جج ارشد ملک کی ویڈیو کو ایڈٹ نہیں کیا گیا، اصل ریکارڈنگ ناصر بٹ کے پاس ہے: مریم نواز کا ایف آئی اے کو تحریری جواب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مریم نواز نے ایف آئی اے کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ناصر بٹ نے جج ارشد ملک کی ویڈیو اپنی مرضی سے ریکارڈ کی، ناصر بٹ کے مطابق ویڈیو کا مختصر سا حصہ گھر سے باہر ریکارڈ کیا گیا اور بقیہ حصہ جج کے گھر میں ریکارڈ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے ایف آئی اے کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جج ارشد ملک کی ویڈیو اصلی ہے، اصل آڈیو ریکارڈنگ ناصر بٹ کے پاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے جج ارشد ملک کی ملاقاتوں کو ریکارڈ کرنے کی ہدایت کبھی نہیں کی۔ ججوں پر فیصلے دینے کے لیے دباؤ ڈالنے والوں کا اشارہ ریکارڈنگ سے ملتا ہے، مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جج ارشد ملک کی کوئی قابل اعتراض ویڈیو نہیں دیکھی۔ ناصر بٹ نے جج کی ویڈیو اپنی مرضی سے ریکارڈ کی۔ مریم نواز نے ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم کو بتایا ہے کہ جج ارشد ملک کی ویڈیو کو ایڈٹ نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس کی ٹیمپرنگ (تحریف) کی گئی ۔

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو بھیجے گئے اپنے تحریری جواب میں مریم نواز نے جج ارشد ملک کی ویڈیو کے حوالے سے بتایا کہ ویڈیو کو ایڈٹ نہیں کیا بلکہ اسکرین پر ایک جانب ویڈیو چلائی گئی جب کہ باقی آدھی اسکرین پر اردو ٹرانسکرپٹ چلائی گئی۔ ناصر بٹ نے انہیں بتایا کہ ایک آڈیو کم ویڈیو (audio-cum-video) ہے اور ایک آڈیو ہے اور انہیں دو مختلف ڈیوائسز میں ریکارڈ کیا گیا ۔

ناصر بٹ نے یہ بھی بتایا کہ آڈیو کم ویڈیو جس ڈیوائس میں ریکارڈ ہوئی وہ ناصر بٹ کے ساتھ والے شخص کی جیب میں تھی تاہم اس دوسرے شخص کا نام اور کوائف معلوم نہیں ہیں۔ مریم نواز نے ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم کے 41 سخت سوالات کے جوابات دیے جو جج ارشد ملک کی درخواست پر مریم نواز اور (ن) لیگ کے دیگر رہنماؤں کے خلاف شکایت کی تحقیقات کر رہی ہے۔

مریم نے اپنے تحریری جواب میں کہا کہ ناصر بٹ نے ان سے رائے ونڈ میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور وہ ویڈیو دکھائی جسے پریس کانفرنس کے دوران چلایا گیا تھا۔ 10 مئی کو انہوں نے ایک بغیر سم کا موبائل بھیجا جس میں مذکورہ ویڈیو کی نقل تھی۔ مریم نواز نے بتایا کہ ناصر بٹ کے مطابق ویڈیو ریکارڈ کرنے کا مقصد ان حقائق اور حالات کو ریکارڈ کرنا تھا جو نواز شریف کو مجرم ٹھہرانے اور سزا دلوانے کی بنیاد بنے، جن کا انکشاف جج ارشد ملک نے کیا۔

6  جولائی کو اپنی پریس کانفرنس کا مقصد بتاتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ میری پریس کانفرنس کا مقصد اس نا انصافی کو عوام کے نوٹس میں لانا تھا جس کا ارتکاب العزیزیہ ریفرنسز میں نواز شریف کے خلاف فیصلہ دیتے وقت کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا پختہ یقین ہے کہ انصاف تک رسائی ہر شہری  کا بنیادی حق ہے۔ کسی شہری کو انصاف دینے سے انکار اس کی زندگی، آزادی، عظمت، مساوات وغیرہ کے حق سے انکار کے مترادف ہے۔

ان تمام بنیادی حقوق کی ضمانت اسلامی جمہوریہ پاکستان کا 1973ء کا آئین دیتا ہے۔ مریم نواز نے تسلیم کیا کہ ناصر بٹ مسلم لیگ ن کے وفادار کارکن ہیں جنہوں نے جج ارشد ملک کے ساتھ ملاقاتیں ریکارڈ کی تھیں۔ انہوں نے ایف آئی اے ٹیم کو بتایا کہ میں نے کبھی بھی ناصر بٹ کو جج ارشد ملک سے ملاقاتوں کو ریکارڈ کرنے کی ہدایت نہیں کی۔

مریم کا کہنا تھا کہ ناصر بٹ کے مطابق ویڈیو کا مختصر سا حصہ گھر سے باہر ریکارڈ کیا گیا اور بقیہ حصہ جج کے گھر میں ریکارڈ کیا گیا۔ ناصر بٹ نے اپنی مرضی سے وہ ویڈیو ریکارڈ کی اور اس کا منصوبہ بھی انہوں نے خود ہی بنایا تھا۔ اصل آڈیو ریکارڈنگ ناصر بٹ کے پاس ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اصل ڈیوائس جس میں ویڈیو ہے وہ میرے پاس نہیں ہے۔ مجھے اس حوالے سے کچھ علم نہیں ہے کہ ملاقات کی آڈیو ریکارڈنگ کے لیے کونسی ڈیوائس کا استعمال کیا گیا۔

کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ جس پر ویڈیو دکھائی گئی تھی اسے ناصر بٹ کی جانب سے بھیجا گیا شخص پریزنٹیشن کے روز ہی لایا تھا۔ تاہم مذکورہ شخص پریس کانفرنس کے بعد وہ کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ واپس لے گیا تھا، لہٰذا میرے پاس وہ کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ نہیں۔ ایف آئی اے ٹیم کی جانب سے مریم نواز سے ان کے اُس دعوے سے متعلق سوال کیا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ادارے فیصلے دینے کے لئے ججوں کو بلیک میل نہ کریں، جس پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ ان اداروں کا اشارہ خود اس ریکارڈنگ کے مندرجات سے ملتا ہے، مجھے آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔

مریم نواز نے جج ارشد ملک کی قابل اعتراض ویڈیو حاصل کرنے کی تردید کی اور کہا کہ مجھے کسی نے بھی جج ارشد ملک کی قابل اعتراض ویڈیو فراہم نہیں کی اور نہ ہی میں نے ارشد ملک کی کوئی قابل اعتراض ویڈیو دیکھی۔ ناصر بٹ کی جانب سے فراہم کی گئی آڈیو کم ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ میں جج ارشد ملک نے خود ہی اپنی قابل اعتراض ویڈیو کا تذکرہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دکھائی گئی ارشد ملک کی ویڈیو نہ تو میں نے ریکارڈ کی اور نہ ہی میرے کہنے پر ریکارڈ کی گئی بلکہ اسے ناصر بٹ نے اپنی مرضی سے ریکارڈ کیا۔ نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے کے لیے دباؤ دالنے والوں کے نام بتانے والوں کی ویڈیوز کے حوالے سے مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ ویڈیوز میرے پاس نہیں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •