پاکستان کے یوم آزادی پر بھارتی مسلمان کی مبارک باد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے سبزہلالی پرچم میں سبز رنگ جہاں مسلمانوں کی نمائندگی کرتاہے وہیں سفید رنگ ملک میں موجود مذہبی اقلیتوں کے لئے ہے۔ پاکستان کے یوم آزادی کے موقع نیک تمناؤں کے ساتھ میری خواہش ہے کہ پاکستان میں آباد مسلم اکثریت اورتمام مذہبی اقلیتیں برابری کی بنیاد پر ملکی ترقی، خوشحالی کے لئے اسلام کے زریں اصولوں کے مطابق پاکستان کی تعمیر وترقی میں حصہ لیں۔

تعمیر پاکستان کے اس سفر میں تمام لوگوں کو اتحاد ویگانگت سے تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا تاکہ پاکستان ایک قوم بن کر دنیا میں ابھرسکیں۔ اس کے لئے پاکستانی مسلمانوں (گرین) کو ذات برادری سے بالاتر ہوکر ہم آہنگی پیدا کرناہوگی، معاشرہ کے ہر طبقہ میں امید کی کرن بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ امیر وغریب کا فرق مٹانا ہوگا تاکہ ہر طبقہ خود کو مذہبی، سماجی، معاشی اورروحانی طورپرمحفوظ اورآزاد محسوس کرسکے۔ پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں (پرچم کا سفید حصہ) کو اپنے ایمان، پختہ ارادے، سوچ اورعمل کے ساتھ امن اورروشن خیالی کی راہ اپنانا چاہیے اوراپنی ذاتی وسماجی حیثیت میں مثبت تبدیلی پیداکرکے آگے بڑھنا چاہیے۔

پاکستانی پرچم کا یہ گرین اینڈ وائٹ باہمی اتحاد سے وہ کام کرسکتاہے جس کا تصوربھی یہاں مفقود رہا ہے۔ یہ اتحاد شراکت کی بنیاد پر غیر جانبدار حکومت کا قیام یقینی بنا سکتاہے، مختلف طبقات کی سماجی ہم آہنگی یقینی بناسکتاہے، ملک کے طول وعرض میں امن اورہم آہنگی پیداکرسکتاہے، پاکستان کو امن وآشتی کا گہوارہ بناکر اپنی متنوع ثقافت کے ذریعہ پوری دنیا کے لئے راستے کھول سکتے ہیں۔ نئے کاروباراورمواقع پیداکرسکتے ہیں، ابلاغ عامہ کی آزادی کے لئے کام کرسکتے ہیں، سماجی اورمعاشی تفریق سے قطع نظر تمام طبقات کے لئے اکیسویں صدی کے تقاضوں کے مطابق تعلیمی ڈھانچہ کھڑا کرسکتے ہیں، خواتین کو ملکی دھارے میں شامل کرکے ترقی کی رفتار بڑھاسکتے ہیں، ملک کے ہر شہری کے لئے بنیادی ضروریات جیسے صاف پانی، بجلی، گیس اورٹرانسپورٹ مہیاء کرنے کے لئے جدوجہد ہوسکتی ہے، پانچ سے سولہ سال کے ہر بچے کو سکول بھیجنے اورکمسن بچوں میں اموات کی خطرناک شرح کو کم کرسکتے ہیں۔

یہ خواہشات اس یوم آزادی پر میری پاکستانی قوم سے وابستہ ہیں اورمحض خواہش کرنے سے ان کی تکمیل نہیں ہوتی بلکہ یہ لوگ ہی ہیں جو انہیں عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔ مجھے پختہ یقین ہے کہ پاکستانی قوم ان خواہشات کی تکمیل کے لئے جرات، عزم اورصلاحیتوں سے مالا مال بھی ہے اور انہیں پایہ تکمیل تک پہنچانا نہ صرف پاکستان بلکہ اس کے تمام طبقات کے بہترین مفاد میں بھی ہوگا اوربجا طورپر ہرایک کو اس میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔

یہ اشتراک عمل اورباہمی احساس انفرادی اوراجتماعی سطح پر تبدیلی لاسکتاہے اورمعاشرے کے بعض مراعات یافتہ طبقات کو بطورخاص اس کے لئے سامنے آنا چاہیے۔ پاکستان کی نوجوان نسل جو انتہائی باصلاحیت بھی ہے اوربجا طورپر آنے والے وقت کی قیادت اسی کے ہاتھ میں ہوگی، کو ان انفرادی، اجتماعی، قومی اوربین الاقوامی سطح پر درپیش مسائل کے حل کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا۔ ملکی مذہبی قیادت امن،رواداری اوراتحاد بین المذاہب کے لئے رول ماڈل بن سکتی ہے جبکہ ملکی سیاسی قیادت ملکی ترقی اورقومی اتحاد کے لئے پالیسی سازی کے لئے مشعل بردار کی حیثیت اختیارکرسکتی ہے۔ پاکستان کی بزنس کمیونٹی اورسول سوسائٹی کے نمائندگان ملک کی معاشی ترقی اورسماجی بہبود کے لئے مل جل کرکام کرنے کے مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔

یہ پاکستان کے یوم آزادی پر میرے تصورات اورخواہشات ہیں۔ اس سے بڑھ کر میری ایک اورخواہش بھی ہے جو ایک ایسے مسلمان کی خواہش ہے جو بھارت میں پیدا ہواہے کہ پاکستان اوربھارت مستقبل قریب میں کبھی اپنا یوم خوشحالی اورامن کے پیغام کے ساتھ منائیں جو برصغیر کی ان دو عظیم قوموں کو دنیا میں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرسکے۔ میں ایک مرتبہ پھر پاکستانی قوم کو یوم آزادی کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے پاکستان کے لئے اپنی خواہشات کی تکمیل کی لئے دعا گوہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •