میں نے ابھی تک کڑھی نہیں پکائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو تین دن پہلے میں ‌ نے فیس بک کے ذریعئیے اپنے دوست اور رشتہ داروں ‌ سے مدد طلب کرتے ہوئے کہا کہ
اوکلاہوما میں شدید گرمی پڑ رہی ہے، ٹیکساس کا اور بھی برا حال ہو گا۔ دودھ خراب ہونے والا تھا تو میں نے اس کو ابالا، ٹھنڈا کیا اور اس میں دہی ڈال کر گیراج میں رکھ دیا۔ اگلے دن اچھا دہی بن گیا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اتنے سارے دہی کا کیا کیا جائے؟

وہ پیلی پیلی سی کڑھی، پکوڑوں کے ساتھ جو آپ لوگ بناتے تھے، اس کی ترکیب یہاں لکھ دیں۔ پیلی کیسے ہوتی ہے؟ کیا ہلدی ڈالتے ہیں؟ چھوٹی خالہ، بڑی خالہ، امی یا جس کو بھی آتی ہو وہ بتا دیں۔
اب اتنی ساری کڑھی کون کھائے گا؟ اس کا حل میں نے پہلے سے سوچ لیا ہے۔ فریزر میں رکھ دیں گے!
شکریہ

ہم سب کے نائب مدیر کی جانب سے کچھ مدد وصول ہوئی۔ عدنان کاکڑ نے لکھا کہ ”ایک بندہ یہ فرما رہا ہے۔
دہی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آدھا کلو
بیسن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آدھا کلو

ایک پتیلی میں دہی کو اچھی طرح پھینٹ کر رکھ دیں ‌ جس میں کڑھی بنانی ہے یاد رہے کہ پتیلی کا سائز ذرا بڑا ہو۔ ۔ ۔ ۔ اب ایک پاؤ بیسن کو 2 گلاس پانی میں حل کیجئے۔ جب اچھی طرح حل ہوجائے تو بیسن کے محلول کو دہی کے ساتھ ملا لیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب اس آمیزے کو چولہے کی نذر کرنے سے پہلے اس میں مزید 2 لیٹر پانی ڈالیں اور چولہے کی نذر کردیں مطلب چولہے پر چڑھا دیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور چمچہ ہلاتے جائیں۔

اس میں اب مندرجہ ذیل چیزیں شامل کریں :
ہلدی پاؤڈر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک ٹی اسپون ”اتنا کہ محلول کا رنگ پیلا نظر آنے لگے“
نمک۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حسب ذائقہ
سرخ مرج پاؤڈر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حسب ذائقہ
پودینہ کے پتے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تھوڑے سے تاکہ اس میں خوشبو آجائے مگر زیادہ نہیں
ہری مرچ باریک کٹی ہوئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4 عدد
اب اس عظیم محلول کو چولہے پر چڑھا کر اس کو پکنے دیجئے اور وقتا فوقتا چمچے سے چھیڑ چھاڑ کرتے جائیں۔ ۔ ۔ ۔ کم از کم 3 گھنٹے پکنے دیں تاکہ محلول گاڑھا ہوتا چلا جائے۔

یہاں تک تو پراجیکٹ کا ایک حصہ مکمل ہوا اب دوسرا حصہ ہے پکوڑے بنانے کا!

بیسن کو پانی میں حل کریں اس میں آدھی چمچی میٹھا سوڈا، نمک حسب ذائقہ، سرخ مرچ پاؤڈر حسب ذائقہ، یا ہری مرچ باریک کٹی ہوئی حسب ذائقہ، نمک حسب ذائقہ شامل کریں اور کچھ دیر انتظار کریں کہ بیسن پکوڑوں کے تیار ہوجائے مطلب جلدی کرنے سے یہ ہوگا کہ پکوڑے پھول نہیں پائیں اور پھتر جیسے ہو جائیں گے۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد پکوڑے تلتے جائیں اور ایک علیحدہ برتن میں محفوظ طریقے سے رکھتے جائیں۔ ”

دیگر افراد نے حیرانی ظاہر کی کہ عدنان کاکڑ کو کڑھی بنانے کے بارے میں ‌ اتنی معلومات ہیں تو کہتے ہیں کہ میں ‌ اچھی خاصی کوکنگ کرلیتا تھا پھر میری شادی کردی گئی۔ یہاں ‌ پر غالب کا شعر یاد آگیا

عشق نے غالب نکما کردیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

میرے بھائی علی نے لکھا، ”لسی بنا کر پییں، اور اگر سادہ لسی پسند نہ ہو تو، نمک اور زیرہ ڈال کر بنائیں، مینگو پلپ ڈال کر یا اگر آم ہوں وہاں تو تازہ آموں کی لسی بنائیں۔ اور اگر آپ نے کڑھی بنانے کا ایکسپیریمنٹ کیا تو ہمارے بارے میں پلیز بالکل مت سوچئے گا۔ “ اس بات پر دو لوگوں ‌ نے قہقہے والا ایموجی بنا کر میرے زخموں ‌ پر نمک پاشی کی۔

تحریم عظیم نے پہلے حالات حاظرہ کے بارے میں ‌ پوچھا کہ کیا کڑھی بن گئی؟ اس کے بعد انہوں ‌ نے مندرجہ ذیل ترکیب ارسال کی۔

”دہی اور بیسن کو بلینڈر میں ڈال کر بلینڈ کر لیں۔ دیگچی میں تیل ڈالیں، میتھرے ڈال کر تیس سیکنڈ بھونیں۔ پھر اس میں لہسن پسا ہوا، ہلدی، لال مرچ اور نمک ڈال کر بھونیں۔ تھوڑا سا پانی ڈالیں۔ بیسن والا محلول ڈالیں۔ مزید پانی ڈالیں اور اس سب کو پکنے رکھ دیں۔ کم از کم تین سے چار گھنٹے پکنے دیں۔ پکوڑے بنا کر الگ رکھ لیں۔ جب کڑھی گاڑھی ہو تو اس میں پکوڑے ڈال دیں۔ اس کو ثابت سرخ مرچ، زیرے اور پیاز کا تڑکہ لگائیں اور بس یہ تیار ہے۔ “

ایک دوست نے کڑھی ڈیلس بھجوانے کی فرمائش کی اور کچھ نے خود کو کڑھی کھانے کے لیے خود ہی انوائٹ کرلیا۔ ایک نے لکھا کہ کڑھی کو پیلا کرنے کے لیے زردے کا رنگ ڈالتے ہیں چٹکی بھر۔

چار گھنٹے کی کڑھی کی ترکیب سن کر مجھے اتنا ٹینشن ہوگیا کہ میں ‌ کھانا پکانے کا پلان بدل کر سوشی کھانے چلی گئی۔ ساری اردو، سندھی اور پنجابی کی وکیبولری یاداشت میں ‌ کھنگالی لیکن میتھرے بالکل سمجھ میں ‌ نہیں ‌ آیا۔ فل مون سوشی نارمن ہسپتال کے قریب ہی مین اسٹریٹ پر واقع ہے، اس کی ویٹرس لارن نے پوچھا کہ آپ نے آج دہی کے بارے میں ‌ اپنی امی اور آنٹی کو کیا لکھا ہے؟ میں اس کا انگریزی ترجمہ کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ میں ‌ نے اس کو کڑھی کا قصہ بتایا تو اس نے کہا کہ کڑھی کی ترکیب میں ‌ تو مدد نہیں کرسکتی لیکن سوشی لاسکتی ہوں۔ کل وہ لوگ بند تھے۔ ان کے پیج پر لکھا تھا کہ کمپیوٹرز کام نہیں ‌ کررہے اور وہ ساری مچھلیاں پانی میں ‌ واپس چھوڑ رہے ہیں۔ ہا ہا۔

عفت نوید صاحبہ نے مشورہ دیا کہ ”پکوڑوں کو پہلے پانی میں ڈالیں اور پھر کڑھی میں ورنہ پکوڑوں میں گٹھلیاں بن جاتی ہیں، بیسن میں تھوڑا سا آئل ڈال کر تلیں۔
میتھرے تو پتہ نہیں، ہم نے میتھی کے پتے سنا ہے اسے قصوری میتھی بھی کہتے ہیں۔ کڑھی ابلتے وقت کڑی پتہ بھی ڈالتے ہیں۔ سب سے اہم کڑھی کا بگھار ہوتا ہے۔

آئل گرم کے پہلے ثابت لال مرچ پر کٹی ہوئی پیاز ڈالیں پیاز سنہری ہو جائے تو زیرہ اور قصوری میتھی ڈال دیں ایک دو ہری مرچیں بھی موٹی کاٹ کے ڈال دیں۔ دس سیکنڈ بعد سب کچھ کڑھی میں ڈال دیں۔ اس طریقے سے کڑھی بہت مزے کی بنتی ہے۔ ”

بڑی خالہ نے ہمت بندھائی اور کہا کہ گڑیا، کڑھی بنانا کوئی مشکل کام نہیں ‌ ہے۔

یہ ساری ترکیبیں ‌ میں ‌ نے پڑھ لی ہیں اور اگلے ویک اینڈ پر چھٹی کے دن چار گھنٹے لگا کر شاید کڑھی بنالوں۔ پچھلے دو تین دن سے کڑھی کے اوپر غور کرنے سے میرے ذہن میں ‌ کئی سوالات نے جنم لیا۔ مثال کے طور پر جیسا کہ ہم جانتے ہیں دہی میں ‌ اچھے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں۔ اس کو پکانے سے تو یہ بیکٹیریا مر جائیں گے۔ دہی میں موجود بیکٹیریا 130 ڈگری فارن ہائیٹ پر مر جاتے ہیں۔ چار گھنٹے پک پک کر ان اچھے بیکٹیریا کا بھرکس نکل جائے گا۔

دہی بغیر مائکرواسکوپ کے دیکھنے میں ‌ نہیں ‌ لگتا لیکن وہ زندہ ہوتا ہے اور اس کو پروبایوٹکس غذاؤں ‌ میں ‌ شمار کیا جاتا ہے۔

The species of bacteria used in yogurt are Streptococcus thermophilus and Lactobacillus bulgaricus۔

جب یہ بیکٹیریا دودھ میں ‌ موجود شوگر کو کھاتے ہیں تو اس سے لیکٹک ایسڈ بن جاتا ہے جو دودھ میں ‌ موجود پروٹین کو جما دیتا ہے۔ اس طرح‌ دودھ کا دہی بن جاتا ہے۔ دہی کھانے سے ہماری آنتوں ‌ میں ‌ اچھے بیکٹیریا کی تعداد میں ‌ اضافہ ہوتا ہے جس کا تعلق مٹاپے، ذیابیطس اور کولیسٹرول کی بیماریوں ‌ سے ہے۔ جون 2019 میں ‌ جرنل نیوٹرینٹس میں ‌ چھپنے والے آرٹیکل میں ‌ پرو بایوٹکس کے استعمال اور مٹاپے، ذیابیطس، بلڈ پریشر اور ہائی کولیسٹرول کے درمیان تعلق کا مطالعہ کیا گیا۔

A cross-sectional study was designed using data from the National Health and Nutrition Examination Survey (NHANES), 1999-2014.

اس ریسرچ میں ‌ شامل تقریباً 40 ہزار افراد سے ان کی غذائی عادات کے بارے میں ‌ سوال کیے گئے۔ ان میں سے کوئی تیرہ فیصد نے کہا کہ وہ پروبایوٹکس والی غذا کا استعمال کرتے ہیں۔ تحقیق دانوں ‌ نے یہ مشاہدہ کیا کہ جو افراد پروبایوٹکس والی غذا کا استعمال کرتے ہیں ان میں ‌ مٹاپے کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول اور ذیابیطس کم پائے جاتے ہیں۔ ان افراد کا بی ایم آئی یعنی باڈی ماس انڈیکس یعنی قد کے لحاظ سے وزن کے پیمانے کو بہتر پایا گیا اور ان میں ‌ اچھی کولیسٹرول کا تناسب زیادہ دیکھا گیا۔

۔

ریفرنس:
Nutrients. 2019 Jun 28;11(7). pii: E1482. doi: 10.3390/nu11071482.
Probiotic Ingestion, Obesity, and Metabolic-Related Disorders: Results from NHANES, 1999-2014.

پچھلے سال جب میں ‌ امریکن اسوسی ایشن آف کلینکل اینڈوکرنالوجی کی میٹنگ میں گئی تھی تو وہاں ‌ ایک سائنسدان اپنی تحقیق پیش کررہے تھے۔ اس میں ‌ انہوں ‌ نے دبلے چوہوں ‌ کا اسٹول موٹے چوہوں ‌ کی آنتوں ‌ میں ‌ ڈالا تو یہ موٹے چوہے دبلے ہوگئے۔ اس تحقیق سے انہوں ‌ نے ثابت کیا کہ ہماری آنتوں ‌ میں ‌ موجود بیکٹیریا کی اقسام کا تعلق ہماری صحت سے جڑا ہوا ہے۔ جو لوگ صحت مند غذا کھاتے ہیں، ان میں ‌ یہ ساری بیماریاں کم ہوتی ہیں۔

حالانکہ ترکی میں ‌ 3000 قبل مسیح سے ہی کسان دودھ کا دہی بنانا جانتے تھے، لیکن دہی مغرب میں ‌ تب پہنچا جب ایک بادشاہ کو دست کی بیماری ہوگئی۔ 1542 میں ‌ فرینکوئی کو بار بار پیٹ کی شدید بیماری ہوئی اور بہترین فرانسسی ڈاکٹر اس کا علاج نہ کرپائے تو عثمانی سلطنت کے سلطان سلیمان نے اپنے دو طبیب فرانس روانہ کیے جن کے پاس دہی کا معجزانہ علاج تھا۔ آج فرینچ کوزین کا دہی کے بغیر تصور کرنا بھی مشکل ہے۔

جنوب ایشیائی دسترخوان میں ‌ بھی دہی کے رائتے اور لسی پیش پیش ہیں۔ ہندو پوجا میں ‌ پنچامریتا ایک میٹھا مشروب پیا جاتا ہے۔ اس میں ‌ پانچ اجزاء شامل ہوتے ہیں۔ شہد، چینی، دودھ، دہی اور پگھلا ہوا مکھن۔ جنوب ایشیاء میں ‌ دہی طاقت اور سکھ کا استعارہ سمجھا جاتا ہے۔

دہی کو فیس ماسک کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ سنا ہے کہ دہی میں ‌ موجود لیکٹک ایسڈ قدرتی طریقے سے جلد کے مردہ خلیے ہٹانے میں ‌ مدد دیتا ہے اور اس میں ‌ موجود جست سے ایکنی میں ‌ کمی آتی ہے۔ اس کے بارے میں ‌ میرے پاس کوئی ڈیٹا نہیں ‌ ہے۔ اس پر نوشی جی تجربہ کرسکتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •