حافظ نعیم الرحمن سے تین سوال

حافظ نعیم الرحمن جماعت اسلامی کے نومنتخب امیر ہیں، آپ ایک شفاف اور جمہوری عمل سے اس اہم منصب تک پہنچے، آپ کی سادگی، راست بازی اور دلیری کا ایک زمانہ مداح ہے۔ مجھے کراچی پریس کلب کے پنڈال میں ہونے والا 2017ء کا ایک مشاعرہ یاد آ گیا، یہ مشاعرہ جسارت کے یوم تاسیس پر برادر اجمل سراج نے سجایا تھا، لاہور سے ڈاکٹر تیمور حسن تیمور اور راقم شریک تھے۔ مشاعرے شروع ہوا تو ایک نوجوان انتہائی خاموشی

Read more

کامرس کالج مونگ کی یادیں

میٹرک کے بعد گورنمنٹ کامرس کالج مونگ میں داخلہ لیا تو گاؤں سے شہر جانے کا سلسلہ شروع ہو گیا، کالج میرے گاؤں سے پینتیس کلو میٹر دور تھا، لوکل ٹرانسپورٹ پر سفر کرنا کتنا مشکل ہے، اس کا اندازہ کالج میں داخلے کے بعد ہوا۔ کامرس سے مجھے کوئی دل چسپی نہیں تھی، ہوا یوں کہ رسول کالج یونیورسٹی میں انجینئرنگ کے ڈپلومے میں داخلے کے لیے کوشش کی، میرٹ میں میرا نام سیلف فنانس میں آیا اور وہ

Read more

وزیر اعظم کے نام ایک نوجوان کا خط

ہفتہ 13 اپریل 2024 ء وہ نوجوان کئی روز سے کال کر رہا تھا، میں نے عید کی چھٹیوں میں بلا لیا، اس کے ہاتھ ایک خط تھا، وہ چاہتا تھا کہ اسے کالم میں شائع کروں، سو یہ خط پیش ہے : سلام و رحمت جنابِ وزیر اعظم! رحمتوں کی دعا کے ساتھ آپ سے چند گزارشات کروں گا، یہ گزارشات صرف میری نہیں بلکہ ان لاکھوں نوجوانوں کی ہیں جن کے ہاتھوں میں ڈگریاں بھی ہیں اور ٹیلنٹ

Read more

”اگر تم میڈیکل نہیں پڑھو گے تو تمہیں مار دیں گے“

یہ آج سے چھ سال پہلے کی بات ہے۔ میں لاہور ایک مشہور نجی تعلیمی ادارے میں اردو پڑھا رہا تھا، ایک روز مجھے ایک پرانے کولیگ کا فون آیا ہے کہ لاہور کے ایک مشہور فزیشن کے بیٹے کو اردو کی ہوم ٹیوشن پڑھانی ہے، میں نے تمہارا نمبر دے دیا ہے، میرے حوالے سے رابطہ کریں تو ان سے معاملات طے کر لینا۔ میرے قریبی دوست جانتے ہیں کہ میں کبھی ہوم ٹیوشن کے حق میں نہیں رہا

Read more

سو کہانی ہے اک کہانی سے

پانچویں کلاس کے بعد سراج الہدیٰ میں حفظ کی کلاس میں داخلہ ہو گیا جہاں زندگی کا ایک بہترین وقت گزارا۔ اڑھائی سال کے قلیل وقت میں دنیا کی سب سے عظیم کتاب کو اپنے سینے میں محفوظ کر کے والدہ کا دیرینہ خواب پورا کیا۔ اب اگلا مرحلہ دنیاوی تعلیم کا تھا ’گھر والوں اور جامعہ کے اساتذہ کے اتفاق رائے سے یہی فیصلہ ہوا کہ مجھے مدرسے سے ہی چھٹی اور ساتویں کا امتحان ایک ساتھ دینا چاہیے۔

Read more

ابھی وقت ہے

سانحہ سیالکوٹ ہوا ’میڈیا‘ سیاست دان اور تقریباً تمام اہم علمائے کرام ایک پیج پر اکٹھے ہو گئے ’سب اسی بات پر متفق نظر آئے کہ اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے لہٰذا ایسے واقعات کی ہمارے ہاں کوئی گنجائش نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایسا تکلیف دہ واقعہ پاکستان میں پہلی دفعہ ہوا؟ اس سے قبل مشعال خان کی سرعام ہلاکت‘ خوشاب میں بینک مینجر کا قتل اور اب سیالکوٹ میں ہندو پریانتھا کا قتل۔ ایسے

Read more

ادیبوں کا استحصال بند کریں

گزشتہ کالم پہ محترم حسین مجروح کا خط موصول ہوا ’خط میں سائبان تحریک کے اغراض و مقاصد اور اب تک کی جانے والی کوششوں کے بارے تفصیلی آگاہ کیا‘ آپ خط ملاحظہ فرمائیں : ”عزیزم آغر ندیم سحر صاحب، سلام و رحمت! آپ کا کرم کہ آپ نے سائبان تحریک کے مقاصد اور طریق عمل میں دل چسپی ظاہر کی اور اس قافلے کا فعال حصہ بننے کی خواہش کا اظہار کیا۔ سائبان تحریک کی بابت تعارفیہ ہمراہ پانچ

Read more

ادیب، ناشر اور سائبان تحریک

میرے 2؍ نومبر کے کالم (شاکر شجاع آبادی:ویڈیو کی اصلیت) پر دوستوں نے بہت سراہا کہ اگر شاکر شجاع آبادی کو اس قدر امداد ملی ہے تو وہ کہاں خرچ ہوئی ’اس کا آڈٹ ہونا چاہیے۔ یہ سچ ہے کہ تخلیق کار اور فنکار کسی بھی طبقے کی اہم شناخت اور اثاثہ ہوتا ہے مگر اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ ایک فنکار کو مسلسل نوازا جائے جب کہ باقی سینکڑوں ایسے فنکاروں یا ادیبوں کو نظر انداز کر

Read more

ظفر یات

ظفر علی خان کی علمی و ادبی زندگی کا ایک اہم دور اس وقت شروع ہوا جب وہ شبلی نعمانی اور محسن الملک کی سفارش پر حیدر آباد پہنچے۔ شبلی 1899ء میں یہاں پہنچ چکے تھے ’اب ظفر علی خان کو ایک بار پھر اپنے اس آئیڈیل استاد کی صحبت اور راہ نمائی میسر آ گئی۔ اس خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ہم حیدر آباد میں ”شبلی جیسے وحید العصر و یکتائے زمن کے خرمن

Read more

شاکر شجاع آبادی: اصل کہانی کیا ہے؟

ایک کہانی اس ویڈیو سے شروع ہوتی ہے جو ایک ہفتہ قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں شاکر شجاع آبادی کے بیٹے ’اسے موٹر سائیکل پر ”لٹکائے“ ہسپتال کی جانب گامزن ہیں۔ اس ویڈیو میں یہ تاثر دیا گیا کہ سرائیکی وسیب کے ہیرو کو پاکستانی گورنمنٹ اور عوام نے آخری وقت میں بالکل اکیلا چھوڑ دیا ہے‘ سرائیکی زبان کا یہ ہیرو زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے اور اس کے اہل خانہ کے پاس

Read more

اجمل نیازی کی بے نیازیاں

ڈاکٹر اجمل نیازی صاحب بھی رخصت ہو گئے ’صحافت کا ایک معتبر حوالہ‘ شاعری کی ایک منفرد آواز ’دبنگ اور بے باک لہجہ رکھنے والے نیازی صاحب شعبہ صحافت کو اداس کر کے داعی اجل کی آواز پر لبیک کہ گئے۔ میرا ان سے پہلا تعارف ”مندر میں محراب“ (ان کا سفرنامہ) بنا تھا‘ کالم نویسی کا شوق پیدا ہوا تو جن کالموں نے شروع شروع میں میری توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ’ان میں ایک ”بے نیازیاں“ تھا۔ جن

Read more

جی ایس پی پلیس سٹیٹس اور گورنر پنجاب

یورپی پارلیمنٹ نے اپریل کے آخر میں ایک قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کی تھی جس میں پاکستان کو دیے گئے جی ایس پی پلس پر نظرثانی کرنے کا کہا گیا تھا۔ قرارداد میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں ایسے قوانین ہیں جو اقلیتوں اور بنیادی حقوق کے منافی ہیں ’قرارداد کے متن میں واضح کیا گیا کہ یورپی یونین یا دیگر مغربی ممالک اقلیتوں کے لیے پاکستان کو ایک غیر محفوظ ملک سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے

Read more

دو کوزہ گر – شبلی نعمانی اور ظفر علی خان

شمس العلما مولانا شبلی نعمانی فروری 1883 ء سے اواخر 1998ء تک علی گڑھ کالج سے وابستہ رہے۔ وہ اس تاریخی دانش گاہ میں عربی کے استاد اور طلبا کی ادبی تربیت کے لیے بنائی گئی مجلس ”لجنۃ الادب“ کے نگران تھے۔ علی گڑھ میں اپنے سو سالہ قیام کے دوران کئی نسلوں کی آبیاری کی، ان کے شاگردوں میں مولانا محمد علی جوہر ’مولانا شوکت علی‘ مولانا حسرت موہانی ’مولانا حمیدہ الدین فراہی‘ مولوی عزیز مرزا ’خواجہ غلام الثقلین‘

Read more

آخری دو سال اہم ہیں

حکومت نے چھوٹے طبقے کو ڈائریکٹ سبسڈی دینے کا اعلان کر دیا ’یہ اعلان اس لیے بہت اہم ہے کہ ”ابھی دو سال باقی ہیں“ اور حکومت جانتی ہے کہ اگر ہم آخری دو سالوں میں بھی کچھ ڈلیور نہ کر سکے تو ”ہماری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں“ ۔ راقم نے گزشتہ کالم میں کہا تھا کہ عمران خان کے لیے الیکشن کمپین کرنے والے اور خان کو وزارت عظمیٰ تک لانے والوں نے بھی خان

Read more

ابھی دو سال باقی ہیں

تین سال گزر گئے ’دو سال ابھی باقی ہیں‘ ہمیں یہ عذاب ابھی مزید دو سال بھگتنا ہو گا۔ عمران خان کو لانے کا تجربہ کس قدر بھیانک اور افسوس ناک رہا ’یہ بات وہ لوگ بھی مان گئے جو خان صاحب کی الیکشن کمپین میں پیش پیش تھے۔ مجھے دلی افسوس ہے کہ میں نے تحریک انصاف کے لیے الیکشن کمپین بھی کی اور دوستوں سے ووٹ بھی مانگے۔ اگرچہ مجھے میرے سیاسی دوست کہتے رہے کہ آپ غلطی

Read more

کوئی چشمہ نکل آیا

جاوید قاسم کا شمار ایسے تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے اردو شاعری کو ہمیشہ نئے مضامین اور تجربات سے نوازا۔ ان کی شاعری میں ان کی زندگی کے تلخ تجربات ’سرمایہ دارانہ سوچ کے حامل ادبی غنڈوں گردوں کے خلاف احتجاج‘ یورپی استعماری رویوں سے پروان چڑھنے والے غیر انسانی رویوں کی بازگشت ’سماجی عدم تحفظ‘ انسانی تذلیل اور وحشت و بربریت کی مثالیں بڑی واضح دیکھی جا سکتی ہے۔ جاوید قاسم کا مسئلہ کبھی بھی ذاتی نوعیت

Read more

جب میں نے موت دیکھی

موت کتنی بھیانک چیز ہے اس کا اندازہ مجھے زندگی میں تین بار شدت سے ہوا ’پہلی دفعہ جب میں اپنے والد کو کامرہ چھاؤنی کے فوجی ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑتے دیکھ رہا تھا‘ وہ شخص جو زندگی کے انتہائی تلخ حالات اور سخت کسمپرسی میں بھی سر اٹھا کر جیا ہو ’وہ آج اس قدر اذیت میں تھا کہ نہ جی رہا تھا اور نہ ہی یہ منزل سر کر پا رہا تھا۔ میں نے

Read more

سماجی درندگی اور تہذیبی خلا

چودہ اگست کو مینار پاکستان پر ایک واقعہ ہوا جس نے پورے پاکستان اور پنجاب حکومت کو ہلا کے رکھ دیا یعنی یہ سسٹم محض ایک ویڈیو کی مار نکلا۔ میں اس موضوع پر اس لیے بھی نہیں لکھنا چاہ رہا تھا کہ میرے کالم سے قبل اس ایشو پہ نہ صرف بہت کچھ لکھا جا چکا بلکہ اس واقعے کو ملکی و غیر ملکی میڈیا کی طرف سے غیرمعمولی کوریج بھی مل گئی اور پوری دنیا عائشہ بیگ کی

Read more

چوہتر سال بعد بھی

آزادی کے 74 سال بعد بھی ہمیں اپنی شناخت کا مسئلہ درپیش ہے ’پاکستان‘ پاکستانیت اور ہمارے شناختی ورثے کی بحث تاحال جاری ہے۔ پاکستانی ہیرو کی تلاش اور ان کی شناخت پر دانشوروں کے بحث مباحثے بھی زوروں پر ہیں مگر صد افسوس کہ ہم فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ ہم کیوں ہیں ’کہاں ہیں اور ہمیں کہاں ہونا چاہیے؟ چل رہے ہیں مگر راستوں اور منزل سے بے خبر‘ بس چل رہے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ آج

Read more

کیا نواز شریف سیاسی پناہ لیں گے؟

میاں نواز شریف کا برطانیہ میں مزید قیام مشکل ہوتا جا رہا ہے، برطانیہ نے اب کے بار ویزا توسیع کی درخواست مسترد کر دی اور ”بیمار نواز شریف“ سے گزارش کی کہ آپ اپنے وطن تشریف لے جائیں۔ میاں صاحب اس سے پہلے دو دفعہ ”ویزا ایکس ٹینشن“ لے چکے ’اب تیسری دفعہ جب برطانیہ کی ہوم منسٹری نے ویزہ توسیع کی درخواست مسترد کر دی تو میاں صاحب ایک دفعہ پھر ویزا توسیع کے خواہش مند ہیں۔ حکومت

Read more

موٹروے انتظامیہ کہاں ہے؟

مجھے تقریباً ہر دوسرے ہفتے موٹروے کا سفر کرنا ہوتا ہے ’کبھی آبائی شہر ماں کی قدم بوسی کے لیے حاضری دینی ہوتی ہے اور کبھی مشاعروں اور تقریبات کے سلسلے میں کسی نہ کسی دوست کا بلاوا آ جاتا ہے اور یوں شہر سے باہر جانا پڑتا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ موٹروے کا ہی راستہ اختیار کیا جائے تاکہ سفر آسانی سے اور پرسکون کٹ سکے۔ اس دفعہ منڈی بہاؤ الدین کے لیے لاہور سے نکلا تو گاڑی کی موٹر نے ”سکھیکی ریسٹ ایریا“ کے پاس جواب دے دیا اور یوں گاڑی کا پنکھا بند ہو جانے سے گاڑی ہیٹ کر گئی۔

Read more

مسئلہ کشمیر اور حالیہ الیکشن

میں جس وقت یہ کالم لکھنے میں مصروف ہوں، آزاد کشمیر میں ضمنی انتخابات جاری ہیں۔ حکومتی پارٹی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتیں کشمیر کو اپنے نام کرنے میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ مجھے لگ رہا ہے کہ کشمیری بھی نئے پاکستان کی طرح ”نئے کشمیر“ کو سپورٹ کریں گے اور پاکستان تحریک انصاف ان انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کر لے گی۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ حکومتی پارٹی سمیت تمام جماعتیں کشمیر کو ہمیشہ مفادات کے پیش نظر دیکھتی

Read more

ڈاکٹر خضر نوشاہی: ہم نے سونا سپرد خاک کیا

پروفیسر ڈاکٹر خضر نوشاہی بھی چل بسے، فارسی زبان و ادب میں تحقیق و تنقید کا ایک معتبر حوالہ اور مخطوطہ شناسی میں سند کی حیثیت رکھنے والے عالم کی موت نے ایک عالم کو افسردہ کر دیا۔ نصف صدی تک زبان و ادب اور تحقیق و تنقید میں اپنا لوہا منوایا ’پنجاب کی اہم ترین درگاہ کا گدی نشین ہونے کے باوجود عاجزی اس قدر کہ ایک زمانہ مداح۔ مجھے نہیں یاد کہ کسی ہم عصر‘ جونیئر ’شاگرد یا

Read more

ویکسین سے دو سال بعد موت

این سی او سی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق تقریباً ڈیڑھ کروڑ پاکستانیوں کو ویکسین لگائی جا چکی اور یہ عمل انتہائی تیزی سے جاری ہے۔ ہمارے ہاں ایک خاص طبقے کی جانب سے عوام الناس کو گمراہ کرنے کے لیے ویکسین کے خلاف انتہائی فضول اور من گھڑت قصے اور واقعات سنائے جا رہے ہیں ’ایسے واقعات جنہیں سن کر کورونا خود بھی پریشان ہو رہا ہے کہ وہ کیسی قوم میں پھنس گیا ہے۔ پوری دنیا اس وقت کورونا سے نمٹنے کے طریقے سوچ رہی ہے‘ ترقی یافتہ قومیں ویکسین کی تیاری میں پیش پیش ہیں مگر حیف صد حیف ہم ہمیشہ کی طرح خود تو کچھ کر نہ سکے اور جن قوموں نے کورونا سے بچاؤ کی ویکسین تیار کی ’ہم ان کا بھی مذاق بنا رہے ہیں۔

Read more

نیا پاکستان

عمران خان دنیا کا واحد مقبول ترین لیڈر ہے جس نے نہ صرف امت کے درد کو محسوس کیا مسئلہ کشمیر کے ساتھ ساتھ ایران اور سعودی عرب کی کشیدگی میں بھی ثالثی کا کردار ادا کیا۔ عمران خان کو یہودی ایجنٹ کہنے والوں کو تسلیم کر لینا ہو گا کہ پاکستان میں اگر کوئی سیاست دان حقیقی انداز میں پوری دنیا میں اس قوم کی عزت بنا رہا ہے تو وہ عمران خان ہے۔ یہ ساری باتیں اپنی جگہ

Read more

گلوبل ڈائیلاگ

راقم سمیت چار نوجوان لاہور کے ایک نجی ہوٹل کے چھت پر موجود چائے پی رہے تھے۔ نوجوانوں کے درپیش چیلنجز سمیت کئی اہم موضوعات زیر بحث آئے اور فیصلہ ہوا کہ ایک ایسا انٹرنیشنل فورم ہونا چاہیے جہاں پاکستان سمیت دنیا بھر کے نوجوانوں کو اکٹھا کیا جائے اور امن، اخوت اور بھائی چارے کے فروغ کی بات کی جائے۔ پاکستان میں سب سے اہم مسئلہ نوجوانوں میں روز بروز بڑھتی ہوئی انتہائی پسندی ہے ’وہ ہر سطح اور ہر شعبے میں موجود ہے۔

Read more

چھوٹے شہر میں بڑا آدمی

یہ لگ بھگ دس بارہ سال پرانی بات ہے، ایک علاقائی اخبار (کھلی خبر) کو بطور ”انچارج ادبی ایڈیشن“ جوائن کیا، ہر ہفتے ایک لکھاری کا انٹرویو کرنا ہوتا تھا جس میں نئے لکھنے والے بھی شامل تھے اور سینئرز احباب بھی۔ میں ان دنوں انٹر کا طالب علم تھا اور استاد الشعراء حکیم ربط عثمانی مرحوم سے اصلاح لیتا تھا۔ کالج سے فراغت کے بعد حکیم صاحب کے مطب (پانچ وارڈ) پہ وقت گزرتا یا پھر کھلی خبر کے

Read more

جدی پشتی نوکر

عاقب ستیانوی کا تعلق جھنگ سے ہے ’ان کی مشہور ترین نظم ”جدی پشتی نوکر“ کو سوشل میڈیا پر دو ملین سے زائد فالورز ملے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ایک ایسا احتجاج تھا جسے ہر سنجیدہ قاری نے نہ صرف محسوس کیا بلکہ عاقب ستیانوی کو خراج تحسین پیش کیا۔ ایک سال ننکانہ صاحب میں ہونے والے مشاعرے میں جب ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے اس نظم کا پس منظر بھی جاننے کی کوشش کی۔ ان

Read more

مجلس ترقی ادب: منصور آفاق کا اصل مسئلہ کیا ہے؟

مجلس ترقی ادب میں نئی تقرری کا معاملہ اس قدر سنگین ہے کہ ادبی اور صحافتی حلقوں کی طرف سے تاحال تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ راقم نے بھی گزشتہ کالم میں ذکر کیا تھا کہ سنجیدہ لکھاریوں کو اس معاملے سے قطعاً کوئی دل چسپی نہیں کہ مجلس کا ناظم کون بن گیا اور کسے بننا چاہیے تھا بلکہ دکھ کی بات یہ ہے کہ سابق ناظم کو جس بھونڈے اندازمیں عہدے سے ہٹایا گیا اور جس

Read more

امتحان کا موسم

میں گزشتہ کئی دن سے ایک یتیم بچے کی فیس اکٹھی کرنے میں مصروف ہوں، وہ بچہ ایک نجی یونیورسٹی میں بی ایس کا طالب علم ہے، چھ بہنوں کا واحد سہارا اور انتہائی ذہین اور قابل سٹوڈنٹ۔ میں گزشتہ پانچ برس سے اسے جانتا ہوں ، وہ جب سکول میں تھا تو پہلے ٹائم سکول اور شام میں ملازمت کرتا تھا۔ اب یونیورسٹی میں ہے تو سیکنڈ ٹائم کلاسز اور پہلے ٹائم ملازمت کرتا ہے۔ لاک ڈائون نے جہاں

Read more

ریاست بمقابلہ ریاست

اس وقت جب میں یہ کالم لکھ رہاہوں ’یتیم خانہ چوک میں ریاست اداروں اور کالعدم تحریک لبیک کے کارکنوں کی محاذ آرائی جاری ہے۔ یہ جھگڑا گزشتہ ایک ہفتے سے جاری ہے اور ریاست اپنے دفاع میں پیش پیش ہے جبکہ کالعدم تحریک کے کارکنان کا خیال ہے کہ وہ چونکہ سچے عاشقان رسول ہیں لہٰذا اگر ریاست اپنے معاہدے پر عمل نہیں کرتی تو اس کا ازالہ ریاست، ریاستی اداروں کے علاوہ عام آدمی کو بھی بھگتنا ہوگا ور پھر ہم نے دیکھا ، کالعدم تحریک کے کارکنوں کے ہتھے جو جو چڑھا، مارا جاتا رہا۔

Read more

رمضان نشریات

جوں جوں رمضان کا مہینہ نزدیک آتا ہے ٹی وی اور سٹیج کے معروف چہرے اسلامی باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں یعنی وہ اداکار ، گلوکار اور فنکار جو پورا سال ہمیں اپنے اداکاری، گلوکاری اور ڈانس سے لطف اندوز کرتے ہیں وہ رمضان میں ہمیں اسلامی رسومات و عبادات کی تلقین کرتے نظر آئیں گے۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ پوری دنیا میں کوئی بھی ایسا مذہب آپ کو نظر نہیں آئے گا جس کے

Read more

مجلس ترقی ادب،ڈاکٹر تحسین فراقی اور محبان منصور آفاق

گزشتہ ہفتے کی سب سے اہم ادبی خبر مجلس ترقیٔ ادب میں نئی تقرری ہے۔ نامور محقق ’استاد اور دانش ور جناب ڈاکٹر تحسین فراقی کو عرصہ ملازمت مکمل ہونے سے (چودہ ماہ) قبل ہی عہدے سے ہٹا دیا گیا اور اس بارے میں تاحال کوئی حکومتی موقف سامنے نہیں آیا کہ یہ بھونڈی حرکت کیوں کی گئی اور اس سارے معاملے میں کون لوگ ملوث ہیں۔ ہاں نئے تعینات ہونے والے شاعر منصور آفاق کی حمایت کرنے والوں کا یہ کہنا ہے کہ فراقی صاحب چونکہ بزرگ ہو چکے تھے اور منصور آفاق ابھی نوجوان ہیں، حکومت سے ذاتی تعلقات بھی ہیں ، لہٰذا حکومت سے مجلس کے نام پر فنڈ نکلوانے کا کام منصور آفاق زیادہ بہتر انداز میں کر سکتے ہیں۔

Read more

سلیم سہیل کے مضامین کا مجموعہ ’حرفِ حیرت‘

سلیم سہیل ہمارے عہد کے ان چند نقادوں میں آتے ہیں جنہوں نے تنقید کو محض لفظوں کی جگالی نہیں سمجھا اور نہ ہی مکھی پر مکھی ماری بلکہ اپنے لیے الگ راستے کا انتخاب کیا ، یہی وجہ ہے کہ سلیم سہیل نے کم لکھا مگر معیار پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا۔ جس فن پارے پر بات کی، انتہائی ذمہ داری سے کی اور تنقید کو ایک سنجیدہ عمل کے طور پر لیا۔ ورنہ ہمارے ہاں نقادوں کی تعداد

Read more

مجھے کورونا ہو گیا ہے

اس وقت جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہیں ، مجھے کورونا کا شکار ہوئے پورے سات دن ہو گئے ہیں۔ شروع کے دو سے تین دن خاصے مشکل تھے۔ بخار اور جسم درد نے بستر سے لگا دیا مگر چوتھے دن کے بعد صحت ٹھیک ہونا شروع ہو گئی۔ پہلے چند دن تو میں نے اس بخار اور درد کو نارمل سمجھا مگر کچھ خیرخواہ دوستوں کے مشورے سے گیارہ مارچ کو کورونا ٹیسٹ کروایا جو پوزیٹیو آ گیا اور یوں میں نے خود کو آئسولیٹ کر لیا۔ اب ایک ہفتہ ہو گیا ہے ، بند کمرے میں زندگی کے شب و روز گزار رہا ہوں۔

Read more

کیف عرفانی: آدھی صدی کا قصہ

کیف عرفانی ایک عہد کا نام ہے۔ ایک ایسا چشمہ جس نے تین نسلوں کو سیراب کیا ہو، پاکستان بھر سے تشنگان علم اس در پہ پہنچتے، ان سے شاعری سیکھتے، اردو تلفظ پر بات کرتے اور علم کی جھولیاں بھر کے واپس لوٹتے۔ کیف عرفانی وہ انسان جنہوں نے اپنی زندگی اردو کی ترویج میں صرف کی، جن کے قدموں میں بیٹھ کر ہم نے شعر کہنا سیکھا، جن استاد کی گفتگو سن کر ہم نے بولنا سیکھا، جن

Read more

پاکستان کا بڑا المیہ لسانی اور صوبائی انتہا پسندی ہے

اس انتہا پسندی نے ملک پاکستان کو چاروں طرف سے بری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس تعصب اور تشدد یا انتہا پسندی کا شکار زیادہ تر وہ قومیں ہیں جو تمدنی اور سیاسی اعتبار سے بانجھ پن کا شکار ہیں۔ جن میں تعلیم اور ترقی کا فقدان ہے ، طاقت ور طبقہ اقتدار کے حاصل کرنے کے لیے نہ صرف دوسرے صوبوں کا استحصال کرتا ہے بلکہ ان کو لگتا ہے کہ دوسری زبان کے لوگ بھی

Read more

طلبا تنظیموں میں انتہاپسندی کے رجحانات کیسے پیدا ہوئے؟

ہمارا سب سے بنیادی المیہ انتہا پسندی ہے جو اس ملک کو مختلف طریقوں سے اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہی ہے۔ آج ہم اس ملک میں موجود انتہا پسندی کی مختلف نوعیتوں پر بات کریں گے۔ یہ بات واضح ہے کہ فرد اور معاشرہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اور افراد ہی بنیادی طور پر معاشرے کی مثبت نشو و نما میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں ، اگر افراد کا رویہ معاشرتی ناہمواری اور

Read more

کتابیں بولتی ہیں

ان دنوں میں رابرٹ بی ڈاؤنز کی کتاب (Books that changed the world) پڑھ رہا ہوں جس کا غلام رسول مہر نے ترجمہ کیا ہے۔ اس کتاب نے مجھ پر کتب بینی کے کئی در وا کیے۔ ہمارے ہاں عمومی طور پر کتابوں اور کتب خانوں کے حوالے سے جو تصور عام ہوا وہ یہ کہ کتابیں بے جان ، غیر موثر اور بے حیثیت چیزیں ہیں جو خانقاہوں اور یونیورسٹیوں کے سایہ دار رواقوں اور علمی مامنوں میں رکھی

Read more

ڈیجیٹل میڈیا اور نئی نسل

آپ نے مشہور مزاحیہ شاعر انور مسعود کی نظم ”بنیان“ تو یقیناً سن رکھی ہو گی۔ وہ اکثر کہا کرتے ہیں کہ اس نظم کا بنیادی موضوع یہی ہے کہ ہم مغربی کلچر کو اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر یہ بنیان ہمیں پوری نہیں آ رہی اور جگہ جگہ سے بنیان پھٹ گئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ڈیجیٹل ایپس کے ذریعے ہم نے خود کو حد سے زیادہ فاسٹ بنانے کی کوشش کی ، اس کوشش میں ہم اپنا بہت نقصان کر بیٹھے۔

Read more

مکالمات افلاطونِ،اڑھائی ہزار برس بعد بھی اہم

افلاطون کا شمار سقراط کے ان قریبی شاگردوں میں ہوتا ہے جنھوں نے سقراط کے فلسفے کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنے اور سقراط کو دریافت کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ یوں تو افلاطون کے تمام مکالمات کو ہی بہت پذیرائی نصیب ہوئی مگر ”ری پبلک“ کے بعد افلاطون کے جو مکالمات سب سے زیادہ پڑھے گئے ان میں اپالوجی، کریٹو اور فیڈو ہیں۔ یہ تین مکالمات اس سہ المیے کی تشکیل کرتے ہیں جس میں ایتھنز کی شہری عدالت میں سقراط کے مقدمے اور اس مقدمے میں سقراط کے لیے سزائے موت کے فیصلے سے لے کر اس سزا پر عمل درآمد تک کے تمام واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ فکر انسانی کی تاریخ میں سقراط کو ایک اہم مقام حاصل رہا اور یہی وجہ ہے کہ اپنے دور کے اس عظیم فلسفی کے انجام کی یہ روداد قارئین اور سقراط کے مداحین کے لیے ہمیشہ دل چسپی کا باعث رہی۔

Read more

کامران ناشط: ایک معصوم تخلیقی روح

کامران ناشطؔ سے تعلق کو دس سال گزر گئے اور ان دس سالوں میں کئی ایسے موقع آئے جب غم روزگار نے مجھے زندگی میں اس قدر الجھا دیا کہ دوستوں سے رابطہ ختم ہو کر رہ گیا۔ ایسے میں جن چند لوگوں سے رابطہ بحال رہا اور جو میری خیریت دریافت کرتے رہے ، میرے دکھ سکھ میں شامل رہے، ان میں ایک میرا دوست کامران ناشط ہے جس کی دوستی پر بات کروں تو کتنے صفحے بھر جائیں

Read more

ابوجی کی ساتویں برسی

میں ان کی اس بات پر بہت حیران ہوا کیونکہ اس سے قبل کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ میرے ابو نے میرے ان شعبوں کی کھل کر تعریف کی ہو بلکہ ہمیشہ پڑھائی پر دھیان دینے کی نصیحت کرتے تھے۔ ڈاکٹر کے جانے کے بعد مجھے کہنے لگے کہ ”بیٹا میں نے کبھی تم پر یہ شعبہ چھوڑنے کے لیے زبردستی نہیں کی اور اب کرنا بھی نہیں چاہتا ، بس اس قلم کی حرمت کی حفاظت کرنا کیونکہ یہ قسمت والوں کو نصیب ہوتا ہے“ ۔ یہ وہ الفاظ تھے جو میرے ابو نے میرے لیے پہلی اور آخری دفعہ ادا کیے تھے ، میں آج تک ان کی اس نصیحت کو پلے باندھ رکھا ہے۔

Read more

نوکری برائے فروخت اور پنجاب پبلک سروس کمیشن کی ساکھ

سب سے پہلے آپ تجمل حسین کیس کے بارے میں مختصر جان لیں۔

فروری 2019 ء میں ایف آئی اے (کو خبر ملی کہ سی ایس ایس کے پیپر فروخت ہو رہے ہیں اور یہ معاملہ کئی برسوں سے جاری ہے جس میں کئی اہم ترین نام ملوث ہیں۔ ابتدائی طور پر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افسر تجمل حسین نقوی کا نام سامنے آیا (تجمل اس وقت پی ایم ایس بھی پاس کر چکا تھا)۔ ایف آئی اے نے لاہور میں واقع تجمل حسین نقوی کے گھر (کچا لائنز روڈ ) پر چھاپہ مارا اور تجمل حسین گرفتار ہو گیا۔  کارروائی ہوئی تو انکشاف ہوا کہ اس میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن بلوچستان کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر خالد حسین مغیری ، پنجاب پریزن ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ سپریڈنڈنٹ اویس شریف اور ملتان ریجن کے ٹیکس آفس انسپکٹر سجاد علی ملوث ہیں۔

Read more

سقراط کی موت

سقراط ( 469 ق م تا 399 ق م ) ایتھنز کی سرزمین کا سب سے بڑا آدمی تھا۔ اس نے زندگی کے جتنے قریب سے دیکھا اور زندگی اور موت کے بارے میں جو سوالات اٹھائے ’ان سوالوں نے اسے ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ وہ جسمانی طور پر کوئی پرکشش شخص تو نہیں تھا لیکن اس کی تقاریر اور لیکچرز نے ایتھنز کی سوچ اور جغرافیہ بدلنے میں بنیاددی کردار ادا کیا۔ وہ بولتا زیادہ اور کام

Read more

تعلیم بچاؤ تحریک

سترہ دسمبر لاہور میں پنجاب بھر سے پرائیویٹ سیکٹر کے اساتذہ کرام اور ادارہ مالکان احتجاج کے لیے اکٹھے ہوئے۔ مطالبہ بالکل واضح تھا کہ جب شادی ہالزمیں تین سو لوگ ایک ساتھ کھا نا کھا سکتے ہیں ’جب تمام مارکیٹیں اور شاپنگ مالز کھلے ہیں‘ جب پارک ’سینما ہال‘ کافی پوائنٹس ’پلے گراؤنڈ ز تک کھلے ہیں‘ جب پی ڈی ایم ملتان ’لاہور اور کراچی سمیت کئی بڑے شہروں میں اپنا تھیٹر لگا سکتی ہے یا عمران خان آئے

Read more

پی ڈی ایم ’استعفے اور لانگ مارچ

اتوار کے دن بوکھلاہٹ کا قبیلہ زندہ دلان لاہور میں پاور شو کرنے آیا اور استعفوں کا اعلان کیے بغیر واپس چلا گیا۔ مجھے خوشی ہے کہ لاہوری زندہ دل نکلے اور مینڈیٹ چوری کا شور ڈالنے والے کرپٹ ٹولے کی باتوں میں نہ آئے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو پچھلی تین دہائیوں سے اس ملک کو چمٹے ہوئے ہیں اور عوام نے اس دفعہ ان کو اسمبلیوں سے باہر کر دیا ’تو گلی گلی شور ڈال رہے ہیں کہ ان کا مینڈیٹ چوری ہو گیا حالانکہ مینڈیٹ اگر سچا ہو تو وہ کبھی چوری نہیں ہوتا۔

پی ڈی ایم ٹولے نے جن موضوعات پر عوام سے گفتگو کی ’اس سے صاف معلوم ہو رہا تھا کہ ان کی لڑائی کم از کم عمران کان سے تو بالکل نہیں کیونکہ جب جب اپوزیشن نے الیکشن میں دھاندلی کی بات کی‘ حکومت نے واضح کہا کہ جن حلقوں پر انگلی رکھتے ہیں ’ہم کھولنے کے لیے تیار ہیں۔ افسوس ہمیشہ کی طرح اتوار کے جلسے میں بھی کی جانے والی تقاریر محض لفظوں کی جگالی ثابت ہوئیں۔ جلسے سے قبل ایک ایسی فضا بنائی گئی کہ جس سے یوں لگ رہا تھا کہ رات سے پہلے اپوزیشن اسمبلیوں سے مستعفی ہوگی اور الیکشن کا مطالبہ زور پکڑ جائے گا مگر ایسا نہ ہوا۔

Read more

مجلہ صوفی پر کالم

میں نے کچھ عرصہ قبل اپنے ایک کالم میں مجلہ ”صوفی“ میں لکھنے والے نامور اکابرین کی فہرست کا ذکر تھا جس پر میرے قارئین کی فرمائش تھی کہ مجلہ ”صوفی“ کا تفصیلی تعارف دیا جائے کہ یہ مجلہ کتنا عرصہ شائع ہوا اور اس کے بند ہونے کی وجوہات کیا تھیں ’سو یہ کالم لکھنا پڑا۔

بیسویں صدی کے ربع اول میں تصوف اور ویدانیت کے موضوع سے دلچسپی رکھنے والی صحافتی کوششوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تصوف کے موضع پر کوئی ہفت روزہ یا پندرہ روزہ تو شائع نہیں ہوتے رہے تاہم ماہوار رسائل اشاعت پذیر ہوئے۔ جن میں ”سادھو“ ، ”درویش“ ، ”مساتنہ جوگی“ ، ۔ ”الف“ ، ”طریقت“ ، ”نظام المشائخ“ ، ”معارف“ ، ”انوار الصوفیہ“ ، ”طلوع آفتاب“ ، ”پریم بیلاس“ ، ”اسوہ حسنہ“ ، ”نظام“ ، ”پرہم“ ، ”ست اپدیش“ ، ”گلدستہ طریقت“ ، ”القمر“ اور ”صوفی“ کے نام سامنے آتے ہیں۔

Read more

کورونابچاؤ مہم

کرونا نے دوبارہ پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں شروع کر دیا ’دوبارہ لاک ڈان کا خطرہ سروں پر منڈلانے لگا اور ہمارے عوام ابھی تک اسی بات پر مصر ہے کہ کرونا نہیں ہے۔ ایک دفعہ پھر وہی چہ مگوئیاں سننے کو مل رہی ہیں‘ جو کورونا کے شروع کے دنوں میں سنی گئیں۔ کورونا کہاں ہے؟ کوئی کورونا سے مرا؟ ہسپتالوں والے بھی جھوٹ بولتے ہیں ’ہر مرنے والے کو کرونا کہہ کر باہر کے ملکوں سے پیسے لیے جا رہے ہیں، عمران خان یہ سب قرضے معاف کروانے کے لیے کر رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔

عوام تو ایک طرف ہمارے اپوزیشن رہنما بھی اب کورونا کے بارے وہی رائے رکھتے ہیں ’جو پاکستانی عوام کی ہے۔ حکومت نے اپوزیشن سے گزارش کی کہ کورونا سے بچاؤ کے لیے کچھ عرصہ جلسے منسوخ کر دیے جائیں‘ جس پر اپوزیشن دانشوروں کا کہنا تھا کہ ”حکومت چونکہ پی ڈی ایم سے بوکھلا گئی ہے ’اس لیے کورونا کا شور ڈال رہی ہے تاکہ ہماری حق سچ کی آواز دبائی جا سکے“ ۔ اب سوال یہ ہے کہ حکومت پی ڈی ایم کے رہنماؤں یا پی ڈی ایم کے حامیوں سے الجھے یا عوام الناس سے‘ ایک بڑا چیلنج ہے جس کا بہرحال کوئی نہ کوئی حل درکار ہے۔

Read more

تعلیمی ادارے اور فنون لطیفہ

گزشتہ کالم میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ ہمیں نئی نسل کو فنون لطیفہ کی جانب راغب کرنا چاہیے ’انہیں اردو زبان و ادب سے محبت کا درس دینا چاہیے۔ جو بچے لکھنا چاہتے ہیں یا لکھتے ہیں ان کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرنی چاہیے بلکہ ان کے لیے علمی و ادبی ورکشاپس‘ تربیتی پروگرامز اور علمی و ادبی سیشنز کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ ان کو علم و ادب کے قریب کیا جا سکے اور

Read more

نئی نسل سے مکالمہ

آج سے تقریباً پندرہ سال قبل جب لکھنے کا آغاز کیا تو سب سے پہلے جس طبقے نے تنقید کا نشانہ بنایا وہ میرے قریبی عزیز و اقارب تھے سو مجھے اس وقت یوں محسوس ہونے لگا جیسے لکھنا (بالخصوص شاعری) کوئی گناہ کبیرہ ہے ’یہی وجہ ہے کہ جس کو بھی یہ بتایا کہ ”ہم شاعر ہوتے ہیں“ ، تو آگے سے ایک ہی جواب ملتا کہ ”بھائی کوئی چنگا کام کر لیتے، کیا ایک یہی کام رہ گیا

Read more

عشق کی نئی تفہیم

پروفیسر صاحب نے غصے سے پہلو بدلا اور گویا ہوئے ”کیا گلیوں اور گھروں میں چراغاں کر نے ’عشق رسول ﷺ کے دھواں دار نعرے لگانے‘ لنگرکی تقسیم سے ’محفل نعت اور محفل میلاد سجا نے یا جلوس نکال کر سڑکیں بلاک کردینے سے عشق کا تقاضا پورا ہو جاتا ہے؟“ مجھے ان کی بات میں وزن لگا۔ میں نے مسکراتے ہوئے انکار میں سر ہلا دیا۔ پروفیسر صاحب نے سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے دوبارہ گفتگو کا آغاز کیا۔

Read more

گزشتہ کالم کے بعد

میرے گزشتہ کالم پر اسامہ جمشید مرحوم کے والد کی کال آئی اور ان کا کہنا ہے کہ اسامہ کے گھر والوں سے تعلقات بالکل بھی خراب نہیں تھے اور گھر والوں نے اس کے ساتھ کسی بھی طرح کا کبھی سخت رویہ نہیں رکھا۔ اسامہ کے والدکے بقول جو کچھ کالم میں لکھا گیا اور جو کچھ اسامہ کے قریبی دوستوں نے خبریں اڑائیں یا جو خبریں گردش کررہی ہیں ’ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں یہاں یہ بتاتا چلوں کہ جہاں تک والدکی ناراضی ہے یا اسامہ کے گھریلو مسائل ہیں‘ یہ ساری باتیں اسامہ قبل از مرگ خود دوستوں سے شیئر کرتا رہا اور وہی باتیں کہیں نہ کہیں سے نکل رہی ہیں جس پر دوستوں کو خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔

Read more

خود کشی اور سماجی رویے

ایک ہفتہ قبل، گجرات سے تعلق رکھنے والے نو جوان شاعر اسامہ جمشید نے خود کشی کر لی۔ یوں یہ موضوع ایک دفعہ پھر سوشل میڈیا کی زینت بن گیا اور ہمارا سماج، بالخصوص تخلیق کار طبقہ اپنے لیکچر اور رویوں سے یہ بتانے کی نا کام کوشش کر رہا ہے کہ کاش اسامہ ہمیں بتاتا، کاش ہم سے وہ اپنا دکھ شیئر کرتا، ہم سے وہ اپنے مسائل ڈسکس کرتا تو ایسا کبھی نہ ہوتا۔ یہ ایسے ڈائیلاگ ہیں، جو ہر خود کشی کے بعد معتبر طبقے کی جانب سے سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں۔ حالاں کہ حقیقت اس کے بر عکس ہوتی ہے۔

جو شخص خود کشی کی کوشش کرتا ہے، اس کے حالات سے بہت زیادہ نہیں، تو اچھے خاصی قریبی احباب آگاہ ہوتے ہیں اور کوئی چارہ کرنے کے بجائے عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ آج امن اور محبت کا بھاشن دینے والے یہ سوچنا شروع کر دیں کہ ہمارے ارد گرد کوئی اور ایسا نو جوان تو نہیں، جو اسامہ کی طرح موت کی جانب بڑھ رہا ہے اور ہم اسے مسلسل نا صرف نظر انداز کر رہے ہیں، بلکہ طنز کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں، تو میرے خیال سے اس رجحان میں بہت حد تک کمی آ سکتی ہے۔

Read more

یونیورسٹیوں کے طالب علم مذہبی گروہوں سے نجات چاہتے ہیں

جی ڈبلیو ایف ہیگل نے 18 ستمبر1806ء کو ایک تقریر میں کہا تھا ”ہم ایک اہم دور کے دروازے پر کھڑے ہیں۔ یہ ایک ایسا ہنگامہ خیز دور ہے جس میں انسانی جوش و ولولہ چھلانگ لگاتے ہوئے آگے بڑھتا ہے۔ سابقہ شکلوں کو بدل دیتا ہے اور ایک نیا روپ دھار لیتا ہے۔ دنیا کو جوڑ کر رکھنے والے سارے نمائندہ اصول، تصورات اور تانے بانے خواب کی تصویروں کی طرح ڈھیر ہو کر رہ جاتے ہیں، ایک نئی

Read more

میری مادر علمی: سراج الہدیٰ

یہ 1999ء اکتوبر کی بات ہے جب مجھے اس عظیم دانش گاہ کا حصہ بننے کا شرف حاصل ہونے جا رہا تھا۔ پانچویں کا امتحان پاس کرنے کے بعد مجھے والدین کی خواہش کے مطابق دنیا کی سب سے عظیم کتاب ”قرآن مجید“ کو حفظ کرنے کے لیے داخل کروا دیا گیا۔ میں اگرچہ اس وقت اس درس گاہ کی قدرومنذلت سے چنداں واقف نہ تھا مگر بطور طالب علم اس ادارے سے وابستگی نے مجھے جہاں اس ادارے کی

Read more

اورینٹل کالج شعبہ اردو اور ارمغان جمیل

جامعہ پنجاب کے الرازی ہال میں ہونے والی یہ تقریب اس حوالے سے بھی اہم تھی کہ اس میں ملک کے ممتاز صحافی اور قلم کار شریک تھے جو ڈاکٹر جمیل جالبی پر شائع ہونے والی اہم ترین کتاب ”ارمغان جمیل“ پر گفتگو فرما رہے تھے۔ یہ ارمغان شعبہ اردو ’اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی کے سربراہ‘ معروف محقق ’مترجم‘ کالم نگار اور اقبال شناس پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے ترتیب دیا جس میں ایم فل اور پی ایچ ڈی

Read more

ترا باپ بھی دے گا آزادی

سانحہ موٹروے ہواجس کے بعد دل واقعی دکھی ہے اور اس واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے ’کم ہے۔ پاکستان میں جس تیزی کے ساتھ ایسے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں اور پوری دنیا میں پورنو گرافی میں پاکستان جس طرح نمایاں پوزیشن میں آ رہا ہے‘ واقعی ایک غور طلب بات ہے۔ مجھے اس واقعے کے پس منظر اور اس کی جزیات پہ بات اس لیے بھی نہیں کرنی کہ اس پر بہت تفصیل سے لکھا اور دکھایا

Read more

بھارتی فوج اور لاہوری ناشتہ

یوم دفاع پاکستان ہماری قومی و عسکری تاریخ کا وہ روشن باب ہے جس پرمجھے بطور پاکستانی ہمیشہ فخر رہے گا اور میں اپنی آنے والی نسلوں کو یہ بتاتے ہمیشہ انہیں نصیحت کروں گا کہ پاکستانی فوج کا احترام ہرپل ملحوظ خاط رکھنا کیونکہ افواج پاکستان نے 1965 ء اور 1971 ء میں دشمن کو جیسے ناکوں چنے چبوائے اس کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ ہر سال یوم دفاع پر سینکڑوں کالم لکھے جاتے ہیں، ٹی وی

Read more

ہاسٹل میں خودکشی یا قتل؟

ستائیس اگست 2017 ء کی صبح نو بجے کے قریب مجھے کلاس فیلو عدنان رانا کی کال آئی کہ خالد بن ولید ہاسٹل (اولڈ کیمپس) جامعہ پنجاب کے کمرہ نمبر 169 میں ایک لاش پڑی ہے اور کئی دن پرانی لگ رہی ہے۔ چہرے اور جسم کی حالت اس قدر بگڑ چکی ہے کہ پہچان ناممکن ہے اور تعفن کی وجہ سے قریب جانا مشکل ہے۔ ہاسٹل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ کمرہ شعبہ اردو کے طالب علموں کو الاٹ تھا لہٰذا آپ کسی اردو کے طالب علم کو بلائیں تاکہ پہچان ممکن ہو۔

میں ان دنوں لاہور کے ایک نجی کالج میں بطور اردو لیکچرار ملازمت کر رہا تھا جو اورینٹل کالج (اولڈ کیمپس) سے چند منٹ کی پیدل مسافت پہ تھا۔ میں دس منٹ میں ہاسٹل پہنچا، انتظامیہ نے بتایا کہ اس کمرے میں ہمارے دوست شاعر تہذیب حافی اور شاہد خان نامی طالب علم کی الاٹ مٹ ہے اور حافی تو کچھ روز قبل ہی ہاسٹل سے پرائیویٹ فلیٹ پہ شفٹ ہوا تھا اور شاہد خان کئی دن سے گھر (بہاول نگر) تھا۔ اب معاملہ یہ ہے کہ جن دو لوگوں کے نام الاٹمنٹ ہے وہ دونوں ہاسٹل میں نہیں جبکہ ایک تیسرا شخص کمرے میں کیسے موجود ہو سکتا تھا؟

Read more

لوگ خود کشی کیوں کرتے ہیں؟

لوگ خود کشی کیوں کرتے ہیں؟ ایک ایسا بنیادی سوال ہے جس کا سامنا ہم سب کو زندگی میں کبھی نہ کبھی کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے عزیزوں میں، جاننے والوں میں یا دوستوں میں کوئی نہ کوئی خودکشی کی ”اٹیمپ“ لازمی کرتا ہے۔ ان میں سے کچھ بچ جاتے ہیں جبکہ زیادہ تر انتقال کر جاتے ہیں۔ ہر خودکشی کرنے والا اپنے بعد ایک بنیادی سوال چھوڑ جاتا ہے کہ آخر اس نے خود کشی کیوں کی؟ کیا وہ زندگی

Read more

تہتر سال بعد

بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947 ء کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: آپ دیکھیں گے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو ہندو نہیں رہیں گے اور مسلمان، مسلمان نہیں رہیں گے۔ مذہبی معنوں میں نہیں کیونکہ یہ ہر فرد کا ذاتی عقیدہ ہے بلکہ سیاسی معنوں میں وہ ایک ہی ریاست کے برابر کے شہری ہوں گے۔ آپ سب آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے، اپنی مسجدوں میں جانے کے

Read more

درباری کالم نگار اور نادر صدیقی کا اغوا

مجھے یاد پڑتا ہے مجھے سب سے پہلی گالی مسلم لیگ ق کے دور میں پڑی تھی جب پنجاب کے وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی تھے اور میں نے ان کے خلاف ایک تنقیدی کالم لکھ دیا جس پر ق لیگی محب وطن پاکستانیوں نے گالیوں کی بوچھاڑ کر دی، وہ دن ہے اور آ ج کا دن۔ ہر دور حکومت میں اگر اپوزیشن کے خلاف لکھا تو اپوزیشن کی گالیاں کھائیں، اگر حکومت کے خلاف لکھا تو حکومتی سپورٹرز

Read more

یوم استحصال کشمیر

پانچ اگست کشمیر میں کرفیو کوایک سال ہو گیا اور اس ایک سال میں کشمیریوں پر کس طرح کا ظلم روا رکھا گیا ’سوچ کر اوسان خطا ہو جاتے ہیں۔ پاکستانی وزیر اعظم جو خود کو کشمیر کا سفیر کہتے ہیں، انہوں نے اس ایک سال میں کشمیر عوام کی آزادی کے لیے کتنا کردار ادا کیا، اس پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ میں جب پیچھے ایک سال کو واپس مڑ کر دیکھتا ہوں کہ ہم نے کشمیری عوام کے

Read more

محکمہ تعلیم اور کرپشن کہانی

25 جو لائی وہ تاریخ ساز دن ہے جب موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی بائیس سالہ جدوجہد کامیاب ہوئی اور یوں تحریک انصاف پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی بن کر 2018 ء میں حکومت بنانے میں کامیاب ٹھہری۔ یہ بائیس سال عمران خان ہر دور حکومت میں اپوزیشن میں رہے، ہر دور میں پاکستان کی کرپشن کہانی سناتے رہے، بائیس سال قوم سے انصاف اور کرپشن کے خاتمے کے وعدے کرتے رہے اور قوم کو ایک ایسے پاکستان

Read more

تعلیمی ادارے اور جنسی ہراسگی کے واقعات

پچھلے کچھ عرصے میں درجنوں تعلیمی اداروں میں ایسے واقعات میڈیا کی زینت بنے جس میں یا تو قابل اساتذہ کی طرف سے طالبات کو جنسی ہراسمنٹ کا سامنا رہا یا پھر دوسرا پہلو بھی سامنے آیا جس میں طالبات کی جانب سے بھی ایسا منفی عمل دیکھنے میں آیا جس کا مقصد کسی نہ کسی استاد کو بدنام کرنا یا پھر اس کی علمی و معاشرتی تشخص کو خراب کرنا مقصود تھا۔ اول الذکر واقعات کی تعداد زیادہ نظر

Read more

ریشیاں سے لیپہ سیکٹر

ہم اتوار شام کھوڑیاں گاؤں پہنچے جوباغ سے دو گھنٹے کی مسافت پہ تھا۔ اگر ہم باغ سے ہی صبح لیپہ روانہ ہوتے تو ہم ایک دن میں لیپہ سے واپس نہیں آ سکتے تھے۔ لہذا ہمارے دوست شرافت حسین نے ہمیں مشورہ دیا کہ ہم رات کھوڑیاں (آبائی گاؤں ) قیام کریں اور سفر لمباہونے کے باعث صبح سویرے ہی لیپہ کے لیے روانہ ہو جائیں تاکہ ایک ہی دن میں ہم واپس بھی پہنچ سکیں۔ کھوڑیا ں سے

Read more

کشمیری عوام کے لیے

میں پچھلے تین روز سے باغ آزاد جموں کشمیر میں ہوں اورکشمیر کی خوبصورت فضاؤں اور چشموں کی طرح صاف شفاف لوگوں کی محبت اورمیزبانی لطف اندوز ہو رہا ہوں۔ باغ آزاد کشمیر کا انتہائی پرفضا مقام ہے جس کی آبادی تقریباً پینتیس ہزار جبکہ رقبہ سات سو ستر مربع کلومیٹرہے جو ہمیشہ سے سیاحوں کا توجہ کا مرکز رہا۔ اس کے شمال میں جہلم ویلی (ہٹیاں بالا) او رمظفر آباداور جنوب میں پونچھ ہے۔ باغ کے قرب و جوار

Read more

آہ! کامریڈ رشید مصباح

معروف ترقی پسند نقاد اور افسانہ نگار رشید مصباح بھی چل بسے۔ ایک طویل عرصہ تنہائی اور بیماری سے جنگ لڑتے ہوئے گزری اور دو جون کو ہمیشہ کے لیے دنیا سے کنارہ کر لیا۔ میرا ان سے محبت کا تعلق دس سالوں پر محیط ہے، کتنی کہانیاں، کتنے واقعات، کتنے سفر، کتنی یادیں اورکتنی تقریبات ہیں۔ کس کس بات کا ذکر کروں، کون سی یاد تازہ کروں۔ ان کی افسانہ نگاری (سوچ کی داشتہ، گمشدہ آدمی، آکاس بیل) پہ

Read more

فیصلہ عمران خان کے ہاتھ میں ہے

میں عمران خان کی حکومت سے اس قدر مایوس ہو چکا ہوں کہ آج اس کی مخالفت میں ایک بھرپور کالم لکھ رہا ہوں۔ عمران خان کے آنے سے ملک کا کتنا نقصان ہوا اس سے ہر محب وطن (یہاں محب وطن سے مراد صرف نون لیگی اور پیپلز پارٹی کے کارکن لیے جائیں) پاکستانی واقف ہے۔ میں بھی چونکہ ایک سچا اور کھرا پاکستانی ہوں لہٰذا میں بھی یہی سمجھتا ہوں کہ ملک کو سب سے خسارہ اسی دور

Read more

آہ! میری لاڈلی بہن

زندگی کس قدر بے اعتبار شے ہے، اس کا اندازہ کرونائی عہد میں زیادہ شدت سے ہوا۔ صبح سے شام تک موت کی خبریں سنتے ہوئے اس قدر خوف زدہ اور ڈپریشن کا شکار ہو چکا ہوں کہ اب تو معمولی سے طبیعت کی خرابی پہ بھی یہی گماں ہونے لگتا ہے کہ بس اب جانے کا وقت آ پہنچا۔ اس عجیب و غریب کیفیت میں انسان نہ تو کوئی خوشی ٹھیک سے انجوائے کر پا رہا ہے اور نہ ہی غم کا ماتم۔ جون کا آغاز ہوا اور شروع کے پندرہ دنوں میں پچیس کے قریب اموات دیکھی اور سنی اور ان میں زیادہ تر لوگ جاننے والے تھے یا کہ عزیز و اقارب۔

اسی دوران ایک اہم ترین حادثہ میری بڑی ہمشیرہ کی وفات کا بھی ہوا جو گزشتہ ایک برس سے دل کے عارضے میں مبتلا تھیں اور یہ عارضہ جان لیوا ثابت ہوا۔ پندرہ جون کی صبح گیارہ بجے ان کی حالت خراب ہوئی، جس پر ہسپتال لے جایا گیا مگر شاید وہ ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی داعی اجل کی آواز پر دائمی منزل کا سفر اختیار کر چکی تھی۔ کتنی تکلیف اور اذیت بھرا وہ لمحہ ہوتا ہے جب آپ اپنے کسی بھائی یا بہن یا کسی بھی ایسے عزیز کو منوں مٹی میں رکھ کر آرہے ہوتے ہیں جس کے ساتھ آپ نے زندگی کے پچیس سے تیس سال گزارے ہوں۔

Read more

عوام دوست بجٹ 2020ء

وفاقی حکومت نے 12 جون کو اپنا دوسرا سالانہ ”عوام دوست“ بجٹ پیش کر دیا جس کا حجم 60,295 ارب روپے رکھا گیا ہے اور حسب معمول ایوان میں اپوزیشن جماعتوں نے بینرز اٹھا کر احتجاج ریکارڈ کروایا کہ یہ بجٹ عوام دوست ہونے کی بجائے عوام دشمن ہے۔ سوشل میڈیا سمیت دیگر ابلاغ کے ذرائع پر جن موضوعات کو سب سے زیادہ تنقیدکا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ تعلیم اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کا معاملہ ہے۔ ہر

Read more

کرونائی قیاس آرائیاں

کرونا وائرس سے زندگی عجیب صورت حال سے دوچار ہے، کسی سے ملنا یا ہاتھ ملانا تو درکنار گھر سے نکلتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے۔ نزلہ زکام یا کھانسی کی صورت میں اس ڈر سے ہسپتالوں کا رخ نہیں کرتے کہ کہیں کرونا پوزیٹیو نہ آ جائے اور لوگ شدید بیماریوں میں بھی گھروں میں مقید ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ چند دنوں میں میرے ارد گرد کئی ایسی اموات بھی ہوئیں جن کے بارے میں، میں بذات خود بھی کلیئر ہوں کہ ان کو کرونا وائرس نہیں تھا مگر ہسپتال والوں نے ان کی اموات کو کرونا وائرس ہی قرار دیا۔

Read more

غلام نسلوں کا واویلا

کرنل محمد فاروق نے اگست دو ہزار اٹھارہ میں ایبٹ آباد کے مقام پر پولیس کے ساتھ بدتمیزی کی، انہیں گالیاں تھیں اور انہیں پیچھے سے گولی مارنے کی دھمکی دیتے ہوئے قانون کی دھجیاں اڑائیں، بدلے میں پولیس افسر نے بھی کمال بہادری کا مظاہرہ کیا اور وہی گالیاں بالکل اسی انداز میں کرنل کو بھی دے ڈالیں اور دونوں کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، معاملہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ تک پہنچا جس پر انھوں نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کرنل فارق کا کوئٹہ ٹرانسفر کر دیا اور یوں معاملہ رفع دفع ہوگیا۔

Read more

اسلام اور دہشت گردی

گزشتہ چند دہائیوں اور بالخصوص نائن الیون کے بعد مغربی پالیسی سازوں اور برطانوی سامراج کی حمایت کرنے والوں نے اسلام دشمنی میں مسلمانوں کے بارے میں عوام الناس کی ایسی متعصب ذہن سازی کرنے کی کوشش کی جس سے پوری دنیا اور بالخصوص مغرب کے حامیوں نے مسلمانوں کو مجرم کہتے ہوئے کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔ بنیاد پرستی اور انتہا پسندی جیسے الزامات کے بعد کئی برسوں سے دہشت گردی کا ٹھپہ لگا کر مسلمانوں کو عالمی امن کے لیے نہ صرف خطرہ قرار دیا رہا ہے بلکہ مسلم ممالک کو تباہ و برباد کرنے کے لیے نت نئی پالیسیاں بنائی گئیں اور آئے روز نئے نئے پروپیگنڈے کیے جاتے رہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ الزامات وہ طاقتیں لگا رہی ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے سو فیصد جائز حقوق بھی علی

Read more

لاک ڈاؤن کا خاتمہ اور امتحانات کی منسوخی

کالم لکھنے کے لیے لیپ ٹاپ آن کیا تو جن خبروں نے اپنی جانب متوجہ کیا ان میں سب سے نمایاں لاک ڈاؤن ختم ہونے، مارکیٹیں کھلنے اور تعلیمی ادارے بند ہونے کی اطلاعات تھیں۔ مزید یونیسیف کی رپورٹ کے ہوش ربا انکشافات نے بھی اپنی جانب توجہ مبذول کروائی جس کے مطابق کرونا کی وجہ سے دنیا بھر میں بچوں کی پیدائش میں ریکارڈ اضافہ ہوگا اور ان میں بھی سب سے زیادہ پاکستان اور بنگلہ دیش متاثر ہوں گے۔ یعنی دنیا بھر میں 116 ملین بچے پیدا ہوں گے، جنوبی ایشیا میں 29 ملین جبکہ مارچ سے دسمبر تک پاکستان میں پانچ ملین بچے پیدا ہوں گے۔

Read more

تین سو تیرہ یہ رجب 2 ہجری کی بات ہے

نبی کریم ﷺ نے حضرت عبد اللہؓ بن حجش کو ایک خط دے کربارہ آدمیوں کے ساتھ بطنِ نخلہ کی طرف بھیجا، خط کے مطابق آپ ﷺ کا حکم تھا کہ ”مقامِ نخلہ میں قیام کرواور قریش کے حالات کا پتہ لگاؤ اور اطلاع دو“ ۔ اتفاق یہ کہ قریش کے چند آدمی شام سے مالِ تجارت لے کر واپس آ رہے تھے کہ حضرت عبداللہؓ نے ان پر حملہ کر دیا ’ان میں ایک شخص عمروبن الحضرمی مارا گیا۔

Read more

پنجاب میں اساتذہ کا استحصال روکا جائے

اس وقت وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود ہیں اور پنجاب میں وزرتِ تعلیم کا قلم دان جناب مراد راس کے پاس ہے۔ یہ دونوں شخصیات پاکستان میں تعلیمی معیار کو بلند کرنے اور شرح خواندگی کے اضافے کے اس خواب کو شرمندہ تعبیر بنانے کے لیے کوشاں ہیں جو نئے پاکستان میں ہمیں عمران خان نے دکھایا ہے بلکہ اگر میں یہ کہوں تو شاید بے جا نہ ہو کہ عمران خان اس ملک کے واحد وزیر اعظم ہیں جنہوں

Read more

میانوال رانجھا کی فضاؤں میں فطرت سے مکالمہ

گزشتہ طویل عرصے سے زندگی اس قدر مصروف رہی کہ اتوار کا دن بھی کسی نہ کسی تقریب یا شاعرے کی نذر ہو جاتا اور اگر ایسا نہ ہوتا تو نیند پوری کرنے میں گزر جاتا۔ بڑے شہر میں رہتے ہوئی مادیت پرستی کی دوڑ نے مجھے فطرت سے کس قدر دور کر دیا اس کا اندازہ اس ایک ماہ گاؤں کے قیام کے دوران ہوا۔ لاہور کی مصروف ترین زندگی جہاں کھانے پینے سے لے کر ہوا تک مصنوعی

Read more

سپینی انفلوئنزا سے کرونا وائرس تک

یہ سو سال پرانی بات ہے :

پوری دنیا میں تباہی پھیلا دینے والی انفلوائنزا کی وبا 1918 کے موسمِ خزاں میں امریکی کی 48 ریاستوں میں نہایت تیزی سے پھیلی۔ امریکی شہروں میں اشتہار لگا دیے گئے کہ کھانسنا یا چھینکنا ایک غیر قانونی عمل ہے اور ایسا کرنے والے افراد کو 500 ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ واشنگٹن ڈی سی کے ڈاکٹر نوبل پی بیرنز نے کہا ”چھینکنے یا کھانسنے والے افراد پر جرمانہ لگانا چاہیے، انہیں قید کر دینا چاہیے اور اس وقت تک ان کے منہ پر نقاب یا ماسک چڑھا دینا چاہیے جب تک وہ صحت یاب نہیں ہو جاتے“۔

Read more

لاک ڈاون میں اساتذہ کا استحصال: وزیرِ تعلیم جناب شفقت محمود کے لیے ایک کالم

ملک بھر میں کرونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کر دیا گیا اور یہ لاک ڈاؤن نہ جانے کب تک رہے کیونکہ حکومتی احکامات کے مطابق تعلیمی ادارے تو یکم جون تک بند رہیں گے مگر لاک ڈاؤن کب ختم ہوتا ہے اس کی کوئی واضح ڈیڈ لائن نہیں دی گئی لیکن خیر ہمیں حکومتی احکامات کا مکمل احترام کرنا ہوگا کیونکہ ریاست ہمیشہ اپنے باسیوں کی جان او رمال کا تحفظ کرتی ہے۔ گزشتہ چند کالموں میں اگرچہ میں

Read more

طاعون سے کرونا وائرس تک

گزشتہ ایک ہفتے سے کرونا وائرس کی وجہ گھرمیں قید ہوں اور اس دوران کتب بینی زوروں پہ ہے۔ عام دنوں میں کبھی اتنی فرصت نصیب نہیں ہوئی کہ اتنی یکسوئی سے مسلسل کتب پڑھی جائیں جس کتاب نے مجھے متاثر کیا وہ سٹیفن جے سپگنیس کی کتاب ”سو بڑے حادثات“ ہے۔ یہ کتاب اس لیے بھی اہم ہے کہ ایک طرف حالیہ کرونا وائراس سے پوری دنیا میں ہونے والی تباہی اور دوسری طرف اس کتاب میں موجود 526

Read more

آزادی عورت کا بنیادی حق ہے مگر؟

پاکستان میں اس وقت سب سے زیادہ زیرِ بحث موضوع ”عورت مارچ“ ہے۔ آٹھ مارچ کو خواتین کے عالمی دن پر پورے پاکستان میں یہ مارچ کیا گیا۔ ناقدین کا خیال ہے کہ یہ مارچ کرنے والی محض وہ پانچ یا دس فیصد خواتین ہیں جو مادر پدر آزاد معاشرہ چاہتی ہیں اور جب ان کو اس مشرقی معاشرے میں وہ آزادی نہیں مل رہی تو یہ مردوں کے لئے گالیاں، معاشرے کو گھٹیا اور گھٹن زدہ کہنے پر اتر

Read more

امریکہ افغان معاہدہ

امریکہ اور طالبان معاہدہ بالاخر ہو گیا جسے فوجی انخلا اور امن سے مشروط کیا گیا۔ معاہدے کی رو سے طالبان اپنی سرزمین کسی بھی دہشت گرد جماعت کے ہاتھوں استعمال نہیں ہونے دیں گے اور مزید دونوں ممالک اس معاہدے کی پاسداری کریں گے۔ اگر کوئی ملک اس کی خلاف ورزی کرے گا تو دوسرے ملک کے پاس جوابی کارروائی کا حق محفوظ ہوگا۔ 20 دسمبر 2019 ء کو امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زادنے

Read more

ُٓادبی و ثقافتی ادارے اور کانفرنسیں

12 ؍ 13 جنوری ساہیوال آرٹس کونسل کی سالانہ کانفرنس تھی اور ہر سال کی طرح اس سال بھی یہ کانفرنس ایک نئے انداز اور نئے موضوعات کے ساتھ منعقد ہوئی جس میں پاکستان بھر کی یونیورسٹیز سے اردو کے اساتذہ، اسکالرز اور تشنگانِ علم و ادب شریک ہوئے اور یہ دو روزہ میلہ بہت سی یادیں چھوڑ کر اختتام پذیر ہوا۔ اس سے قبل بھی راقم دو کانفرنسوں میں ساہیوال آرٹس کونسل میں شریک ہوا جن میں سے ایک

Read more

فیض امن میلہ اور انقلاب کا منجن

میں اتوار کے روز فیض امن میلے میں شریک ہوا اور ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی اس میلے میں انقلاب کا راستہ ہموار کرنے اور جاگیرداری کلچر کے خاتمے کے لیے لمبی لمبی تقاریر کی گئیں۔ ایک سیشن انتہائی اہم تھا جس کی وجہ سے مجھے وہاں کچھ دیر رہنا پڑا وہ سٹوڈنٹس یونین پر مکالمہ تھا جس میں ان تمام طلبا کو اکٹھا کیا گیا جنہوں نے نومبر میں سرخ انقلاب کی بات کی تھی اور پھر ہم

Read more

پانچ روزہ کتاب میلہ اور حکومتی رویہ

چھے فروری سے ایکسپو سنٹر میں شروع ہونے والا انٹرنیشنل کتاب میلہ دس فروری بروز پیر کو اپنے اختتام کو پہنچ گیا اور یہ میلہ بھی ہمیشہ کی طرح کئی ان گنت کہانیاں اور واقعات ہمارے دامن میں بھر گیا۔ ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی حکومتی سنجیدگی بالکل صفر رہی۔ گزشتہ برس تو سننے میں آیا تھا کہ جب صدرِ مملکت عارف علوی کو کتاب میلے میں مدعو کیا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی

Read more

عشق میں اس سے کروں گا جسے اردو آئے

میں عام طور پر تقریبات پہ بہت کم ہی قلم اٹھاتا ہوں کیونکہ ہمارے ہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ جس کالم نگار کے پاس کوئی موضوع نہ ہو وہ تقریبات کا سہارا لے کر کالم سجا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمومی طور پر تقریبات پر کالم سے گریز کرتا ہوں مگر کچھ تقریبات ایسی ہوتی ہیں جن پر کالم نہ لکھ کر ہم تقریب اور میزبانوں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں اور میں کسی بھی طرح کی

Read more

استاد کو عزت دو

میں گزشتہ کئی ماہ سے ایک نجی نشریاتی ادارے میں اعزازی طور پر بطور ”انچارج انٹرویوز سیکشن“ کے کام کر رہا ہوں اور مجھے اس دوران کئی اہم تجربات سے گزرنے کا اتفاق ہوا۔ میں نے اس عہدے پہ آنے کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا کہ ایسے لوگوں کے انٹرویوز کیے جائیں جنہوں نے پاکستان کے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ملک و قوم کے لیے کوئی نمایاں کام کیاہو اور جس سے کوئی مثبت اثرات بھی سامنے آئے

Read more

زینب الرٹ بل:حکومت کے لیے چند تجاویز

15 جنوری 2020 ء کی ٹھنڈی صبح دفتر پہنچا ہی تھا کہ ایک ای میل موصول ہوئی۔ آپ پہلے وہ ای میل ملاحظہ فرمایئے۔ ”محترم جناب آغر ندیم سحر! میرا تعلق جھنگ کے ایک نواحی قصبہ سے ہے۔ میں آپ کے کالموں کا مستقل قاری ہوں اور آج میں آپ سے اپنا ایک دکھ شیئر کرنا چاہ رہا ہوں۔ محترم ندیم صاحب آج صبح جھنگ میں ایک اور قاری نے بارہ سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور فرار

Read more

شفقت محمود اور فواد چودھری سے مکالمہ

یہ دو روزہ ”تھنک فیسٹ“ کے نام سے اپنی نوعیت کا ایک منفرد فیسٹول تھا جس کا ٹائٹل ”آئیں، سوچیں اور سوال اٹھائیں“ تھا۔ میں اس دوروزہ فیسٹیول میں بطور مندوب شریک تھا اور بہت سارے سیشنز کو سننے کا موقع ملا۔ ان دو دونوں میں اگرچہ درجنوں سیشنز تھے مگر دو سیشن ایسے تھے جنہوں نے مجھے بہت متاثر بھی کیا اور یوں سمجھ لیں کہ یہ دونوں موضوعات میرے پسندیدہ ہیں لہٰذا ان دونوں سیشن میں ’میں موجود

Read more

کٹاس راج، اقلیتیں اور امن کی آشا

راج کٹاس ہندوؤں کا انتہائی متبرک مقام ہے جو کوہستانِ نمک کے درمیان چکوال سے تقریبا 30 کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب کی جانب واقع ہے۔ مہا بھارت جو مسیح علیہ السلام سے 300 سال پہلے کی تصنیف ہے ’اس میں اس جگہ کا ذکر موجود ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ کے بارے میں تاریخ جہلم کے پرانے نسخے میں بتایا گیا ہے کہ برہمنوں کی روایت کے مطابق جب شیو دیوتا کی بیوی ستی مر گئی تواُسے اتنا دکھ

Read more

ادارہ سخن اور نسل ِ نو کاقافلہ

اس وقت پاکستان میں ادبی حوالے سے جو موضوع سب سے زیادہ زیرِبحث ہے وہ نئی نسل کے تخلیق کار اور ان کا ادبی سفر ہے۔ درجنوں تنظیمیں جو کسی نہ کسی سینئر آدمی کے قبضے میں ہیں اور افسوس کہ ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان میں یا تو نوجوانوں کو موقع ہی نہیں دیا جاتا ہے اور اگر کوئی تنظیم یا سینئر ادبی رہنما کسی کو موقع دیتا بھی ہے تو انہیں نوجوانوں کو جو اس کی ذات

Read more

ڈاکٹر اور وکیل: جیسے کو تیسا

یہ آج سے تین ماہ پہلے کی بات ہے میرا ایکسیڈنٹ ہوا اور میں سروسز ہسپتال پہنچ گیا۔ ابتدائی چیک اپ کے بعد معلوم ہوا کہ دائیں ہاتھ میں ہیئر لائن فریکچر ہے اور پندرہ دن کے لیے پلستر لگے گا۔ مجھے پلستر کے لیے ایمرجنسی سے او پی ڈی بھیج دیا گیا اور وہاں جا کر اندازہ ہوا کہ ڈاکٹرز تو ڈاکٹرز ہیں یہاں کا فور کلاس عملہ بھی ایم ایس سے کم نہیں۔ جس سے بھی بات کی

Read more

استاد کا گریبان پکڑنے والا معاشرہ

میں آج جب یہ کالم لکھ رہا ہوں تو یقین جانیں میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں۔ میں ایک استاد ہوں اور ایسے ملک کا استاد ہوں جہاں استاد کی قطعاً کوئی اہمیت نہیں۔ یہ ایسا بے حس ملک ہے جہاں استاد معاشرے کا انتہائی کم تر طبقہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ معاشرہ محلے کے کونسلر ’پٹواری اور ناہل سیاست دان کو اہمیت دے لے گا لیکن یہ ایک استاد کو اپنا غلام سمجھے گا۔ یہ معاشرہ ہر طبقے کو عزت

Read more

علامہ اقبالؒ اور میڈیا

میں 26 نومبر کو بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد میں ہونے والی قومی اقبال کانفرنس میں بطور مندوب شرکت کے لیے آیا ہوں جہاں میری میزبانی برادر عثمان غنی رعد کر رہے ہیں۔ راقم اس کانفرنس میں اپنے کالج کی نمائندگی کے لیے آفشیل حاضر ہوا جس پر لیفٹیننٹ کرنل (ر) حسن خاور محمود اور ڈاکٹر نویدالحسن کا ممنون ہوں کہ مجھے اس کانفرنس میں بھیجا۔ یہ کانفرنس اپنی نوعیت کی ایک منفرد کانفرنس ہے اور اس کی وجہ اس کانفرنس

Read more

ایشیا سرخ ہوگا؟

جی ڈبلیو ایف ہیگل نے 18 ستمبر 1806 ء کو ایک تقریر میں کہا تھا ”ہم ایک اہم دور کے دروازے پر کھڑے ہیں۔ یہ ایک ایسا ہنگامہ خیز دور ہے جس میں انسانی جوش و ولولہ چھلانگ لگاتے ہوئے آگے بڑھتا ہے۔ سابقہ شکلوں کو بدل دیتا ہے اور ایک نیا روپ دھار لیتا ہے۔ دنیا کو جوڑ کر رکھنے والے سارے نمائندہ اصول، تصورات اور تانے بانے خواب کی تصویروں کی طرح ڈھیر ہو کر رہ جاتے ہیں،

Read more

جدّی پُشتی نوکر

عاقب ستیانوی کا تعلق جھنگ سے ہے ’ان کی مشہور ترین نظم ”جدی پشتی نوکر“ کو سوشل میڈیا پر دو ملین سے زائد فالورز ملے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ایک ایسا احتجاج تھا جسے ہر سنجیدہ قاری نے نہ صرف محسوس کیا بلکہ عاقب ستیانوی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ گزشتہ روز ننکانہ صاحب میں ہونے والے مشاعرے میں (جو بھائی انورزاہد نے کروایا) جب ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے اس نظم کا پسِ منظر بھی

Read more

اقبالؔ اور فیضؔ کی یاد میں

نومبر کا مہینہ دو شاعروں کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے ’اقبالؔ اور فیض ؔاور نومبر میں ہی نامور افسانہ نگارو شاعر احمد ندیمؔ قاسمی بھی پیدا ہوئے۔ یہی وجہ ہے اس نومبر میں ہونے والی زیادہ تر تقریبات کا موضوع اقبالؔ اور فیضؔ ہوتا ہے یا پھراحمد ندیمؔ قاسمی کے چاہنے والے اس مہینے ان کی سالگرہ اور مشاعرے کا اہتما م کرتے ہیں۔ یہ ساری تقریبات یقینا ان نامور تخلیق کاروں کو یاد کرنے کا ایک بہانہ ہوتا

Read more

ریاستِ مدینہ میں نابینا افراد کے ساتھ سلوک

حضرت عبداللہ ابن ِمکتوم ؓ کے والد کانام قیس ابن زید اوروالدہ کا نام عتیقہ بنت عبداللہ تھا۔ آپؓ پیدائشی نابینا تھے اور پہلے پہل مسلمان ہونے والوں میں ان کا نام آتا ہے۔ نبی کریمﷺ حضرت عبداللہ ؓابن ِمکتوم سے بہت محبت کرتے تھے۔ اس محبت کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی کریمﷺ نے ہجرت سے قبل عبدا اللہ ابن ِ مکتوم کو معروف صحابی مصعب بن عمیرؓ کے ہمراہ مدینہ شریف میں قرآن

Read more