بڑے شہر کے سرکاری ہسپتال میں ہم پر کیا گزری؟

ابھی ہم سب پر صبیحہ شاہین صاحبہ کا ایک کالم پڑھا ہے جس میں انہوں نے ایک پرائیویٹ فائیو سٹار ہسپتال میں موجود ٹو سٹار سہولیات کا ذکر کیا۔ اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ محترمہ تنویر جہاں صاحبہ نے اپنے آرٹیکل میں لکھا ہے کہ اس حوالے سے اپنے ذاتی تجربات بیان کیے…

Read more

احتیاط کیجئے! کرونا بہت بد لحاظ ہے

معلوم نہیں ”کرونا“ کی وبا اٹلی سے پھوٹی یا چین اس کا ابتدائی مرکز ہے؟ اس کا فیصلہ سائنس دانوں پہ چھوڑ دیجئے۔ ہمیں بس اتنا معلوم ہے کہ ایک ”چھوٹا“ سا وائرس اس قدر ”طاقتور“ ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ سپرپاورز سے لے…

Read more

عورت کو کتنی آزادی چاہیے؟

عورت مارچ کے نعروں کا آغاز کیا ہوا، مانو میڈیا پر اک طبل جنگ بج اٹھا، یوں لگا کہ کوئی طوفان آگیا۔ چہار جانب سے ”سوشل میڈیائی“ مرد مجاہد سینہ تان کر ”میدان جنگ“ میں آگئے۔ رہی سہی کسر ماروی سرمد اور خلیل قمر صاحب کی ایک پروگرام کے دوران ہوئی بحث نے پوری کری۔ وہ طوفان ”بد تمیزی“ برپا ہوا کہ اس کی دھول میں عورت کو درپیش ”حقیقی مسائل“ پر گرد پڑ گئی۔ عورت مارچ جو درحقیت خواتین کے حقوق اور آزادی کے لئے ہونا تھا، ماروی سرمد اور خلیل قمر کی ”بحث“ میں الجھ گیا۔

Read more

پروردگار بول، کہاں جائیں تیرے لوگ؟

میں ایک ماں ہوں، وہ ماں جسے ہمیشہ حسرت ہی رہی کہ کبھی ”گہری نیند“ کا تجربہ کر کے دیکھوں کہ ”سکون“ سے سونے والوں کے خواب بھلا کیسے ہوا کرتے ہیں؟ کبھی ایک وقت کا کھانا ”ایک ہی نشست“ میں کھا کر محسوس کروںکہ پروردگار نے جو نعمتیں زمیں پر اتاری ہیں وہ کتنی…

Read more

کیا جذبات اور مردانگی صرف پاکستانی مردوں کی میراث ہیں؟

ابھی ابھی فیس بک پر ایک پوسٹ نظر سے گزری ہے جس میں طلباء کے یکجہتی مارچ کی ایک تصویر جس میں ایک خاتون واضح طور پر دکھائی گئی تھی اور تصویر کے ساتھ لکھا تھا ”لال لال تو جب لہرائے گا لہرائے گا، ابھی تو تیرے ابھار نے میرے جذبات میں ہلچل مچا دی…

Read more

 ایک جولاہا اور بھینس کے سینگ

پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک گاؤں میں ایک جولاہا رہتا تھا۔ روزانہ صبح سویرے اٹھتا اور گھر سے باہر بنی کھڈی پر کپڑے بنتا۔ اسے اپنے فن پر مکمل عبور حاصل تھا۔ اس کے بنائے کپڑوں کی دھوم آس پاس کے کئی گاؤں تک پھیلی ہوئی تھی۔ ”کھدر“ بھی بنتا تو ”مخمل“ کا گماں ہوتا۔ اس کا بنایا کپڑا ”ریشم“ کی مانند ہاتھ سے پھسل پھسل جاتا۔ جو ایک بار اس کے ہاتھ کا بنا کپڑا پہن لیتا، دوبارہ کسی اور سے کپڑا بنوانے کو راضی نہ ہوتا۔

Read more

حرم میں جنسی ہراسانی: دہائی ہے رب کعبہ کی

ان کہے لفظوں کا بوجھ بڑا ہی بھاری ہوتا ہے، اٹھایا ہی نہیں جاتا۔ غریب کی خالی جیب کی طرح، جس کے ساتھ ”چلنا“ ہی نہیں ”جینا“ بھی دشوار ہوتا ہے۔ ہم بھی گزشتہ پانچ ماہ سے یہی بوجھ اٹھائے پھر رہے ہیں۔ ایک جنگ تھی جو اندر ہی اندر برپا تھی، کہیں یا چپ…

Read more

غریبوں پہ ہمیشہ ایک ہی وقت آتا ہے اور وہ ہے برا وقت

ہم ایک ”متشدد“ قوم بن چکے ہیں اور تشدد ہمارا ”قومی رویہ“۔ گالی ہماری قومی زبان ہے اور ”بے غیرتی“ ہماری پہچان۔ یہ معاشرہ اس قدر جنسی گھٹن کا شکار ہے کہ بچہ، بچی، چور، مزدور، ہاری جو جس کے ہاتھ آ جائے وہ سب سے پہلے اس کی شلوار اتارتا ہے۔ پیشگی معذرت، الفاظ…

Read more

والدین کی مصروفیت اور جنسی ہراسانی

انسان اپنے لئے کم اور اپنی اولاد کے لئے زیادہ جیتا ہے۔ اولاد کی تکلیف پہ درد والدین کو ہوتا ہے اور اولاد کی خوشی والدین کے سکھ کو بڑھاتی ہے۔ اولاد کو ہر سکھ، ہر خوشی اور ہر طرح کی آسائش دینے کے لئے والدین اپنی نیندیں قربان کرتے ہیں، اپنا سکھ تیاگ دیتے ہیں۔ پہلے یہ بات صرف پڑھنے اور سننے تک محدود تھی۔ جب خود والدین بنے تو جانا کہ یہ تو حرف بہ حرف سچ کی کتھا ہے۔ یہ تو لفظ لفظ حقیقت ہے۔

Read more

سیاست اب بچوں کا کھیل ہے

بچپن بہت سہانا دور ہے اور اتنا سنہری کہ گزرتا وقت بھی اس کی چمک کو ماند نہیں کر سکتا۔ بچپن میں کھیلے گئے کھیل ہمیشہ یاد رہتے ہیں اور ”بڑھتی“ عمر میں ”گھٹتی“ یاداشت بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ ہم نے بچپن میں جو کھیل کھیلے وہ آج تک ازبر ہیں۔ کہیں بھی بچوں کو کھیلتا دیکھ لیں تو شدت سے وہی کھیل یاد آتے ہیں۔ جب بھی موقع ملے اپنے ہم عصر لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر وہ پرانی یادیں ضرور تازہ کرتے ہیں۔

Read more