مینٹل کو میڈل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس وقت کوئٹہ پہ بارانِ رحمت سے لبریز بادل چھائے ہوئے ہیں، موسم کا مزاج بھی قاتل محبوب جیسا ہو رہا ہے، سرمئی شام چشمِ یار کی مانند مستانی ہے۔ اِس سہانے موسم میں بھی نہ جانے کیوں مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ فضاؤں میں پھر سے بارود کی خوشبو رچی ہے۔ کانوں میں بھی بمبارطیاروں کی گھن گرج گونج رہی ہے۔ پھر خون آلود لاشے تڑپتے دکھائی دیتے ہیں۔ پھر معصوم بچوں کو یتیم کرنے کے اسباب اور ملک پر ڈالرز برستے نظر آتے ہیں۔ خدا کرے میرے اِس ڈراؤنے خواب کی تعبیر ایسی نہ ہو جیسا مجھے گمان ہے، مگر نہ جانے کیوں ہم بلوچستان کے باسی بھی سیاہ فاموں کی طرح اپنی آنکھوں میں خطرے کی چمک کو دائمی پاتے ہیں۔

ہمیشہ سے جنگوں کی فرنٹ لائن رہنے کی بدولت ہماری چھٹی حس دوسروں کی نسبت زیادہ بیدار اور چوکنی ہو چکی ہے۔ ہم فضاؤں، چشموں، دریاؤں، بیابانوں اور پہاڑوں میں گل لالہ، نرگس، مٹی، خون اور بارود کی خوشبوئیں الگ الگ محسوس کر سکتے ہیں۔

چند دنوں سے ملک کی خارجہ پالیسی میں ہوتی تبدیلی دیکھ کر میری چھٹی حس کچھ سمجھا رہی ہے۔ جو میں دیکھ رہا ہوں یا مجھے سنائی دے رہا ہے وہ آپ دوستوں سے بھی شئیر کرنا چاہتا ہوں۔

امریکہ افغانستان سے واپس جا رہا ہے مگر اُسے ادراک ہے کہ گزشتہ دہائی میں وہاں انڈیا کو سیٹل کروانے، پاکستان مخالف قوتوں کو طاقت ور کرنے کو پاکستان میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تو جاتے جاتے وہ پاکستان کو کشمیر میں الجھا کر خاموشی سے نکلنا چاہتا ہے تا کہ پاکستان کی ساری طاقت کشمیر پر صرف ہو اور افغانستان میں اس کے حمایتی امن کی زندگی گزار سکیں۔

مجھے ایسا لگتا ہے کہ مودی کو ایوارڈ اب دیا گیا ہے مگر سعودیہ، امریکہ اور انڈیا گٹھ جوڑ گزشتہ دو تین برس سے سی پیک اور پاکستان میں چین کے بڑھتے عمل دخل اور ایران و دیگر ملکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات و بزنس ڈیلز کے خلاف سرگرم عمل تھا۔ جس کا ایک بڑا ثبوت ٹرمپ نے یہ کہہ کر دیا کہ ”پاکستان کی سابقہ حکومت ہمارا کہا نہیں مان رہی تھی، ہمارے کام نہیں ہو رہے تھے۔“

آج سوشل میڈیا پر عمران کے چہتیوں کے سعودیہ کے خلاف اور ایران کی حمایت میں لگے اسٹیٹس دیکھ کر بے ساختہ ان کا نواز کے نکالنے جانے، اچانک پانامہ نکلنے اور ملک کے ہر بڑے کی نواز شریف سے آنکھیں پھیرنے پر خوشی سے ناچنا یاد آ گیا۔

آپ سب کو یمن جنگ کے دوران سعودیہ میں ہوئی کانفریس میں ایک سابقہ وزیر اعظم کو تقریر نہ کرنے دینا اور گروپ فوٹو کے دوران بالکل پیچھے کھڑا کرنا یاد تو ہو گا۔ یقیناً آپ کو اُن کی یمن جنگ بارے پی ٹی وی پر نشر ہوئی تقریر بھی یاد ہو گی، جس میں اُنھوں نے پاکستانی افواج سعودیہ نہ بھیجنے اور کسی دوسرے کی جنگ میں حصہ دار نہ بننے کا کہا تھا، یہی وہ لحمہ تھا جب ناکام خارجہ پالیسی، سانحہ ماڈل ٹاون، ایک سو چھبیس دن کے دھرنے، لاک ڈاون، ڈان لیکس، ملکی عزت کو کاروبار پر ترجیح، ابو جندل سے ملاقات اور کلبوشن کے کیس میں مجرمانہ غفلت بھرتے کے باوجود اپوزیشن کا ”نواز استعفی نہیں دے گا“ جیسی خاموش حمایت پانے والے نواز شریف کو ہر حال میں اقتدار سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا۔

نہ جانے کیوں ایسا لگتا ہے کہ اُن کا گناہ یہی تھا کہ اُنھیں نے یمن میں ایران کے حمایتی گروپ کے خلاف امریکہ اور سعودیہ کی مدد اور یمن میں آباد شیعوں کی نسل کشی سے انکاراور امریکہ کے کہنے کے باوجود ایران اور چین سے اچھے تقلقات قائم رکھے ہوئے تھے۔

پھر اچانک غیب سے پانامہ جیسی خفیہ رپورٹس منظر عام پر آگئیں۔ گو کہ پاکستان کے کم و پیش دو سو افراد کا نام اس لسٹ میں تھا مگر شاہد اُنھوں نے ابھی امریکہ انڈیا اور سعودیہ کے مفاد کے خلاف کچھ نہیں کیا تھا اِس لیے وہ بچ گئے اور نواز کے خلاف جے آئی ٹی بنا دی گئی جس کا پانامہ میں اپنا تو نہیں، مگر بیٹوں کا نام ضرور تھا۔

شریف فیملی خوش گمانی کا شکار رہی، کرپشن ثابت ہونے پر ہر سزا قبول کرنے کے بیانات دیے، پھر جے آئی ٹی کا یو اے ای اور دوبئی بھیجا گیا ہر کاغذ تصدیقی مہر کے ساتھ واپس آیا، قطر نے خط لکھ کر نواز شریف کو بچانے کی کوشش کی تو سعودیہ نے اُس کا نان نقفہ بند کر دیا، تجارت سے سیاحت تک بلکہ معیشت سے دوستی تک ہر ناتا توڑ لیا۔ اور پھر قطر کا شہزادہ بھی گواہی دینے پاکستان نہ آیا، ملک دشمن، مودی کایاراور امتِ مسلمہ کا دشمن نواز شریف سزا پا گیا اور سعودی اور قطر حالات پھر سے معمول پر آ گے۔

پھر اللہ کا کرم ہوا، ملک میں تبدیلی آئی، سعودی شہزادے طمطراق کے ساتھ پاکستان جلوہ گر ہوئے، اربوں ڈالر کے معاہدے، ساتھ جینے ساتھ مرنے کے وعدے وعید ہوئے اور پاکستان نے سعودیہ کو ایرانی بارڈر سے صرف چند سو کلومیٹر اندر گوادر میں سرمایہ کاری اور رحیم یار خان سے بلوچستان تک مہینوں شکار کی اجازت دے دی تھی۔

مشہور کہاوت ہے کہ ”دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے“ ہم نے ایران کے دشمن کے ساتھ ہاتھ ملایا تو ایران نے ہمارے دشمن انڈیا کے ساتھ جھپی ڈال لی۔ کیونکہ ”محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے۔ “ چند ماہ قبل پاکستان پر فضائی اور زمینی حملے کی حکمت عملی ترتیب دینے والے ملکوں میں انڈیا، اسرائیل اور ایران کا نام بھی دانشوروں کی نجی محافل میں لیا جاتا رہا۔

انڈیا نے ہماری تیاری اور بیداری جانجنے کو ابھی نندن کو بھیجا، وہ تو اللہ بھلا کرے ہمارے شاہینوں کا کہ اُنھوں نے ایسی خاک چٹائی کہ چودہ طبق روشن ہو گے اور یہ تینوں مزید جارحیت کرنے کا حوصلہ نہ کر پائے۔

دشمن اگر انڈیا جیسا بزدل اور نیچ ہو تو اِس سے ہر گھٹیا حرکت کی امید رکھنی چاہیے۔ پھر یہی ہوا کہ بلوچستان میں پہلے شیعہ ”ہزاروں“ پر حملہ کروایا گیا پھر واقعے کو مذہبی رنگ دے کے اچھالا گیا اور بقوم شاہ محمود قریشی ایران کی مدد سے مکران کوسٹل ہائی وے پر نہتے مسافروں کے خون سے ہولی کھیلی گئی۔ جس پر پاکستان نے باقاعدہ ایران سے احتجاج کیا۔ کراچی میں دہشت گردوں کو پکڑنے کے بعد پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ان کے سہولت کار کے طور پر ایران کا نام لیا گیا۔

اب سوچنا یہ ہے کہ اس ساری کارروائی یا حالات کی خرابی میں کہیں ہماری کوئی کمزور پالیسی تو وجہ نہیں بنی؟ مودی چین، ایران، سعودیہ، امریکہ، روس اور فرانس کی حمایت کا کھلے عام دعوا کر رہا ہے۔ جس امت مسلمہ کے لیے اب تک پاکستان کم و بیس چالیس ہزار شہری شہید کروا چکا وہ مودی کو میڈل پہنا رہے ہیں۔

کیا نواز شریف کو اِس سازش کا علم تھا؟ کیا نواز شریف نے یہ جانتے ہوئے کہ اُن کا اقتدار لپیٹ دیا جائے گا، شیعہ بھائیوں کے خون سے دامن داغدار نہ کیا؟ کیوں یمن میں اُن کی نسل کشی میں حصہ دار نہ بنا؟ یقنناً اُسے احساس تھا کہ پاکستان پہلے ہی اپنے دو ہمسایوں، انڈیا اور افغانستان کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہے تو تیسرے ہمسائے کو بھی دشمن بنانا کوئی دانشمندی نہ ہو گی۔

ہمارے محلوں میں ہر پانچواں گھر شیعہ بھائیوں کا ہوتا ہے۔ ہمارے حساس و دیگر محکموں میں شیعہ ہمارے دست و بازو ہیں۔ یقیناً نواز شریف کو اِس حقیقت کا بھی ادراک تھا کہ جیسے پاکستان کے سنی حبِ سعودیہ میں جان دینے کو ثواب سمجھتے ہیں ویسے ہی اکثر شیعہ ایران اور وہاں موجود مقدس مقامات کی حفاظت اپنا ایمان سمجھتے ہیں تو ناحق یمن سعودی جنگ کا حصہ بن کر اپنے ملک کو فرقہ واریت کی آگ میں دکھیلنا کوئی دانشمندی نہیں ہو گی۔ یہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ گزشتہ پانچ سالہ دورِ اقتدار میں شیعہ ہزاروں، پنجابیوں اور نہ ہی فورس کے جوانوں پر ایسے حملے ہوئے جیسا کوسٹل ہائی وے پر چند ماہ قبل ہوا تھا۔

کیا انڈیا اور ایران کو موقع دے کر پھراپنے ملک کو اور صوبہ بلوچستان کو آگ میں جھونکنا عقل مندی ہو گی؟ جیسے مشرف کے دور اقتدار میں نواب اکبر خان بگٹی کے قتل کے بعد انڈیا کو بلوچستان میں ہمدرد مہیا کرنے جیسی غلطی کرنا اور اب پورے پاکستان سے ایران اور انڈیا کو ہمدرد مہیا کرنے جیسی حماقت کا ملک متحمل ہو سکتا تھا؟ بالکل نہیں۔ کیا ایران کے ساتھ کسی فساد میں الجھ کر ہم بلوچوں، پشتونوں، سندھیوں اور مہاجروں کے بعد اپنے شیعہ بھائیوں کو بھی شک کی نظر سے دیکھا کریں گے؟ کیا ہم ایسی نفرت ایسی تفریق کے متحمل ہو سکتے ہیں؟

شاہ محمود قریشی صاحب نے فرمایاتھا کہ اب ہم ایرانی بارڈر پر اربوں روپوں سے باڑ اور کثیر تعداد میں افواج لگا کر اِس فتنے سے نپٹنے جا رہے ہیں۔ کیا ہم ناحق اپنے ہمسائے کے دشمن کی حمایت کرتے ہوئے پہلے اپنے تعلقات اُس سے خراب کریں پھر اپنے بچوں کی تعلیم، صحت اور خوارک کی رقم کاٹ کر امریکہ جیسا ”مخلص“ دوست اپنی حفاظت کو بلوائیں یا گھر کی دیواریں اونچی کروائیں؟ کیا ایسے اقدام کر کے ہم اپنی اولاد کے ساتھ مخلص تصور کیے جائیں گے؟

کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ ہم ایران کے دشمن کے ساتھ نہ ملیں اور نہ اُسے یہ موقع دیں کہ وہ ہمارے دشمن کی مدد کرے۔ مگر ہم نے تو ہر مصیبت کو اپنے گھر کا راستہ دکھانے کا ٹھیکا اٹھا رکھا ہے۔ ذرا سوچیے گا ضرور کہ کیا ممالک امن سے ترقی کرتے ہیں یا جنگوں، ہمسایوں سے تقلقات خراب کرنے اور اُن پر حملے کرنے والوں کی مدد کر کے؟

یو اے ای حکومت کا مودی کو میڈل دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ اب دنیا میں حمایت مذہب، فقے اور علاقے کی بجائے کاروباری مفادات کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے۔ فرانس انڈیا کے خلاف ہر بل ویٹو کرنے کو ہر وقت تیار رہتا ہے، کیا فرانس باسیوں اور انڈینز کا مذہب ایک ہے؟ نہیں بلکہ انڈیا فرانس سے جنگی طیارے خریدتا ہے تو اپنے گاہک کو ختم کروانا کوئی دانشمندی ہو گی؟

اس لیے ملک میں کاروباری سرگرمیاں بحال کرتے ہوئے دیگر ممالک کو انویسٹمینٹ کرنے پر مزید مراعات دی جائیں۔ امن و دوستی کا ہاتھ صدقِ دل کے ساتھ ہمسایوں کی جانب بڑھایا جائے اور اگر اِس کاوش کے باوجود کوئی نہ سدھرے تو پھر لاتوں کا استعمال کر کے بھوتوں کو سیدھا کیا جائے۔ انڈیا اور اس کے چمچے پاکستان کی ایک کارروائی کی مار ہیں۔ کارروائی تو دور کی بات، اگر ہم بجائے باڑ کے بارڈر پر پائلٹ حسن صدیقی، لالک جان، کپٹین شیر خان اور اُن جیسے دیگر بہادر سپوتوں کی تصاویر ہی آویزاں کر دیں تو انشاءاللہ دشمن کا لہو خشک کرنے کو کافی ہوں گی۔

مگر احسن یہ ہے کہ ہم اغیار کی جنگ کا حصہ نہ بنیں بلکہ امن دوستی اور بھائی چارے کی فضا قائم رکھیں کیونکہ اس سے قبل امریکہ سرکار کے لیے ہوئے دونوں تجربے ناکام ہو چکے۔ ہمسائے کا گھر پھونک کر اپنی روٹی پکانا کوئی داشنمندی نہیں۔ ہاں دشمن کو یہ بات ذہن نشین رکھنی ہو گی کہ ہماری امن دوستی کو بزدلی سمجھنے والے احمقوں کی جنت کے باسی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •