”پڑھا لکھا“ اور ”لکھا پڑھا“ میں فرق

”پڑھا لکھا“ سے کیا مراد ہے یہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ اِن الفاظ کو ایک دوسرے کے ساتھ جگہ تبدیل کرکے پڑھا جائے تو ”لکھا پڑھا“ بنتا ہے۔ بظاہر اس کا مطلب بھی وہی لگتا ہے۔ عام محاورے میں اِن دونوں میں کوئی فرق ہو یا نہ ہو سیاسی میدان میں ”پڑھالکھا“ اور ”لکھا…

Read more

پیپلز پارٹی انٹرنیشنل اور مقامی سٹیبلشمنٹ کے لیے فلیکسی بَل جماعت

”ڈیوَن“ انگلینڈ کی ایک پرانی کاؤنٹی تھی۔ وہاں 1210 ء میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کانام ”ہنری بریکٹن“ رکھا گیا۔ وہ بڑا ہوکر چرچ میں مذہبی رہنما اور قانون کا استاد بنا۔ ہنری بریکٹن نے اُس وقت ایک ایسا نظریہ پیش کیا جو آٹھ سو برس بیت جانے کے بعد بھی دنیا کے غیرجمہوری حکمرانوں کا پسندیدہ نظریہ ہے۔ ہنری بریکٹن کے اِس زہرِ جمہوریت نظریے کو ”نظریہ ضرورت“ یا ”ڈاکٹرائن آف نیسے سٹی“ کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس کی پہلی مشہور مثال 1954 ء میں فیڈرل کورٹ کے چیف جسٹس محمد منیر کی طرف سے گورنر جنرل ملک غلام محمد کے قانون ساز اسمبلی کو برخواست کرنے کے اقدام کو نظریہ ضرورت کے تحت درست قرار دینا تھا۔

Read more

پی پی پی۔ تین بڑے اور تین خصوصیات

جنگل میں آباد جانوروں، پرندوں اور حشرات کے اپنے اپنے مزاج ہوتے ہیں۔ وہ سب اپنے انہی فطری رویوں کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔ کوئی بہادری سے شکار کرتا ہے، کوئی چھپ کر مارتا ہے اور کوئی دوسرے کی بچی کچھی خوراک کو اپنے زندہ رہنے کا سامان بناتا ہے۔ گویا سب وہی کرتے ہیں…

Read more

پاکستان کے بدنام حکمران کون سے ہیں؟

پاکستان کے حکمرانوں کی فہرست میں طرح طرح کے نام شامل ہیں اور سب کے سب اپنی حمایت یا مخالفت میں مواد رکھتے ہیں مگر حکمران فہرست کی اس جرنیلی سڑک میں صرف تین نام ایسے ہیں جو اَب تک بدنامی کے پراپیگنڈے میں غیرمتنازع ہیں یعنی ان کے بارے میں کوئی بھی اچھی رائے…

Read more

انسانی غلامی کی ڈراؤنی قسم۔ پولیٹیکل ماڈرن سلیوری

انسان نے انسان کو غلام بنانے کا سلسلہ تقریباً بارہ ہزار سال پہلے شروع کیا جب کھیتی باڑی شروع ہوئی۔ یہ پتھر کے زمانے کا آخری دور تھا۔ اس کے بعد کانسی اور لوہے کا زمانہ آیا اور گزر گیا۔ تب انسانی تاریخ لکھی جانے لگی۔ صفحہ صفحہ لکھتے لکھتے بارہ ہزار برس بیت گئے اور ہم اکیسویں صدی میں پہنچ گئے۔ انسان نے پتھر سے انفارمیشن ٹیکنالوجی تک کا جادوئی اور جناتی سفر طے کرلیا لیکن انسان کے ہاتھوں انسان کو غلام بنانے کا جرم ختم نہ ہوا۔انسانی ترقی کے ساتھ انسانی غلامی کی ترقی یافتہ صورتیں سامنے آتی گئیں جسے ”ماڈرن سلیوری“ کہا گیا۔ ماڈرن سلیوری کی تعریف میں انسانی سمگلنگ، جبری مشقت، بچوں سے مزدوری اور زبردستی کی شادیاں وغیرہ شامل ہیں۔

Read more

کیلے اور سیاست میں حیران کن مماثلت

سیاست میں ”بنانا ری پبلک“ کی اصطلاح عام ہے۔ اِسے سب سے پہلے امریکی مصنف اوہینری نے 1901 ء میں لاطینی امریکہ کی ریاستوں کے لیے ایجاد کیا۔ اس سے مراد وہ ریاستیں تھیں جہاں سیاست اور معیشت انتہائی غیرمستحکم ہوتی۔ یہ ممالک اپنی آمدنی کے لیے معدنیات اور کیلے کی کاشت پر مکمل انحصار…

Read more

ملکی دفاع کے لیے انگریزی چینلز اور شوز کی ضرورت

پاکستان کی ہسٹری کا ڈیٹا بتاتا ہے کہ ہمارے ہاں ٹیلی ویژن میڈیا کی ترقی فوجی حکمرانوں اور پاک بھارت تنازعات کی مرہونِ منت رہی ہے۔ ہوسکتا ہے کچھ لوگ اِسے غیرتحقیقی جملہ سمجھیں۔ لہٰذا ٹی وی اور چینلز کے آغاز اور فروغ پر سرسری نظر ڈال لیتے ہیں۔ ساٹھ کی دہائی کے پہلے سالوں میں مارشل لاء ڈکٹیٹر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کا طوطی بولتا تھا۔ انہی کے زمانے میں 26 نومبر 1964 ء کو پاکستان ٹیلی ویژن کا آغاز ہوا۔پی ٹی وی آنے کے تھوڑے عرصے بعد ہی پاک بھارت سرحدی جھڑپیں شروع ہو گئیں جن کا انجام ستمبر 1965 ء کی پاک بھارت بڑی لڑائی کی صورت میں ہوا۔ جب مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیاء الحق نے حکومت سنبھالی تو اُس وقت ملک میں ٹی وی زیادہ عام نہیں تھا۔ ٹی وی سیٹ کی قیمت زیادہ تھی اور لوگوں کو ٹی وی دیکھنے کا خبط بھی نہیں تھا۔ جنرل ضیاء الحق کی حکومت یعنی 80 ء کی دہائی میں پاکستان میں ٹی وی بہت عام ہوگیا، اُس کی دستیابی بہت آسان ہوگئی اور قیمت کم ہو جانے کے باعث لوگ ٹی وی کی خرید کی طرف متوجہ ہوئے۔

Read more

غیرمعیاری کسٹوڈین شپ۔ ہم سانپ تو نہیں ہیں

انسانی ہسٹری کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ جب سے مرد اور عورت کے درمیان شادی کا رواج پڑا اُسی وقت سے دونوں کے درمیان علیحدگی یا طلاق سے پیدا ہونے والے مسائل بھی شروع ہوئے۔ یہ الگ بات کہ اُن مسائل پر بہت دیر بعد توجہ دینی شروع کی گئی لیکن اب بھی ایسے حل طلب ایشوز ہیں جو بہت سنگین ہیں۔ طلاق کے بعد کے عمومی مسائل میں سب سے اہم مسئلہ بچوں کی پرورش اور کسٹوڈین شپ کا ہوتا ہے۔ طلاق کے بعد کے حالات کو جتنا بھی موافق بنالیا جائے اُس کے مختلف اثرات بچوں پر ضرور پڑتے ہیں۔مختلف ممالک میں اِن اثرات کی نوعیت اور شدت مختلف ہوتی ہے۔ اِن اثرات کے نتائج کا تعلق اُس معاشرے کے ثقافتی پس منظر، مذہبی رسم و رواج اور قوانین پر ہوتا ہے۔ مغربی ممالک میں بچوں کے حوالے سے عمومی قوانین بھی بہت سخت اور چیک اینڈ بیلنس کے نظام کے تحت ہوتے ہیں۔ اُن ممالک میں عموماً مذہبی رسم و رواج سے دوری اور ثقافت میں روایتی خاندانی نظام کا نظریہ ختم ہو جانے کے باعث طلاق شدہ والدین کے بچے نفسیاتی، معاشرتی اور معاشی خستہ حالی سے کسی قدر محفوظ رہتے ہیں۔

Read more

پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے خطے کو تباہی سے بچایا

یہ 1987 ء کا سال تھا جب بھارت اور پاکستان کی سرحدوں پر سخت کشیدگی تھی۔ عین اُسی وقت پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو سگنل موصول ہوئے کہ بھارت پاکستان پر ایک بڑا حملہ کرنے والا ہے۔ اِن اطلاعات کے فوراً بعد صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کرکٹ میچ دیکھنے کے لئے بھارت…

Read more

ولی عہد محمد بن سلمان کے بارے میں یہ ضرور پڑھیے

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی پاکستان میں حالیہ آمد کے موقع پر مثبت معاشی و سیاسی اثرات کے حوالے سے بہت بات کی جارہی ہے۔ ایسی شخصیت جو اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی بناء پر نوجوانی میں ہی عالمی شہرت حاصل کرچکی ہو، اُس کی ذات کے بارے میں بھی لوگ زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتے ہیں۔ آج کے اِس کالم میں ولی عہد محمد بن سلمان کی نجی زندگی کے حوالے سے چند اہم پہلوؤں کو قلم بند کیا گیا ہے جو قارئین کے لئے بہت دلچسپی کا باعث ہوں گے۔

آغاز میں یہ بتانا ضروری ہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان 31 اگست 1985 ء کو ہفتے کے دن سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں پیدا ہوئے۔ اُن کی تاریخ پیدائش کے اعتبار سے علم نجوم میں اُن کا برج سنبلہ یعنی وِرگو ہے۔ جب ولی عہد محمد بن سلمان پیدا ہوئے تو اُس وقت فہد بن عبدالعزیز سعودی عرب کے بادشاہ تھے جبکہ دنیا کے پانچوں طاقتور ممالک امریکہ میں صدر ریگن، برطانیہ میں وزیراعظم مارگریٹ تھیچر، فرانس میں صدر متراں، سوویت یونین میں میخائل گورباچوف اور چین میں صدر لی شیانیان برسراقتدار تھے۔

Read more