پاکستان کی معیشت: ایک پیج کا نسخہ بھی چاک گریباں کا مداوا نہ کر سکا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ روز بنی گالہ کے ایک اجلاس میں وزیر اعظم نے اپنے معاشی معاونین کے ساتھ قومی اقتصادی معاملات پر غور کیا۔ مالی امور کے مشیر ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کے مطابق معاشی بحالی کے لئے ہمہ جہتی روڈ میپ بنانے پر اتفاق رائے کیا گیا ہے۔  تاہم تحریک انصاف کی حکومت کو جس سیاسی تصادم اور سفارتی دشواریوں کا سامنا ہے، ان کے ہوتے ہوئے ملک کی پیداواری صلاحیت اور سرمایہ کاری میں اضافہ کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

خزانہ کے مشیر ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے یہ دعویٰ تو کیا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ گزشتہ سال جولائی کے 2100 ملین ڈالر سے کم ہو کر 600 ملین ڈالر رہ گیا ہے لیکن ریکارڈشدہ ویڈیو پیغام میں عالمی سطح پر مالی مہارت کے حامل مشیر خزانہ نے یہ بتانے کی زحمت نہیں کی کہ اس ہدف کا حصول حکومت کی کسی پالیسی کا نتیجہ ہے یا تحریک انصاف حکومت کے ایک سال میں پیدا ہونے والا ڈرامائی معاشی انحطاط اس کی وجہ بنا ہے۔ عبدالحفیظ شیخ یہ بتانے سے بھی قاصر رہے کہ اس اجلاس کے دوران بجٹ میں بڑھتے ہوئے خسارہ کی صورت حال پر کیا گفتگو کی گئی اور کون سے مشورے وزیر اعظم کے گوش گزار کئے گئے۔ اخبارات میں البتہ وزارت خزانہ کے ذرائع کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ قومی بجٹ میں خسارہ تخمینے سے 700 ارب روپے بڑھ گیا ہے۔

ملک کی یہ مالی صورت حال آئی ایم ایف کے ساتھ 39 ماہ پر محیط 6 ارب ڈالر کے مالی پیکج میں اتفاق رائے سے متصادم ہے۔ مسلسل بڑھتے ہوئے خسارہ کو پورا کرنے کے لئے یا تو حکومت کو نئے محاصل عائد کرنا پڑیں گے یا ترقیاتی مصارف میں مزید کمی کرنا پڑے گی۔ موجودہ حکومت نے پہلے ہی متعدد ترقیاتی منصوبوں کو ترک کیا ہے اور بجٹ میں ترقیاتی مصارف کی مد میں صرف 900 ارب روپے رکھے گئے تھے۔ اس میں مزید کمی قومی پیداواری شرح پر منفی اثرات مرتب کرے گی۔ متعدد معاشی اشاریوں اور اندازوں کے مطابق پاکستان کی قومی پیداوار میں اضافہ تین فیصد سالانہ سے بھی کم رہے گا۔

حکومتی نمائندوں کے خوش کن دعوے اور یہ اصرار اپنی جگہ موجود ہے کہ ملکی معیشت کی اصلاح کے لئے اقدامات کر لئے گئے ہیں۔ اب کچھ عرصہ مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد معیشت دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہوجائے گی بلکہ دوڑنے لگے گی جس میں ایک طرف سماجی بہبود کے منصوبوں پر تیزی سے کام ہو گا تو دوسری طرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ باتیں کہنے اور سننے میں ضرور سہانی لگتی ہیں لیکن معروضی معاشی اور سیاسی حالات یہ خواب پورے ہونے کا اشارہ نہیں دیتے۔

تحریک انصاف کی حکومت نے برسر اقتدار آنے کے بعد اپنے سیاسی نعروں اور ایجنڈا کی بنیاد پر بلا تخصیص احتساب کا نعرہ بلند کرتے ہوئے سب سیاسی مخالفین کو چور اچکے قرار دینے کا وطیرہ اختیار کیا تھا۔ اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ ملک میں معاشی بحران، بیرونی قرضوں کے انبار اور پیداواری صلاحیت میں کمی کی اصل وجہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں کی مالی بدعنوانی تھی۔ وزیر اعظم نے یہ دعویٰ بھی کر رکھا ہے کہ گزشتہ دو ادوار میں ملک نے جو بیرونی قرضے لئے تھے، انہیں قومی ترقی پر صرف کرنے کی بجائے شریف اور زرداری خاندان کے خزانے بھرنے کے کام میں لایا گیا تھا۔ اسی لئے ان قرضوں کی تحقیقات کے لئے وزیر اعظم کے ’نیچے‘ ایک اعلیٰ اختیاراتی تحقیقاتی کمیشن بھی قائم کیا گیا ہے۔ تاہم تحریک انصاف کے ایک سالہ حکومت میں مزید 14 ارب ڈالر کے لگ بھگ قرضے لئے گئے ہیں۔ سابقہ قرضوں کی ادائیگی کے بعد بھی اس سال کی پہلی سہ ماہی میں غیر ملکی قرضے 106 ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے جبکہ تحریک انصاف کے حکومت سنبھالنے سے پہلے ان قرضوں کی مالیت 95 ارب ڈالر تھی۔

اس دوران نواز شریف، آصف زرداری، شاہد خاقان عباسی یا مریم نواز اگرچہ نیب کے قائم کردہ مقدمات اور نیب کی کارروائیوں ہی کی وجہ سے زیر حراست یا قید ہیں لیکن اس کا کریڈٹ عمران خان اپنی اینٹی کرپشن مہم اور سب کے ساتھ مساوی سلوک کی پالیسی کو دیتے ہیں۔ خبروں کے مطابق بنی گالہ کے اجلاس میں نیب قانون میں ترمیم کرکے خوف کی فضا ختم کرنے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا ہے۔ وزیر قانون فروغ نسیم اس سے پہلے اس قانون میں ترمیم کا اشارہ دے چکے ہیں تاکہ ملک کے سرکاری ملازمین اور سرمایہ دار طبقے نیب کے خوف کی وجہ سے غیر مؤثر نہ ہوں۔ موجودہ صورت حال میں نہ سرکاری افسر فیصلے کرنے میں دلچسپی لیتے ہیں اور نہ تاجر طبقہ سرمایہ کاری کو محفوظ سمجھتا ہے۔ اسے خوف ہے کہ نیب کسی نہ کسی بہانے ان کے خلاف قانونی کارروائی کرکے مسائل کھڑے کرتی ہے۔

حکومت کی طرف سے نیب قانون کی اصلاح کے ارادوں کے باوجود، اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ تحریک انصاف اس معاملہ پر اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرے گی یا ان کی تجاویز کو نئے قانون کا حصہ بنایا جائے گا۔

ملک میں اس وقت سول ملٹری تعاون سے معرض وجود میں آنے والی ایک پیج والی حکومت برسر اقتدار ہے۔ اس کا سادہ مفہوم تو یہی ہے کہ سیاسی اور فوجی قیادت میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس موقع پر یہ سوال اٹھانے کی زحمت نہیں کی جاتی کہ سابقہ سیاسی ادوار میں آخر فوج اسی ’پیج ‘ پر کیوں نہیں تھی جس کے خدوخال سول حکومت طے کرنا چاہتی تھی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں سے ایسی کون سی غلطیاں سرزد ہو رہی تھیں کہ عسکری قیادت مسلسل ان کے ساتھ ’اختلاف‘ کی ضرورت محسوس کرتی تھی۔ اگر ملک میں جمہوریت کو ہی نظام حکومت کے طور پر قبول کیا گیا ہے تو کیا وجہ ہے کہ فوج بطور ادارہ سول حکومت یا پارلیمنٹ میں ہونے والے فیصلوں کو تسلیم کرنے میں دشواری محسوس کرتی ہے؟

البتہ اب ملک پر تحریک انصاف کی حکومت ہے اور وزیر اعظم عمران خان اس لحاظ سے طاقت ور ترین وزیر اعظم ہیں کہ فوج کی مکمل تائید و حمایت بھی انہیں حاصل ہے۔ سوچنا چاہئے کہ اگر سابقہ ادوار میں خرابیوں کی جڑ سیاسی حکمرانوں کی بدعنوانی اور قومی مفادات کو پس پردہ ڈالنے کی حکمت عملی تھی تو اب ایک پیج والی سرکار کیوں معیشت، سیاست، سفارت اور سماجی اصلاح میں ناکام ہو رہی ہے؟

اس سوال پر غیر جانبداری سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں کو جس طرح قدم قدم پر زچ کیا گیا، اس کی وجہ سے ہی حکومت کی کارکردگی متاثر اور ملکی مسائل میں اضافہ ہؤا۔ اب یہ اڑچن دور ہو چکی ہے اور پیا من بھاتی حکومت ملک میں برسر اقتدار ہے۔ لیکن حالات اس کے قابو سے باہر ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں سوال کرنا چاہئے کہ اگر تحریک انصاف اور عمران خان ڈیلور کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے تو کیا کتاب کے اگلے صفحے پر ایک نئی سیاسی جماعت اور قیادت کی ناکامی کی کہانی درج ہو گی یا ایک پیج پر موجود دوسرے اجزائے ترکیبی بھی اس ناکامی کی جزوی ذمہ داری قبول کریں گے؟

اس سوال کے جواب میں پوچھا جا سکتا ہے کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ فوج سیاسی معاملات اور سول حکومت کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے؟ زبان خلق والا محاورہ نہ بھی استعمال کیا جائے تو بھی اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ  موجود ہے۔ اور اب  وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ 2008 کے انتخابات میں دھاندلی کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا ہے کہ بے نظیر کی شہادت کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو اضافی سیٹیں مل گئیں۔ البتہ مسلم لیگ (ق) کو اتنی ہی سیٹیں ملیں جن کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ اعجاز شاہ کے بقول یہ منصوبہ انہوں نے اس وقت کے آرمی چیف جنر ل (ر) اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ مل کر بنایا تھا۔

پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوریت کے دعوؤں کو آئینہ دکھانے کے لئے وفاقی وزیر اور مختلف ایجنسیوں میں کام کا وسیع تجربہ رکھنے والے بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کا یہ اعتراف کافی ہونا چاہئے۔ اس اعتراف حقیقت کے باوجود اعجاز شاہ کی بدستور وفاقی کابینہ میں شمولیت یہ اعلان کر رہی ہے کہ سیاست اور عسکری معاملات کو خلط ملط کرنے والوں کو اپنے غیرقانونی اور غیرآئینی اقدامات پر کوئی شرمندگی بھی نہیں۔ یہ اس الزام کا تصدیق نامہ بھی ہے کہ عمران خان دراصل کٹھ پتلی وزیر اعظم ہیں جو فوج کے فیصلوں کو نافذ کروانے کے لئے اس عہدہ پر فائز کئے گئے ہیں۔ اس لئے انصاف کا تقاضہ ہوگا کہ موجودہ حکومت کی ناکامیوں کی ذمہ داری عمران خان پر عائد کرنے کی بجائے، وہ حلقے جواب دیں جنہوں نے بے یقینی کی بنیادوں پر یہ عمارت کھڑی کی ہے۔

معیشت، سفارت اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات میں پیدا ہونے والی الجھن کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اس ملک میں آئین تو موجود ہے لیکن اس پر عمل کرنے کا رواج نہیں۔ اس کی تازہ مثال صدر ڈاکٹر عارف علوی کا غیر آئینی طور سے الیکشن کمیشن کے دو ارکان مقرر کرنے کا فیصلہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1277 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali