حسین نواز نے پس پردہ ڈیل کی افواہوں کو مسترد کر دیا
سابق وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے نواز شریف کی رہائی کیلئے پس پردہ ڈیل کی افواہوں کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھ سے یا میرے خاندان کے کسی فرد سے کسی نے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ اس وقت میرے خاندان کے اکثر لوگوں کو تو انہوں نے پہلے ہی جیل میں ڈال دیا ہے۔ اگر کوئی ڈیل ہونے جا رہی ہوتی تو کیا اس قسم کے رویے ہوتے؟ جو ویڈیو حال ہی میں ریلیز کی گئی ہے،نواز شریف کی سزا کو کالعدم کرنے کیلئے وہی کافی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے نواز شریف کی رہائی کے لئے پس پردہ ڈیل کے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے حسین نواز نے کہا کہ مجھ سے کسی نے رابطہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پاکستان سے باہر 20 سال ہو گئے ہیں اور میرے بھائی کو پاکستان سے باہر 26 سال ہو چکے ہیں، اور ہم یہاں پر اپنا کام کرتے رہے ہیں اور بہت محنت سے اپنا کام کرتے رہے ہیں اور رزق حلال کماتے رہے ہیں۔
حسین نواز نے کہا کہ ریڈ وارنٹ جاری کرنے کیلئے انٹرپول کو درخواست دی گئی تھی لیکن وہ انٹرپول نے رد کر دی۔ وہ کسی سیاسی کیس کی بنیاد پر رد نہیں کی۔ وہ درخواست اس بنیاد پر رد کی گئی کہ اس شخص کے خلاف کسی قسم کا کوئی کیس نہیں بنتا۔ حسین نواز نے کہا کہ ہم پاکستان ضرور آئیں گے، میں پہلے بھی 14 ماہ کی قید کاٹ چکا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میری بہن کا کسی کاروبار سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انہیں عوامی پذیرائی مل رہی تھی اس لئے انہیں پکڑ کر جیل میں بند کر دیا گیا ہے۔ میڈیا پر ان کا بلیک آؤٹ ہے۔
حسین نواز نے کہا کہ جو ویڈیو اس وقت ریلیز کی گئی ہے، نواز شریف کی سزا کو کالعدم کرنے کیلئے وہی کافی ہے بشرطیکہ اسے آئین و قانون کے دائرے میں دیکھا جائے۔ ان جج صاحب کو معطل کیا جا چکا ہے۔ حسین نواز نے یہ بھی کہا کہ مریم نواز نے بہادری کے ساتھ گرفتاری دی۔


