ایک کالم کشمیر پر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ستمبر 2013 ء میں معروف ادبی تنظیم ”طلوعِ ادب“ کی جانب سے مجھے آزاد جموں کشمیر کادعوت نامہ موصول ہوا۔ یہ تنظیم گزشتہ کئی دہائیوں سے علم و ادب کے فروغ کے لیے اپنی خدمات پیش کر رہی ہے۔ پاکستان سمیت کئی علاقوں سے شعراء اور ادبا کو مدعو کرنا اور وہاں ادبی میلے سجانے کا کریڈٹ ”طلوعِ ادب“ کو جاتا ہے جس کی انتظامیہ بلاشبہ قابلِ تحسین ہے۔ لاہور سے میرے ساتھ مرحوم دوست آصف علی شیخ (مدیر سرخ چنار) تھے۔ آصف شیخ سے میرا تعلق 2008 ء میں شروع ہوا اور یہ تعلق ان کی وفات تک قائم رہا۔

شیخ صاحب حقیقی طور پر انقلابی آدمی تھے اور سرخ چنار میگزین کے ذریعے بائیں بازو کی بھرپور وکالت کرتے تھے۔ ایک ہفتے کے اس سفر میں شیخ صاحب کی قربت نے بہت لطف دیا تھا۔ اس ایک ہفتے میں کئی یادگار مشاعرو ں میں شرکت کی ’کارنز میٹنگز ہوئیں اور ادبی دوستوں سے ملاقاتیں بھی۔ آزاد جموں کشمیر کا یہ سفر اگرچہ ادبی نوعیت کا تھا مگر اس دوران بہت سے اہم لوگوں سیاسی اور سماجی لوگوں سے بھی ملاقاتیں سوال و جواب ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اتنا وقت گزرنے کے بعد بھی میں آزاد جموں کشمیر کے دوستوں کو یاد کر رہا ہوں۔

آج جب مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی تباہی اور بربادی کو دیکھا تو سوچا کہ اس خطے کو یاد کرنا چاہیے ’اس کے لیے اپنی آواز بلند کرنی چاہیے جس پر آج برا وقت ہے۔ کیونکہ آزاد کشمیر کے لوگوں کی فطرت میں محبت رچ بس گئی ہے‘ وہ نہ کبھی کسی کا برا سوچ سکتے ہیں اور نہ ہی کبھی کسی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور اس کا اندازہ مجھے وہاں قیام کے دوران ہوچکا ہے۔ بھارت کی جارحیت پر بھی وہ خاموش ہیں مگر یہ خاموشی کسی بھی قیامت کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔

بھارت کشمیری عوام کو اتنا کمزور اور درپوک نہ سمجھے کیونکہ جس قوم نے پچھلے ستر سالوں میں صرف لاشیں ہی اٹھائی ہوں اس قوم کو اتنا جلدی پسپا نہیں کیا جا سکتا اور پاکستان اس کڑے قوت میں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے کیونکہ جتنی کشمیری پا کستان سے محبت کرتے ہیں ’اس سے کئی گنا زیادہ پاکستانی کشمیر سے کرتے ہیں۔ مجھے خوب یاد ہے کہ گورنمنٹ پوسٹ گوریجویٹ کالج باغ میں بھی بطور پاکستان مندوب ہمیں بلایا گیا اور پرنسپل کی صدارت میں ایک باوقار تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

جناب پرنسپل اور دیگر مقررین نے ببانگِ دہل کہا تھا کہ ”ہم اپنے پاکستانی مہمانوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم ان سے بہت محبت کرتے ہیں“ تو یقین جانیں مجھے حد سے زیادہ خوشی ہوئی کیونکہ ہم پاکستانی بھی انہیں اپنی شہ رگ سمجھتے اور محسوس کرتے ہیں۔ ہم صدق، دل سے یہ چاہتے ہیں کہ کشمیری عوام ہمیشہ سے رائے شماری کی بات کرتے ہیں اور وہاں مختلف سیاسی ’سماجی اور ادبی شخصیات سے ملاقاتوں کے بعد بھی مجھے یہی معلوم ہوا۔ انہیں پورا حق ہے کہ وہ رائے شماری سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔ بھارت پچھلی سات دہائیوں سے وہاں خون کی ہولی کھیل رہا ہے‘ اسے یہ بند کرنی ہی پڑے گی۔ حالیہ صورتحال میں آج اٹھارہ روز گزر گئے اور یہ فیصلہ لٹکتا ہی چلا جارہا ہے۔ کشمیر کی ایک کروڑآبادی پچھلے ستر سال سے کسی مسیحا کی منتظر ہے جو انھیں آزادی کا نغمہ سنائے اور اس دفعہ تو حد ہو گئی۔ میں جب بھی کشمیری عوام کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز ’تصاویر اورخبریں دیکھتا ہوں تو یقین جانیں آنکھیں چھلک پڑتی ہیں۔ آنسو رکنے کانام نہیں لیتے۔ بالکل ایسی ہی صورتحال ہے جیسے کچھ برس قبل روہنگیا کے مسلمانوں کے ساتھ ہوا۔

پہلے نمبر پہ اس معاملے کو سلجھانے کے لیے بنیادی کردار اسلامی ممالک کو ادا کرنا ہوگا۔ ہمارے مسلم ممالک جن میں ایران اور سعودی عرب سرِ فہرست ہیں وہ اس صورتحال میں کیا کس حد تک اپنا مثبت کردار ادا کر رہے ہیں ’ایک اہم سوال ہے کیونکہ مسلم امہ کا بنیادی مرکز یہ دو ملک ہیں۔ قارئین یہاں اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سعودی عرب اور ایران کا معاشی مفاد پاکستان سے زیادہ بھارت سے جڑا ہوا ہے اور ایسی صورت میں سعودی عرب یا ایران‘ بھارت سے کیا سلوک کرے گا۔

کیا سعودی عر ب اور ایران اس طرح بھارت سے بات کر رہا ہے جیسے پاکستان کھڑا ہوا ہے یا جیسے چین۔ یقین جانیں میری طرح آپ کا جواب بھی کوئی متاثر کن نہیں ہوگا۔ مجھے کشمیری عوام سے دلی ہمدردی ہے اور مجھے ان کا دکھ شدت سے محسوس بھی ہو رہا ہے مگر اس معاملے میں ہمارے مسلم ممالک کو یک جان ہو کر کردار ادا کرنا پڑے گا۔ ہمیں اپنے ذاتی اور معاشی مفاد سے بالاتر ہو کر کشمیری عوا م کے لیے سوچنا پڑے گا۔ اس صورتحال میں پاکستان جو کردار ادا کر سکتا ہے وہ بھرپور کر رہا ہے مگر جب تک اسلامی ممالک مل کر اس مسئلے بارے سنجیدگی سے نہیں سوچتے یہ معاملہ حل نہیں ہوگا۔ کیونکہ اب وقت آ گیا ہے کہ بھارت کو منہ توڑ جواب دیا جائے۔

دوسرے نمبر اس مسئلے کے حل میں عالمی ادارے اپنا کردار ادا کر یں کیونکہ وہ عالمی ادارے جو امن کے نام کی مالا جپتے تھکتے نہیں ’وہ اس ساری صورتحال میں کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں ہونے والے اجلاس کے بعد اگرچہ یہ اعلامیہ بھی جاری ہوا کہ بھارت کو اپنا فیصلہ واپس لینا ہوگا اور کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے اور بھارت حالات کشیدہ نہ کرے‘ پھر بھی بھارت کی ہٹ دھرمی پہ اٹا ہوا ہے اور ٹس سے مس نہیں ہوا۔

بھارت واقعی نیوکلیر وار چاہتا ہے جبکہ پاکستان عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر دفعہ عالمی اداروں سے مذاکرات کر کے اس معاملے کو ٹیبل ٹاک کے ذریعے سلجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کیونکہ اس بات سے بھارت بھی واقف ہے کہ نیوکلیر وار اس کے اپنے حق میں بھی بہتر نہیں ہے مگر مودی کی شدت پسند سوچ کو کیسے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ سیکیورٹی کونسل میں شامل امریکہ ’چین‘ روس ’برطانیہ اور فرانس کو اس بارے سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کیونکہ یہ معاملہ اب ان کے کندھوں پر آ پڑا ہے۔ اگر بھارت سیکیورٹی کونسل کے ان پانچ ممالک جن کے پاس ویٹو پاور ہے‘ ان کی بھی بات نہیں مانتا تو اس کا کیا حل نکلے گا۔ یہ ایک اہم سوال ہے۔

باقی یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ معاملہ اب کسی کنارے لگنے والا ہے کیونکہ کشمیری عوام نے جتنی قربانیاں دیں ہیں ’شاید ہی کسی قوم نے آزادی کے لیے اتنی جدوجہد کی ہو۔ کشمیری بے چارے اب موت سے نہیں ڈرتے بلکہ انھوں نے پچھلے ستر برس موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گزارے ہیں‘ پچھلے ستر برس سے وہ موت کی آغوش میں سانس لے رہے ہیں ’پل پل مرتے اور جیتے ہیں۔ بھارت یہ جان لے کہ آخر کب تک ان کا صبر آزمائے گا اور یہ بھی سوچ لے کہ صبر جب حد سے گزر جاتا ہے تو تباہی لاتا ہے اور اس دفعہ یہ تباہی بھارت کو بہا لے جائے گی۔

۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •