عقیدت کی نفسیات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عید کا دوسرا روز تھا، میں اپنے محلے میں ایک دوست کے ساتھ یونہی سیر کو نکلا۔ دیکھتا کیا ہوں کہ سڑک کنارے، کھمبوں کے آس پاس، کوڑا گھر پر لدے ہوئے یا پھر کونوں میں دبے ہوئے بہت سے سفید و سیاہ بورے رکھے ہوئے ہیں، ان سے تعفن اٹھ رہا ہے، سڑکیں کیچڑ سے بھری ہوئی ہیں۔ پوری سڑک ایک ایسی بو میں لپٹی ہوئی ہے کہ سانس لینا دوبھر ہورہا ہے اور یہ صرف ایک سڑک کا حال نہیں، جس طرف سے گزر جائیے، جہاں دیکھ لیجیے، یہی حال ہے۔ کئی جگہ تو اور بھی عجیب منظر نظر آیا، کوڑے کےبڑے بڑے ڈبے خالی پڑے ہیں اور ان کے آس پاس ایسے ہی بورے پڑے سڑ رہے ہیں، ان بوروں میں ظاہر ہے کہ بقرعید میں قربان ہونے والے جانوروں کے پیٹے ہیں۔
جب آپ اپنے آس پاس اس طرح کے لوگوں کو دیکھتے ہیں جو عید کے دن خوبصورت کپڑے پہن کر، عطر لگا کر شان سےدو رکعت نماز ادا کرکے، سجے بنے محلے میں اینڈتے پھرتے ہیں، ایک دوسرے کے گلے لگتے ہیں ، قربانی کی رسم ادا کرتے ہیں اور پھر خوش و خرم گوشت بانٹنے میں جٹ جاتے ہیں، طرح طرح کے لذیذ پکوانوں سے ایک دوسرے کی ضیافت کرتے ہیں اور ایسا گوشت جو ان کے کام کا نہیں، اسے اٹھا کر کسی بورے میں بھروا کر سڑک پر کہیں بھی پھنکوادینے سے مطمئن ہوجاتے ہیں۔ تب آپ سوچتے ہیں کہ اس طرح کے لوگوں کو مذہب نے کیا دیا ہے اور ان کی عقیدت کی نفسیات کس قسم کی ہیں، اسے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی تعلیم ، لوگوں میں کوئی عملی قسم کا انقلاب نہیں پیدا کرسکی ہے تو اس کا مطلب ہی کیا رہ جاتا ہے۔ صفائی نصف ایمان ، جیسی باتیں ان لوگوں تک پہنچ کر اتنی بے معنی کس طرح ہوگئی ہیں کہ ان کے یہاں صفائی کا تصور ہی کمہلا کر رہ گیا ہے۔ اچھا، ہوتا پھر یہ ہے کہ اگر برسات ہوجائے تو سڑک پر پڑے ہوئے اسی گوشت کا تعفن مزید خطرناک رخ اختیار کرلیتا ہے، اس کے بعدنکلنے والی دھوپ میں ایسے ایسے ابخرات اٹھتے ہیں کہ جی متلاجاتا ہے۔ میں نے یہ منظر دیکھا ہے، اپنی آنکھوں سے کہ ایک کچرے کے بڑے سے ڈھیر کے پاس میلا لگا ہوا تھا، ہنڈولے میں بچے جھول رہے تھے، اچھے اچھے کپڑے پہنے ہوئے اور برابر ہی پڑے ہوئے ان بوروں سے اٹھنے والی بو ناقابل برداشت تھی۔ اس کے ذرا سا آگے ایک شاپنگ سینٹر اور اس سے آگے چوک ، گاڑیوں کی ریل پیل اور ساتھ ہی ساتھ یونیورسٹی سے جڑا ہوا ایک ایسا علاقہ جس میں رہنے والے بہت سے لوگوں کو اپنے تعلیم یافتہ ہونے پر بلا کا غرور بھی ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ سماج کے اہم ترین مسئلوں پر عدم توجہی کی ایک بڑی وجہ عقیدت ہے۔ عقیدت جو انسان کو نقصان کے علم سے محروم کردیتی ہے۔ اور یہ نقصان ایک ہی قسم کا نہیں ہے، بلکہ اس میں سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ انسان نقصان کو ایک قسم کے فائدے میں تبدیل کرکے دیکھنے لگتا ہے۔ مثال کے طور پر اسی عید میں ہونے والے ایک واقعے کو لے لیجیے۔ ہمارے ایک خالہ زاد بھائی ہیں، لمبی داڑھی ہے، جو کہ کسی خاص مکتبہ فکر کے زیر اثر ٹھیک سے کتری بھی نہیں گئی ، وہ گوشت لے کر گھر آئے۔ اپنی مصروفیت کے بارے میں بات کررہے تھے، میرے بھائی نے انہیں دھیان دلایا کہ ان کے قمیص پر خون کے دھبے لگے ہوئے ہیں، وہ اس بات پر ہنستے ہوئے فرمانے لگے کہ ‘ہاں! قربانی کے بعد سے حصوں بخروں کو لے کر ادھر ادھر پھررہا ہوں۔ ‘
عجیب سی بات ہے، ایک معمولی سی انسانی تمیز سے وہ انسان محروم ہے، جسے اپنے مذہب کے تمام عالم انسانیت میں بالاتر ہونے کا یقین ہے، کہ خون کی نمائش لوگوں میں خون سے پیدا ہونے والی کراہت اورخوف کو کم کردیتی ہے۔ اور انسان کا خون سے ہم آہنگ ہوجانا، جس میں معصوم بچوں کے کچے ذہن بھی شامل ہوں، کم خطرناک بات نہیں ۔ ویسے بھی عام دن ہوں یا خاص دن ، دوکانوں پر جس طرح گوشت نمایاں طور پر چاندی کے ورق لگا کر فروخت کیا جاتا ہے، اس سے ایک وحشیانہ اور درندگی کی فکر کو جلا ہی تو ملتی ہے۔ گوشت کی دوکانوں کو نظر انداز کربھی دیجیے تو اس بات کو فراموش کرنا مشکل ہے کہ یہی خون ، جو سڑکوں اور چھتوں کو قربان گاہوں میں تبدیل کرکے بہایا جاتا ہے۔ ہماری اپنی نفسیات پر خون سے ایک گہری ‘عقیدت’ کو اجاگر کرتا جاتا ہے۔
ہندوستان میں مسلمانوں کے محلے ایک قسم کے وحشت آمیز مذاق میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ یہاں سکولوں اور کالجوں میں چاہے جو تعلیم دی جائے مگر عام زندگی سے جو علم حاصل ہوتا ہے، وہ منافقت سے بھرپور اور مذہب سے حاصل ہونے والی ممکنہ عیاشیوں کی ترغیب کے سوا کچھ نہیں۔ وہ چیز جسے بنیادی انسانی اخلاق کا حصہ ہونا چاہیے، ان محلوں میں ناپید ہے۔ پردے پر زور ہے، داڑھیوں پر زور ہے، مگر جھوٹ اور مکاریوں پر کوئی قدغن نہیں۔ اذانوں اور نمازوں کا کاروبار لائوڈ سپیکر پر گرم ہے، مگر نرم گفتاری اور بات کرنے کے سلیقے پر کسی قسم کا زور نہیں۔ جنت کے بڑے بڑے محلوں میں جانے کا زعم ہے، مگر اپنے گھروں اور سڑکوں کا خیال رکھنے کا بالکل احساس نہیں۔ کوئی اگرمذہب تو دور، اس نام نہاد مذہبی سوسائٹی پر تنقید کردے تو لوگ چراغ پا ہوجائیں مگر اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی بالکل فرصت نہیں۔ مذہبی تعلیم کے نام پر بس دوسرے مذاہب پر اپنی برتری اور اپنی مظلومیت کا رونا دھونا ہے، یہ نہیں کہ اپنی حالت سدھارنے پر سوچ وچار کیا جائے۔ چندے پر بننے والی مسجدوں میں روز اضافہ ہوتا ہے، مگر کسی بڑے تعلیمی، سماجی فلاح کے پروجیکٹ کا کوئی خیال نہیں۔
مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بیٹھا تھا۔ جہاں کی عمارتوں سے لے کر بینچیں تک یا تو مسلمانوں کے نام سے موسوم ہیں یا پھر ان کے ہمدردوں کے نام سے۔ ہم کاسترو کیفے میں بیٹھے تھے۔ میں نے ایک دوست سے پوچھا کہ جامعہ دوسرے معاشروں کے باغیوں اور ریفارمز سے اس قدر ہمدردی رکھتا ہے کہ کہیں نوم چومسکی ، کہیں چے گویرا، کہیں فیودل کاسترو کے نام پر کچھ نہ کچھ موجود دکھائی دے جاتا ہے۔ مگر خود اپنے منحرف کرداروں اور اصلاح پسندوں کے نام ندارد ہیں۔ یہ کون سی فکر ہے، جو دوسرے سماج کے باغیوں کی اتنی قدر کرتی ہے اور اپنے سماج کے باغیوں کو جہنمی اور ملچھ تصور کرکے ان سے دشمنی نبھاتی ہے۔ میں اسے نفرت سےعقیدت کا نام بھی دیتا آیا ہوں۔
عام طور پر آج آپ جہاں بھی دیکھیے، یہ شور ضرور سنائی دے گا کہ ہندوستان میں مسلمان پریشان ہورہے ہیں، ان کے حقوق چھینے جارہے ہیں، ان پر ظلم ہورہا ہے، انہیں سر عام سڑک پر مار دیا جارہا ہے۔ مگر جب آپ غور کرتے ہیں، دیکھتے ہیں کہ اکیسویں صدی میں بھی جو قوم پرانے بوسیدہ خیالوں کے ساتھ اسی طرح چپکی رہنا چاہتی ہے، جس سے صرف ایک قسم کا سماجی فرق پیدا ہوتا ہے، جس سے لوگوں کے ذہن پراگندہ ہوتے ہیں تو آپ کو خیال آتا ہے کہ اس سماج میں ایسے لوگ ردعمل کے طور پر دوسری قوموں میں جو لوگ پیدا کریں گے وہ بھی انہی کی طرح کے ہوں گے۔
مثال کے طور پر ابھی کچھ روز پہلے مجھ سے بال کاٹتے وقت ایک حجام صاحب کہنے لگے کہ ‘بھائی میں نے تو اپنے بیٹے کو حافظ بنانا ہے، آپ کو تو پتہ ہی ہوگا کہ حافظ سات پشتوں کو بخشواتا ہے۔ ‘میں اس حجام سے بحث نہیں کرسکا، میں اسے کیسے بتاتا کہ کسی کتاب سے ایسی عقیدت پیدا کردیے جانے میں ملا مولوی لابی کا ایسا زبردست قصور ہے ، جس نے جستہ جستہ کسی بھی بات کو سمجھنے اور جاننے کی ضرورت کو ہی ختم کردیا ہے۔ کتاب سے عقیدت، ناموں سے عقیدت، مولویوں سے عقیدت، تاریخ سے عقیدت ، الغرض عقیدت ایک ایسا مرض ہے، جس کو سچائی کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔
میں بہت عرصے سے سوچتا تھا کہ پرانے لوگوں کے ناموں کے ساتھ ہمارے یہاں ‘رحمتہ اللہ علیہ’ وغیرہ کیوں لگایا جاتا ہے۔ یہ بھی ایک طرح کی سازش ہے کہ جن لوگوں کو بڑے بڑے تاریخ دانوں نے انسانوں کی طرح دیکھا، سمجھا اور ان کے کرداروں کو نمایاں کیا، ہم ان لوگوں کا نام تک لینے سے اتنا گھبراتے ہیں کہ اگر کسی بزرگ ہستی کا نام مسلمہ لاحقوں کے بغیر لیا جائے تو بہت سی بیٹھکوں میں تو ہماری بات ہی نہیں سنی جائے گی اور اسے زبردست گستاخی پر محمول کرتے ہوئے لوگ شور مچاتے اور استغفار پڑھتے ہوئے اٹھ جائیں گے۔ اس طرح کی حرکتوں نے خاص طور پر مسلم سوسائٹی میں اپنے سے بڑوں کے تعلق سے ، خاص طور پر ان کی کمزوریوں اور برائیوں پر گرفت کرنے سے لوگوں کو محروم کردیا ہےاور وہ لوگ ایسے لوگوں کو معتبر سمجھنے لگے ہیں، جو عمر دراز ہوں، جن کی جھریاں اور داڑھیاں پھیلتی جارہی ہوں اور ایسے مولویوں کو مقدس جن کا کام امامت وغیرہ ہو۔ اب چاہے وہ بوڑھے کتنے ہی جاہل کیوں نہ ہوں اور مولوی کتنے ہی چالاک۔
مجھے لگتا ہے کہ ظواہر پسند سماج سے عقیدت کو الگ کرپانا غیر ممکن ہے۔ یہ مضمون کسی سماجی فلاح و بہبود کے نقطہ نظر سے نہیں لکھا گیا۔ ایک عام سا واقعہ سنا کر اپنی بات ختم کرتا ہوں ، شاید کسی ذہن میں سما جائے۔ میں اکثر ملنے والے جامعہ کے ایک پڑھے لکھے شخص کو آداب کہا کرتا تھا۔ ایک روز وہ فرمانے لگے۔ آپ ہمیشہ آداب کیوں کہتے ہیں۔ السلام و علیکم کیوں نہیں۔ میں نے کہا کہ دونوں کا مقصد تو ایک ہی ہے ، فرمانے لگے کہ یہ معاملہ مقصد کا نہیں، شناخت کا ہے۔ آپ مسلمان ہیں تو آپ کو سلام کرنا چاہیے۔ تب میں سمجھا کہ انہیں اگر میں ‘آداب ‘ کے بجائے’ تسلیم’ بھی کرتا تب بھی انہیں اعتراض ہوتا، جب کہ دونوں کا مقصد ہی نہیں، مطلب بھی ایک ہے۔ ‘سلامتی’۔ لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ عقیدت ایک ایسی ہی چیز ہے ، جو انسان لفظوں تک سے کر بیٹھتا ہے اور جہاں معنی کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی، کیونکہ معنی کا تعلق بہرحال سمجھنے، سمجھانے سے ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •