وہی منصفوں کی روایتیں، وہی فیصلوں کی عبارتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بجا کہ سپریم کورٹ کے جج صاحبان کے سر جج ارشد ملک کے مس کنڈیکٹ کی وجہ سے جھکے ہوئے تھے مگر زبانیں کیوں خاموش تھیں۔ ضمیر پر بوجھ کا اندیشہ ضرور ہو گا مگر پچیس صفحات پر مشتمل فیصلے یا ان کے چیدہ نکات عدالت مین بتانے میں کیا  امر مانع تھا؟ کیا اب یہ سمجھا جائے کہ جن فیصلوں سے نواز شریف کے موقف کی جزوی اصابت کا اشارہ بھی ملے گا وہ ویب سائٹ پر ڈال دیے جائیں گے؟ انصاف کے اندھا ہونے کے بار ے میں تو سنتے آئے ہیں لیکن انصاف گونگا بھی ہوتا ہے، اس کا مشاہدہ گزشتہ روز ہوا۔

اگر یہ فیصلہ نواز شریف کے خلاف ہوتا تو بھی ایسے ہی سنایا جاتا؟ نہ مثبت خبر دینے والے میڈیا نے ڈرامائی انداز اپنایا نہ حق پرست اینکرز نے نواز فیملی کی کرپشن کی داستانیں سنائیں۔ نہ سیاسی اور دفاعی تجزیہ نگاروں نے چیخ چیخ کر ملک کے لٹنے کا نوحہ پڑھا اور نہ ہی ججوں کے چیمبر میں آکر براجمان ہونے اور زمینی خدا بن کر فیصلہ سنانے کا ذکر ہوا نہ لمحہ بہ لمحہ فیصلے کے مندرجات کو ڈرامائی انداز میں ٹی وی سکرینوں پر رقم کیا گیا۔ نہ نواز شریف اور مریم نواز کی پریشان حال تصویروں کی نمائش ہوئی اور نہ کالے کوٹ میں ملبوس چند بھاڑے پر لائی گئی کالی بھیڑوں نے فیصلے کو پاکستان کی عدالتی تاریخ کا بہترین فیصلہ قرار دیا۔

یہ فیصلہ تھا یا سکوت مرگ؟ انصاف کا المیہ تھا یا مرگ انبوہ کا جشن؟ ججوں کے فیصلے تو خیر پہلے بھی نہیں بولتے تھے، آج جج بھی نہیں بولے۔ جن معزز جج صاحبان نے فریادیوں اور عدل کے طلبگاروں کو ان کے سوالوں کے جواب دینا ہوتے ہیں وہ آج خود سراپا سوال تھے۔ یہ وہی جج صاحبان ہیں جنہوں نے بڑی دردمندی سے اہل وطن کو سسیلین مافیا اور گارڈ فادرز وغیرہ کے بارے میں آگاہ کیا تھا مگر آج چپ سادھے بیٹھے رہے۔

طرفہ تماشا یہ ہے کہ جج ارشد ملک بد کردار، ناقابل اعتماد، خوف اور لالچ کا اسیر اور جج کے منصب کے لیے ہر گز اہل نہیں مگر دباٶ میں دیے گئے اس کے فیصلوں کو ہم کالعدم نہیں کر سکتے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جس ویڈیو لیکس نے جج ارشد ملک کی جاب اور ساکھ کا دھڑن تختہ کیا ہے وہی وڈیو نواز شریف کی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ ظلم عظیم ہے کہ نواز شریف کو سزا دینا مقصود ہو تو ہمیں ٹرائل کورٹ سمیت تمام کورٹس کے اختیارات حاصل ہو جاتے ہیں مگر جب ان کی بے گناہی سامنے آنے کا خدشہ ہو تو ہمارے اختیارات سمٹ کر اک جوئے آپ بن جاتے ہیں۔

قیامت کی بے بسی ہے کہ نواز شریف کیس کے حوالے سے ایسے احکامات صادر کرنا پڑ رہے ہیں کہ جن کا خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی۔ آپ کی بات سولہ آنے درست ہے مگر پرنالہ وہیں رہے گا۔ جج ارشد ملک کا کردار اس لحاظ سے قابلِ تعریف ضرور ہے کہ اس نے جیسے بھی سہی، خود پر پڑنے والے دباٶ کا اقرار تو کیا ہے۔ ارشد ملک کے فیصلے سے عدلیہ کے دیانت دار ارکان کے سر شرم سے جھکنا باور ہوتا ہے لیکن دست بستہ عرض ہے کہ سر کے جھکنے کے لیے اس کا ماضی میں سر کشیدہ ہونا ضروری ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •