بجٹ بنانے والے اور بیواؤں کی بددعائیں

لوگ کہتے ہیں کہ سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے والے غریبوں کے بجٹ کے بارے میں کیا جانتے ہوں گے؟ مگر ہمارے غریب پرور وفاقی وزیر خزانہ بالکل بھی ایسے نہیں ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ چلئے بس آپ اپنا خیال اپنے تک ہی رکھیے ہمیں نہ بتائیے کیونکہ وہ کہتے ہیں ناں کہ کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے۔ لوگ کہتے ہیں کہ جب کوئی وزیر خزانہ ملک کا بے تاج بادشاہ ہو اور اسے

Read more

3مئی۔ آزادی صحافت کا عالمی دن

آزادی صحافت کا عالمی دن 3 مئی کو اقوام متحدہ کے حکم پر ہر سال دنیا کے بیشتر ممالک میں دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاس ہونے والی قراردادوں کو حکم نہیں کہا جاتا لیکن اِس کالم میں مندرجہ بالا جملے میں اقوام متحدہ کی قرارداد کی بجائے اقوام متحدہ کے حکم کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ لکھنا اس لیے ضروری تھا کہ مغربی ممالک جن قراردادوں پر عمل کروانا چاہتے ہیں یا اُن

Read more

دس اپریل اور حسنِ اتفاق

دو دن قبل 10 اپریل کی تاریخ گزری ہے۔ 10 اپریل کی تاریخ دنیا بھر میں بہت سے واقعات کے اعتبار سے اہم ہے۔ آئیے اِن واقعات کا مختصر مطالعہ کرتے ہیں جو دلچسپی سے بھرپور ہیں۔ کیلنڈر کا 100 واں دن دس اپریل کہلاتا ہے جس کے بعد سال میں 265 دن رہ جاتے ہیں۔ اپریل کی دس تاریخ نیوکلیئر ٹیسٹ کے حوالے سے نمایاں مقام حاصل کرچکی ہے۔ یہ محض اتفاق تھا یا کوئی اور وجہ کہ سوویت

Read more

بھارتی آبی جارحیت اور سندھ طاس معاہدہ

اقوام متحدہ کے تحت 22 مارچ کا دن پانی کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں دریاؤں کے پانی کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو دریاؤں کو خشک کرنے کی ذمہ داری کسی حد تک سندھ طاس معاہدے پر آتی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو اس معاہدے پر دستخط کے لیے پاکستان آئے۔ اس معاہدے پر 19 ستمبر 1960 ء کو کراچی میں جواہر لعل نہرو اور فیلڈ مارشل

Read more

بلوچستان میں سیاسی مذاکرات کی تاریخ اور انجام

سانحہ جعفر ایکسپریس کے بعد بلوچستان میں موجود علیحدگی پسندوں سے نمٹنے کے لیے دو نظریات پر بہت زوروشور سے بحث ہو رہی ہے۔ پہلا یہ کہ اس مسئلے کے سیاسی حل کی طرف جایا جائے اور مذاکرات کی راہ اختیار کی جائے۔ دوسرا یہ کہ اس مسئلے کا حل صرف فوجی آپریشن ہی ہے۔ یہ دونوں نظریات نئے نہیں ہیں کیونکہ بلوچستان میں علیحدگی پسندی کا رجحان پاکستان بننے کے فوراً بعد سے ہی شروع کروا دیا گیا تھا۔

Read more

گھاس پھونس کی مانند لوگ

درمیانہ سا کمرہ تھا۔ وہاں دو بیڈ تھے جن میں سے ایک پر ایک لڑکی آ کر لیٹ گئی۔ اس نے اپنی عمر کی دوسری دہائی ابھی ابھی پار کی تھی۔ نکلتا قد تھا، ستھرا رنگ تھا۔ بہت خوبصورت نہ سہی، بہت قبول صورت تو تھی ہی۔ وہ دیکھنے میں بالکل تندرست تھی۔ اس کے پاس ایک نوعمر لڑکا بینچ پر بیٹھا تھا۔ دونوں کم عمری والی بے فکری سے باتیں کر رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد لڑکی سے بڑی

Read more

بیچارے یوکرینی

یہ 37 برس پہلے 15 مئی 1988 ء کا دن تھا جب سوویت یونین کے جدید آرمرڈ پرسونل کیریئرز نے دریائے آمو پر ہیراتن پُل کراس کر کے واپس ماسکو کی راہ لی۔ افغانستان سے سوویت یونین کی فوجوں کے انخلاء کا یہ پہلا دن تھا اور یہ عمل 9 ماہ بعد یعنی آج سے 36 برس قبل 15 فروری 1989 ء کو مکمل ہوا۔ سوویت یونین کی فوجوں کی واپسی کی کمانڈ کرنل جنرل بورِس گروموو کر رہے تھے۔

Read more

نہرو کا بھوت کشمیر کب چھوڑے گا؟

  وہ 18 جنوری 1955 ء کا دن تھا جب ایک ایمبولینس ہسپتال میں تیزی سے داخل ہوئی۔ سٹریچر پر پڑے شخص کو جلدی جلدی ڈاکٹر تک پہنچایا گیا۔ اس کے منہ کے قریب لال رنگ کے قطروں کے کچھ داغ نمایاں تھے۔ ڈاکٹر نے اس کا معائنہ کیا اور مریض کے ساتھ آنے والوں کو مخاطب کر کے کہا کہ اس کی جگہ ہسپتال نہیں قبرستان ہے، یہ مر چکا ہے۔ ڈاکٹر کو کیا معلوم تھا کہ یہ مردہ

Read more

چھ ہاتھوں والا بڑا بُت مکھی بھی نہیں پکڑ سکتا

کونسٹین ٹائن برونزٹ  چھوٹی اینی میشن فلموں کے ممتاز روسی ڈائریکٹر ہیں۔ اپنی پاپولر تخلیقات کے سلسلے میں وہ تقریباً 70 ایوارڈز بھی حاصل کرچکے ہیں۔ اُن کی فلم Lavatory Lovestory کو اعلیٰ ترین بیسٹ سیناریو ایوارڈ ملا اور اسی فلم کو جیوری نے 2009 ء کی مختصر اینی میٹڈ فلموں کی کیٹگری میں ”اکیڈمی ایوارڈ“ کے لیے نامزد بھی کیا۔ ان کی ایک اور 4 منٹ 17 سیکنڈ کی اینی میٹڈ فلم ”The god“ ریلیز ہوئی۔ اس فلم میں

Read more

ٹرمپ کی فتح علاقائی پہچان کی فتح ہے

امریکہ کے دوسری مرتبہ منتخب ہونے والے صدر ٹرمپ کی جیت کا سب کو یقین تھا۔ امریکی ووٹروں کا حالیہ رجحان اُس تبدیلی کی طرف ایک اور قدم ہے جو دنیا میں بڑی تیزی سے آ رہی ہے۔ یہ تبدیلی تجزیہ نگاروں کو محسوس کرنی چاہیے۔ بیسویں صدی کے آغاز سے دنیا کو نظریاتی نعروں میں تقسیم کیا گیا جس میں سرمایہ کاری، کمیونزم اور لسانی و مذہبی نعرے وغیرہ شامل تھے۔ اس کی وجہ کچھ بھی تھی لیکن یہ

Read more

بنگلہ دیش سے اچھے تعلقات۔ چند تجاویز

ڈپلومیسی میں درست اور بروقت اقدامات سے ہی ملکی مفاد کے لیے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں مگر ہماری خارجہ پالیسی کا یہ عمومی رویہ ہے کہ ہم دوسرے ملکوں سے تعلقات میں درست اقدام یا بروقت اقدام میں سے کسی ایک یا دونوں کو مِس کر دیتے ہیں۔ اِسے سست روی کہیے یا کوتاہ نظری۔ بہرحال لمحوں کی غلطیوں کی سزا صدیوں کو بھگتنی پڑتی ہے۔ گزشتہ چند مہینوں کے دوران حالات نے ہمیں ڈپلومیسی میں ایک

Read more

عمران خان کی پی ٹی آئی اور بھارتی پی ٹی آئی میں فرق؟

جب 90 ء کی دہائی کے آغاز تک کوئی کہتا تھا کہ پی ٹی آئی نے یہ بات کہی ہے تو فوراً سمجھ میں آ جاتا تھا کہ ضرور پاکستان کے خلاف کچھ کہا سنا گیا ہو گا۔ اُس وقت پی ٹی آئی صرف بھارتی نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مختصر نام کے طور پر پہچانی جاتی تھی۔ پی ٹی آئی پاکستان تحریک انصاف کا چھوٹا نام بھی ہے۔ بھارتی نیوز ایجنسی پی ٹی آئی اور پاکستان تحریک

Read more

بنگلہ دیشی عوام کے نام پاکستانی عوام کا خط

ڈیئر بنگلہ دیش آپ سے بچھڑے پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصہ بیت گیا۔ ہمارے اور آپ کے بچوں کے آگے بچے ہو گئے۔ دوسری تیسری نسل آ جانے کے بعد اور اتنی عمر بیت جانے کے بعد بھی ہم آپ کو نہیں بھولے۔ ہر وقت ہر دم آپ کو اپنے دل کے قریب محسوس کرتے آئے ہیں۔ ہر لمحہ آپ سے ملنے کی بے قراری سی بے قراری رہی ہے۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ہماری منافقتوں اور غلطیوں کی

Read more

یہ ڈیٹا پڑھو اور شرم کرو

ملک کی کچھ سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی مخالفین کی تذلیل کرنے کے لیے ریاست کو رسوا کرنے سے بھی باز نہیں آتیں۔ اس سلسلے میں وہ جن ہتھکنڈوں کا سہارا لیتی ہیں اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کچھ عرصے سے نوجوان مایوس ہو کر بڑی تعداد میں ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں اور برین ڈرین ہو رہا ہے۔ اُن مفاد پرست سیاسی جماعتوں کو آئینہ دکھانے کے لیے آج اسی موضوع پر اقوام متحدہ اور دیگر

Read more

دانش مندانہ خبریں احمقانہ تبصرے

ہم روزانہ سیاسی و دیگر اہم شخصیات کے بیانات کے حوالے سے خبریں پڑھتے ہیں۔ ان بیانات اور خبروں کے پیچھے ان شخصیات کی دانش مندانہ سوچ کارفرما ہوتی ہے۔ اگر منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے دانش مندانہ بیانات اور خبروں پر احمقانہ تبصرے کیے جائیں تو امید ہے کوئی برا نہیں مانے گا۔ لہٰذا گزشتہ چند دنوں کے دانش مندانہ بیانات اور خبروں پر احمقانہ تبصرے ملاحظہ ہوں۔ خبر: گیس کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری، گھریلو صارفین

Read more

انٹرنیٹ کی گدھا چال کے عاشقوں پر اثرات

اِن دنوں ملک میں انٹرنیٹ کی سست روی کا ذکر عام ہے۔ یعنی انٹرنیٹ تیز نہیں چلتا اور بار بار رک جاتا ہے۔ انٹرنیٹ کی اس سست روی کو ہم گدھا چال بھی کہہ سکتے ہیں اور انٹرنیٹ کے بار بار رک جانے کو گدھے کی اَڑی کر جانا کہنا مناسب لگتا ہے۔ انٹرنیٹ کی اس گدھا چال اور بار بار اس کے اَڑی کر جانے سے بقول شخصے ملکی معیشت کو بہت نقصان ہو رہا ہے۔ معیشت کے ساتھ

Read more

پاکستان پر دباؤ اور جنرل عاصم منیر کا جواب

کچھ عرصے سے ایسی خبریں سامنے آ رہی ہیں جنہیں دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے گرد خطرات بڑھائے جا رہے ہیں۔ یا یوں کہئے کہ ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے کہ جس سے پاکستان کو بلیک میل کر کے کچھ مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ آپ یقیناً یہ کہیں گے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ گزشتہ 77 برسوں میں ایسا کئی مرتبہ ہو چکا ہے کہ پاکستان کو اپنے مقصد کے تحت

Read more

گڈ آئی پی پیز اور بیڈ آئی پی پیز

انتشار، بے چینی اور مایوسی کے دور میں شکوک و شبہات اور بداعتمادی جنم لیتی ہے۔ سب ایک دوسرے کے گریبان چاک کرنے کی فکر میں ہوتے ہیں۔ سب ایک دوسرے کو مجرم قرار دیتے ہیں۔ اس کی نمایاں مثال انقلاب فرانس کا وہ دس سالہ عہد ہے جب انقلاب کی ابتداء کرنے والوں، جیل اور سزائیں بھگتنے والوں اور قربانیاں دینے والوں پر بھی شک کر کے ان کے سرقلم کر دیے گئے۔ ایسے ماحول میں حقیقت تک پہنچنا

Read more

بجلی کارخانوں کے مالکانہ حقوق عوام کو دو

مفلسی کے ساتھ ساتھ اگر بدنیتی اور مفاد پرستی بھی شامل ہو جائے تو ایسی بدترین بدبو پھیلتی ہے کہ شیطان بھی اپنی ناک پر کپڑا رکھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس کی مکمل مثال ہمارے ہاں بجلی کے بلوں کی صورت میں سامنے آ چکی ہے۔ آئیے اس کی تشریح کرتے ہیں۔ پاکستان ایک غریب ترین ملک ہے۔ اس کی عوام کے کئی افراد مفلسی کے ہاتھوں اپنے بچوں کو قتل کر کے خودکشی کرچکے ہیں یا پیٹ

Read more

قرض اور سود سے نجات کا طریقہ

پاکستان کا موجودہ معاشی نظام شہریوں کے جسم سے خون اور ہڈیوں سے گودا تک نچوڑ چکا ہے۔ حکومت کے اندرون و بیرون ملک حاصل کردہ قرضوں کی واپسی اور بین الاقوامی مالی اداروں کی قرض ادائیگی کے لیے جان لیوا شرائط وغیرہ جیسے معاملات کو پورا کرنے کے لیے سود کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یہی سہارا دراصل ہمارے معاشی نظام کو مکمل طور پر زہرآلود کرچکا ہے اور اس سے نجات کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ مکمل

Read more

مریم نواز: احمد فراز اور فہمیدہ ریاض کا لطیفہ

مریم نواز نے جب پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا تو ان کے مخالفین کو بہت اعتراضات تھے جن میں سے چند کا ذکر کرتے ہیں لیکن آج کے کالم کا مقصد وہ اعتراضات دہرانا یا ان کے جوابات لکھنا ہرگز نہیں ہے بلکہ مریم نواز کو ایک خطرے سے آگاہ کرنا ہے جو بہت ہی معمولی نظر آتا ہے لیکن سیاسی جان لیوا ہوتا ہے۔ آئیے پہلے مریم نواز پر اٹھنے والے اعتراضات اور ان کے جوابات کا

Read more

آپریشن عزمِ استحکام کے مخالف کون اور کیوں؟

ملک میں مستقل بنیادوں پر اَمن برقرار رکھنے کے لیے آپریشن عزمِ استحکام کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کی منظوری قانون کے مطابق ایپکس کمیٹی نے دی۔ وزیراعظم کی زیرصدارت ایپکس کمیٹی کے اس اجلاس میں شرکت کرنے والے ممبران میں اہم وفاقی وزراء کے ہمراہ چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ سمیت سروسز چیفس اور صوبوں کے چیف سیکرٹریز بھی شریک تھے۔ اس کے بعد وفاقی کابینہ نے بھی اسے منظور کر لیا۔ آپریشن عزمِ استحکام

Read more

سیاسی جماعتوں کے منشور میں خصوصی افراد کا حصہ

ملک میں عام انتخابات 2024 ء کل یعنی 8 فروری کو ہونے جا رہے ہیں۔ ان انتخابات میں سیاسی جماعتیں، قطع نظر اس بات سے کہ وہ چھوٹی ہیں یا بڑی، اپنے بڑے بڑے دعووں کے ساتھ کچھ نہ کچھ حاصل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔ جمہوری عمل کے اس عملی مظاہرے میں سنجیدہ روایات کے مطابق سیاسی جماعتیں انتخابات سے قبل اپنا سیاسی منشور عوام کے سامنے پیش کرتی ہیں۔ اس منشور سے اس

Read more

ایدھی صاحب کی برسی پر چند باتیں

آج عبدالستار ایدھی صاحب کی ساتویں برسی ہے۔ اس موقع پر ان کے بستر مرگ کے دنوں کی چند باتیں ذیل میں تحریر ہیں۔ محمد خان جونیجو کی حکومت میں ایک زورآور وفاقی وزیر تھے۔ وہ جونیجو کابینہ کے رکن تھے لیکن انہیں اصل طاقت براہ راست جنرل ضیاء الحق سے ملتی تھی۔ ایک مرتبہ وہ موصوف وزیر اپنے آبائی گھر کے برآمدے میں کچھ لوگوں کے درمیان بیٹھے تھے۔ اسی وقت کوٹھی کے مرکزی گیٹ سے ایک بوڑھا داخل

Read more

اقبال خلیل۔ وہ باتیں تری وہ فسانے ترے

میں یہ کالم لکھنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ میرے میں ہمت نہیں تھی لیکن مجبور ہو گیا۔ میرے کانوں میں ایک آواز گونجی۔ ”اوئے شہزادے توں کتھوں دا ایں؟ (یار شہزادے تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ )“ یہ 1983 ء کے ستمبر اکتوبر کے دن تھے جب پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ صحافت میں ایم اے جرنلزم کی نئی کلاس کی آمد ہوئی۔ ان سب کے لیے سب کچھ نیا تھا۔ دھیمی دھیمی آزادی کا نیا خوشگوار ماحول، نئے

Read more

حقیقت کو پھانسی نہیں دی جا سکتی

وہ ایک دن تھا لیکن شاید دن نہیں تھا کیونکہ دن کو روشنی ہوتی ہے، اجالا ہوتا ہے، سب کچھ صاف صاف نظر آتا ہے۔ تو پھر وہ رات تھی لیکن شاید رات بھی نہ تھی کیونکہ رات کو اندھیرا ہوتا ہے کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا لیکن یہاں کچھ سائے موجود تھے جو ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ وہ کچھ کر رہے تھے مگر یہ نہیں جانتے تھے کس کے لیے کر رہے ہیں اور اس کے اثرات کیا

Read more

خواتین نے بادشاہ سے آٹا کیسے چھینا؟

انقلاب فرانس کے دوران اکتوبر 1789 ء کے واقعہ کی تحقیقات کے لیے قائم ہونے والے ”پیرس کمیشن“ کے سامنے پیپلز نیشنل گارڈ کے کمانڈر سٹینس لاس میلارڈ پیش ہو کر آنکھوں دیکھا حال بتاتا ہے۔ وہ سہما ہوا ہے اور اس کی آنکھیں ناقابل یقین واقعات کے خوف سے پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ اپنا بیان شروع کرتا ہے۔ ”پانچ اکتوبر 1789 ء کو صبح سات بجے 2 ہزار خواتین پیرس کے مرکز میں واقع ٹاؤن ہال میں دروازے توڑ

Read more

شرم تم کو مگر نہیں آتی

آؤ بچوں سیر کرائیں تم کو پاکستان کی، جس کی خاطر ہم نے دی قربانی لاکھوں جان کی۔ پاکستان زندہ باد، پاکستان زندہ باد۔ طالب علم لہک لہک کر گا رہے تھے۔ تاریخ کا پیریڈ شروع تھا۔ وہ پرجوش لہجے میں کہہ رہے تھے ”قافلے تھے کہ چلے آرہے تھے، پیدل، بیل گاڑیوں پر اور ٹرینوں پر“ ۔ اپنی یادوں کو دفنا کر اور مردوں کو ویسے ہی چھوڑ کر، عزتیں اور مال لٹا کر، سب ادھر چلے آرہے تھے۔

Read more

کشمیر ایک ضد، محبت یا حقیقت

کشمیریوں کے لیے سب اچھا کہا جا رہا تھا۔ مہاراجہ ہری سنگھ کے لیے سب برا کہا جا رہا تھا۔ گرمیوں کے دن تھے۔ 1946 ء کا سال تھا۔ ”کشمیر چھوڑ دو تحریک“ زوروں پر تھی۔ کشمیریوں کے رہنماؤں اور لوگوں سے جیلیں بھر چکی تھیں۔ وہ کشمیر کی آزادی چاہتے تھے۔ مہاراجہ کے خلاف کشمیریوں کی اس بیداری کا نوٹس مہاتما گاندھی اور جواہر لال نہرو اپنے اپنے انداز سے لے رہے تھے۔ امریکی مؤرخ ”سٹین لے والپرٹ“ ہندوستان

Read more

ہوچی من سے پاکستان تک

”ویت نام میں سورج طلوع ہوا تو دنیا والوں نے دیکھا کہ ہوچی من کھڑا تھا اور اپنے سامنے پھیلی بے پناہ طاقت کو للکار رہا تھا۔ اس نے کہنا شروع کیا کہ اگر تم ویت نام کو اپنے قبضے میں کرنا چاہتے ہوتو تمہیں چاہیے کہ اس ملک کے آخری مرد، عورت اور بچے کو مار دو ۔ تم ہر گھنٹے میں دس بندے مار سکتے ہو لیکن پھر بھی جیت ہماری ہوگی۔ غلامی میں رہنے سے بہتر ہے

Read more

چھ ہاتھوں والا بڑا بت مکھی بھی نہیں پکڑ سکتا!

کونسٹین ٹائن برونزٹ (Konstantin Bronzit) چھوٹی اینی میشن فلموں کے ممتاز روسی ڈائریکٹر ہیں۔ ان کی مشہور فلموں میں Merry Go Round or The Round About, At the Ends of the Earth, Alosha اور Lavatory Lovestory شامل ہیں۔ اپنی پاپولر تخلیقات کے سلسلے میں وہ تقریباً 70 ایوارڈز بھی حاصل کرچکے ہیں۔ ان کی فلم Lavatory Lovestory کو اعلیٰ ترین Best Scenario Award ملا اور اسی فلم کو جیوری نے 2009 ء کی مختصر اینی میٹڈ فلموں کی کیٹگری میں

Read more

دھرتی ماں کی غیرت

پاکستان ایک نعرہ تھا جس کے لیے اگست 1947 ء میں دنیا کی سب سے بڑی ہجرت سامنے آئی۔ لاکھوں افراد کو گوشت کے ٹکڑوں میں تبدیل کر دیا گیا۔ ہزاروں لڑکیوں کی عزت، بے عزت ہو گئی کیونکہ وہ سب ایک نعرے کے پیچھے چل پڑے تھے۔ پھر کیا ہوا؟ وہ نعرہ دھول بن گیا۔ دھول جس سے بچنے کے لیے سفید پوش اپنے منہ پر کپڑا رکھ لیتے ہیں اور کالے انگریز کالا چشمہ پہن لیتے ہیں تاکہ

Read more

زرعی اصلاحات کی ضرورت

پاکستانیوں کی بڑھتی ہوئی غربت اور گہری ہوتی ہوئی مایوسی کو بھانپتے ہوئے چند سیاسی سیانے نمبر داروں نے نئی پولیٹیکل پارٹی بنانے کے لیے غور و فکر اور بھاگ دوڑ شروع کردی ہے مگر دیکھا جائے تو سبز ہلالی پرچم کے تلے اب تک بے شمار رنگوں اور طرح طرح کے نظریات کی سیاسی پارٹیاں اور حکومتیں آ چکی ہیں۔ مثال کے طور پر شروع شروع میں قرارداد مقاصد کا نظریہ آیا۔ تب کچھ دوسرے لوگوں نے سر اٹھایا

Read more

زاہد منیر عامر خوش رہیں، سکھی رہیں، آباد رہیں

  پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر کی تازہ کتاب پنجاب یونیورسٹی میں اردو (شعبے سے ادارے تک) اورینٹل کالج، پنجاب یونیورسٹی اور گورنمنٹ کالج کی ڈیڑھ سو برس سے زائد تاریخ پر مبنی ہے۔ اس کتاب کا صفحہ صفحہ پڑھتے جائیں تو محسوس ہوتا ہے کہ آپ گزشتہ ڈیڑھ سو برس کے ہر دن کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہے ہیں۔ آپ کی عمر اس وقت جتنی بھی ہو لیکن پروفیسر صاحب کی تحریر کا کمال ہے

Read more

کیلنڈر میں دس اپریل کی تاریخ

کیلنڈر کا 100 واں دن دس اپریل کہلاتا ہے جس کے بعد سال میں 265 دن رہ جاتے ہیں۔ اپریل کی دس تاریخ نیوکلیئر ٹیسٹ کے حوالے سے نمایاں مقام حاصل کرچکی ہے۔ یہ محض اتفاق تھا یا کوئی اور وجہ کہ سوویت یونین، امریکہ اور فرانس نے اپنے نیوکلیئر ٹیسٹ کے لیے مختلف پانچ برسوں میں دس اپریل کے دن کو ہی منتخب کیا۔ ترتیب کے مطابق سوویت یونین نے دس اپریل 1957 ء، امریکہ نے دس اپریل 1963

Read more

جنات کا سردار اور اقتدار کی شہزادی کی کہانی

جب ہم سب چھوٹے تھے تو کمپیوٹر اور موبائل فون نہیں تھے۔ فیس بک، چیٹنگ یا رات کو ڈیٹنگ والی لمبی لمبی موبائل فون کالز کا زمانہ نہیں تھا۔ ہم سب سکول کے بعد گلیوں محلوں کی دھول مٹی میں کھیل کود کر دوپہر گزارتے۔ شام کو بڑوں کی ڈانٹ اور استادوں کے ڈنڈے کے خوف سے تختیوں اور کاپیوں پر سکول کا کام کرتے جسے بعد میں ہوم ورک کہا جانے لگا۔ رات ہوتی تو بچے بڑی بوڑھیوں، نانیوں

Read more

کیا ہم ذہنی غلام ہیں؟

پورے پاکستان کو اس وقت ایک ہی مدار میں گھمایا جا رہا ہے۔ یعنی سیاست دانوں کے نت نئے ایشوز، اقتدار کے لیے باہمی دشمنیوں کی انتہائیں اور فوج یا سیکورٹی اداروں کو اپنے مفادات میں گھسیٹنا وغیرہ جیسے ذہن کے لیے اذیت ناک معاملات دن رات چل رہے ہیں۔ میڈیا بھی زیادہ سے زیادہ کمرشل ریٹنگ حاصل کرنے کے لیے اس سیاسی مار دھاڑ اور چیخ و پکار کے علاوہ نہ کچھ اور دیکھ رہا ہے اور نہ ہی

Read more

23 مارچ کا مطلب کیا، شاد رہے پاکستان

ایک کائناتی سچائی ہے کہ آج کے نمایاں ممالک ریاستی کنٹرول میں ہونے والے خون خرابوں کے بعد ہی معرض وجود میں آئے۔ مثلاً امریکہ میں اپریل 1861 ء سے لے کر مئی 1865 ء تک یعنی چار سال تین ہفتے چھ دن سول وار جاری رہی۔ امریکہ کی اس سول وار میں تقریباً دس لاکھ لوگ مرے اور تقریباً پانچ لاکھ لوگ شدید زخمی یا اپاہج ہوئے۔ تب جاکر ابراہم لنکن کی کوششیں رنگ لائیں اور امریکہ کو امن

Read more

آسٹریلیا کا ایک وزیراعظم جو لاپتہ ہو گیا

کالج کے سبزہ زار پر پھیلی سرمائی شام بہت ہی دلکش تھی۔ جوانی اور بے فکری نے سب کو مسحور کر رکھا تھا۔ کلاسوں کے اختتام پر ہونے والی سالانہ تقریب میں تمام طلبہ کے والدین بھی شامل تھے۔ سٹیج سے ایک ہی نام بار بار پکارا جا رہا تھا ”ہیرلڈ ہولٹ“ ۔ وہ تقریروں، فٹبال، گانا گانے اور پڑھائی کے تمام مقابلے جیت کر بہترین طالب علم قرار پایا تھا۔ اس سے گانا سنانے کی فرمائش کی گئی، وہ

Read more

ملکی دفاع کے لیے انگریزی چینلز اور شوز کی ضرورت

پاکستان کی ہسٹری کا ڈیٹا بتاتا ہے کہ ہمارے ہاں ٹیلی ویژن میڈیا کی ترقی فوجی حکمرانوں اور پاک بھارت تنازعات کی مرہون منت رہی ہے۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگ اسے غیر تحقیقی جملہ سمجھیں۔ لہٰذا ٹی وی اور چینلز کے آغاز اور فروغ پر سرسری نظر ڈال لیتے ہیں۔ ساٹھ کی دہائی کے پہلے سالوں میں مارشل لاء ڈکٹیٹر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کا طوطی بولتا تھا۔ انہی کے زمانے میں 26 نومبر 1964 ء کو پاکستان

Read more

جو لوگ پاگلوں کو بادشاہ بنا لیں

پاکستان میں سٹیبلشمنٹ زدہ مخصوص سیاسی منیجمنٹ سٹینڈرڈ کو سامنے رکھ کر آسانی سے تجزیہ کیا جاسکتا ہے کہ عمران خان اس حوالے سے ایک اچھے سیاسی منیجر ثابت ہو رہے ہیں۔ نواز شریف، شہباز شریف اور ان کے خاندان کی ناقابل شکست شخصیات اور ان کی جماعت نون لیگ کے لیے پہلے سے طے شدہ شرمناک انجام کو سپورٹ دینے کے لیے عمران خان نے نون لیگ والوں پر اکتوبر 2011 ء میں لاہور سے جس مادر پدر آزاد

Read more

نیشنل سکلز یونیورسٹی میں یوم تعلیم پر سیمینار

قومی سکلز یونیورسٹی اسلام آباد کے بانی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار ہیں۔ پروفیسر صاحب جن یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر یا جن اداروں کے سربراہ رہے ہیں ان اداروں یا یونیورسٹیوں میں نمایاں کارکردگی نظر آتی ہے۔ اپنے ادارے یا یونیورسٹی کو بہتر سے بہتر سطح پر لے جانے کا جنون پروفیسر صاحب کے مزاج کا ڈی این اے ہے۔ وہ جب سے قومی سکلز یونیورسٹی اسلام آباد کے اولین وائس چانسلر مقرر ہوئے ہیں اس وقت سے اب

Read more

وفاقی محتسب کے ادارے کو 39 ویں سالگرہ مبارک

سالگرہ منانے کا رواج پرانا ہے۔ اب اس کا چلن میڈیا پر بھی دکھائی دیتا ہے۔ سالگرہ کی یہ تقریبات یا خبریں عموماً فرد یا شخصیات کے حوالے سے ہی ہوتی ہیں۔ دوسری طرف اداروں کے قیام کی سالگرہ کی خبروں کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جبکہ دیکھا جائے تو کسی ادارے کے قیام کی سالگرہ منانے سے اس کے تعارف کی تجدید ہونے کے ساتھ ادارے کے سابقہ برسوں کی کارکردگی کا بھی پتا چلتا ہے۔ اس لیے

Read more

جماعت اسلامی کا کراچی میں دھرنا۔ کیوں؟

جماعت اسلامی گزشتہ 20 دنوں سے کراچی میں سندھ اسمبلی کے سامنے دھرنا دیے ہوئے ہے۔ جماعت اسلامی نے یہ دھرنا کیوں دیا ہوا ہے اور اس حوالے سے جماعت اسلامی کے کیا مطالبات ہیں؟ دھرنے کی وجوہات اور مطالبات نیچے تحریر کیے گئے آٹھ نکات میں واضح ہو جاتے ہیں جن کو پڑھ کر عام آدمی بھی خود فیصلہ کر سکتا ہے۔ آئیے! جماعت اسلامی کراچی کے مطالبات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ ( 1 پیپلز پارٹی نے اندرون

Read more

شارک مچھلی کے حملے اور سانحہ مری کے بعد فرق

اب سے ایک سو چھ برس پہلے یعنی 1916 ء کی بات ہے۔ شدید گرمیوں کے دن تھے۔ لوگ امریکہ کی ریاست نیوجرسی کے ساحل پر واقع ایک تفریحی مقام پر اکٹھے تھے۔ لوگ سمندر کی لہروں سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ خطرناک شارک مچھلیوں نے ان پر اچانک حملہ کر دیا۔ شارک یکم جولائی سے بارہ جولائی تک ساحل کنارے لوگوں کا شکار کرتی رہیں۔ ان حملوں میں چار افراد مارے گئے جبکہ ایک زخمی ہوا۔ ان

Read more

نئے سال کے لیے یہ دعا کیسی ہے؟

یہ بات بہت پرانی نہیں ہے۔ شاید صرف ایک نسل پہلے کا ذکر ہے جب گھر کا ایک خاص تصور ہوتا تھا۔ گھر کے تصور کی بنیادی خصوصیات میں تحفظ، اپنائیت، محبت، آپس کی عزت اور آزادی وغیرہ شامل تھے۔ ان سب اجزائے ترکیبی کے باعث گھر سکون اور سیلف رسپیکٹ کی علامت تھا۔ ان جذبات کے بغیر اگر کچھ لوگ ایک چھت تلے رہ بھی رہے ہوتے تو وہ گھر کے حقیقی تصور سے دور ہوتے تھے۔ اس لیے

Read more

قاضی حسین احمد آئے، دیکھا اور لوگوں کے دل فتح کیے

واہگہ بارڈر لاہور کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں بھیسین آباد ہے۔ ستائیس برس سے پہلے کی بات ہے کہ وہاں ایک سمگلر، زمینوں پر ناجائز قبضہ کرنے والا بدمعاش رہتا تھا۔ ہماری سیاست کے سنہری اصولوں کے مطابق اس بدمعاش کے ٹیلنٹ کا تقاضا تھا کہ وہ سیاست میں آتا۔ لہٰذا وہ پنجاب اسمبلی کا معزز رکن بھی تھا۔ اس کے ہاتھوں آبائی زمینوں اور مکانوں سے بے آباد ہونے اور نکالے جانے والے لوگ زیادہ تر غریب اور

Read more

قائداعظمؒ۔ مین آف ہسٹری

جواہر لعل نہرو نے قائداعظمؒ کو ”مین آف ہسٹری“ اس لیے کہا تھا کہ انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر لیا تھا کیونکہ مسلمان کبھی متحد نہیں ہوئے۔ اسی قائداعظمؒ نے پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے تمام پاکستانیوں کو ایک جیسا شہری سمجھنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آپ اپنے ماضی کو تبدیل کرتے ہوئے باہم اتفاق سے اس جذبے کے تحت کام کریں کہ

Read more

امراء کی جائیدادوں پر ٹیکس لگانے کا نیا آئیڈیا

ہسٹری کی کتابیں پڑھیں تو انسانی معاشروں کے بعض قدیم ترین مسائل بھی پرانے نہیں لگتے بلکہ یوں لگتا ہے کہ یہ سب کچھ آج کل کی دنیا کے بارے میں بہت پہلے لکھا گیا ہے۔ انہی مسائل میں سے ایک امیر اور غریب طبقے کے درمیان معاشی فرق کو کم کرنا ہے۔ یہ ایک ایسا ایشو ہے جس پر ہر معاشرے، ہر تہذیب اور ہر دور میں بات کی گئی ہے۔ مثلاً چارسو برس قبل مسیح میں یونان کے

Read more

اکتوبر 1958ء اور اکتوبر 2021ء میں کیا فرق ہے؟

فیلڈ مارشل محمد ایوب خان اپنی مشہور زمانہ کتاب فرینڈز ناٹ ماسٹرز میں لکھتے ہیں کہ ”1958 ء کے وسط میں ملک ایک سخت اقتصادی بحران کی لپیٹ میں آ گیا۔ اندھا دھند خرچ اس زمانے کا عام دستور نظر آتا تھا۔ ہم جتنا غیرملکی زرمبادلہ کما رہے تھے، اس سے زیادہ تین سے لے کر چار کروڑ ماہانہ کے حساب سے گنوا رہے تھے۔ زرمبادلہ کی محفوظ رقوم گھٹتے گھٹتے بیالیس کروڑ روپے رہ گئی تھیں۔ ان میں سے

Read more

دو سیاسی کردار، دو مدمقابل، دو خوف

پاکستان کی سیاست میں مریم نواز اور بلاول بھٹو دو ایسے نام ہیں جو اپنا مضبوط سیاسی مستقبل رکھتے ہیں لیکن یہی دو نام سیاسی مدمقابل اور سیاسی خوف کی دو علامتیں بھی ہیں۔ آئیے مریم نواز اور بلاول بھٹو کے ان تینوں پہلوؤں پر باری باری نظر ڈالتے ہیں۔ مریم نواز اور بلاول بھٹو کو مستقبل کے اہم سیاسی کردار کہنا پڑے گا کیونکہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ہی وہ دو سیاسی جماعتیں ہیں جو ماضی کی

Read more

عمران خان بتائیں اب کیسے پار اترنا ہے؟

تھوڑا عرصہ پہلے کی ریل گاڑی کے سفر کا منظر ذہن میں لاتے ہیں۔ کئی مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ ریل کسی چھوٹے قصبے کے سٹیشن پر رک جاتی۔ کچھ مسافر ریل گاڑی سے اتر کر پلیٹ فارم پر چہل قدمی شروع کر دیتے۔ اکا دکا خوانچے والے آوازیں لگا کر اپنی چیزیں فروخت کرنے کی کوشش کرتے۔ پکوڑے والے کے مٹی کے تیل کے چولہے کا دھواں پکوڑوں کی خوشبو سے زیادہ پھیل جاتا۔ ریل کے سٹارٹ انجن کا

Read more

نگران وزیراعظم کی جگہ نگران انتخابی کونسل کی تجویز

لگتا ہے پاکستانی سیاست کا سکرپٹ بھی فلمیں بنانے والے کسی سکرپٹ رائٹر نے لکھا تھا۔ ہماری سیاست میں بھی وہی سب کچھ ہے جو ایک ڈبہ فلم میں ملتا ہے۔ یعنی سسپنس، بڑھکیں، لڑائی، مار کٹائی، سازشیں، امید، نا امیدی، کامیاب اور ناکام محبتیں وغیرہ۔ فلموں اور سیاست کی اس مماثلت میں یہ پہلو حقیقت پر مبنی ہے کہ دونوں کا سکرپٹ اکثر پہلے ہی لکھا جا چکا ہوتا ہے اور تھوڑی بہت وقتی تبدیلی کے ساتھ فلم پردہ

Read more

سیاست میں انٹرنیشنل بروکرز

کچھ لوگ نوجوانی یا طالب علمی کے دوران پاکستان کی سیاست میں آئے اور عروج کے آخری روم تک گئے۔ یہ شاید اتفاق ہے کہ ان سب کے سفر سیاست، عروج، زوال اور مقامی یا انٹرنیشنل ایجنسیوں سے تعلقات کی داستانیں آپس میں ملتی جلتی ہیں۔ ایسے سیاست دانوں کی مثالوں میں شیخ مجیب الرحمان، ذوالفقار علی بھٹو، الطاف حسین، بینظیر بھٹو اور نواز شریف وغیرہ شامل ہیں۔ شیخ مجیب الرحمان نے اپنی سیاست کا آغاز قیام پاکستان کے فوراً

Read more

آئین عوام کے لیے

آج سے ساڑھے چار ہزار برس پہلے کا زمانہ تھا جب موجودہ عراق کے علاقے میں لاگاش کے سمیری بادشاہ یوروکجینا نے اپنی حکومت کے لیے ایک قانونی دستاویز تیار کی۔ اسے دنیا کا پہلا آئین کہا جاسکتا ہے۔ اس آئین کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ بیوہ عورتوں اور یتیم بچوں کی ذمہ داری ریاست کو سونپی گئی تھی۔ نیز غریب لوگوں کو مالدار سود خوروں سے تحفظ بھی فراہم کیا گیا تھا۔ اس وقت سے لے

Read more

پی ٹی آئی حکومت کے تین برس اور انسپکٹر کی کہانی

یوکرینی نسل کے ”نکولائی گوگول“ مشہور روسی ادیب تھے۔ وہ 31 مارچ 1809 ء کو پیدا ہوئے اور 42 برس کی عمر میں 4 مارچ 1852 ء کو وفات پا گئے۔ اپنی مختصر زندگی میں نکولائی گوگول نے ایسی کہانیاں اور ڈرامے تخلیق کیے جو آج بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ ان کی تحریروں کا بنیادی موضوع اس زمانے میں روس کے کرپٹ اور نا اہل حکمران تھے جن پر نکولائی گوگول نے اپنے قلم سے طنز کے تیر چلائے۔

Read more

شاید غم حسینؑ کا موسم قریب ہے

کربلا کے میدان میں خواتین کے کردار کے حوالے سے ہم عموماً جناب زینبؑ اور ان کے ساتھ معروف پاک بیبیوں کا ذکر پڑھتے ہیں۔ ان کے مقام کو تو کوئی بشر نہیں پہنچ سکتا لیکن کربلا میں کئی غیرمعروف اور عام خواتین نے بھی نواسہ رسول ؑحضرت امام حسینؑ کی قیادت میں اہم کارنامے سرانجام دیے۔ ان خواتین سے مراد وہ عام خواتین ہیں جو واقعہ کربلا سے چند روز پہلے دوسری دنیاوی خواتین کی طرح امور خانہ داری،

Read more

11 اگست اور قائدؒ کی روح

آج سے ٹھیک 74 برس پہلے ٹھیک آج ہی کے دن 11 اگست 1947 ء کو ایک نامور وکیل، جمہوریت کا ایک علمبردار اور ایک عظیم رہنما پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی سے خطاب کر رہا تھا۔ ہم نے اس شخصیت کو قائداعظمؒ کا خطاب دیا اور پھر ہم سب کچھ بھول گئے۔ آج ٹھیک 74 برس بعد بھی قائدؒ کی روح ہم سے سوال کرتی ہے کہ کیا ہمیں ان کا پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی سے

Read more

مزار قائدؒ کے آنسو 61 برس سے سوال کر رہے ہیں

بابائے قوم قائداعظمؒ محمد علی جناح 11 ستمبر 1948 ء کو یہاں سے ہمیشہ کے لیے چلے گئے۔ ہم نے انہیں کراچی کے ایک کونے میں دفن کر دیا۔ ان کی قبر پر چھوٹا سا چبوترا بنایا۔ ساتھ ایک الماری رکھ دی جس میں قائداعظمؒ کے زیر استعمال کچھ اشیاء تھیں اور بس یوں ہم نے یہ فریضہ اپنے کندھوں سے اتار دیا۔ پھر ہم قائداعظمؒ کی قبر کو ویسے ہی بھول گئے جیسے ان کے فرمودات کو آج تک

Read more

تیس ڈویژنوں کو صوبے بنانے کی تجویز قسط نمبر 2

میں نے اپنے گزشتہ مضمون میں پاکستان کے چاروں صوبوں کی جگہ ملک کے تیس ڈویژنوں کو صوبے کا درجہ دینے کی تجویز کا آغاز کیا تھا اور ان کے چیدہ چیدہ چار فوائد تحریر کیے تھے۔ اس مضمون کا باقی حصہ ذیل میں تحریر ہے۔ اس حصے میں رقبے کے اعتبار سے بڑے بڑے چار صوبوں کی جگہ تیس ڈویژنوں کو صوبے بنانے کے چیدہ چیدہ بقیہ آٹھ فوائد زیربحث لائے گئے ہیں۔ ( 5 صوبائی ہائی کورٹ تک

Read more

تیس ڈویژنوں کو صوبے بنانے کی تجویز قسط نمبر 1

ہسٹری، جرنلزم اور سیاسیات کا ادنیٰ طالب علم ہونے کے ناتے میری رائے ہے کہ ہماری معاشی، معاشرتی اور سیاسی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ ملک میں بڑے علاقوں کے حامل بدانتظام صوبے ہیں۔ ان صوبوں کا بڑے علاقوں پر محیط ہونا چند سیاسی جماعتوں کی اجارہ داری بھی قائم کرتا ہے اور عوام کی بجائے سیاسی خاندانوں کو تقویت دیتا ہے۔ یعنی خاندانی سیاسی جماعتیں ایک صوبے پرہی حکومت قائم کر کے قومی سطح پر طاقتور بن جاتی ہیں

Read more

مستقبل کی خارجہ پالیسی۔ تلوار کی دھار پر چلنا

اس وقت ہماری خارجہ پالیسی کے افق پر امن نظر آ رہا ہے۔ موجودہ ماحول میں ٹھنڈک مستقبل کے کسی پریشان کن حالات کا پیش خیمہ بھی ہو سکتی ہے۔ خارجہ پالیسی کا مضمون بھی حساب کتاب جیسا مضمون ہے۔ اس میں بھی غور و فکر کر کے دو جمع دو جیسا صحیح نتیجہ لیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے چند خاصیتوں کا ہونا ضروری ہے جن میں خارجہ پالیسی چلانے والوں کا بیرون ملک ذاتی تعلقات بنانے کی بجائے صرف ملک کے لیے مخلص ہونا، خارجہ پالیسی بنانے والوں کا پیشہ ورانہ طور پر پوری طرح ماہر ہونا، خارجہ پالیسی بنانے والوں میں وقت پر فیصلہ کرنے کی صلاحیت کا ہونا، خارجہ پالیسی میں غلطی کی گنجائش کا نہ ہونا، خارجہ پالیسی کے بارے میں ہر وقت شد و مد کے ساتھ ریسرچ کا عمل جاری رکھنا، ریسرچ کے نتائج کو اہمیت دینا اور انٹرنیشنل ریلیشنز کے اساتذہ و سکالروں سے مسلسل رہنمائی لینا وغیرہ شامل ہے۔

Read more

سروس پرسن والی خارجہ پالیسی کو تبدیل کرنا ہوگا

میں اس لفظ سے اتفاق نہیں کرتا کہ پاکستان کا افغانستان میں اپنا کوئی کردار تھا بلکہ میں یہ کہوں گا کہ پاکستان نے شروع سے ہی افغانستان میں امریکہ کے مفاد کے لیے خدمات سرانجام دیں۔ افغانستان کے حوالے سے امریکی ٹاسک کے پورا ہو جانے کے بعد افغانستان میں اس کی دلچسپی کا ایک بڑا Portion ختم ہو گیا لیکن افغانستان میں آنے والے غیرملکی اور مقامی وہ افراد جنہوں نے امریکہ کے لیے تاریخی کارنامہ سرانجام دیا

Read more

امریکی خارجہ پالیسی میں پاکستان کی کم ہوتی اہمیت

یہ خیال اس حد تک درست ہے کہ امریکہ کی موجودہ فارن پالیسی میں پاکستان مارجنلائزڈ یعنی کم اہم ہو گیا ہے لیکن اس جملے کو ایسا نہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ گزشتہ 73 برسوں میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ دراصل پاکستان امریکہ کی خارجہ پالیسی میں 73 برسوں سے ہی حقیقی طور پر اہم نہیں تھا بلکہ امریکہ نے پاکستان کو اپنے خاص مقصد یعنی کولڈوار میں سوویت یونین کے خلاف ایک اہم ٹول کے طور پر استعمال کرنے

Read more

بیچارے عوام جانتے ہیں لیکن یقین نہیں کرتے

ہم بیچارے عوام بہت ہی سادہ ہیں اور ہرمرتبہ ایک ہی سوراخ سے ڈسے جاتے ہیں۔ وہ ایسے کہ اگر حکومت وقت نا اہل ثابت ہو اور عوام کی نظروں میں ناپسندیدہ ہو جائے تو اس مصیبت سے نجات کے لیے اپوزیشن سے توقعات لگالی جاتی ہیں۔ عوام کا حافظہ کمزور ہوتا ہے اس لیے انہیں یاد نہیں رہتا کہ چوہے بلی کا یہ کھیل گزشتہ 73 برس سے ایک ہی سکرپٹ کے تحت ایک ہی طرح کھیلا جا رہا

Read more

کیا عمران خان اور مریم نواز ایک پیج پر ہیں؟

ن لیگ کی گوگلی کبھی کسی کو سمجھ آتی ہے کبھی کسی کو نہیں آتی۔ بعض اوقات یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ نون لیگ کی گوگلی خود نون لیگ والوں کو بھی سمجھ نہیں آ رہی۔ اسے مرشد کی دعا کہا جائے یا حکیم کی دوا کہیں کہ نون لیگ کا سیاسی گراف کریش نہیں ہوتا بلکہ ڈبکی کھانے کے بعد پھر ابھر کر سامنے آ جاتا ہے۔ جب شہباز شریف کی حالیہ ضمانت منظور ہوئی تو سیاسی لوفروں

Read more

مسافر سقراط کے دیس میں

پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر سفرنامے کی صدیوں پرانی شمع کو اٹھائے آگے قدم بڑھاتے چلے جا رہے ہیں۔ ان کا مستقل قاری ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ تھوڑے تھوڑے وقفے سے ایک نیا سفرنامہ پڑھنے کو مل جاتا ہے۔ پروفیسر زاہد تدریسی مصروفیات میں سے وقت نکال کر جب بھی مسافر کا روپ دھارتے ہیں تو پہلے سے ہی طے کرلیتے ہیں کہ وہ اس سفر میں اپنی تحریروں کے ذریعے بے شمار قارئین کو اپنے ساتھ رکھیں

Read more

پاکستانی سفیروں کی تذلیل

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی قصبے کے دو زمینداروں میں ٹھن گئی۔ دونوں ایک دوسرے کا سر نیچا کرنے کی فکر میں رہنے لگے۔ دونوں چاہتے تھے کہ اپنے مخالف کے خلاف ایسا انتہائی راست اقدام نہ کیا جائے جس سے بڑا تصادم جنم لے۔ آخرکار ان دونوں میں سے ایک زمیندار کو نہ جانے کس نے مشورہ دیا اور وہ ترپ کا پتا کھیل گیا۔ پلان کچھ یہ طے ہوا کہ مخالف زمیندار سے براہ راست انگیج ہونے کی بجائے جگہ جگہ اس کی تذلیل کا بندوبست کیا جائے۔

اس کے لیے سمجھدار زمیندار نے قصبے کے ایک ایسے شخص کو چنا جس کی اوباش جوانی کی داستانیں مشہور تھیں۔ اس کے لوفرانے مزاج اور لا ابالی پن کے باعث قصبے کے سنجیدہ لوگ اس سے دور ہی رہتے تھے۔ سب جانتے تھے کہ اس کے منہ لگنا اپنی عزت کو تار تار کرنے کے برابر ہے۔ یعنی جسے اپنی عزت کی پروا نہ ہو وہ دوسروں کی عزت کا کب خیال کرے گا۔ یہ شخص سمجھدار زمیندار کے منصوبے کے لیے بالکل فٹ تھا۔ سمجھدار زمیندار نے اس شخص کو سارا منصوبہ سمجھایا اور انعام و اکرام کے طور پر قصبے کو اس کے اختیار میں دینے کا بھی وعدہ کیا۔

Read more

وفاقی محتسب کی کارکردگی اور دفترخارجہ کی ذمہ داری

یوں تو وطن عزیز میں انصاف کے حصول کے لیے بہت سے ادارے موجود ہیں تاہم وفاقی محتسب کے نام سے ایک ایسا ادارہ بھی 1983ء سے کام کر رہا ہے جہاں وکیل کی ضرورت ہے نہ فیس کی، نہ کسی نوعیت کے اخراجات کی۔ شکایت کنندہ صرف سادہ کاغذ پر بذریعہ ڈاک یا آن لائن درخواست دے سکتا ہے جس پر 24 گھنٹوں کے اندر کارروائی شروع ہو جاتی ہے اور زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر فیصلہ

Read more

کیمبرج امتحان: نہ سمجھ آنے والی منطق یا نذر نیاز؟

فلسفے کی ایک قدیم کتاب میں درج ہے کہ جھوٹ بولنے کی اجازت صرف حکمرانوں کو ہونی چاہیے جس کا مقصد دشمنوں کو شکست دینا یا عوام کی فلاح و بہبود ہو۔ ہمارے حکمران فلاسفی کی اس گہری بات پر تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ ٹھیک ٹھیک عمل کر رہے ہیں۔ وہ تبدیلی یہ ہے کہ جھوٹ بولنے کا مقصد دشمنوں کو شکست دینے کی بجائے عوام کو شکست دینا ہو اور عوام کی فلاح و بہبود کی بجائے جھوٹ اپنی حکمرانی کی فلاح و بہبود کے لیے بولا جائے۔

Read more

سقراط بولا، منصف شخص انصاف کا چور بھی ہو سکتا ہے؟

یونانی فلسفی سقراط کے شاگرد افلاطون کی کتاب ”دی ریپبلک“ انصاف، انصاف پر مبنی فلاحی ریاست اور منصف کے بنیادی فلسفے پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب تقریباً چارسو برس قبل مسیح میں تحریر کی گئی لیکن آج بھی ڈھائی ہزار برس بعد اپنے موضوع کے اعتبار سے ریاست کے فلسفے کی کتابوں میں ایک بنیادی کتاب کی حیثیت رکھتی ہے۔ دی ریپبلک میں سقراط ایک موقع پر اپنے ہم عصر دوست فلسفی پولی مارکسس کے ساتھ منصف اور اس کے

Read more

پیپلزپارٹی کے تین بڑے اور ان کی تین خصوصیات

جنگل میں آباد جانوروں، پرندوں اور حشرات کے اپنے اپنے مزاج ہوتے ہیں۔ وہ سب اپنے انہی فطری رویوں کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔ کوئی بہادری سے شکار کرتا ہے، کوئی چھپ کر مارتا ہے اور کوئی دوسرے کی بچی کچھی خوراک کو اپنے زندہ رہنے کا سامان بناتا ہے۔ گویا سب وہی کرتے ہیں جو ان کی اپنی نسل کے آباء و اجداد نے کیا۔ اگر غور کریں تو ہماری سیاسی جماعتوں میں بھی یکسانیت کا وہی مزاج موجود

Read more

سیاسی شہادتیں اقتدار کے لیے نہیں ہوتیں

ذوالفقار علی بھٹو 1958ء میں خوبرو تعلیم یافتہ اور ذہین نوجوان کی حیثیت سے پاکستان کی سیا ست میں طلوع ہوئے اور آخری سیڑھی پر پہنچ کر 4 اپریل 1979ء کو غروب ہو گئے۔ انہوں نے زندہ حیثیت سے 21 برس سیاست کی مگر مرنے کے بعد بھی 42 برس سے پاکستانی سیاست میں موجود ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو، سکندر مرزا اور ایوب خان کی انگلی پکڑ کر سیاست میں آئے۔ وہ ایوب خان کے بہت

Read more

اسٹیبلشمنٹ اور پیپلز پارٹی

پیپلز پارٹی اپنے آپ کو خالصتاً جمہوری جماعت کہتی ہے لیکن عملاً وہ ہردور میں کسی نہ کسی انداز سے سٹیبلشمنٹ کے ساتھ فٹ ہوتی آئی ہے۔ یہ علیحدہ بات کہ جمہوریت کا منطقی اصول ہے کہ جمہوری ہوتے ہوئے ہرکسی کے ساتھ فٹ ہونا متضاد نظریات ہیں۔ یہاں ہم سب ایک بات بھول جاتے ہیں کہ پاکستان میں حکومت، اپوزیشن اور سیاست کے حوالے سے طاقت کا سرچشمہ گزشتہ 73 برسوں سے اب تک صرف ایک ہے۔ حکومت، اپوزیشن

Read more

جنرل ایوب اور مولوی تمیز الدین اب بھی موجود ہیں؟

روایت ہے کہ ریاستی اداروں کی سیاست میں مداخلت کی داغ بیل جنرل ایوب خان نے ڈالی۔ ان کی ایک حسرت یہ بھی تھی کہ ملک میں پارلیمانی جمہوریت کی جگہ صدارتی نظام حکومت لایا جائے۔ ایک دفعہ اسی موضوع پر ان کا ٹاکرا مولوی تمیزالدین سے ہو گیا۔ جنرل ایوب مولوی تمیز الدین کو اپنے دلائل اور آڑے ہاتھوں سے لینے کے باوجود اپنا ہم خیال نہ بنا سکے لیکن جنرل ایوب مولوی تمیزالدین کے اپنے نظریے پر یقین

Read more

کیا قائداعظمؒ مسلم لیگ قائم رکھنا چاہتے تھے؟

متحدہ ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن جب اپنی ذمے داریاں سنبھالنے کے لیے ہندوستان آئے تو انہوں نے معاملات کو سمجھنے کے لیے نامور سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا۔ جب جواہر لعل نہرو ان سے ملے تو گفتگو کے دوران ماؤنٹ بیٹن نے پوچھا کہ ”آپ کے خیال میں جناح کیسے شخص ہیں؟“ نہرو نے بغیر رکے جواب دیا کہ ”He is one of the most extraordinary men in history“ ۔ ماؤنٹ بیٹن نے چونکتے

Read more

صادقین کا جنرل ضیا کو لکھا گیا غیر مطبوعہ نایاب خط

سید عباس زیدی پاکستان کے قابل فخر سینئر سفارت کار رہ چکے ہیں۔ 1982 کے دنوں میں وہ ہندوستان میں پاکستانی سفارتخانے میں تعینات تھے۔ اسی عرصے کے دوران انہوں نے ممتاز پاکستانی آرٹسٹ صادقین کا ایک خط اس وقت کے پاکستان کے سربراہ حکومت جنرل محمد ضیا الحق کو بھیجا۔ یہ خط نایاب ہے اور اب تک منظر عام پر نہیں آیا۔ اس کے کچھ حصے پیش خدمت ہیں جن سے تین باتیں ضرور اخذ کی جا سکتی ہیں۔

Read more

یہ پاکستان نہیں پیرس ہے

آپ نے دور کے ڈھول سہانے والا محاورہ تو سنا ہوگا۔ یورپ کو ہم اچھی سوسائٹی سمجھتے ہیں اور پاکستانی حالات پر بہت مایوس ہوتے ہیں۔ پاکستان اور یورپ کے تقابلی جائزے کے لیے ہم فرانس کے شہر پیرس کو لیتے ہیں اور چند واقعات پر نظر ڈالتے ہیں۔ ہم ٹریفک کے سگنل پر رکیں تو بعض اوقات بچے گاڑیوں کی ونڈ سکرین صاف کرنے آ جاتے ہیں اور اپنا کام چند سیکنڈ میں ختم کر کے پیسوں کی امید

Read more

باتیں اعجاز الحق کی، کالم ہمارا

میں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک زخم کو اجاگر کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا جنرل ضیاء الحق کو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر کبھی پچھتاوا ہوا تھا؟ اس پر اعجاز الحق صاحب نے کہا کہ بھٹو کی پھانسی ایک افسوس ناک واقعہ ہے لیکن اس وقت کی حکومت نے عدلیہ کے حکم پر عمل درآمد کیا۔ اس میں کوئی ذاتی رنج والی بات نہیں تھی۔ بھٹو کے خلاف قتل کا مقدمہ خود ان کے دور میں بنایا گیا تھا۔ جب قتل کی ایف آئی آر درج ہوئی تو اس وقت بھٹو ملک کے وزیراعظم تھے۔

Read more

ایک کال کا سوال ہے بابا

اپنے پیارے وطن میں سیاسی جلسے جلوس احتجاج کرنے والے لیڈروں کے لیے سیاسی آکسیجن ہوتے ہیں جبکہ مخالفین کے لیے سیاسی کاربن ڈائی آکسائیڈ ہوتے ہیں۔ عوام حکومت اور اپوزیشن کی اس کھینچا تانی میں پریشان پھنسے رہتے ہیں۔ جب دونوں سیاسی برجوں کے معاملات کسی نتیجے پر نہ پہنچ رہے ہوں اور عوام تنگ سے تنگ ہوتے جا رہے ہوں تو کوئی درمیان میں داخل ہوتا ہے۔ اس انٹری سے سیاسی آندھیاں وقتی طور پر رک جاتی ہیں

Read more

پی ٹی آئی حکومت کی سرکاری ملازمین سے کیا دشمنی ہے؟

ڈاؤن سائزنگ کے نتیجے میں بیروزگار یا سرپلس ہونے والے لوگ کیا پاکستانی نہیں ہوتے؟ اگر انہیں نکال کر سرکاری بجٹ میں کمی ہوتی ہے تو کیا ان کی بیروزگاری سے معاشرے پر بوجھ میں اضافہ نہیں ہوتا؟ ایسے سرکاری ملازمین کا بوجھ کم کرنے کے لیے حکومت انہیں مکمل طور پر ختم ہی کیوں نہیں کر دیتی؟ تاکہ پی ٹی آئی کی حکومت ہلکا پھلکا سا ملک چلائے، گیسی غبارے کی طرح جو اوپر ہی اوپر جائے۔ سرکاری ملازمین کو بیروزگار کیا جا رہا ہے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہیں بڑھائی جا رہیں۔

Read more

گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ: مستقبل کی سیاست کی ضرورت

1973ء کے آئین کے مطابق اکثریتی پارٹی اپنی حکومت بنائے گی۔ اس طرح جو جماعت اکثریت میں آئے وہ اپنی اکثریت قائم رکھنے کے لیے اپنے ممبران کے ہاتھوں آسانی سے بلیک میل ہوتی رہے گی اور اگر کوئی جماعت پوری طرح اکثریت حاصل کرنے کی بجائے اکثریت کے قریب قریب ہو تو مکمل اکثریت حاصل کرنے کے لیے دوسری جماعتوں سے الحاق کرے گی جو کہ بلیک میل ہونے کا ایک آسان راستہ ہوگا۔

Read more

پیپلز پارٹی کے لیے پی ٹی آئی کی دور بین نگاہیں

آصف علی زرداری نے لاڑکانہ میں بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر، پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کچھ ایسے اشارے دیے ہیں، جن کے تجزیے سے نئی سوچیں جنم لیتی ہیں۔ ان کی پہلی توجہ طلب بات یہ تھی کہ ”پی ڈی ایم کے جتنے دوست بیٹھے ہوئے ہیں، عوام یہ ہیں۔ عوام کے نمایندے یہ ہیں۔ مینگل صاحب بلوچستان کے نمایندے ہیں، اچکزئی صاحب بلوچستان کے نمایندے ہیں، اے این پی کے پی کے کی نمایندہ جماعت ہے۔ ساحلوں، سمندروں سے، آئی لینڈ سے لے کے جناح پوسٹ تک، جو کہ آخری چوکی ہے کشمیر کی، وہاں تک پیپلز پارٹی کا جھنڈا ہے“ ۔

اس بیان کو غور سے ڈی کوڈ کریں تو معلوم ہو گا کہ آصف علی زرداری نے بلوچستان، کے پی کے، سندھ اور آزاد کشمیر سمیت تمام صوبوں اور علاقوں کے نام لیے، لیکن اگر نہیں لیا تو اس حوالے سے پنجاب کا نام نہیں لیا۔ انہوں نے بلوچستان، کے پی کے، سندھ اور آزاد کشمیر کی بڑی سیاسی جماعتوں کے نام لیے اور اگر نہیں لیا تو مسلم لیگ نون کے قائدین اور پارٹی کا نام نہیں لیا، جس کی پنجاب میں اکثریت ہے۔ اس کی ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ماضی میں اندرون سندھ، پنجاب کو گالی کے طور پر استعمال کیا گیا۔ استعمال کرنے والوں میں، وہاں کی قوم پرست جماعتیں اور کسی حد تک خود پیپلز پارٹی بھی شامل تھی۔

Read more

سلیکٹڈ سے الیکٹڈ تک کا سفر

فرض کریں کہ اپوزیشن والے سچ کہتے ہیں کہ عمران خان سلیکٹڈ ہیں۔ اگر ایسا ہی ہے تو ذہن میں ایک الجھن پیدا ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ ملک کی تاریخ میں کیا عمران خان پہلے سلیکٹڈ حکمران ہیں یا ان سے پہلے بھی سلیکٹڈ حکمران ہو گزرے ہیں؟ مثلاًصدر جنرل سکندر مرزا کی مہربان آنکھوں نے نوجوان بیرسٹر ذوالفقار علی بھٹو کو چنا اور اپنی کابینہ میں وزیر بنالیا۔ یہ وہی جنرل سکندر مرزا تھے جن کی پشت پناہی

Read more

آٹھ آرمی چیفس کے ساتھ کام کرنے والے واحد وزیراعظم

موجودہ آئین پاکستان کے 1973 ء میں نفاذ کے بعد سے اب تک پاک فوج کے 10 چیفس آف آرمی سٹاف مقرر ہوچکے ہیں۔ ان فوجی سربراہان کی سروس کے عرصے میں 10 وزرائے اعظم نے صرف ایک ایک فوجی سربراہ کے ساتھ جبکہ ذوالفقار علی بھٹو نے دو فوجی سربراہان کے ساتھ، بینظیر بھٹو نے تین فوجی سربراہان کے ساتھ اور نواز شریف نے 8 فوجی سربراہان کے ساتھ بطور وزیراعظم کام کیا۔ نواز شریف کی اس کلیدی حیثیت

Read more

جیسے کہ نواز شریف

پاکستان کی سیاست میں مخالفین کو نیچا دکھانے کے لیے ان پر غیرمنطقی تنقید سے آگے بڑھ کر ان کی ذاتی تذلیل کا استعمال پوری بے شرمی کے ساتھ جاری ہے۔ پہلے شرم و حیا اور تہذیب سے عاری سیاست کو گلی محلوں کے لفنگوں کی ہلڑبازی سے تشبیہ دی جاتی تھی لیکن اب یہ چند برسوں سے ہماری قومی سیاست کا لازمی جزو بن گیا ہے اور اس کا استعمال اپوزیشن کے علاوہ حکومتی سطح پر بھی بڑھ چڑھ

Read more

آخر جنوری ہی کیوں؟

پی ڈی ایم کے احتجاجی جلسوں کے کارواں نے ملتان میں پڑاؤ ڈالا اور کامیابیاں سمیٹنے کے بعد لاہور روانگی کے لیے اپنے خیمے اٹھا لیے۔ ملتان کے جلسے کو روکنے کا حکومتی اعلان حکومت کے لیے شرمندگی ثابت ہوا۔ سیاسی طور پر پختہ حکومت ایسے اعلانات نہیں کرتی کیونکہ عمومی طور پر عوامی جلسوں کو روکنا ناممکن ہوتا ہے۔ جلسہ روکنے کا اعلان ہونے کے بعد نہ روکے جانے کی صورت میں اسے اپوزیشن کی کامیابی سمجھا جاتا ہے جو اس مرتبہ بھی ہوا۔

بظاہر ملتان کا جلسہ حکومت کی پسپائی اور اپوزیشن کی کامیابی تھی لیکن معاملات کا بغور جائزہ لینے سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جلسے سے چند گھنٹے قبل اپوزیشن کو کھلی چھٹی دے دینا دراصل کسی بیک ڈور سمجھوتے کی وجہ تھی۔ اس مفروضے کو تقویت اس وقت ملی جب ملتان جلسے میں موجود پی ڈی ایم قائدین کی تقریریں سامنے آئیں۔ مریم نواز کے علاوہ پی ڈی ایم کے دیگر رہنماؤں نے لو پروفائل کے ساتھ اپنا بیانیہ پیش کیا۔ یہاں تک کہ آصفہ بھٹو کی پہلے سے تیار کی ہوئی تقریر میں بھی سلیکٹرز کا لفظ کہیں موجود نہیں تھا۔

Read more

اینٹی ہاتھی ٹیکنالوجی

انسان قد میں ہاتھی سے بہت چھوٹا ہے مگر ہسٹری پڑھنے سے پتا چلتا ہے کہ چھوٹے انسانوں نے بڑے ہاتھیوں سے بڑے کام لیے جن میں زیادہ تر جنگ کے دنوں میں دشمن کو تباہ و برباد کرنا اور امن کے دنوں میں سواری اور کاشت کاری وغیرہ شامل تھے۔ تاہم پاکستانی سیاست میں سیاسی ہاتھیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک نیا طریقہ ایجاد کیا گیا جسے یہاں ”اینٹی ہاتھی ٹیکنالوجی“ لکھا جا رہا ہے۔ اینٹی ہاتھی ٹیکنالوجی

Read more

نواز شریف: جانے کس جرم کی پائی ہے سزا؟

نواز شریف کو اکتوبر 1999 ء کے بعد سے اب تک تقریباً ایک جیسے حالات کا ہی سامنا رہا ہے جن میں غاصب طاقتوں کا غیظ وغضب اور وفاداری کی قسمیں کھانے والے ساتھیوں کی بے وفائی سمیت پارٹی میں پھوٹ ڈالنے کی کوششوں کا سامنا وغیرہ شامل ہیں۔ مثلاً جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء کے بعد شریف خاندان کی خواتین کو تقریباً ایک سال تک نظربند رکھنے کے بعد جب رہائی دی گئی تو اس وقت نواز شریف

Read more

کیا پی ایم سی سے مراد پولیٹیکل میڈیکل کمیشن ہے؟

پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم اور ڈاکٹروں کے معاملات کو ریگولیٹ کرنے والے ادارے پی ایم ڈی سی کو تحلیل کر کے پی ایم سی کے نام سے ایک نیا ادارہ قائم کیا گیا ہے۔ پی ایم ڈی سی سے پی ایم سی بنانا ایک تبدیلی تھی لیکن اس تبدیلی کے آن گراؤنڈ کیا اثرات ممکن ہیں ان کا جائزہ لیتے ہیں۔ سب سے پہلے پی ایم سی کے انتظامات کو چلانے کے لیے جن 9 ممبران کا اعلان کیا

Read more

فردوس عاشق اعوان کا تقرر مریم نواز کے لیے

ملک میں رواں دواں حالیہ سیاست کے حوالے سے تین پہلوؤں کا تجزیہ کرتے ہیں جن کے اثرات ہماری سیاست کو مستقبل قریب میں متاثر کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلے ایاز صادق اور فواد چوہدری کے بیانات کو لیتے ہیں۔ ایاز صادق کے بیان کا تعلق لوکل آڈینس سے ہے یعنی حکومت اس بیان کو اپنے انداز سے پیش کر کے پبلک میں نون لیگ کو ڈی گریڈ کر سکتی ہے۔ یہ علیحدہ بات کہ ایاز صادق کے بیان

Read more

بلال بھائی

یہ 1983 ء کے موسم سرما سے ذرا پہلے کا زمانہ تھا، جب پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہء صحافت میں، اس برس داخلہ لینے والے طالب علموں کی کلاسوں کا آغاز ہوا۔ وہاں میری ملاقات زاہد مقصود اور طاہر رفیق سے ہوئی۔ ہم تینوں ہاسٹل کے سکونتی ہونے کے باعث آپس میں ذرا جلدی شناسا ہو گئے۔ وہیں ہاسٹل میں ہماری ملاقات پنجابی کے طالب علم اور شاعر واجد فاروق سے بھی ہوئی۔ ہم چاروں کے حلقے میں دو اور کا اضافہ ہو گیا، جن میں سے ایک زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے منظور قادر اور دوسرے راولپنڈی کے نوجوان وکیل ممتاز احمد بلال تھے۔

وقت اتنی ہی تیزی اور چالاکی سے گزر گیا، جتنی تیزی اور چالاکی سے اس کے گزرنے کا شکوہ، ہر کوئی کرتا آیا ہے۔ اور یوں 2020 ء آ گیا۔ میں اسلام آباد چلا آیا تھا اور یہیں کا ہو گیا۔ زاہد مقصود لاہور ہی رہے اور سینیئر صحافی ہو گئے۔ طاہر رفیق نے مختلف شہروں کے صحافتی اداروں میں کام کرنے کے بعد فیصل آباد میں اپنے آبائی مشہور پرنٹنگ پریس کا نظم و نسق سنبھالا۔ واجد فاروق کئی ملکوں سے ہوتے ہوئے کینیڈا آباد ہوئے۔ منظور قادر علم و دانش کی منزلیں طے کرنے کے بعد ڈاکٹر منظور قادر بن گئے اور انٹرنیشنل سائنسی تحقیقی اداروں میں کام کرتے ہوئے کینیڈا جا بسے۔

Read more

شرارتی بکرے نے شیر کے کان میں کہا

سنا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں دوستی اور دشمنی مستقل نہیں ہوتی۔ کل کے دوست آج کے دشمن اور آج کے دشمن کل کے دوست ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے یہ تاریخی سچائی بین الاقوامی سیاسی تعلقات کی بجائے اندرونی سیاسی تعلقات کے حوالے سے زیادہ سچی لگتی ہے۔ مثلاً: امریکا، چین، ترکی اور عرب ہمارے دوست تھے لیکن مشرقی پاکستان بنگلا دیش بن گیا۔ امریکا، چین، ترکی اور عرب ذوالفقار علی بھٹو کے دوست تھے، لیکن پھر بھی انہیں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔

امریکا، چین، ترکی اور عرب پاکستان کے دوست تھے، لیکن ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کا نام آتا رہا۔ امریکا، چین، ترکی اور عرب نواز شریف کے دوست تھے، لیکن پھر بھی انہیں اقتدار سے نکال دیا گیا۔ بھارت پاکستان کا دشمن ہمسایہ تھا اور برادر اسلامی ہمسایہ افغانستان بھی دوست نہ تھا۔ بھارت اب بھی دشمن ہمسایہ ہے اور برادر اسلامی ہمسائے افغانستان سے پاکستان کو اب بھی خطرہ ہے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان جتنے شکوک و شبہات پہلے تھے، اتنے ہی شاید اب بھی ہیں۔

Read more

جمہوریت سے وفاداری کا حلف بھی

ابھی بہت سی جگہوں پر بندروں کا راج تھا۔ کہیں کہیں انسانی تہذیبیں پھوٹ رہی تھیں مگر حکمرانی کے طور طریقے اور قانون جنگل والے ہی تھے۔ جو زیادہ طاقتور ہوتا وہی بادشاہ کہلاتا اور اس وقت تک تخت پر قابض رہتا جب تک کوئی اس سے زیادہ طاقتور پیدا نہ ہو جاتا۔ عام انسانوں اور جانوروں میں کوئی فرق نہ تھا۔ دونوں کو قابو کرکے اپنے کام کے لیے استعمال کیا جاتا۔ یہ منظر تقریباً پانچ سو سال قبل

Read more

تین ہزار سال پرانی اولیگارکی اور ہمارا طرز حکمرانی

پاکستان میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں میں کئی اختلاف سہی لیکن یہ اتفاق بڑھتا جا رہا ہے کہ جمہوریت ہی ملک کا شاندار پہناوا ہے۔ دل میں اقتدار کی قیامت خیز تڑپ لئے کچھ ایسی جماعتیں بھی ہیں جن کے بارے میں یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ الیکشن کی جگہ اگر سلیکشن نہ ہوتی تو وہ اپنی حسرتوں پر آنسو بہاکر سوتی ہی رہتیں۔ تاہم سلیکٹروں کے احسان تلے دبی یہ جماعتیں بھی جمہوریت کے خلاف سرعام گناہ سے

Read more

اے پی سی ترپ کا پتا تھی یا کوئی سپانسر مل گیا ہے؟

کمزور اور ترقی پذیر ممالک میں حکومتیں جب بھی آتی ہیں یا جاتی ہیں یا حکومتوں کے خلاف کوئی بھی موثر تحریک چلتی ہے تو یہ سب کچھ ان کے اپنے بل بوتے پر نہیں ہوتا بلکہ ان سرگرمیوں کا کوئی نہ کوئی سپانسر ضرور ہوتا ہے جس کے تانے بانے مقامی سطح سے شروع ہوکر انٹرنیشنل سطح تک جڑتے ہیں۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ ہر بڑے آدمی کے پیچھے کسی نہ کسی عورت کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے

Read more

ٹی وی ریٹنگ کیا ہے؟

ہم نے کرپشن کے بہت روپ دیکھے ہیں۔ ایک نیا روپ ٹی وی ریٹنگ سکینڈل بھی ہو سکتا ہے۔ ٹی وی ریٹنگ سے کیا مراد ہے؟ لوگ ابھی اس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔ بات کچھ یوں ہے کہ جب صرف پی ٹی وی ہوتا تھا تو اس کے پروگراموں کے بارے میں رائے لینے کے لیے گھرگھر سروے کیا جاتا تھا۔ پی ٹی وی کے نمائندے ناظرین کی دہلیز پر جاکر پروگراموں کے بارے میں فارم بھرتے تھے

Read more

وفاقی حکومت کے ساحل کے قریب سائیکلون

سمندری طوفان سائیکلون قریب کے ساحل کے لیے تشویش کی خبر ہوتا ہے۔ سائیکلون اگر رخ تبدیل کرکے متعلقہ ساحل سے دور ہو جائے تو وہاں سکھ کا سانس لیا جاتا ہے ورنہ ریسکیو ادارے کئی روز تک ساحل پر سائیکلون کی تباہ کاری کا اندازہ لگاتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں سیاسی سائیکلون کا قریب ترین ساحل وفاقی حکومت ہوتی ہے۔ اگر یہ سائیکلون سرپرستی کم ہو جانے یا سرپرستی ختم ہوجانے کے باعث دھیما پڑجائے تو حکومت فتح یابی

Read more

زہرا بتولؑ کی گود کا پالا، تین دن کا پیاسا حسینؑ

عاشورہ دس محرم کو زہرا بتولؑ کی گود کا پالا، رسول ﷺ کا نواسہ، تین دن کا پیاسا حسینؑ شہید ہوکر فتح مند ہوتے ہیں۔ عزیز ملک کی ”خون حسینؑ“ میں ہے کہ ”انصار اور اہل بیتؑ میں سے کوئی بھی حضرت امامؑ کی طرف سے لڑنے والا باقی نہ رہا۔ صبح عاشورہ سے دوپہر تک ان کی محفل میں مئے وحدت کی گردش رہی۔ پھر میخانہ عشق کے یہ متوالے نشہ سرمدی میں سرشار ہوکر ستاروں کی سمت پرواز

Read more

وفاقی محتسب میں چاند چہرہ ستارہ آنکھیں

ساری دنیا کے فکشن میں ایسے کئی کردار ملتے ہیں جو لوگوں تک انصاف پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انصاف پہنچانے کی بابت یہ کردار فکشن میں ہیرو ہوتے ہیں۔ اگر فکشن کی بجائے حقیقی دنیا میں ایسے ہیرو کی صورت دیکھنی ہوتو وفاقی محتسب کے ہیڈآفس اسلام آباد جانا پڑے گا جہاں پر آپ کی ملاقات موجودہ وفاقی محتسب اعلیٰ سید طاہر شہباز سے ہوگی۔ پاکستان میں سینکڑوں چھوٹے بڑے سرکاری محکمے ہیں جن میں لاکھوں چھوٹے بڑے سرکاری

Read more