زندگی کس قدر بے اعتبار شے ہے، اس کا اندازہ کرونائی عہد میں زیادہ شدت سے ہوا۔ صبح سے شام تک موت کی خبریں سنتے ہوئے اس قدر خوف زدہ اور ڈپریشن کا شکار ہو چکا ہوں کہ اب تو معمولی سے طبیعت کی خرابی پہ بھی یہی گماں ہونے لگتا ہے کہ بس اب جانے کا وقت آ پہنچا۔ اس عجیب و غریب کیفیت میں انسان نہ تو کوئی خوشی ٹھیک سے انجوائے کر پا رہا ہے اور نہ ہی غم کا ماتم۔ جون کا آغاز ہوا اور شروع کے پندرہ دنوں میں پچیس کے قریب اموات دیکھی اور سنی اور ان میں زیادہ تر لوگ جاننے والے تھے یا کہ عزیز و اقارب۔
اسی دوران ایک اہم ترین حادثہ میری بڑی ہمشیرہ کی وفات کا بھی ہوا جو گزشتہ ایک برس سے دل کے عارضے میں مبتلا تھیں اور یہ عارضہ جان لیوا ثابت ہوا۔ پندرہ جون کی صبح گیارہ بجے ان کی حالت خراب ہوئی، جس پر ہسپتال لے جایا گیا مگر شاید وہ ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی داعی اجل کی آواز پر دائمی منزل کا سفر اختیار کر چکی تھی۔ کتنی تکلیف اور اذیت بھرا وہ لمحہ ہوتا ہے جب آپ اپنے کسی بھائی یا بہن یا کسی بھی ایسے عزیز کو منوں مٹی میں رکھ کر آرہے ہوتے ہیں جس کے ساتھ آپ نے زندگی کے پچیس سے تیس سال گزارے ہوں۔
Read more