بابا اب گھر آ گئے ہو۔ اب اٹھ بھی جاؤ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں جب بھی اپنے دفتر سے یا کسی کام کے بعد گھر واپس لوٹتا ہوں تو سب سے پہلے گھر کے باہر دروازے پر میری دونوں بیٹیاں کھڑی میرا اِنتظار کر رہی ہوتی ہیں۔ وہ مجھے دیکھتے ہی خوشی سے جھوم اٹھتی ہیں اور اچھلنے لگتی ہیں اور انہیں دیکھ کر میری ساری تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے۔ ان کی عمریں پانچ سال اور ڈھائی سال ہیں شاید اُنہیں یہ بھی ٹھیک سے نہیں پتہ کے باپ کا رشتہ اصل میں ہوتا کیا ہے، وہ معصوم تو بس اتنا جانتی ہیں کہ کوئی ہے جو ان سے بہت پیار کرتا ہے ان کی ہر خواہش کو پورا کرتا ہے۔

وہ جب بھی روتی ہیں تو فٹ سے آ جاتا ہے اور گلے لگا لیتا ہے۔ وہ یہ بھی دیکھتی ہیں کہ جب بھی کچھ چاہیے ہو تو اسی سے ہی مانگنا ہے اور انہیں اس بات کا بھی یقین ہوتا ہے کہ وہ ضرور دلائے گا۔ بیٹیوں کو باپ کے ہونے کا اتنا اطمینان ہوتا ہے کہ جیسے کسی اور کی ضرورت ہی نہ ہو۔ وہ یہ جانتی ہیں کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے ایک شخص ہے جو سب ٹھیک کر دے گا۔ سارا دن انتظار کہ بعد جب میں گھر آؤں تو ایک لمبی داستان ہوتی ہے جو مجھے سنائی جاتی ہے جس میں کئی مطالبات کہ ساتھ ساتھ سارے دن کی کہانی بھی شامل ہوتی ہے۔

چھوٹی بیٹی جو ٹھیک سے بول بھی نہیں پاتی اپنی زبان میں مجھ سے ہر بات اس یقین سے کہہ دیتی ہے کہ جیسے مجھے سب سمجھ آ رہی ہو۔ رات بستر پر جانے سے پہلے جب تک وہ مجھے دیکھ نہ لیں انہیں نیند نہیں آتی۔ شاید میری موجودگی سے انہیں تسلی ہوتی یے۔ مجھے دیکھنے سے ان کے چہرے کے جو تاثرات ہوتے ہیں وہ بیان نہیں کیے جا سکتے اور میرے لئے بھی ان کے یہ تاثرات ہی سب سے بڑا حاصل ہے۔ ویسے بھی بیٹیاں بیٹوں کی بہ نسبت باپ سے زیادہ محبت کرتی ہیں۔

کبھی کبھی ڈر لگتا ہے کہ اگر کسی دن میں گھر واپس نہ آسکا تو؟ میری بیٹیاں میرا کب تک انتظار کریں گی؟ انہیں یہ کون سمجھائے گا کہ میں اب نہیں آؤں گا اور اب پتہ نہیں کون ان کے ناز نخرے اٹھائے گا۔ کون ان کے سارے دن کی کہانی سنے گا؟ کون انکی زبان سمجھے گا؟ جب وہ روئیں گی تو کون چپ کروائے گا؟

ایسا ہی ایک منظر دیکھا گیا جب لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی اشتعال انگیزی کی وجہ سے اپنی جان وطن عزیز کے دفاع کے لئے قربان کرنے والے لانس نائیک تنویر کہ جسدِ خاکی کو ان کے گھر پہنچایا گیا۔ شہید کی معصوم بیٹی جس کی عمر بھی شاید پانچ سال ہی ہوگی تابوت سے لپٹ کے خوب روئی اور اپنے باپ سے کئی سوالات اور مطالبات کرتی رہی لیکن اسے کوئی جواب نہیں مل سکا۔ وہ اپنے باپ سے بہت کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن اس معصوم کو اتنی سمجھ ہی کہاں تھی کہ شہادت اور موت کیا ہوتی ہے اسے یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ اس کے باپ کو ہوا کیا ہے وہ ہمیشہ خود چل کہ آتا تھا لیکن آج بہت سے لوگ اسے کندھوں پر کیوں اٹھا کر لائے ہیں کیا وجہ ہے کہ وہ کچھ بول نہیں رہا اور اپنی بیٹی کو گلے نہیں لگا رہا۔

اس منظر کو دیکھ کر وہاں موجود ہر شخص کی آنکھ اشک بار تھی اس معصوم کی آہ و زاری سے ہر کسی کا سینہ پھٹ رہا تھا، ننھی جان اور غم کا اتنا بوجھ! یہ بات اس کو کوئی نہیں سمجھا سکتا تھا کہ اس کے بابا جواب کیوں نہیں دے رہے۔
وہ بار بار کہتی رہی ”کہ بابا اب گھر آگئے ہو۔ اب اٹھ بھی جاؤ۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •