امریکہ معاہدوں کی پاسداری کرتا رہا ہے یا بے وفائی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوال یہ ہے کہ ٹرمپ نے ثالثی کا شوشہ کیوں چھوڑا اور وہ بھی اس حوالے کے ساتھ کہ مودی با الفاظ دیگر انڈین حکومت کی خواہش سے مشروط کر دیا۔ جواب واضح ہے کہ امریکہ افغانستان میں ایسی نئی بساط بچھانا چاہتا ہے کہ جس کے ذریعے وہ اپنی عوام کو باور کروا دیں کہ افغانستان کے راستے سے امریکہ میں اب کسی دہشت گردی کا امکان سرے سے موجود ہی نہیں رہا ہے اور اگر کسی نے ایسی کوشش کی تو جو لوگ پہلے ایسے لوگوں کو پناہ دیتے تھے وہی اب ان کو کیفر کردار تک پہنچا دیں گے۔

یعنی جو کردار امریکہ اور موجودہ افغان حکومت مشترکہ طور پر ادا کر رہی ہے اب وہی کردار تمام افغان دھڑے ادا کریں گے۔ یقینا ہدف بڑا ہے اور یہ ہدف پاکستان کی مکمل حمایت کے بغیر حاصل کیا جانا دشوار ہے۔ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا شرائط کے ساتھ ذکر کر کے پاکستان کے عوام کو خوشی سے جامد کیا جا سکیں اور جب قوم بے حسی و حرکت ہو گی تو ایسی صورت میں حکومت پاکستان کے لئے آسان ہو جائے گا کہ وہ تمام معاملات امریکی خواہشات کے مطابق حل کروا سکیں اور جب امریکہ اور افغانستان میں اپنی مرضی کی چالیں چل کر رخت سفر باندھ چکا ہو گا تو ہم ماضی کی مانند بے وفا ہونے کی دہائیاں دے رہے ہوں گے۔

لیکن کیا ماضی میں بھی یہ دہائیاں درست تھیں کوئی جواب دینے سے قبل یہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ قوموں کے باہمی تعلقات زبانی جمع خرچ کی بجائے تحریری معاہدوں کی صورت میں موجود ہوتے ہیں۔ اس لئے مطالعہ اس کا کرنا چاہیے کہ جن واقعات یا ادوار کے دوران ہم بے وفائی کے الزام عائد کرتے ہیں اس وقت ہمارے باہمی معاہدوں کی کیا کیفیت موجود تھی۔ ہم کن شقوں پر ایک دوسرے سے متفق ہوئے تھے اور ان میں سے کن شقوں کی امریکہ نے خلاف ورزی کی تھی؟

پاکستان پر ایک سخت ترین وقت ستمبر 1965 ؁ء کی جنگ تھی۔ اس جنگ کے دوران امریکہ نے اسلحہ کے حوالے سے ایسا رویہ اپنا لیا کہ جن کو ہم نے طوطا چشمی کا نام دیدیا کہ امریکہ سارے مفادات تو پاکستان سے حاصل کر رہا ہے لیکن جب اب وقت آیا تو امریکہ نے ہم سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ مفادات حاصل کرنے کے حوالے سے ہم امریکہ سے کن معاہدوں میں موجود تھے۔ 1954 ؁ء میں Mutual Defence Assistance Agreement ہوا اور اس کے تسلسل میں اسی سال پاکستان SEATO تنظیم کا رکن بنا۔

ان میں واضح طور پر تحریر تھا کہ یہ صرف کمیونسٹ خطرے اور اس کے اثرات سے نمٹنے کے لئے قائم کی گئی ہے اس کے علاوہ اس کا اور کوئی مقصد نہیں۔ اس طرح 1955 ؁ء میں بغداد پیکٹ ہوا جو بعد میں CENTO کے نام سے موجود ہے۔ CENTO کے مقاصد کو آگے بڑھاتے ہوئے 1959 ؁ء میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان ایک اور معاہدہ ہوا۔ پاکستان ایشیاء کا واحد ملک تھا جو سیٹو اور سینٹو دونوں کا رکن تھا۔ اور ان معاہدوں کی بنیاد پر 1965 ؁ء کی جنگ میں امریکی بے وفائی کا رونا روتے رہے۔

حالانکہ ان معاہدوں پر یہ مکمل طور پر واضح تھا کہ یہ کمیونسٹ خطرات کو روکنے کے لئے ہوئے ہیں۔ جب معاہدوں کی بنیاد ہی یہ تھی کہ صرف کمیونسٹ نشانہ ہوں گے تو پھر امریکہ کسی دوسرے سے جھگڑے میں ان معاملات کا ہی پابند تھا جو تحریراً موجود تھے۔ 1971 ؁ء میں بھی یہ راگ گایا گیا حالانکہ یہ حقیقت پہلے دن سے پاکستانی پالیسی سازوں پر واضح تھی کہ معاہدوں کی نوعیت کیا ہے۔ سابقہ سوویت یونین کی پسپائی کے بعد پھر یہی رونا رویا گیا کہ امریکہ ہمیں تنہا چھوڑ گیا ہے۔

لیکن سوویت افواج کے افغانستان میں داخلے سے واپسی تک امریکہ سے کوئی ایک ایسا معاہدہ دکھانے سے قاصر ہے کہ جس میں اس کو افغان امور پر پاکستان کا ساتھ دینے کا پابند کیا گیا ہو۔ اس وقت کی آمریت تو یہ تک لکھوانے میں ناکام رہی کہ پر امن مقاصد کے لئے ہی صحیح ہمارے ایٹمی پروگرام پر اعتراضات ختم کر دیے جاتے۔ جب کوئی معاہدہ تھا ہی نہیں تو پاسداری کس کی ہو گی۔ نتیجتاً ہم پریسلر ترمیم تک بھگتتے رہے اور یہ تو کوئی ماضی بعید کا قصہ نہیں کہ نائن الیون کے بعد پھر اتحاد میں چلے گئے۔

مگر شرائط کیا تھی۔ کہاں بیان کیا گیا تھا کہ یہ پاکستانی مفادات ہے اور ان کا ان شقوں کے تحت تحفظ کیا جائے گا۔ ادھر صرف کیمپ ڈیوڈ میں بلانے پر ہی خوشی سے نہال ہو گئے اور پاکستان نڈھال ہو گیا۔ لہٰذا جب امریکی ترجیحات بدلی تو کیے گئے معاہدوں کے مطابق انہوں نے ڈو مور ڈو مور شروع کر دیا۔ عوام کے جذبات سے کھیل لیا جائے تو اور بات ہے ورنہ ان تمام ادوار میں امریکہ نے وہی کیا جو ہم نے اس کے ساتھ لکھا پڑھا تھا۔

ممکن ہے کہ یہ تصور کیا جائے کہ پاکستان کے حالات ایسے ہیں کہ ہم امریکہ کو انکار نہیں کر سکتے تھے۔ اس کا جواب بھی نفی میں آئے گا۔ لیاقت علی خان ؒ امریکہ گئے وہاں پر ان سے سی آئی اے کے لئے اڈے مانگے گئے انہوں نے منع کر دیا۔ اور یہ کوئی ایسی پرانی بات نہیں کہ جب بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے تو امریکہ کا چپ سادھنے کے لئے پاکستان پر زبردست دباؤ تھا۔ مگر نواز شریف نے کلنٹن کو انکار کر دیا۔ انکار ممکن ہے اگر جرات انکار موجود ہو۔

اب دوبارہ افغانستان میں حالات فیصلہ کن مور کی جانب جا رہے ہیں اور امریکہ کو ہماری دوبارہ ضرورت ہے۔ ٹرمپ کو اقتدار میں رہنے کے لئے اس معرکے میں کامیابی چاہیے کیونکہ ان کی حزب اختلاف کمزور نہیں۔ ڈینیل مارکی نے مجھے کہا کہ یہ تصور کرنا کہ ڈیموکریٹس کمزور ہیں درست نہیں۔ اب یہ ان کی لڑائیاں اس لئے چل رہی ہیں کہ امیدوار کے انتخاب کا مسئلہ ہے جب یہ ہو جائے گا تو سب اس کے پیچھے آ کر کھڑے ہو جائیں گے۔ جبکہ جیمز سمتھ نے مجھے کہا کہ ٹرمپ نے روزگار اور معاشی بہتری کے حوالے سے وعدے پورے کیے ہیں وہ مضبوط ہیں۔

ٹرمپ مزید مضبوط ہو جائے گا اگر وہ افغانستان سے کامیاب انخلاء کر سکا۔ اب پاکستان کے سامنے دو راستے ہیں ایک تو ماضی کی مانند زبانی جمع خرچ اور وائٹ ہاؤس کی سیر پر اکتفاء کیا جائے اور بعد میں بیوفائی کا رونا رویا جائے یا ماضی کے تجربات کی روشنی میں ایسا معاہدہ کیا جائے جس سے پاکستانی مفادات پر کوئی ابہام نہ ہو۔ ابہام رہ گیا تو قوم مستقبل میں بھی بیوقوف بنتی رہے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •