بین سٹوکس سے جینا سیکھیے

سمیع چوہدری - کرکٹ تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بین سٹوکس
پہلی اننگز میں 67 رنز پہ آل آؤٹ ہو جانے والی انگلینڈ کی ٹیم چوتھی اننگز میں 361 رنز کا پہاڑ کیسے طے کر گئی؟

بین سٹوکس سینہ پھیلائے کریز پہ کھڑے دھاڑ رہے ہیں، دوسرے اینڈ سے جیک لیچ آ کر ان سے بغلگیر ہوتے ہیں، ذرا سی دیر میں پورا انگلش ڈریسنگ روم کریز پر امڈ آتا ہے اور جو روٹ بے یقینی اور بے اختیاری کی ملی جلی سی کیفیت میں سٹوکس کے گلے لگ جاتے ہیں۔ یہ بے یقینی اس بات کی ہے کہ پہلی اننگز میں 67 رنز پہ آل آؤٹ ہو جانے والی ٹیم چوتھی اننگز میں 361 رنز کا پہاڑ کیسے طے کر گئی۔ اور بے بقینی اس لیے بھی کہ یہ انگلینڈ کا چوتھی اننگز میں فتح کے لئے آج تک کا ریکارڈ ٹوٹل ہے۔

اگر بین سٹوکس یہ معجزہ برپا نہ کر پاتے اور جیک لیچ ایسی مزاحمت کا مظاہرہ نہ کرتے تو بھلا ٹیسٹ میچ کی چوتھی اننگز میں دسویں وکٹ کی شراکت میں 62 گیندوں پہ 76 رنز تک کیسے پہنچ پاتی۔ اور دلچسپ امر یہ ہے کہ اس بھاری بھرکم پارٹنرشپ میں لیچ کی شراکت صرف ایک رن تک محدود رہی۔

جو روٹ کی کپتانی میں اب تک انگلش ٹیسٹ ٹیم نے جو کمائی کی ہے وہ کسی بھی اعتبار سے قابلِ فخر نہیں رہی ہے۔ اگر کل کا میچ روٹ کی خواہشات کے برعکس منتج ہوتا تو بعید نہیں تھا کہ ایشز کے ساتھ ساتھ کپتانی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے۔ حالیہ ایشز سیریز کی دلچسپی اس امر سے بھی ہے کہ دونوں بیٹنگ لائنز کا حال قریب قریب ایک سا ہی ہے۔ آسٹریلیا کو پہلے دونوں میچز میں سہارا سٹیو سمتھ نے دیا اور حسنِ اتفاق کہ ان کے متبادل کھیلنے والے مارنس لبوشین نے بھی اسی انداز میں آسٹریلیا کی ناقابلِ اعتبار بیٹنگ کو سہارا دیا۔

بولنگ کے معاملے میں جسٹن لینگر کی روٹیشن پالیسی خاصی سودمند رہی ہے مگر اس کا نقصان یہ ہوا ہے کہ مسلسل تیسرا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے پیٹ کمنز چوتھی اننگز میں تھکاوٹ کا شکار دکھائی دیے۔ اسی وجہ سے ٹِم پین بھی کنفیوز ہو گئے۔ ادھر روٹ کی بدقسمتی یہ رہی کہ ان کے سٹرائیک بولر جیمز اینڈرسن پہلے ہی میچ میں انجری کا شکار ہو گئے۔ کپتانی پہ دباؤ تو خیر پہلے سے ہی تھا مگر مین بولر سے محرومی نے بھی انگلش کیمپ کے اعتماد کو خاصی ٹھیس پہنچائی۔

بین سٹوکس
سٹوکس کی یہ اننگز صرف کرکٹ کے پیرائے میں ہی ماسٹر کلاس نہیں تھی، یہ زندگی گزارنے کے لیے ایک سبق بھی تھی

اور جب انگلش کراؤڈ کے ساتھ ساتھ ڈریسنگ روم بھی مایوسی میں ڈوبنے کو تھا تو بین سٹوکس نے کھڑے ہو کر امیدوں کو سنبھالا دیا۔ ان کی اننگز ٹیسٹ کرکٹ کی چند یادگار کلاسکس میں سے ایک تھی۔ یہ فطری امر ہے کہ بعض پلئیرز اس وقت زیادہ جرات اور مزاحمت سے پرفارم کرتے ہیں جب ان کی ٹیم پہ بہت کڑا وقت گزر رہا ہو۔ بین سٹوکس اسی طرح کے کھلاڑی ہیں۔ جب ٹیم کی کشتی بیچ منجدھار دیکھی تو سٹوکس کے سامنے پہلا کام وکٹ کی حفاظت کرنا تھا۔ اور حفاظت انھوں نے کچھ اس طرح سے کی کہ 73 گیندیں کھیلنے کے بعد بھی ان کا سکور صرف تین رنز تھا۔

یہ تین رنز بھی سٹوکس نے بنائے نہیں، بس گیند کو سٹمپس تک جانے سے روکنے کی کوشش میں خود بخود بن گئے۔ لیکن جوں جوں وکٹ خشک ہوتی گئی اور آسٹریلوی پیس اٹیک تھکتا گیا، سٹوکس کے بلے سے شاٹس نکلنے لگیں اور جو ناممکن تھا، دھیرے دھیرے ممکن کی سرحد میں داخل ہونے لگا۔ سٹوکس کی یہ اننگز واضح کرتی ہے کہ مختصر فارمیٹ کی تمام تر چکا چوند کے باوجود بالاآخر ٹیسٹ کرکٹ کو ہی اصل کرکٹ کیوں مانا جاتا ہے۔ سٹوکس کی یہ اننگز صرف کرکٹ کے پیرائے میں ہی ماسٹر کلاس نہیں تھی، یہ زندگی گزارنے کے لیے ایک سبق بھی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •