’جمہوری لبرلز‘ کی خدمت میں ایک عامی کی گزارشات
غیر جماعتی انتخابات کروا کرسیاست کے کھیل میں نو تخلیق کردہ کھلاڑی اتارے جا چکے تھے۔ روس اپنی سرحدوں میں سمٹ کر بکھرا تو جہاں سرخ پوشوں کے انقلابی ترانے یکایک تھم گئے تو وہیں عزیز از جان جہادیوں کو سرِ راہ چھوڑ کر امریکہ نے بھی اپنی راہ لی۔ بائیں بازو والے انقلابی اپنے رومانوی گیت گاتے، منہ بسورتے رہ گئے۔ جنرل ضیا کا جہاز فضا میں پھٹنے تک، منشیات اور اسلحے کی ریل پیل سے نمو پانے والا لسانی و فرقہ ورانہ دہشت گردی اور مذ ہبی انتہا پسندی کا عفریت پھن پھیلائے پورے قد پر کھڑا ہو چکا تھا۔
تاریکی کے اس دور میں ہما رے جیسوں کی امیدیں بھٹو کی بیٹی سے وابستہ ہو گئیں۔ فرینکسٹائن کا بھوت جو بھٹو کے خوف میں تخلیق کیا گیا تھا، نمو پاتا رہا اور پچھلے تیس سالوں سے اب کسی نا کسی شکل میں الف لیلہ کے پراسرار جزیرے پر بسنے والے پیر تسمہ پا کی طرح ہماری گردنوں پر سوار ہے۔ بھٹو کا جسم قبر میں اتر گیا، بے نظیر بھٹو بے گناہ ماری گئی، زرداریوں نے بھٹو کی روح کو بھی ٹھکانے لگا دیا۔ ریاست کی سر توڑ کوششوں کے با وجود ’فرینکسٹائن کا بھوت‘ مگر اب تابوت میں جانے کو تیار نہیں۔
دائیں اور بائیں بازوؤں سے وابستہ جماعتیں ایک بار پھر ایک ہی ٹرک کی چھت پر سوار ہونے کو پر تول رہی ہیں۔ وہ بائیں بازو والے دانشور کہ جن کے گیت، غزلیں اور ترانے سنتے سنتے ہم جوان ہوئے تھے ’جمہوریت پسند لبرلز‘ کے نام سے آج بھی ریاست کے خلاف صف آرا ہیں۔ حق تو یہ ہے کہ ہر ایک کو کسی بھی نظریے سے وابستگی اور اپنی بات کہنے کا پورا حق حاصل ہے۔ سیاسی جماعتوں سے جڑے افراد کہ جن کے مفادات قائدین سے وابستہ ہوں حتٰی کہ کارکن بھی جو رہنما کی محبت میں گرفتار ہوں، ان سب کی اندھی تقلید قابلِ فہم ہے۔
ان کی بدزبانی سے بھی صرفِ نظر کیا جا سکتا ہے کہ معاملہ سیاسی وابستگی سے زیادہ تعلیم وتربیت سے متعلق ہے، تعلیم سے کچھ کم اور تربیت سے کچھ زیادہ۔ کسی اور سے اگر نہیں، انصاف، مساوات اور اعلیٰ انسانی وجمہوری اقدار پر یقین رکھنے والے ’لبرل جمہوریت پسندوں‘ سے توضرور توقع کی جانی چاہیے کہ وہ معاملات میں نظریاتی و طبقاتی تعصب سے اٹھ کرانصاف کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور ہمارے جیسوں کے ٹوٹتے حوصلوں کو جوڑنے کا سبب بنیں گے۔
اس کے برعکس قدآورجمہوریت پسند لبرل دانشوروں اور نامور صحافیوں کا، کہ جن کی جانب ہم جیسوں نے ہمیشہ رہنمائی کے لئے دیکھا، چند خاندانوں سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے پایا جانا ایک نہایت تکلیف دہ امر ہے۔ محض اس بنا پہ کہ چند ایک جمہوریت پسند لبرلز کی دلچسپی ’ڈاکٹر فرنکسٹائن‘ کی ناک رگڑنے تک محدود ہے، ان کا فرنکسٹائن کے بھوت کے ساتھ جا کھڑے ہونا بھی مایوس کن ہے۔ شاید کچھ اسی سے ملتی جلتی صورتِ حال کا سامنا ہمیں چار عشروں قبل بھٹو کے معاملے میں ہوا تھا۔
کردار بدل گئے، کھلاڑی مگر وہی ہیں۔ خدا کرے انجام ویسا نا ہو۔ میں جمہوریت پسند لبرلز کی اداروں سے متعلق شکایات سے بھی غافل نہیں ہوں۔ میں اداروں کے اندر پائی جانے والی سرکاری سوچ سے تو آگاہ نہیں، تاہم میں اپنے سابقہ ادارے سے اپنی چار عشروں پر محیط رفاقت کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ خاک اور خون میں لتھڑی طویل مسافت کے بعد ادارہ اس مقام پرکھڑا ہے کہ جہاں ہر سطح پر جمہوریت سے وابستگی کی خواہش پائی جاتی ہے۔
مگر میں اپنے تجربے کی بنا پر یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ کسی بھی حلقے کی طرف سے کوئی بھی معاندانہ مہم، دشنام طرازی یاطیش پر مبنی رویہ سول بالا دستی کے حصول میں معاون نہیں ہوسکتا کہ جس سے وابستگی ’جمہوریت پسند لبرلز‘ کے دلوں میں موجزن ہے۔ ایسے کسی بھی نیٹ ورک کو چلانے اور تضحیک آمیز روّیے فروغ دینے والوں کے لئے ادارے کی نفسیات سے واقفیت کا حصول ضروری ہے۔ میں پورے تیّقن کے ساتھ سمجھتا ہوں کہ سویلین بالادستی قائم کرکے اداروں کو ان کے آئینی دائرے کے اندر محدود کرنے کے لئے دو ہی راستے ہیں، اولاً، اداروں کو اس قدر لاغرو بے دست وپا کر دیا جائے کہ وہ کبھی سر اٹھا نا سکیں۔
ثانیاً، اداروں کو کمزور کیے بغیر دیگر جمہوری ادارے اس طرح مضبوط ہوں کہ وہ کسی فرد، خاندان یا گروہ کے مفادات کے سامنے بے بس نہ ہوں۔ نا ہی ان کی لیڈرشپ ایسی ہو کہ جس کا دامن داغدار ہو۔ موجودہ تقسیم کی دلدل سے نکلنے کا راستہ میرے نزدیک تو یہی ہے کہ نظریاتی، سیاسی اور ادارہ جاتی وابستگیوں اور نفرتوں سے بالاتر ہو کر محض انصاف کے ساتھ کھڑا ہوا جائے۔ میری دعا ہے کہ اس بار اعلٰی جمہوری وانسانی اقدار کے علمبردار ’جمہوری لبرلز‘ اس راستے کا ہراول دستہ ہوں۔

