخلہ لے کر ”اردو ادب“ پہ بہت بڑا ظلم کیا ہے۔ ہم نے بصد احترام ہمیشہ یہی جواب دیا کہ سر اگر ہم معاشیات میں ماسٹرز نہ کرتے تو یہ معاشیات پہ ”ظلم“ ہوتا۔

معاشیات کا مضمون جتنا پسندیدہ تھا، سیاسیات سے اتنی ہی الرجی تھی۔ لیکن یہ بھلا کہاں ممکن تھا کہ مائیکرو اکنامکس پڑھی جائے اور میکرو کو چھوڑ دیا جائے؟ پبلک فائنانس پڑھیں اور انٹر نیشنل اکنامکس کو بھول جائیں؟ قصہ مختصر وہ بھی پڑھنا پڑا جس سے کوسوں دور بھاگتے تھے۔ قومی آمدنی، سرمایہ کاری، طلب ورسد، بجٹ سب پڑھا۔

Read more

مشترکہ خاندانی نظام کا عذاب

شادی نام ہے خوشی خوشی ایک نئے گھر کی بنیاد رکھنے کا، نئی امیدوں کا، نئے چراغ جلنے کا۔ ایک خاندان کا دوسرے خاندان کے ساتھ رشتہ جوڑنے کا۔ جب بھی کوئی شادی کارڈ چھپتا ہے تو جلی حروف میں ”شادی خانہ آبادی“ لکھوایا جاتا ہے۔ ہے تو یہ رسم دنیا، لیکن ان الفاظ کو…

Read more

باپ مہرباں ہے تو بھائی بھی سائباں ہے

جذباتی لوگوں میں ایک بڑی خرابی ہے، ہمیشہ جذبات سے ہی سوچتے ہیں۔ عقل کا استعمال کم ہی کرتے ہیں۔ جہاں ”دماغ“ کا کام ہو وہاں ”دل“ کو آگے کر دیتے ہیں اور جہاں ”دل“ کی باری آئے وہاں عقل کو ”پاسباں“ بنا لیتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں نقصان بے چارہ دل ہی اٹھاتا ہے۔پچھلے دنوں ہم سب کے پیج پر میڈم رابعہ الربا کا مضمون ”بہن کا جہاں اور ہے بیٹی کا جہاں اور“ ہے پڑھا۔ رابعہ الربا بہت ”دلربا“ لکھتی ہیں۔ لیکن یہ وہ واحد مضمون ہے جسے پڑھ کر ہمارا حساس دل کچھ پریشان سا ہو گیا۔ ایک کمنٹ کے ذریعے اپنے آپ کو کچھ ”رام“ کرنے کی کوشش کی مگر لا حاصل۔ دل ہے کہ مسلسل ضد پہ اڑا ہے اور دل کی ضد کے آگے بھلا کسی کی چلی ہے؟

Read more

کیا خدا خواتین کے لئے نامہربان ہو سکتا ہے؟

گردش دوراں کہیے یا نصیب کا کوئی چکر، ہمارا ہر کام اکثر الٹا ہو جاتا ہے۔ لاکھ کوشش کریں اس سے بچنے کی مگر مجال ہے جو کبھی بچ پائے ہوں۔ اب یہی دیکھ لیجیے جو مضمون ہم نے خواتین کے عالمی دن سے پہلے لکھنا تھا وہ اتنے دن بعد لکھ رہے ہیں۔ کہا ناں اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہے، یہ تو بس ہمارا ”نصیب“ ہے جو لکھنے والے نے اپنی من مرضی کا تحریر کیا ہے۔ہم سب نے اس دن کے حوالے سے بہت سے مضامین شائع کیے ہیں۔ کچھ کو پڑھ لیا ہے اور کچھ انتطار کی قطار میں ہیں۔ آج کل میں پڑھ ہی لیں گے۔ ابھی تو لکھنا ہے۔ خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے دو انتہا پسند مکتبہ فکر سامنے آئے ہیں۔ ایک وہ جو عورت کی آزادی سے خائف ہیں اور عورت کو پردوں کی تہہ میں چھپا کے رکھنا چاہتے ہیں۔ اپنے نظریات کو مسلط کرنے کے لئے ”مذہب“ کا سہارا لیتے ہیں۔ اور مذہب میں سے بھی ”اپنی مرضی“ کا دین چن لیتے ہیں۔

Read more

ویلنٹائن ڈے کے لڈو

آج ویلنٹائین ڈے تھا۔ محبت کرنے والوں کا دن، محبت میں امر ہو جانے والوں کا دن۔ اس کی تاریخ جو بھی رہی ہو، جب سے ہوش سنبھالا ہے اس کا ذکر سنتے آئے ہیں۔ کبھی تو یہ ذکر ”خیر“ کے زمرے میں ہوتا ہے اور کبھی وہ ”شر“ کہ الاماں۔ فروری کے آغاز سے ہی سوشل میڈیا پہ اس جنگ کا آغاز شروع ہوا کہ اس سال یہ دن کس طرح منایا جائے؟

تجاویز تو بڑی نایاب اور بہترین پیش کی گئیں کہ اس دن کو ”حیا ڈے“ اور ”سسٹر ڈے“ کے نام سے منایا جائے گا۔ یہاں تک کہ ہماری گنہگار آنکھوں نے یہ بھی پڑھا کہ اس دن لڑکے اپنی اپنی بہنوں کو ”حجاب“ اور ”عبایا“ گفٹ کریں گے۔

Read more