اب سومنات کی طرف سے حملہ ہم پر ہو گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشمیر کا مسئلہ حل ہو، نہ ہو۔ اُس نے ہمارا ایک مسئلہ حل کردیا ہے۔ ”اُمّہ“ والی خوش فہمی یا غلط فہمی ہماری توقعات کی گود سے اٹھا کے پرے رکھ دی۔ لیکن افسوس کہ ہم پھر بھی مسئلہ کشمیر کو اُمّہ کی گود سے اٹھانے کو تیار نہیں ہیں۔ اب بھی ہم توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے اس روتے، بلکتے، سسکتے بچے کی مسکراہٹوں کے لئے اپنے سارے مفادات قربان کر دے گا۔

کم از کم میرا اپنا ذاتی تجربہ تو ایسے کسی جھانسے میں آنے کا نہیں ہے۔ میں تو بچپن سے ہی اُمّہ والی بات پہ خار کھائے بیٹھا ہوا ہوں۔ کئی مرتبہ ابا نے جوتا اٹھایا۔ مولوی صاحب ناراض ہوئے۔ بڑے بوڑھوں نے ڈانٹ پلائی۔ مگر بچے کے دل و دماغ پر جب ایک بات ثبت ہوجائے، تو وہ نکلتی نہیں۔ مجھے بچپن میں ایک عرب نے اپنا عمامہ پہننے پر اتنی زور سے ڈانٹ پلا دی تھی، کہ اُس آواز کی گھن گھرج اور غصیلی آنکھوں کی حقارت مجھے پچھلے سال عمرے کے طوافوں کے دوران بھی نہیں بھولی۔ میں تو اپنے چچا کے ساتھ اُن معصوم تلوروں کو دیکھنے گیا تھا، جنہیں وہ شہزادہ ہمارے گاﺅں کے باہر خیمے لگا کر شکار کرنے آتا تھا۔ ہاں البتہ اُمّہ کے اُس فرزند کی آنکھوں میں اگر میں نے پیار دیکھا، تو اُس شکرے کے لئے، جس کو اُس نے اپنے ہاتھوں پہ ایسے بٹھایا تھا، جیسے ہمارے گاﺅں کا دکاندار حاجی عبدالقدوس پیرانہ سالی میں پیدا ہونے والے اپنے اکلوتے بیٹے عبدالمجید کو پہلو میں بٹھایا کرتا تھا۔ اُس پر ساری دکان نثار اور گاہکوں سے کرنے والی ہر بدتمیزی معاف تھی۔ اُسی دکان کی پشت والی دیوار پہ جلی حروف میں لکھاہوتا تھا۔ ”کشمیر کی آزادی تک اُدھار بند ہے“۔ عرب شہزادے کے خیموں اور عبدالقدوس کی دکان کے بیچ میں بس تھوڑا سا فاصلہ تھا۔

پتہ نہیں یہ یقین تھا، ناامیدی تھی، عزم کااظہار تھا، یا غیرت دلانے والا کوئی نعرہ۔ جو بعد میں مجھے کئی دکانوں کی دیواروں پہ لکھا ہوا نظر آتا رہا ہے۔

یہ اتفاق ہے یا ہوسکتا ہے، میری کم علمی ہو کہ میں نے ان دکانوں کے علاوہ ہر جگہ کشمیر کے ساتھ ”مسئلہ“ یا ”ایشو“ کا لفظ ہی جڑا ہوا دیکھا ہے۔ اور مسلسل اتنی مرتبہ دہرایا گیا ہے کہ اب میرے لئے ”مسئلہ“ اور ”کشمیر“ ایک ہی لفظ ہو گیا ہے۔ سوچتا ہوں کل کو کشمیر کا مسئلہ حل ہوگیا۔ تو کشمیر کے بغیر ”مسئلہ “ کتنا بے معنی، نامکمل اور لنڈورا سا لفظ لگے گا۔ ہو سکتا ہے، کشمیر کے معاملے میں اس کے علاوہ کوئی مناسب لفظ نہ ہو۔ مگر اس لفظ کا تاثر ہی کچھ عجیب سا ہے۔ جیسے کوئی سردرد، کوئی چیز گلے پڑجائے، کوئی پریشانی، کوئی ایسی پریشانی جس سے چھٹکارا بہت ضروری ہے۔

بُرا مت مانئے۔ ایک عام شہری کے چشمے سے جو میں نے دیکھا تو ایسا ہی لگا ہے۔ پی ٹی وی پہ شام کو کشمیر ٹائم کے نام سے مخصوص لفظوں اور وڈیوز کی سرکاری گردان اور جمعہ اور عید کے اجتماعات میں کشمیر کی مخصوص دعا کا فکسیشن۔ یا منتخب یا غیر منتخب سربراہ مملکت کی ”کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کیا جائے“ والی مخصوص سرکاری جگالی۔ جہاد کشمیر کی سیاسی دکانداری۔ یوٹرن والی بے اعتنائیاں۔ کشمیر کمیٹی کی شاندار ملازمتیں۔ 5فروری والے ”کشمیر ڈے“ کی فارمیلٹی۔ سب ایسا لگتا تھا، جیسے کشمیر بھی ایک سرکاری فائل ہے اور ایک ٹیبل سے دوسری ٹیبل تک گردش کر رہی ہے۔ جس پہ غیر ملکی دوروں اور ملکی دعوتوں کے حاشیے لکھے جاتے ہیں۔

بھلا ہو نریندر مودی کے پاگل پن کا، جس نے تمام تر مواصلاتی رابطے کاٹ کر پوری دنیا کو کشمیر کے ساتھ جوڑ دیا۔ جس نے میڈیا پہ بلیک آﺅٹ کر کے وہ ظلم دکھا دیا، جو ہزاروں فلم رپورٹس دکھا کر بھی ہم باور نہ کروا سکے۔ جس کی اس غاصبانہ حرکت نے کشمیر کے ساتھ ”مسئلہ“ کا لفظ ہٹا کر ”آزادی“ کا لفظ جوڑ دیا۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ اتنا کچھ ہونے کے باوجود اب بھی ہم کشمیر کے ساتھ ”مسئلہ“ کا لفظ جوڑنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یکجہتی اور سفارتکاری کے وہی پرانے پینترے آزما رہے ہیں۔ جن سے آج تک وہ مسئلہ، مسئلہ ہی رہا۔ تعجب ہے ایک قصائی ہماری شہ رگ پہ چھری رکھے بیٹھا ہے اور ہم اپنے گھر کی بالکونیوں، بازاروں، سڑکوں اور دفتروں کی چھتوں پر کھڑے ہوکر اُس کو یہاں سے باز رہنے کے سامان کر رہے ہیں۔ یقیناً کل ہم اقوام متحدہ کی چوکھٹ پہ جا کے اُس کے دروازے کو بھی زور سے ایک لات ماریں گے۔ نریند مودی کے ناپاک عزائم پر ایک جوشیلی تقریر بھی کرڈالیں گے۔ خدا کرے کہ کچھ حاصل ہو۔ مگر حاصل کس سے؟ وہ جنہیں ہم ”اُمّہ“ کہتے تھے؟ یا وہ، جنہیں ہم ’کفار‘ کہتے ہیں۔

اللہ کرے، کہ یہ بھی غلط ہو۔ لیکن مجھ کم عقل اور کوتاہ اندیش کو جو کچھ نظر آرہا ہے۔ وہ یہ کہ مودی کے گھناﺅنے عزائم کی منزل کشمیر سے آگے ہے۔ آپ جس کو گجرات کے قصائی کے طور پر جانتے ہیں۔ اُس کی ایک پہچان اور بھی ہے۔ اور وہ ہے، ’سومنات کا مندر‘۔ جس کے سائے میں وہ پل کر جوان ہوا ہے۔ پتہ نہیں کیوں، وہ جب بھی پاکستان کی بات کرتا ہے، تو مجھے اُس کی آنکھوں میں سومنات پر ہونے والے اُن سترہ حملوں کے بدلے کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ جو غزنی کے ایک جنگجو محمود نے اسلام کی سربلندی کے لئے کئے تھے۔ جس کو ’ہماری تاریخی کتابوں میں ‘ بُت شکن کے طور پر لکھا جاتا ہے۔ غزنی والے تو شاید بھول گئے ہیں۔ لیکن اسلام کا قلعہ ہونے کے ناطے اُس فرزند اسلام کی اُن فتوحات کا فخر آج تک ہم نے اپنے سینے پر سجایا ہوا ہے۔ اُمّہ کا تعاون ہمارے ساتھ ہو، نہ ہو۔ اُس کے قرضے تو بہرحال ہمارے ذمہ ہیں۔ ’حجاج بن یوسف اب مودی کا ایک کاروباری شریک ہے ‘۔ ہندوستان کے خزانوں تک اُسے بنا کشت و خون کے رسائی دے دی گئی ہے۔ اس لئے اب کسی ہندو حکمران کے ہاتھوں یرغمال مسلمان عورتوں کی عزت بچانے کے لئے کوئی محمد بن قاسم تو آنے سے رہا۔ اور محمود غزنوی کے فرزندان کو کسی حملے سے باز رکھنے کے لئے سومنات کے بتوں کی قیمت افغانستان میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کی صورت میں ادا کردی گئی ہے۔ اس لئے مودی جی نے سارا غصہ ہم پر ہی اتارنا ہے۔ لہٰذا ہمیں تیار رہنا چاہئے، کہ اب سومنات کی طرف سے حملہ ہم لوگوں پر ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •