کیا یہاں بھی کبھی اصلی گورنمنٹ انسپکٹر آئے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”نکولائی گوگول“ یوکرائنی نسل کے مشہور روسی ادیب تھے۔ وہ 31 مارچ 1809 ء کو پیدا ہوئے اور 42 برس کی عمر میں 4 مارچ 1852 ء کو وفات پاگئے۔ اپنی مختصر زندگی میں نکولائی گوگول نے ایسی کہانیاں اور ڈرامے تخلیق کیے جو آج بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ اُن کی تحریروں کا بنیادی موضوع اُس زمانے میں روس کے کرپٹ اور نا اہل حکمران تھے جن پر نکولائی گوگول نے اپنے قلم سے طنز کے تیر چلائے۔ اُن کی تخلیقات کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہمارے لیے بھی آئینہ ہوسکتی ہیں۔

نکولائی گوگول کا ایک شاہکار ڈرامہ ”دی گورنمنٹ انسپکٹر“ ہے جو 1836 ء میں منظر عام پر آیا۔ اس ڈرامے میں ایک دورافتادہ روسی قصبے کی کرپٹ اور نا اہل مقامی حکومت کا نقشہ کھینچا گیا ہے جو اپنی خامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے مرکزی حکومت کے تفتیشی انسپکٹر کو بیوقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن آخر میں پتہ چلتا ہے کہ مقامی حکومت کے زیادہ چالاک اور سمجھدار بننے والے کرپٹ اہلکار خود بیوقوف بن جاتے ہیں۔ ڈارمے ”دی گورنمنٹ انسپکٹر“ کے مطابق قصبے کے میئر کو جب یہ خبر ملتی ہے کہ مرکزی حکومت کا ایک تفتیشی افسر اُن کے معاملات کی جانچ پڑتال کرنے آرہا ہے تو میئر اور اُس کے حواری بہت پریشان ہو جاتے ہیں۔

اُن کی پریشانی اس وقت خوف میں بدل جاتی ہے جب انہیں یہ مزید خبر ملتی ہے کہ ایک مشکوک فرد گزشتہ دو ہفتے سے ان کے قصبے کے ایک اچھے ہوٹل میں مقیم ہے۔ ہوٹل میں مقیم شخص کا نام خلیستاکوف ہوتا ہے۔ میئر اور اس کے حواریوں کو خلیستاکوف پر تفتیشی انسپکٹر ہونے کا اُس وقت پکا یقین ہو جاتا ہے جب انہیں معلوم ہوتا ہے کہ خلیستاکوف کے ہوٹل کے اخراجات کا بل مرکزی حکومت کے خزانے سے ادا کیا جارہا ہے۔ ہوٹل میں مقیم خلیستاکوف دراصل تفتیشی انسپکٹر نہیں بلکہ خیالوں میں گم رہنے والا ایک سِول سرونٹ ہوتا ہے جو تفریحی چھٹیاں گزارنے کے لیے اس قصبے میں ٹھہرا ہوتا ہے۔

خلیستاکوف صورتحال کو جلد ہی بھانپ جاتا ہے۔ چونکہ وہ خود بھی ایک کرپٹ افسر ہوتاہے اس لیے اس صورتحال سے پورا فائدہ اٹھانے کا ارادہ کرلیتا ہے۔ میئر اور مقامی اہلکار اُسے تفتیشی انسپکٹر سمجھ کر اس کی خاطر مدارت اور خوشامد میں لگ جاتے ہیں۔ وہ خلیستاکوف کو میئر کے عالیشان سرکاری گیسٹ ہاؤس میں رہائش اختیار کرنے کی درخواست کرتے ہیں جہاں خلیستاکوف کو بہت زیادہ پروٹوکول دیا جاتا ہے۔ خلیستاکوف پوری طرح تفتیشی افسر کا روپ دھارنے کا ڈرامہ کرتا ہے اور مقامی حکومت کی کرپشن کے بارے میں میئر سے مختلف سوالات پوچھتا ہے۔

نقلی تفتیشی افسر خلیستاکوف میئر اور اس کے ساتھیوں کو ہر معاملے پر بلیک میل کرتے ہوئے بڑی بڑی رقمیں رشوت کے طور پر طلب کرتا ہے۔ جوں جوں دن گزرتے ہیں خلیستاکوف کی فرمائشوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ کچھ دنوں بعد جب میئر کی کرپشن کی تمام فائلیں خلیستاکوف چیک کرلیتا ہے اور ان کے عوض منہ مانگی رشوت بھی حاصل کرلیتا ہے تو وہ میئر اور اس کے ساتھیوں سے مزید رقم حاصل کرنے کا دوسرا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ خلیستاکوف میئر اور اس کے ساتھیوں سے جلد واپس لوٹانے کے وعدے پر بھاری رقوم ادھار پر لیتا ہے۔

میئر اور اس کے ساتھی اپنی جان بچانے کے لیے نقلی انسپکٹر خلیستاکوف کا ہر مطالبہ پورا کرتے جاتے ہیں۔ اسی دوران خلیستاکوف میئر کی دلکش بیوی اور خوبصورت بیٹی کے ساتھ تعلقات بھی قائم کرلیتا ہے۔ جب مقامی کسانوں کو پتہ چلتا ہے کہ مرکزی حکومت کا ایک تفتیشی افسر اُن کے میئر کی غلط کاریوں کی رپورٹ تیار کرنے آیا ہوا ہے تو سب کسان خلیستاکوف سے ملنے میئر گیسٹ ہاؤس پہنچ جاتے ہیں۔ خلیستاکوف کے ذہن میں ایک نئی چال آتی ہے۔

وہ کسانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ایسے کرپٹ اور نا اہل میئر کو زنجیروں سے باندھ کر سائبیریا کے برفانی علاقے میں پھینک دینا چاہیے۔ اس بات پر کسانوں کو خوش دیکھ کر خلیستاکوف مجمع کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ اگر وہ اتنی رقم اسے ادھار دے دیں تو اُن کی کرپٹ میئر سے ہمیشہ کے لیے جان چھوٹ جائے گی۔ خلیستاکوف کی کسانوں سے طلب کردہ رقم کافی زیادہ تھی اس لیے کسانوں نے گھروں میں جاکر اپنی ساری پونجی جمع کی اور اکٹھی کرکے خلیستاکوف کو دے دی۔

جب میئر کو پتہ چلتا ہے کہ تفتیشی افسر نے کسانوں کے مطالبے پر اسے سزا کے طور پر سائبیریا کے برفانی علاقے میں قید کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو وہ خلیستاکوف کے سامنے بہت روتا دھوتا اور گڑگڑاتا ہے۔ عین اسی موقع پر خلیستاکوف میئر کی بیٹی سے شادی کرنے کا ارادہ ظاہر کرتا ہے۔ میئر اپنی جان بخشی دیکھتے ہوئے خلیستاکوف کی یہ خواہش بھی فوراً پوری کردیتا ہے۔ میئر اور کسانوں کو اپنی اپنی جگہ مطمئن کرکے اگلے ہی روز خلیستاکوف فوری طور پر واپس جانے کا اعلان کرتا ہے اور میئر کی مہیا کردہ قصبے کی سب سے آرام دہ گھوڑوں والی بگھی پر واپس روانہ ہو جاتا ہے۔

خلیستاکوف کے جانے کے بعد میئر کے تمام دوست اکٹھے ہوکر اُسے مبارک دیتے ہیں کہ اس نے بہت ہی سمجھداری سے تفتیشی افسر کو قابو کرلیا۔ میئر تمام کسانوں کو بلاکر دھمکاتا ہے کہ انہوں نے جو شکایتیں تفتیشی افسر کو لگائی ہیں اس کی سزا کے طور پر وہ کسانوں سے بڑی بڑی رقمیں رشوت کے طور پر وصول کرے گا۔ میئر کسانوں کو ڈرانے کے لیے اس راز سے بھی پردہ اٹھاتا ہے کہ وہ تفتیشی افسر اب اس کا داماد بن گیا ہے۔ جب میئر کسانوں پر اپنا رعب جھاڑ رہا تھا تو مقامی ڈاکخانے کے اہلکار نے مرکزی حکومت کا ایک ارجنٹ ٹیلی گرام لاکر دیا جو میئر کے نام تھا جس میں تحریر تھا کہ مرکزی حکومت کا تفتیشی افسر تمہارے قصبے میں پہنچ چکا ہے اور اس کا نام یہ ہے۔

میئر کا سر چکرانے لگا اور اسے زمین ہلتی ہوئی محسوس ہوئی۔ چند منٹوں بعد دور سے آتے گھوڑے کی ٹاپ سنائی دی جس پر اصلی تفتیشی افسر کا باوردی سپاہی سوار تھا۔ اُس نے آکر میئر کو مخاطب کرکے تفتیشی افسر کا آرڈر پڑھ کر سنایا کہ وہ تمام فائلیں اور ضروری کاغذات لے کر تفتیشی افسر کے پاس فوری طور پر حاضر ہو۔ ڈرامہ ”دی گورنمنٹ انسپکٹر“ یہاں ختم ہوتا ہے۔ اگر اِسے ہم اپنے حالات کے مطابق پرکھیں تو لگتا ہے کہ ڈرامہ نگار ”نکولائی گوگول“ نے یہ ہمارے لیے بھی لکھا تھا۔

پاکستانی عوام کو ہربار چند برسوں کے وقفے کے بعد ایسی اطلاعات دی جاتی ہیں کہ ان کے روپے پیسے، نا انصافیوں، میرٹ اور مہنگائی کا حساب لینے کے لیے تفتیشی قیادت آگئی ہے جو ایماندار اور بہت اہل ہے۔ اس تفتیشی قیادت کی میڈیا کے ذریعے ایسی مشہوری کی جاتی ہے کہ یقین ہونے لگتا ہے کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ان سے شاندار قیادت اس سے پہلے نہ آئی ہے نہ آئے گی۔ قومی معاشی معاملات ہوں یا انٹرنیشنل خارجہ امور، سب کے لیے یہی تفتیشی قیادت سب سے موزوں ہے۔ تاہم تھوڑے عرصے بعد ہی بیچارے عوام کو پتہ چل جاتا ہے کہ ان کے ساتھ ساتھ چالاک میئر کو بھی دھوکہ ہوگیا ہے۔ کیا ہمارے ہاں بھی کبھی اصلی گورنمنٹ انسپکٹر آئے گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •