جنرل باجوہ کی توسیع

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ غیر ممکنہ نہیں تھا۔ سیاسی پنڈتوں نے کافی عرصہ پہلے ہی یہ پیش گوئی کردی تھی کہ موجودہ سیکورٹی مسائل کے پیش نظر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ اصولی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ ادارہ جاتی عمل میں فردکے مقابلے میں ادارہ کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن کسی بھی آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا یہ فیصلہ کوئی پہلا فیصلہ نہیں ہے۔ ماضی میں حکمران طبقہ مختلف سیاسی اور سیکورٹی حالات کو مدنظر رکھ کر فوجی سربراہوں کی مدت ملازمت میں توسیع کرتے رہے ہیں۔ اس لیے اس فیصلہ پر تنقید کرنے کی بجائے ہمیں معروضی حالات کومدنظر رکھنا ہوگا اور سمجھنا ہوگا کہ فوج کے سربراہ کو جو توسیع دی گئی ہے اس کے پیچھے اصل مسائل کیا ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے یہاں اہم قومی امور اور بالخصوص سیکورٹی سے جڑے اہم معاملات پر مسائل کو سنجیدگی سے دیکھنے کی بجائے اس پر سیاسی طرز عمل پیش کرنے یا سیاست کرنے کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے۔ حکومت کے بقول آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے پیچھے اصل وجہ علاقائی سلامتی اور قومی، علاقائی اور عالمی سیکورٹی سے جڑے مسائل ہیں۔ اس وقت پاکستان یقینی طور پر داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر سنگین صورتحال سے دوچار ہے۔

پاک بھارت تعلقات، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال میں موجود جنگی جنون، افغانستان کا بحران، ایران، چین، روس سے تعلقات، سی پیک، امریکہ سے معاملات سمیت دہشت گردی سے نمٹنے جیسے معاملات کی حساسیت بہت اہم ہے۔ اس وقت دنیا اور بالخصوص علاقائی صورتحال میں جو نئے امکانات ابھرر ہے ہیں اس میں پاکستان کا کلیدی کردار ہے اور جو فیصلے ہونے جارہے ہیں اس کا براہ راست تعلق پاکستان کی داخلی خود مختاری اور سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔

جو کچھ حالیہ دنوں میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کیا ہے اور ایک ایسے جنگی ماحول کو دعوت دی ہے جو براہ راست پاکستان پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ بھارت کو یہ بھی کہنا پڑا کہ وہ ایٹمی استعمال میں پہل بھی کرسکتے ہیں اور مسلسل جس انداز سے بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں اشتعال انگیزیاں بڑھ رہی ہیں وہ ایک نئی جنگ کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اسی طرح افغانستان کے بحران کے حل میں افغان حکومت اور افغان طالبان اور امریکہ کے درمیا ن جو مذاکر ات کی فیصلہ کن میز ہم نے سجائی ہے اس پر عالمی دنیا کی نظریں ہیں اور بقول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے افغان بحران کے حل کی کنجی پاکستان کے پاس ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ حالیہ دورہ امریکہ میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری دونوں قیادت کو بڑی پزیرائی ملی ہے اور ا س وجہ افغان بحران کے حل میں پاکستان کا کردار ہے۔

کیونکہ مسئلہ محض افغان بحران کے حل میں امن ماہدہ کا ہی نہیں ہے۔ اگر یہ امن ماہدہ ہوجاتا ہے تو اس کے بعد کا جو منظر افغانستان کا ہوگا اس میں امن کو قائم رکھنا اور اس ماہدے پر شفافیت کے انداز میں عملدرآمد کرنا بھی اہم چیلنج ہے۔ یہ چیلنج پاکستان کی حمایت کے بغیر نہیں لڑا جاسکتا اور اس میں ہماری عسکری قیادت کا بھی اہم کردار ہے۔ اس تناظر میں آرمی چیف کی توسیع کو خطہ کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے اور یہ فیصلہ بروقت بھی ہے اور حقایق کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ اس وقت عالمی دنیا کی نظریں بھی پاکستان پر لگی ہوئی ہیں اور ایسے موقع پرپاکستان کی سیاسی اور عسکری دونوں قیادتوں پر بہت زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مل کر ایسے فیصلے کریں جو ریاستی اور قومی مفادات کی ترجمانی کرسکیں۔

ْجنرل باجوہ کو یہ داد دینی ہوگی کہ انہوں نے اپنی پوری توجہ علاقائی سیاست پر مرکوز رکھی ہوئی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ علاقائی تعاون کے بغیر پاکستان کی داخلی سلامتی بھی ممکن نہیں ہوگی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بھارت، ایران، افغانستان پر ان کی پوری توجہ ہے اور وہ یہاں سے چاہتے ہیں کہ ہم اپنے تعلقات کو بہتر بنا کر خطہ کی صورتحال میں کلیدی کردار ادا کریں۔ پاکستان کی علاقائی صورتحال کی اہمیت بہت زیاد ہ ہے اور اب ہم اس خطہ کی سیاست کے نہ صرف اہم فریق ہیں بلکہ اپنا موثر اثر بھی رکھتے ہیں۔ اس لحاظ سے پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئی صورتحال میں خود کو خطہ کی سیاست میں قیادت کے طور پر پیش کرے اور خطہ کے باقی ممالک کی نظریں بھی پاکستان پر ہیں اور وہ سمجھتی ہیں کہ پاکستان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

اچھی بات یہ ہے کہ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت دونوں ایک پیچ پر ہیں اور باہمی مشاورت کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ کیونکہ ماضی میں یہ مسئلہ داخلی اور خارجی سیاست میں بگاڑ اور بداعتمادی کا رہا ہے۔ اس میں یقینی طور پر غلطیاں دونوں اطراف سے ہوئی ہیں، لیکن اس بحران نے ہمیں قومی سیاست اور عالمی مناظر میں مضبوط کرنے کی بجائے کمزور کیا ہے۔ آج کی دنیا میں فوجی اور سیاسی قیادت کا باہمی تعلق کے عمل کو مضبوط کیے بغیر قومی سیکورٹی پالیسی کا تعین بھی ممکن نہیں ہے۔ موجودہ صورتحال میں دونوں فریقین یعنی سیاسی اور عسکری قیادت ظاہر کرتی ہے کہ ان کو حالات کا ادراک بھی ہے اور ایک دوسرے کی ضرورتوں کا احساس بھی ہے۔ یہ جو حالیہ کچھ عرصے میں ہماری قومی اہمیت عالمی سطح پر اجاگر ہوئی ہے اس کی وجہ بھی سیاسی اور فوجی قیادت کی موثر اور مشترکہ حکمت عملی ہے۔

پچھلے کچھ عرصہ سے یہ تاثر ابھر رہا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان مختلف مسائل پر بداعتمادی ہے اور ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت سے ناخوش ہے۔ لیکن سیاسی اور فوجی قیادت کو داد دینی ہوگی کہ ہم نے حالیہ دنوں میں اپنی اہمیت امریکی پالیسی سازی میں بڑھائی ہے اور اس احساس کو اجاگر کیا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے مشترکہ مفادات میں دونوں کا باہمی تعلق ہے۔ جنرل باجوہ کے دورہ امریکہ میں یہ سب نے محسوس کیا کہ امریکہ ہمیں نظرانداز کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور ہم اپنی موثر حکمت عملی کی مدد سے امریکہ کی مدد سے زیادہ فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔ اسی طرح امریکی صدر کی جانب سے مسلسل مقبوضہ کشمیر پر ثالثی کا کردار کا اجاگر ہونا اور بھارت پر دباؤ ڈالنا کہ وہ کشمیر کی صورتحال پر کچھ کرے یقینی طور پر پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے۔

یہ اعتراف بھی کرنا ہوگا کہ ملک کو جو بڑا معاشی بحران تھا اس سے نمٹنے میں بھی دوست ممالک سے جو ہمیں مالی مدد ملی اس میں بھی فوجی سربراہ کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ فوج کے سربراہ نے داخلی محاذ پر بھی ریاستی مفاد میں جو کچھ کیا یا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اسے مثبت طور پر دیکھنا ہوگا۔ کیونکہ اگر ہم داخلی محاذ پر مضبوط ہوں گے تو خارجی مسائل سے بہتر طور پر نمٹا جاسکتا ہے۔ اگرچہ بہت سے لوگ جنرل باجوہ پر داخلی سیاسی مداخلت کا الزام لگاتے ہیں اور اس میں حزب اختلاف پیش پیش ہے۔ لیکن داخلی مسائل جس انداز میں اجاگر ہوئے اور اس کے حل میں کچھ نہ کرنے کی روش نے بھی جو سیاسی خلا پیدا کیا اس کا بھی تجزیہ کیا جانا چاہیے۔

پاکستان کے تواتر کے ساتھ خود کو امن پسندی کے طو رپر دنیا میں پیش کیا ہے۔ کیونکہ ہمارا بنیادی نکتہ جنگ نہیں بلکہ بہترتعلقات کی خواہش ہے۔ لیکن بھارت کی حالیہ پالیسیوں نے ہمیں واقعی جنگ کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے۔ ایسی صورتحال میں فوج اور اس کے سربراہ جنرل باجوہ کا کردار بہت بڑھ جاتا ہے۔ کیونکہ پچھلے کچھ عرصے سے ہماری فوجی قیادت جس انداز میں خطہ کے مختلف مسائل سے نمٹنے کی کوششوں کا حصہ ہے ایسے میں ان مسائل کو حل کی جانب لے جانا اور اسے منطقی نتیجہ دے کر اپنے مفادات کو تحفظ دینا بھی اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے میں سیاسی اور عسکری قیادت کا باہمی مشترکہ حکمت عملی بنانا اور مل کر مسائل سے نمٹنے کی حکمت عملی قومی مفاد کے زمرے میں آتی ہے اور اس کی اپنی اہمیت بھی ہے۔

اس لیے ہمیں فوجی سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر سیاست کرنے اور معاملات کو الجھانے کی بجائے حالات کی تصویر کو سمجھ کرمعاملات کو آگے بڑھانا ہوگا۔ پاکستان کی موجودہ صورتحال ماضی کی سیاست خطہ کے مسائل سے بہت مختلف ہے۔ ایسے میں ہمیں قومی اور عالمی سطح پر یہ ہی پیغام دینا چاہیے کہ فوجی سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ نہ صرف داخلی مسئلہ ہے بلکہ جو فیصلہ بھی سیاسی اور عسکری قیادت نے مل کر کیا ہے وہ قومی مفاد میں کیا گیا ہے۔ یہ تاثر دینا کہ اس فیصلہ سے ادارہ جاتی عمل کمزور ہوگا درست حکمت عملی نہیں ہوگی بلکہ موجودہ سیاسی و عسکری قیادت کی ڈاکٹرئن کی مشترکہ حکمت عملی ہمیں نئی کامیابیوں کی طرف لے جاسکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •