مطالعہ پاکستان کے لئے ایک کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چلیں ہم تاریخ کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
بانئی پاکستان قائداعظم کی لاش جس ایبولینس میں پڑی تھی وہی ایمبولینس کئی گھنٹے لاش لئے روڈ پر اس لئے کھڑی رہی کہ وہ خراب ہوگئی تھی کیونکہ فاطمہ جناح اس کا اصلی انجن یچ کر کھا چکی تھیں۔

وزیراعظم پاکستان لیاقت علی خان کے سینے میں گولیاں اس لئے پیوست ہوگئیں کہ وہ کشمیر کا سودا کر چکے تھے اور ”مودی“ کے یار بن گئے تھے۔ پہلی دستور ساز اسمبلی کا سپیکر مولوی تمیز الدین گورنر جنرل غلام محمد کے غیر آئینی اقدام (اسمبلی توڑنے) کے خلاف اس لئے عدالتوں میں دھکے کھاتا رہا کہ اس نے ٹھیکیداروں سے کمیشن لیا تھا۔
وزیراعظم پاکستان فیروز خان اس لئے ذلت آمیز طریقے سے نکالے گئے کیونکہ اس نے گوادر پاکستان میں شامل کر لیا جس کی وجہ سے مگرمچھوں کی تعداد بڑھی۔

آگے بڑھتے ہیں!
فاطمہ جناح اس لئے غدار ٹھہری کہ وہ اس ”ترقی کے خواب“ کے خلاف سازشیں کرتی رہیں جو ایوب خان ملک و قوم کی بھلائی کے لئے دیکھتا رہا۔
بنگلہ دیش کا سانحہ اس لئے رونما ہوا کیونکہ تمام سیاستدان مع بھٹو، مودودی، ولی خان، مفتی محمود، نورانی، قیوم خان، دولتانہ، بگٹی، بزنجو وغیرہ بنگالیوں کو ان کا حق نہیں دے رہے تھے۔

مزید آگے بڑھتے ہیں!
ایک اور وزیر اعظم اپنے انجام تک بڑھتے ہوئے ایک تاریک رات کو اس لئے پھانسی پر جھول جاتے ہیں کہ شملہ معاہدے کے دوران وہ اندرا گاندھی سے سے ڈر گیا تھا۔ اس لئے نوّے ہزار قیدی واپس آئے تو چند قیدی مسنگ تھے، ساتھ ساتھ تہتر کا آئین خوشخط نہیں لکھا تھا جبکہ جس کمرے میں ایٹم بم بنا رہے تھے اس کی چھت ٹپک رہی تھی جس سے قیمتی سامان خراب ہوا تھا۔

پھر اس قوم کو جنرل ضیاء الحق کی شکل میں ایک عظیم مسیحا مل جاتا ہے جو دُنیا جہان کے مجاہدین اور اسلحہ سے اس مملکت خداداد کو بھر دیتا ہے تاکہ اسلام کے قلعے کی تعمیر کے لئے ہر گھر سے مجاہد نکلے (خیر سے وہ خواب ابھی تک ہمارے در و بام کو گلنار بنائے ہوئے ہے) ۔

جو نیجو نامی وزیراعظم اس نیک کام میں ٹانگ اڑانے کی کوشش کرتے رہے تو ضیاءالحق صاحب جھولی پھیلا کر ”غیب کی مدد“ مانگتے ہیں اور پل بھر میں جونیجو کی بدترین کرپشن سامنے آکر اسے گھر کی راہ دکھاتی ہے۔ نہ چھیڑ ملنگا نوں!

کچھ اور آگے بڑھتے ہیں!

بے نظیر بھٹو اقتدار میں آتی ہے تو بھید کھلتا ہے کہ یہ تو سیکیورٹی رسک ہے لیکن لاھور کا ایک نوجوان نواز شریف سر پر کفن باندھ کر نکلتا ہے اور ملک کو ڈوبنے سے بچالیتا ہے اس نیک کام میں ایسے ایسے معجزے رونما ہوتے ہیں کہ عمران خان جیسا صوفی وسالک بھی دنگ رہ جائے، نواز شریف خود اقتدار سنبھالتا ہے تو ایٹم بم اور موٹروے سے زمینیں خراب کرتا ہے وہ تو بھلا ہو فرزند وطن پرویز مشرف کا جس نے بحالت مجبوری مادر وطن کو سنبھالا۔ اللہ بھلا کرے موصوف کیسے ویژنری آدمی تھے کیونکہ جو ”مال“ حضرت ضیاءالحق عرب ملکوں سے درآمد کرتے تھے وہی ”مال“ سیّدی مشرف کی بصیرت کی بدولت ”مقامی“ طور پر تیار ہونے لگا جس کی وجہ سے پورا ملک خصوصًا خیبر پختونخواہ اور فاٹا میں ایک جشن کا سماں رہا۔

مشرف کو قوم نے پرنم آنکھوں کے ساتھ رُخصت کیا تو قوم سکتے کی کیفیت میں رہی جس کی وجہ سے غلط فیصلہ کر بیٹھی اور یکے بعد دیگرے آصف زرداری اور نواز شریف کو مسند اقتدار پر بٹھایا جس کی وجہ سے ملک و قوم پر تباہی نازل ہوئی۔

اب دیکھیں نا نواز شریف لندن میں فلیٹ نہ خریدتے تو کشمیر کا موجودہ سانحہ کیوں رونما ہوتا؟
آصف زرداری شوگر مل کا گھپلا نہ کرتے تو آج پاکستان دُنیا میں تنہا کیوں ہوتا؟
مریم نواز کے کیلبری فونٹ اور فریال تالپور کی کرپشن نے تو مودی کو مسلم ممالک سے ایوارڈ دلوا دیے۔

توبہ توبہ

اور تو اور ان کے سیاسی ساتھی بھی تباہی کا باعث بنے مولانا فضل الرحمٰن اسلام آباد میں ایک بڑے بنگلے میں رہائش پذیر تھے جس کی وجہ سٹاک ایکسچینج کریش ہونے کے قریب ہے۔
اسفند یار ولی کی حکومت نے پیسے لے کر نالائق انجینئرز سے بھرتی کیے جن سے پشاور بی آر ٹی نہیں بن رہی ہے جبکہ محمود خان اچکزئی کا بھائی گورنر بنا اور بلچستان کے ریکوڈیک معاہدے مین بھاری جرمانہ ہوا۔
لیکن کوئی بات نہیں اس ملک کو اب کے بار عمران خان کی شکل میں ایک ایسا مسیحا نصیب ہوا ہے کہ ساری دُنیا حسد کی آگ میں جل رہی ہے جس کی وجہ سے سب نے مل کر ہمارے ساتھ کُٹی کرلی ہے۔

وزیراعظم صاحب کو اللہ تعالی نے کمال کا ویژن فراہم کیا ہے۔ بھینسوں، کٹوں، انڈوں اور چوزوں تک کو نہیں چھوڑا۔ گل افشانی گفتار الگ سے عطیہ خداوندی ہے۔ انتظامی مہارت تو غضب کی ہے کیونکہ جیلوں کا عملہ مفت کی روٹیاں توڑتا تھا، اس لئے انہیں روز بروز مصروف کرتا جا رہا ہے۔ جھوٹی صحافت سے قوم کو چھٹکارا دلا کر انہیں ناولوں اور انٹرٹینمنٹ چینلوں پر لگا دیا ہے تاکہ فنکاروں کی روزی روٹی چلتی رہے۔

وزیراعظم صاحب چونکہ کرپشن کے شدید مخالف ہیں اس لئے ملک سے پیسہ ختم کرنے کے لئے دن رات کوشاں ہیں اور حیرت انگیز کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں، کیونکہ مخلص بہت ہیں اور یہ تمام برکتیں اسی خلوص ہی کا ثمر ہیں۔
اللہ اللہ خیر صلا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •