کیا وارث میر کا نام مٹانا حامد میر کے خلاف ردعمل ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج سوشل میڈیا پر آگ لگی ہوئی ہے۔ لاہور میں پورے شہر کو آپس میں ملانے والی مرکزی سڑک نہر کے کنارے کنارے چلتی ہے اور اس پر بے شمار انڈر پاس بنے ہوئے ہیں۔ ان میں یونیورسٹی کے نیو کیمپس کے انڈر پاس کا نام ”وارث میر انڈر پاس“ رکھا گیا تھا۔ آج اچانک اس کا نام ”نیو کیمپس (کشمیر) انڈرپاس“ رکھ دیا گیا تو یہ کہا جانے لگا ہے کہ وزیراعظم نے حامد میر سے کوئی دشمنی نکالی ہے۔ ہماری رائے میں یہ بات غلط ہے۔

یہ محض ایک اتفاق ہے کہ چند دن پہلے وزیراعظم نے حامد میر کو ٹویٹر پر ان فالو کر دیا تھا اور اس کے ساتھ ہی کوئی حامد میر کے کوئی ایک لاکھ فالوور بھی کوچ کر گئے تھے۔ اور اب اس انڈر پاس سے حامد میر کے والد پروفیسر وارث میر کا نام مٹا دیا گیا ہے۔ بظاہر ان دونوں واقعات میں کوئی باہمی تعلق نہیں ہے۔ وزیراعظم نے ٹویٹر پر پروفیسر وارث میر کو انفالو کیا ہوتا تو پھر کچھ تعلق بنتا۔ لوگ کیسی کیسی شرمناک مہمیں چلا رہے ہیں ہمارے محبوب وزیراعظم کے خلاف۔ انہیں شرم آنی چاہیے۔

یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ نا اہل شہباز حکومت نے جب بھی دودھ دیا تو اس میں مینگیاں ضرور ڈالیں۔ اب یہی انڈر پاسز کا معاملہ دیکھ لیں کہ ان کے نام کتنے گمراہ کن رکھے گئے تھے۔ کسی کے فرشتوں کو بھی علم نہیں ہو سکتا کہ جس انڈر پاس پر وارث میر کا بورڈ لگا ہے، وہ قبرستان نہیں نیو کیمپس ہے، میر چاکر اعظم رند بلوچستان نہیں بلکہ جناح ہسپتال پہنچاتے ہیں، لیاقت علی خان فیروز پور کی روڈ پر ڈالیں گے، جسٹس اے آر کارنیلئیس اصل میں ایف سی کالج ہیں، اور ہیر رانجھا والے وارث شاہ جیل کی سڑک پر پہنچاتے ہیں۔ ان مقامات کے نام شخصیات پر رکھنے سے مسافر اپنا راستہ ہی کھوٹا کرتے تھے۔

شکر ہے کہ وسیم اکرم ٹو کی حکومت آ گئی۔ کچھ عرصہ پہلے غالباً ان کا کوئی امیر وزیر ان بورڈوں کو پڑھ کر مال روڈ کی جگہ جناح ہسپتال پہنچ گیا تو اس نے ان انڈر پاسوں کے نام کچھ معقول کیے۔ ”وارث شاہ انڈر پاس“ کا نام ”جیل روڈ (وارث شاہ) انڈر پاس“ ہو گیا اور ”وارث میر انڈر پاس“ اب ”نیو کیمپس (وارث میر) انڈر پاس“ قرار پایا۔

غالباً شہریوں کو مزید سہولت پہنچانے کی خاطر اب ”نیو کیمپس (وارث میر) انڈر پاس“ کا نام ”نیو کیمپس (کشمیر) انڈر پاس“ رکھا گیا ہے۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ مکار مودی نے ادھر کشمیر میں فساد برپا کر دیا ہے۔ ویسے تو ہم جنگ نہیں چاہتے کیونکہ ہمارے دلیر حکمران بتا چکے ہیں کہ اس کے نتیجے میں ہم مر جائیں گے، لیکن پھر بھی اگر کوئی نوجوان کشمیر جانا چاہے تو اس کی راہنمائی لازم ہے۔ اس لئے کشمیر کا بتا دیا ہے کہ وہ پنجاب یونیورسٹی سے ہو کر ملے گا جہاں اسلامی جمعیت طلبہ اسے گائیڈنس اور ضروری تربیت فراہم کر دے گی۔

یہ درست ہے کہ باقی انڈر پاسوں کے نام نہیں بدلے گئے۔ لیکن اس میں دشمنی یا بدنیتی کا کوئی عنصر شامل نہیں ہے۔ صرف حقائق کا احترام کیا گیا ہے۔ آپ خود انصاف سے بتائیں کہ کیا باقی بزرگوں کا تعلق کشمیر سے ہے جو ان کا نام مٹا کر ادھر بھی کشمیر لکھا جاتا؟ اویس احمد صاحب نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ وارث میر کشمیری تھے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی افسر نے کش لگا کر میر اور کشمیر کو یکجان کر دیا ہو۔

یہ درست ہے کہ باقی انڈر پاسوں کے نام نہیں بدلے گئے۔ لیکن اس میں دشمنی یا بدنیتی کا کوئی عنصر شامل نہیں ہے۔ صرف حقائق کا احترام کیا گیا ہے۔

ویسے بھی پروفیسر وارث میر ایک شرپسند شخصیت ہی تھے جو اہم ملکی مفاد کو نظرانداز کیا کرتے تھے۔ اب یہی دیکھ لیں کہ جب 1970 میں شیخ مجیب الیکشن جیتا اور اس کے بعد مشرقی پاکستان میں بغاوت ہوئی تو وارث میر ان گنے چنے لوگوں میں شامل تھے جو کہتے تھے کہ ان شرپسندوں کو گولی نہیں اقتدار دو حالانکہ صدر پاکستان جنرل یحیٰی خان بتا بھی رہے تھے کہ ملکی مفاد کا کیا تقاضا ہے۔

یا پھر جب 1984 میں غازی ضیا الحق شہید نے اس سوال پر ریفرنڈم کروایا کہ” کیا آپ نفاذ اسلام کے لیے مجھے صدر کے عہدے پر براجمان دیکھنا چاہتے ہیں؟ ‘‘ تو بجائے نفاذ اسلام کے لئے دل و جان سے ہاں کرنے کے، وارث میر نے اس ریفرینڈم کی مخالفت کر ڈالی اور قرآن حدیث سے اس کے خلاف حوالے دینے لگے۔

جب غازی ضیا الحق شہید نے ایک تقریر میں لاہور کے ادیبوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خود ساختہ ترقی پسند دانشوروں کو ملک کی نظریاتی بنیادیں کھوکھلی کرنے کی اجازت ہرگزنہیں دیں گے اورنہ ہی نظریاتی زمین پر کسی قسم کا سیم اور تھور برداشت کریں گے، تو یہ وارث میر ہی تھے جنہوں نے یہ دعوی کر دیا کہ پڑھے لکھے اور ترقی پسند لوگ ملک کی نظریاتی بنیادیں کھوکھلی نہیں کرتے بلکہ پاکستان کے خیر خواہ ہیں اور اسے ایک ترقی یافتہ ملک بنانا چاہتے ہیں اور وہی پاکستان کے سچے دوست ہیں۔

خیر غازی ضیا الحق شہید ایک وسیع القلب انسان تھے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اگر گمراہ افراد کی بھی تالیف قلب کر دی جائے تو وہ روشنی پا لیتے ہیں اور فسق و فجور کی زندگی ترک کر کے ملک و قوم اور اس کے حقیقی حکمرانوں کی خدمت میں جی جان سے جت جاتے ہیں۔ غازی شہید نے اپنی انا ایک طرف رکھتے ہوئے پروفیسر وارث میر کو گورنر ہاؤس میں چائے پر بلا لیا اور حسب عادت اپنے دست مبارک سے چائے میں خوب چینی گھولتے ہوئے انہیں ایک بڑے سرکاری ادارے کے سربراہ کا عہدہ سنبھال کر وطن عزیز کی خدمت کرنے کی پیشکش کی۔ حسبِ عادت وارث میر وطن عزیز کی خدمت کرنے سے انکاری ہو گئے۔

خیر بعد میں ان کا کچا چٹھا کھل کر سامنے آ گیا۔ ان کے ایک نوعمر لڑکے کا ایک قتل سے تعلق نکل آیا لیکن ان کے حامی ڈھٹائی کہتے رہے کہ بیٹا بے گناہ تھا۔ بھلا یہ ممکن ہے کہ غازی جنرل ضیا الحق شہید کی حکومت میں کسی بے گناہ پر جھوٹا مقدمہ بنتا؟ ایک نوعمر بیٹے پر اغوا ہونے کا الزام لگا۔ اسی زمانے میں ان کی پنجاب یونیورسٹی کی ملازمت جاتی رہی۔

ظاہر ہے کہ اس کا تعلق ان کی گمراہ خیالی سے ہو گا اور اس کا غازی ضیا الحق شہید سے ہرگز بھی کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ بالکل ویسے ہی جیسے کیمپس کے انڈر پاس سے پروفیسر وارث میر کا نام ہٹانے کا ہمارے محبوب وزیراعظم سے ہرگز بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ لبرل سیکولر لوگ کیسی کیسی شرمناک مہمیں چلا رہے ہیں جنرل ضیا کی اسلامی حکومت کے خلاف۔ غازی شہید درست ہی فرماتے تھے کہ ترقی پسند دانشور ملک کی نظریاتی بنیادیں کھوکھلی کرتے ہیں۔ شکر ہے کہ وارث میر کا نام مٹا دیا گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1179 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar