شور اور شعور کے بیچ لٹکتا کشمیر
آزادی کے تقریباً دو ماہ بعد ہی ہندوستان اور پاکستان کشمیر کے مسئلے پر کشتم کشتا ہوئے۔ نتیجہ کیا نکلتا! بس ایک نہ ختم ہونے والا معمہ پنپا۔ کشمیر کے حکمران راجہ نے ہندوستانی فوج سے کمک طلب کی جبکہ پاکستان نے پختون قبائل کو استعمال کیا۔ اکتوبر 1947 کو قبائل نے کشمیر پردھاوا بول دیا۔ کچھ کتب کے مطالعے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ پاکستان کی حکومتِ وقت نے کشمیر آپریشن کے لئے تین لاکھ روپے فراہم کیے؛ یہ رقم کثیر تعداد میں آنے والے قبائل کے لئے کم تھی لہٰذا اُن کی بھر پور مانگ پر بھی انہیں یافتنی نہ ہوسکی۔
کہا جاتا ہے کہ قبائلی افراد کو پہلے سے تیار رکھا گیا تھا لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے مابین کشمیر کی سر زمین پر ہونے والی پہلی لڑائی میں قبائل نے حصہ ہی نہیں لیا بلکہ وہ سب تیار شدہ مجاہدین تھے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ زیادہ علم والا ہے۔
بات دراصل یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر اور کشمیریوں کا ہے اور بیچ میں لڑائی پاکستان اور ہندوستان کی ہے۔ میں اب عنوان کی جانب آتا ہوں۔ تب جب قبائل آئے یا مجاہدین لیکن آئے تو سہی۔ انہوں نے عملی اقدام سے سری نگر میں قدم رکھ دیے تھے لیکن آپ جب آج کی سوچتے ہیں تو محاذ تک بدل چکا ہے۔ قبائلی پٹھان اصلی جنگی محاذ پر ”جہاد“ کے لئے نکلے تھے جبکہ آج کل فریق بالکل ہی متضاد محاذ پر جنگ لڑ رہے ہیں۔ دونوں ممالک کی افواج سرحد پر چھیڑ خانی کرتے رہتے ہیں؛ جس میں دونوں ممالک کی عوام کا بڑا عمل دخل ہے۔
ہندوستان اور پاکستان کی جانب سے سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پر تابڑ توڑ حملے کیے جاتے ہیں۔ ہتھیار کے طور پر ٹویٹ، کمینٹس، لائکس، ڈِس لائکس، شیئر، میمز وغیرہ کو استعمال میں لایا جاتا ہے۔ عوام الناس میں ہر طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ اس لئے رزم گاہ میں تھوڑا بہت فرق نظر آتا ہے۔ کچھ لوگ یوٹیوب میں ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتے ہیں جبکہ کچھ لوگ فیس بُک، ٹویٹر اور دیگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کو رزم گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
جنگ کا سب سے بڑا میلہ مین سٹریم میڈیا پر سجتا ہے۔ جہاں ہتھیار سخت و کرخت زبان اور ایک دوسرے کو غربت و افلاس، معاشی طور پر کمزوری، تعلیم کی شرح وغیرہ کے طعنے ہوتے ہیں۔ یہ سب ایسے جنگی میدان ہیں جہاں پوری دنیا ہماری جنگی مائنڈ سیٹ کو دیکھ رہی ہے اور خوب لطف اندوز ہو رہی ہے۔ ہم پوری دنیا کے لئے انٹرٹینٹمنٹ کا ایک ذریعہ ہیں۔ ترقی یافتہ دنیا کے باسی ہر چیز کو ترقی کے زاویہ سے دیکھتے ہیں جبکہ ہمارا تو زاویہ ہی جنگ پر اٹکا ہے۔
یعنی ہمارے خیال میں ایک زبردست جنگ ہم دونوں ممالک کے لئے ترقی کا ضامن ثابت ہوگی۔ جیسے ایران، عراق، افغانستان میں اب تک زبردست جنگ جاری ہے اور وہ ترقی کے زینے چڑھ رہے ہیں۔ پاکستانیوں اور بھارتیوں کا خیال ہے کہ دونوں ممالک ایٹمی طاقت ہیں۔ ہر مسئلے کا حل ایٹم بم گرا کر ہی نکلے گا۔ ہمارا خیال ہے کہ ایٹم بن گرانے سے ہمارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ یہ ہماری خام خیالی ہے۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر پاکستان کا موقف مضبوط کرنے کے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔ ضعیف علی گیلانی صاحب کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔ بار بار اُن سے منسوب بیانات جاری کیے گئے اور پاکستانی قیادت کو مخلص ثابت کرنے کی ناکام سعی کی گئی لیکن ایک آنکھ ایسی ہوتی ہے جو ہر زاویہ دیکھتی ہے۔ میرے حلقئہ احباب میں کچھ صحافی حضرات نے علی گیلانی صاحب کے ترجمان سے بات کی تو انہوں نے سرے سے ہی انکار کر دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ علی گیلانی صاحب کا کوئی ایسا اکاؤنٹ ہی نہیں جہاں سے وہ اس طرح کے بیانات جاری کرتے۔ یہ سب دونوں اطراف میں موجود عوام کی کارستانیاں ہیں۔ دو طرف لوگ اپنا اپنا موقف مضبوط سے مضبوط تر ثابت کرنے کے لئے جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں اور دنیا کو دھوکے میں رکھ رہے ہیں۔
جنگ کا یہ جنون اور یہ شور شرابا محض میڈیا تک ہی محدود نہیں بلکہ ہر جگہ پھیلا ہوا ہے۔ زندہ مثال واہگہ بارڈر پر پرچم کشائی کی تقریب ہے۔ اوسط پاکستانی اور اوسط ہندوستانی کا یہ خیال ہے کہ واہگہ بارڈر پر جو سب سے پہلے جھنڈا اُتار کر لپیٹے گا وہی سکندر! اور جو زیادہ آنکھیں نکال کر دشمن کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھے گا وہی فاتح۔ جو بازو زیادہ دیر تک کھڑا رکھے گا وہی غالب اور جو زیادہ زور سے پاکستان زندہ باد بولے گا وہی بازی گر۔ اس جنگی جنون نے ہماری کرکٹ کو بھی نہ بخشا۔
اس کے بعد ہماری زور آزمائی آزادی کے دنوں میں ہوتی ہے۔ جو آزادی کی تقریب میں ہندوستان کو زیادہ گالیوں سے نوازے گا، وہی محب وطن پاکستانی قرار پائے گا۔ یہ تو عام پاکستانی کی بات ہے۔ آپ دونوں ممالک کے صدور صاحبان کی تقاریر چھان ماریں اُن میں اپنے اپنے ممالک کے لئے سٹریٹیجی بنانے کی بجائے ایک دوسرے کو للکارنے کے الفاظ زیادہ ہوں گے۔ دونوں افواج کے سربراہان ایک دوسرے کو دھمکی آمیز جملوں کا تبادلہ نہ کریں تو جیسے سورج چڑھا ہی نہیں۔
ہماری ذہنی پستی کا یہ حال ہے کہ ہم آزادی کے دن اپنی پچھلی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھتے، کچھ نیا کرنے کے لئے لائحہ عمل تیار نہیں کرتے، تعلیم، غربت اور دیگر مسائل کی جانب توجہ نہیں کرتے لیکن افرادی قوت اور فوجی ساز و سامان کی نمائش نہایت ضروری سمجھتے ہیں۔ ہم تعلیمی پالیسی پر نظر ثانی نہیں کریں گے لیکن ”اگنی“ کے مقابلے میں ”غوری“ ضرور لائیں گے۔ غربت کا خاتمہ ہماری ترجیحات میں شامل نہیں ہوگا لیکن ”النصر“ ہماری اولین ترجیح ہوگی۔ عوام کا بھلا نہیں سوچیں گے لیکن اُن کے ”پرتھوی“، ”دھنوش“، ”سگاریکا“ اور ”سوریا“ کا توڑ ضرور نکالیں گے۔ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے کی تدابیر بعد میں سوچیں گے پہلے خالصتان کو الگ کردیں۔ جب یہ ہماری ترجیحات ہوں گی تو خاک ترقی ملے گی؟
ہندوستان جب وار کرتا ہے تو ایک نئی فلم ریلیز کر دیتا ہے، ہم جب طبع آزمائی کرتے ہیں تو نیا ترانا، گیت یا نغمہ میدان میں اُتار دیتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں کشمیر کے مسئلے پر بھی ہماری یہی سٹریٹیجی رہی۔ پہلے سوشل میڈیا پر وار پہ وار کیے گئے پھر لوگوں میں جوش و جنون بھرنے کے لئے کچھ شہداء کو ”موت“ کے گھاٹ اُتار دیا۔ یہ صرف پاکستان کی طرف سے نہیں ہوتا، ٹھیک اسی طرح ہندوستان کی حکومت اپنی عوام کو بھی بہلا رہی ہوتی ہے۔ معاملہ شور سے شروع ہوا تھا اور شور پر ہی ٹکا رہے گا کیونکہ اس کا خاتمہ شعور سے ہونا ہے۔ جب ہم میں اور اُن میں شعور جاگے گا؛ جب ہم ذاتی مفاد سے نکل کر عوام الناس کا بھلا چاہیں گے تو تب یہ مسائل حل ہوں گے ورنہ شور ہی شور برپا رہے گا۔ دونوں جانب عوام کو چاہیے کہ اپنی ترجیحات پر نظر ثانی کرے اور ایسے لوگ آگے لائیں جن کی ترجیحات شور کی بجائے شعور کی جانب ہوں۔
رہا کشمیر کا مسئلہ تو یہ واضح ہے کہ کشمیر کچھ بیرونی طاقتوں کے لئے ایک انڈسٹری کی طرح ہے۔ وہ انوسمینٹ کیے بغیر بیش بہا سرمایہ اکٹھا کر رہے ہیں۔ کشمیر، کشمیریوں کا ہے۔ یہ اُن کا ہی رہنے دیں۔ یا جلد از جلد بغیر ثالثی کے اس مسئلہ کو گفت و شنید کے ذریعے حال کریں۔ گفت و شنید کے لئے ثالث کی ضرورت پڑتی ہے لیکن اس معاملے میں ثالث خود برائے نام ثالث ہے۔ اس لئے کوشش کی جائے کہ ایک خوددار، ایماندار اور مخلص قیادت سامنے لائی جائے اور اس مسئلے کو ختم کر کے کشمیر، ہندوستان اور پاکستان کو ترقی کا موقع دیا جائے۔ اور یہ تب ممکن ہے جب ہم شور شرابے کی سیاست سے نکل کر شعور کو اُجاگر نہیں کر لیتے اور جب دونوں طرف ایک مخلص قیادت نہیں آجاتی۔ اسی شور اور شعور کے بیچ کشمیر اور کشمیری تب تک جلتا رہے گا جب تک شور کا خاتمہ نہیں ہو جاتا اور ہماری ترجیحات نہیں بدل جاتیں۔


