بلاول بھٹو اور عامر کیانی کا دورہ گلگت بلتستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سات روزہ تنظیمی دورے پر بلتستان آئے ہیں، ان کے ہمراہ مرکزی رہنما قمرالزمان کائرہ بھی موجود ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے بلتستان ریجن کے علاوہ ضلع استور کا بھی براستہ دیوسائی نیشنل پلان دورہ کیا جہاں پر کارکنوں اور عوام سے مخاطب ہونے کا موقع ملا۔ بلاول بھٹو زرداری چند ماہ قبل گلگت کا دورہ کرچکے ہیں، جس میں انہوں نے گلگت میں ایک شاندار عوامی جلسہ کرکے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا تھا۔

اب کی بار انہوں نے بلتستان میں قوت آزمائی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ سکردو میں پیپلزپارٹی نے میدان سجالیا، اور کامیاب جلسہ کرلیا، یوں اب پیپلزپارٹی میں شمولیتوں کا سلسلہ جاری ہے جن میں قابل ذکر سابق رکن اسمبلی غلام علی حیدری و دیگر ہیں۔ پیپلزپارٹی کی صوبائی قیادت اس وقت دیگر جماعتوں کے قائدین کے نسبت قدرے متحرک بھی ہے اور عوامی حقوق پر لب کشائی کرتے ہوئے مخالفین پر تیر اندازی بھی خوب کررہی ہے۔ ایک سال کے اندر مرکزی چیئرمین کا دوسری بار دورہ کرانا بھی پیپلزپارٹی کی صوبائی قیادت کی کامیابی ہے۔ پیپلزپارٹی کا جی بی سے طویل تعلق کی وجہ سے یہاں کے مسائل پر ’گفتگو‘ کرنا ان کے لئے نہایت آسان ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی جنرل سیکریٹری عامر کیانی کی قیادت میں تین رکنی وفد بھی ان دنوں تنظیمی دورے پر گلگت میں ہیں، وفد میں وزیراعظم کے معاون افتخار درانی اور مرکزی رہنماء بابر اعوان شامل ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی قائدین کے دورے پر لب کشائی سے قبل تحریک انصاف کی ابھی تک کی سیاسی پوزیشن واضح کرنا لازمی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان میں طویل عرصے تک افراتفری کا شکار رہی ہے، صوبائی قیادت کے انتخاب میں غفلت یا سستی کی وجہ سے تحریک انصاف کو سیاسی سطح پر زچ پہنچا تھا۔

بڑی دیر کے بعد انہوں نے گزشتہ ماہ صوبائی قیادت کا انتخاب کرلیا۔ تحریک انصاف کے نئے صوبائی صدر سید جعفرشاہ طویل تجربہ کے حامل ہونے کے علاوہ اثررسوخ رکھنے والی شخصیت ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے پیپلزپارٹی کی بھاگ دوڑ بھی سنبھالی ہے اور منصف کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں جبکہ 2015 کے بعد پیپلزپارٹی سے تنظیمی امور پر اختلاف بالخصوص امجد حسین ایڈوکیٹ کو صوبائی صدر بنائے جانے کے بعد انہوں نے پیپلزپارٹی کی بنیادی رکنیت سے ہی استعفیٰ دیدیا اور وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد وہ پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے۔

سید جعفرشاہ کی پی ٹی آئی میں شمولیت بھی اسی شورش زدہ صورتحال میں ہوئی تھی تاہم قدآور شخصیت کی تحریک انصاف میں شمولیت سے کارکنوں میں خوشی کی لہردوڑ گئی۔ گزشتہ ماہ جب سید جعفرشاہ کو پی ٹی آئی کا صوبائی صدر مقرر کیا گیا جبکہ ان کے ہمراہ فتح اللہ کو جنرل سیکریٹری بنادیا، یوں تنظیم سازی قدرے بہتر بھی رہی اور کارکنوں کے خواہشات کے عین مطابق بھی رہی۔ سید جعفرشاہ کے صوبائی صدر بننے کے بعد سے ہی پی ٹی آئی میں شمولیتوں کا سلسلہ تیز ہوگیا۔

سابق امیدواروں سمیت علاقے کی سماجی و سیاسی شخصیات دورنگی جھنڈے کو بطور ہار پہن رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی صوبائی قیادت کی اندرون خانہ سٹریٹجی کا علم نہیں ہے، ابھی تک صرف اخباری بیانات سے ہی گزارہ چلایا جارہا ہے۔ 25 جولائی کو، جب حزب اختلاف نے یوم سیاہ منایا تھا، تحریک انصاف نے یوم فتح منالیا، تاہم تحریک انصاف کی جانب سے گلگت کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہونے والی تقریب میں کارکنوں کی تعداد حوصلہ افزا یا قابل ذکر نہیں تھی۔ یوں محسوس ہورہا ہے کہ ابھی تک تحریک انصاف نے اپنی صف بندی نہیں کی ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ مرکزی قائدین نے گلگت بلتستان کا دورہ کیا ہے۔

گلگت بلتستان کی سیاسی ہیئت اس وقت بڑی تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور سپریم کورٹ میں گلگت بلتستان کے کیس کی وجہ سے یہاں کا معاملہ لٹکا ہوا ہے۔ انڈیا کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی سیاسی اور آئینی حیثیت میں ترمیم کرنے کے بعد گلگت بلتستان کے سیاسی پہلوانوں کا ایک مطالبہ کم ہوا ہے۔ کیونکہ یہاں پر سب سے مقبول ’اگر اور مگر‘ کے نعرے رہے ہیں۔ گلگت بلتستان میں مقبوضہ کشمیر طرز کے سیٹ اپ کا مطالبہ بھی اپنی عروج پر تھا کہ اسی دوران مقبوضہ کشمیر بھی ’آرڈر‘ پر آگیا۔ کشمیر کی بدلتی ہوئی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کی اشد ضرورت تھی کہ عوامی سطح پر بھرپور اجتماع کرکے انڈیا کو گلگت بلتستان کا پیغام پہنچادیا جاتا اور یقینا یہ کریڈٹ پیپلزپارٹی لے گئی۔

تحریک انصاف کے مرکزی قائدین نے ورکرز کنونشن کے علاوہ ایک پریس کانفرنس بھی کی ہے۔ دونوں مواقعوں پر قائدین کی گفتگو سطحی رہی ہے۔ مرکزی جنرل سیکریٹری عامر کیانی نے اس بات کا اعتراف بھی کرلیا کہ میں پہلی مرتبہ ایسے پہاڑوں کے بیچ میں آگیا ہوں، پریس کانفرنس میں بھی روایتی ریاستی موقف کو دہرایا گیا۔ گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی نظریں یقینا آئندہ سال ہونے والے صوبائی انتخابات پر مرکوز ہیں اور انتخابات کو سامنے رکھ کر ہی تحریک انصاف نے عوامی مہم چلانی ہے۔

تحریک انصاف کو آئندہ انتخابات پر نظریں رکھنے کے علاوہ یہاں کے مسائل پر بھی دلچسپی لینی ہوگی۔ مرکز میں حکومت قائم ہوئے ایک سال ہوگیا، چیئرمین اور وزیراعظم پاکستان نے ابھی تک اس علاقے کا دورہ نہیں کیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و جی بی علی امین گنڈاپور کو ابھی تک یہ بریفنگ نہیں دی گئی ہے کہ آپ کی وزارت میں ’مسئلہ کشمیر‘ کے علاوہ کون سا علاقہ آتا ہے۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور تحریک انصاف کے مرکزی جنرل سیکریٹری عامر کیانی کا دورہ گلگت بلتستان معروضی حالات میں انتہائی اہم ہے۔ آئندہ انتخابات پر نظریں مرکوز کیے جانے کے علاوہ دونوں رہنماؤں کو یہاں کے معاملات اور آئینی حیثیت کے حوالے سے موقف اپنا نا پڑے گا جس کو لے کر قومی اسمبلی یا دیگر فورمز پر اٹھالے۔ گلگت بلتستان جس گھبراہٹ اور تذبذب کا شکار نظر آرہا ہے ایسے میں تمام مرکزی قائدین کو اس خطے کے حوالے سے پارٹیوں سے بالاتر ہوکر منطقی موقف اپنا نا ناگزیر ہوچکا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •