عمروں سے لمبی تحریک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 یوں تو شہر میں اور وادی میں دنگے چلتے ہوئے دس ماہ گزر گئے لیکن یہ پندرہ دن تو مانو جیسے لوگوں کی نسوں میں خوف تن گیا ہے دوسری طرف مودی کے غنڈوں کے سروں میں ظلم، بربریت، قتل عام اور سفاکیت سما گئی ہے۔ کرفیو کچھ دیر کے لیے بھی نہیں کُھلا حتیٰ کہ بکرا عید پہ لوگوں کو نماز پڑھنے سے روک دیا گیا۔ قربانی نہیں کر سکے وہ مظلوم کشمیری ہاں ان کی جانیں ضرور آزادی کی راہ میں قربان ہو رہی ہیں۔ سُنو! کمال 5 اگست سے ہم پہ ملٹری اور کرفیو مسلط ہے ہمارے مکانوں پہ گولے پھینکے جا رہے ہیں۔

یاسر اپنے دوست کمال کو بتا رہا تھا لیکن سرکار ریڈیو اور ٹی۔ وی پہ متواترراگ الاپ رہی ہے کہ ”سب اچھا ہے۔ “ جن ماں باپ کے بچے دلی کی یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں، کچھ چندی گڑھ میں نوکری کرتے ہیں، کچھ ممبئی میں ملازمتیں ڈھوتے ہیں ان کا اپنے کُنبے والوں سے کوئی رابطہ نہیں۔ کمال اور یاسر کرفیو کے باوجود کسی طرح گھروں سے نکل آئے اور چھپ کر آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ یاسر میں جب گلی سے آرہا تھا تو میں نے بہت شکستہ گرے ہوئے، ٹوٹے ہوئے لوگ دیکھے ”ہیں!

کیا کہہ رہے ہو یاسر! ہر گھر کے آگے فوجی کھڑے ہیں تو وہ گلیوں میں کیا کر رہے ہیں ”کمال بولا۔ پوری بات تو سُنو! کسی بدن پہ مُنڈی نہیں اور کسی کی ٹانگ نہیں، کسی کی آنکھیں باہر کو اُبلی پڑی ہیں وہ تو سب لاشیں ہیں لاشیں۔ ہائے ہائے! دُہائی ہے یار! ہم کس کو سنائیں اور دکھائیں یہ سب یہاں تو نہ موبائل چل رہے ہیں نہ انٹرنیٹ نہ ٹی۔ وی نہ ڈِش سب بند پڑا ہے۔ اس اکیسویں صدی میں تو جانوروں کے بھی حقوق ہیں لیکن ہم کشمیریوں کے کوئی حقوق نہیں۔

ہم تو اللہ اور رسولؐ کے بعد اپنے پاکستانی بھائیوں کی طرف آس لگائے ہوئے ہیں پاکستان کو چاہیے کہ دُنیا کہ ہر فورم پہ مؤثر سفارت کاری کرے۔ دیکھو یاسر یہی فوجی باتیں کر رہے تھے کہ یو این او کی سیکورٹی کونسل نے کہا ہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ہر گز ختم نہیں ہونا چاہیے اور یہ بھارت کا اندرونی معاملہ بھی نہیں ہے۔ کمال یار! ہمارے حریت کے رہنما بھی مسلسل نظر بندی اور فوجی محاصرے کی لپیٹ میں ہیں۔ لیکن اب پوری عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور یو این او کو چاہیے کہ وہ اس کا حل اپنی قراردادوں کے مطابق کرے۔

کمال! یہ تو سیدھی سیدھی مذہبی انتہا پسندی ہے اگر آج مسلمانوں کی باری ہے تو کل سکھ، عیسائی، پارسی، بُدھ، جَین اور دلتوں کی باری ہو گی۔ ہاں یاسر! تُو درست کہتا ہے یہ جو مودی کا ”اکھنڈ بھارت“ کا نعرہ ہے یہ تو انتہا پسند ہندوؤں کے علاوہ یہاں کسی کو رہنے نہیں دے گا۔ دیکھتے نہیں ہماری پوری وادی، پوری گھاٹی، پورا مقبوضہ کشمیر دُھواں دُھواں ہے۔ کبھی یہاں پلوامہ کا ڈراما ہو جاتا ہے کبھی جھوٹ کو مصلحت قرار دیا جاتا ہے کبھی مکار لوگوں کو ذہین اور انسان دوست کہا جاتا ہے اور بدلے میں ہم آزادی کے متوالوں کا صرف استحقاق مجروح ہوتا ہے کمال دھیرے سے مگر چمکتی آنکھوں سے گویا ہوا۔

یاسر یار! 1947 کے بٹوارے پہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے مابین ایک حدِ فاصل قائم کی گئی تھی جو سیز فائر لائن کہلائی اور پھر LOCکہلائی، جانتے ہو بہت سے کشمیریوں کی اکثریت اس LOCکو نہیں مانتی کشمیریوں کو لگتا ہے کہ ان کے ٹکڑے کرنے کے مترادف ہے۔ کمال پتہ ہے میرے آدھے رشتے دار اس طرف کے کشمیر میں بستے ہیں، پتہ ہے دو سال پہلے میری ماں دریا کے اِس پار سے اُس کنارے اپنی بہن سے باتیں کرتی تھی، مجھے یاد ہے لگتا تھا دریا کا پانی دونوں بہنوں کی آنکھوں سے بہہ بہہ کر پھر سے دریا میں گر رہا تھا اور اس کی لہریں بھی آزادی مانگ رہی تھیں یہ ہندتوا کے داعی ہمیں جینے کیوں نہیں دیتے آئے روز کچھ جوان LOCکے اِس طرف اور کچھ اُس طرف مارے جاتے ہیں یوں ٹی۔وی کا پیٹ بھی بھر جاتا ہے اور اخبارات کو بھی سُرخیاں مل جاتی ہیں سوچو! ہماری لاشوں کی قیمت پہ ان رپورٹروں کے گھروں کے چُولہے جلتے ہیں اللہ کا نظام بھی سمجھ نہیں آتا۔ کمالے! سُن یہ جو 370 کی دھارا توڑی ہے مودی نے اور زبردستی کرفیو نافذ کر کے جَبر، تشدد، ظلم اور قید کی سی کیفیت پیدا کر دی ہے اس سے کسی ایک پہ نہیں پورے کشمیر کے بدن پہ چھالے پڑ گئے ہیں۔ یہاں کی گلابی دھوپ میں نفرتوں اور خوف کے دھوئیں کا مٹیالہ رنگ بھر گیا ہے۔

یاسر میرے یار! یہ تو ہماری عُمروں سے بھی لمبی آزادی کی تحریک ہے پر دل چھوٹا مت کر اب یہ منزل پہ پہنچ کر ہی دم لے گی۔ کمال کی آواز بھرانے لگی اور گالوں پہ پانی کی دو لکیریں بن گئیں۔ غم نہ کر کمالے! اب ہماری زندگیاں اور موت دونوں اس سرسبز وادی پہ قربان ہوں گی۔ آزادی کے پھول کِھل کر رہیں گے۔ یاسر بولا آج یہاں زندگی معطل ہے سکول، کالج، یونیورسٹیاں، ہسپتال سب بند ہیں یار کمال! ہماری پچھلی گلی والی چاچی رضیہ کی انسولین ختم ہو گئی ہے گھر واپسی سے پہلے کسی دُکان سے انسولین ضرور لینی ہے ورنہ چاچی رضیہ کی جان کو خطرہ ہے۔

اتنے میں تڑ تڑ کی آوازیں آنے لگی جو بڑھتی ہی جارہی تھیں تھوڑی دیر میں فوجیوں کے بُوٹوں کی گھن گرج بھی سُنائی دی اور ساتھ ہی آوازیں ”کیسا پھر کُلجیت! میں نے یونہی بلا اشتعال ہی سالے پاکستانیوں کی طرف فائرنگ کر دی اور پھر تتہ پانی سیکٹر کے نگری گاؤں کے دو شہری بُھون ڈالے اب سالے کہیں گے شہید ہو گئے۔ ہا ہا ہا بھارت ماتا کی خاطر میں کچھ بھی کروں گا۔ “ اُرون کمار بولے چلے جا رہا تھا۔ کمال اور یاسر کا خون کھولنے لگا جی تو چاہ رہا تھا کہ گولیاں ان کے سینوں میں اُتار دیں لیکن پھر اماں اور بہنوں کے چہرے آنکھوں کے آگے آ گئے وہ سوچنے لگے ہم کب تک اپنی آزادی کی صلیبیں اپنے کاندھوں پہ اٹھائے ر ہیں گے اور اس آزادی کی پری کو حاصل کرنے کے لیے ہم پاکستان کی طرف دیکھتے ہیں۔

یار کمال! اب تو محبوبہ مُفتی جی نے بھی کہہ دیا ہے کہ قائدِ اعظمؒ کا دو قومی نظریہ بالکل درست تھا ہمیں بھی وہیں جانا چاہیے تھا۔ آرٹیکل 370 ختم کر کے مودی نے ہمارا اور اپنا رشتہ ختم کر دیا ہم اب آزاد نہیں ہمارے اوپر سے کرفیو ہٹایا جائے تو ہم دنیا کو کشمیر کی مخدوش حالت دکھائیں گے۔ جانتے ہو یاسر! پاکستان کے عوام اور وزیر اعظم عمران خان نے ہماری آزادی کے لیے پُر زور بیانات دیے ہیں۔ ادھر اقوامِ متحدہ میں چین کے مستقل مندوب ژینگ جون نے کہا ہے کشمیر کا مسئلہ اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے مطابق حل کریں۔

پاکستان کی مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کے مطابق سیکورٹی کونسل کے فلور پہ کشمیر کے چناروں، جھرنوں، پنچھیوں، اور دریاؤں کی سسکیاں سُنی گئیں۔ یاسر میریے یار! روس اور فرانس جیسے ملکوں نے بھی ہماری بات کی بلکہ روس نے حیران کن طور پر اسے ویٹو کر دیا۔ کمال! یہ تو واقعی خوش آئند ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ ظلم بھی ہو رہا ہے کہ بھارتی ملٹری سکول کے چھوٹے بچوں تک کو غیر قانونی حراست میں لے کربہیمانہ تشدد کرتی ہے، ہماری ماؤں بہنوں کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ گھاٹی میں پابندیوں کی وجہ سے صحافی بھی اپنا کام انجام نہیں دے پا رہے۔ بحر حال یاسر! کچھ بھی ہو یہ تحریک جو ہماری عمروں سے بھی لمبی ہے یہ اب رُکنے والی نہیں۔ ہم کشمیر کی آزادی اپنے حقِ رائے دہی کی بات کریں تو مودی سرکار کو لگتا ہے ہم بھارت کے اندرونی معاملات میں دخل دے رہے ہیں یہ تو ایسا ہے کہ:

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

کشمیر کے پتے پتے، بُوٹے بُوٹے ہر پتھر، ہر چنار، ہر صنوبر، ہر جھرنے، ہر آبِ جُو، ہر بچے، ہر بوڑھے، ہر جوان، ہر عورت، ہر لڑکی کو آزادی چاہیے وہ آزادی جس کی تحریک عُمروں سے بھی لمبی ہو گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •