خصوصی افراد کے مختص کوٹا پر نارمل افراد کیلئے ملازمت کے مواقع


سات سال کی مسلسل درخواستوں، احتجاجی دھرنوں اور سپریم کورٹ میں کیس کرنے کے بعد اعلی عدالتوں نے چاروں صوبوں اور وفاق کو پابند کیا کہ وہ تمام محکموں میں خصوصی افراد کے 5 فیصد کوٹا کے مطابق بھرتیوں کا عمل فوری طور پر مکمل کریں۔ بادلِ ناخواستہ تمام صوبوں نے بیشتر محکموں میں برائے نام 3 سے 4 اسامیوں کے خالی ہونے کا اشتہار اخبار میں شائع کروادیے (جن میں سے ایک اسامی چوکیدار، نائب قاصد یا پھر مالی کی ہوتی ہے اور ایک سیٹ کلرک یا اسسٹنٹ کی)۔

خیر تازہ اطلاعات یہ ہیں کہ 90 فیصد محکموں نے اس کوٹا کے مطابق اسامیوں کا اعلان اور ان پر بھرتی بھی کردی ہے۔ جن میں سے ایک درجن سے زائد کے تحریری امتحانات اور انٹرویو میں خود بھی دے چکا ہوں (سند کے لئے ٹیسٹ کال لیٹر/ چالان  موجود ہیں)۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان سب امتحانات میں اچھی کارکردگی کے باوجود میں اب تک بے روزگار کیوں ہوں؟ میں تو مطلوبہ لیاقت سے زیادہ تعلیم اور تجربہ رکھتا ہوں پھر کیا وجہ ہے؟

جس بھی محکمے میں ٹیسٹ یا انٹرویو کے لئے جاتا ہوں امیدواروں کے وہی چہرے نظر آتے ہیں جو گزشتہ امتحان میں کسی اور محکمے کی اعلان کردہ اسامیوں کے لئے میرے ساتھ ہی تھے۔ اب تو ان کے چہرے بھی منہ زبانی یاد ہوگئے ہیں۔ کوئی اندرون سندھ کے کس دیہات سے آتا ہے تو کوئی کہاں سے۔ وہ اپنی روزانہ کی دیہاڑی چھوڑ کر ٹرین کے کرائے بھر کر لمبے سفر کرکے یہاں رہائش اور کھانے پینے کے خرچ کی خواری کر کے ہر بار اس امید پر آتے ہیں کہ شاید یہ خواری آخری ہو اس بار ہم منتخب کرلئے جائیں گے مگر ان کا انجام بھی میرے جیسا ہی ہوتا ہے۔ اگر ان سب میں سے کسی کو بھی 5 فیصد خصوصی کوٹا پر نوکری نہیں مل رہی تو پھر مل کس کو رہی ہے؟ ایک درجن ٹیسٹ اور انٹرویوز میں کوئی ایک چہرہ تو اجنبی ملے یا کوئی ایک شخص تو ایسا نظر آئے جسے نوکری مل چکی ہو اور اب مزید وہ اس دوڑ میں ہمارے ساتھ شامل نہ ہو۔

دراصل ماجرا یہ ہے کہ ہمارے یہاں خصوصی افراد کی جانچ اور تشخیص یعنی معذوری کی نوعیت کا تعین کرنے کا نظام ہی تباہ حال ہے۔ نادرہ میں ڈس ایبلٹی سرٹیفیکیٹ اور اسپیشل شناختی کارڈ بنا کر دینے والے لوگ اس معاملے کے بارے میں کم علمی کا شکار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہر ایرا غیرہ ڈس ایبلٹی سرٹیفیکیٹ بنواکر 5 فیصد کوٹا کے لئے خود کو اہل ثابت کرلیتا ہے اور ہمارے ساتھ شامل ہوجاتا ہے۔ آنکھوں دیکھا حال بتاوں تو میرے اب تک بے روزگار ہونے کی وجہ یہ ہے کہ تعلیمی قابلیت کی بناپر میں تحریری امتحان تو بہترین نمبرز سے پاس کرلیتا ہوں مگر انٹرویو ایک طرز کے فزیکل ٹیسٹنگ مرحلے کی حیثیت رکھتا ہے۔

وہاں پر جو شخص زیادہ جسمانی فٹنس رکھتا ہو اور برق رفتاری سے ٹائپنگ کرسکتا ہو اسے چن لیا جاتا ہے۔ کیونکہ انہیں اپنے کام سے مطلب ہے وہ یہ نہیں دیکھتے کہ یہ بندہ مطلوبہ تعلیمی قابلیت رکھتا بھی ہے یا نہیں؟ یہ واقعی معذور کوٹا پر پورا اترتا بھی یا نہیں؟ میں ہر بار اکثریت ایسے لوگوں کی دیکھتا ہوں جن کا تو معمولی سا قد چھوٹا ہوتا ہے یا پھر نظر کا چشمہ لگا ہوتا ہے یا پھر ہاتھ میں ایک انگلی اضافی ہوتی ہے وہ خود کو معذور ڈکلیئر کرکے 5 فیصد کوٹا کے مطابق امتحان اور انٹرویو دے رہے ہوتے ہیں اور محکمے والوں کو معذوری کے نام پر کام کرنے والا ایک نارمل ملازم مل جاتا ہے۔

پڑھنے والے پورے ایمان کے ساتھ خود فیصلہ کریں یہ مجھ سمیت ہزاروں خصوصی افراد کے حق پر ڈاکا ہے یا نہیں؟ زیادتی کی انتہا ہے یا نہیں؟ جو شخص نارمل انسان کی رفتار سے کام کرسکتا ہے وہ کس زاوئیے سے معذور ہوا بھلا؟ اگر آپ نے نارمل لوگوں کو ہی رکھنا یا معذوروں میں سے بھی انتخاب کا معیار جسمانی فٹنس ہی رکھنی ہے تو پھر یہ معذور کوٹا کا ڈھونگ رچانا بند کیجئے اور ہمارے نام پر یہ بندربانٹ اور فنڈز کھانے کا سلسلہ روکیے۔ یہ ملکی تاریخ میں پہلی اور آخری بار ہوا ہے کہ عدالتوں کی براہ راست مداخلت اور حکم کے بعد آپ نے اونٹ کے منہ میں زیرے برابر بھرتیاں کی ہیں اور اگر میں بھی ہم اصل مستحق افراد نامراد رہ گئے تو پھر ہمارا اللہ ہی حافظ۔

Facebook Comments HS