اب بھی پانی کی طلب کی تو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میر واقعی سادہ ہی نکلے، اُسی دوافروش کے لونڈے کے پاس جا پہنچے جو بیماری کا سبب بنا۔

گزشتہ تین ہفتوں سے کشمیر میں جو خونی کھیل کھیلا جارہا ہے اس پر حکومت پاکستان جس مجرمانہ خاموشی کا مظاہرہ کر رہی ہے وہ تاریخ کے سیاہ ترین باب میں شمار کیا جائے گا۔ یہ وہ کشمیر ہے جس کو ہمارے سارے نصابوں میں شہ رگ لکھا گیا ہے۔ جس جس جگہ کشمیر کا ذکر ہے وہاں وہاں ”میرا تیرا“ کا کہیں بھی ذکر موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کشمیر کے کسی بھی حصے میں کہیں بھی کوئی ہلچل ہوتی، پورا پاکستان سراپا احتجاج بن جایا کرتا تھا۔

پاکستان کا یہی رویہ مقبوضہ کشمیریوں کے حوصلے بڑھاتا رہا یہاں تک کہ اسی حوصلہ افزائی اور مسلسل محبت کا اظہار کشمیریوں کی سوچ میں ایک انقلابی تبدیلی کا سبب بنا اور وہ بھارت کے زیر تسلط رہنے کے باوجود بھی پاکستان سے الحاق کی تحریک چلا بیٹھے۔ جس بھارت کے لئے کشمیر کو ایک آزاد ریاست کی صورت میں دیکھنا بھی گوارا نہیں تھا وہ کسی ایسی تحریک کو پروان چڑھتے کیسے گوارا کرسکتا تھا جس میں کشمیر کے جھنڈے کے ساتھ ساتھ پاکستان کا سبز ہلالی پرچم بھی لہراتا نظر آرہا ہو۔

تحریک کا یہ رخ دیکھ کر بھارت نے اپنے ظلم کا طوفان اٹھانا شروع کردیا۔ بیشمار گرفتاریاں عمل میں آئیں، درجنوں لاشیں گرائی گئیں، خواتین اور بچیوں کی عزتوں کو تارتار کیا گیا، بستیوں کو آگ لگائی گئی اور رہنماؤں کو پابند سلاسل کیا گیا، لیکن تحریک ایک سونامی کی طرح آگے ہی آگے بڑھتی رہی۔ جب کوئی بھی ظلم تحریک کے بڑھتے دھارے پر بند نہ باندھ سکا تو کشمیر کے ہر عمر والے اور والی پر ”پیلٹ گنوں“ کا آزادانہ استعمال کیا گیا جس سے سیکڑوں بچے، بوڑھے اور جوان شدید زخمی ہوئے اور بے حساب افراد آنکھو کی بینائی جیسی عظیم نعمت سے بھی محروم ہو گئے۔

آزادی کے متوالوں میں اگر بیداری کی لہر دوڑ جائے تو پھر ظالموں کی کوئی بھی سختی ان کے مقصد کی راہ میں رکاوٹ بن ہی نہیں سکتی، کانٹے، پھولوں کی سیج اور آگ کے شعلے گل و گلزار بن جایا کرتے ہیں۔ یہی کچھ کشمیر میں ہوا۔ ہر ظلم تحریک میں ایک نئی جان ڈالتا چلا گیا، تحریک رکنے کی بجائے مزید زور پکڑتی گئی، پاکستان سے الحاق کی باتیں علی الاعلان ہونے لگیں اور وہ وقت بہت نزدیک محسوس ہونے لگا جب پورا کشمیر اپنی منزل (پاکستان) کے قریب تر نظر آنے لگا۔

یہ بات بھارتی حکمرانوں کے لئے بڑی پریشان کن ثابت ہوئی اور انھوں نے اپنے تئیں یہ سمجھ لیا کہ اگر کشمیر کو قانونی طور پر بھارت کا حصہ بنالیا جائے تو پاکستان سے الحاق کی کشمیری تحریک کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کیا جاسکتا ہے۔ یہی وہ سوچ تھی جس کے مطابق بھارت نے دفعہ 370 اور اس کی ذیلی شق 35 اے کو حذف کرکے کشمیر کو اپنے وفاق کا حصہ بنالیا۔ بھارت کی یہ بہت بڑی بھول تھی کہ اس طرح کشمیر میں چلنے والی تحریک دم توڑ دیگی اور ہم کشمیریوں کو مجبور کردیں گے کہ وہ پاکستان پاکستان کا شور مچانا چھوڑدیں اور اب اپنے ساری زندگی بھارت کی وفاداری میں بسر کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔

دنیا کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ ہر آگ پانی سے نہیں بجھائی جاسکتی بلکہ کچھ شعلے ایسے بھی ہوتے ہیں جو پانی پڑنے سے اور شدت اختیار کر لیتے ہیں۔ بھارت جس آئین کی شق کے پانی سے بھڑکنے والی آگ کو قابو میں کرنے کا خواب دیکھ رہا تھا وہ چکنا چور ہوکر رہ گیا اور آزادی کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے۔ جب کوئی انسان عقل گنوا بیٹھتا ہے تو اس کا ہر قدم اسے منزل کی جانب لے جانے کی بجائے، منزل سے دور کرتا چلا جاتا ہے۔

غصہ اور غرور ہوش و حواس کو اسے طرح برباد کردیا کرتے ہیں جس طرح دیمک لڑی کو اور زنگ لوہے کو کھا جاتا ہے۔ وہی قانونی و آئینی دفعہ جس کے ختم کردینے سے مودی حکومت یہ سمجھ رہی تھی کہ کشمیریوں کے سر چڑھا آزادی کا جن بھارتی وفاقی آئین کی بوتل میں بند ہوجائے گا، نہایت غلط ثابت ہوا اور آزادی کے جذبے کا سر چڑھا جن دیو کی صورت اختیار کرگیا جس کو قابو میں کرنے کے لئے بھارت نے وہی سب کچھ کیا جو فرعون صفات کرتے چلے آئے ہیں۔ بھارت نے پوری وادی کشمیر میں کرفیو نافذ کرکے ایک ایک کشمیری کا گھر کال کوٹھڑی بنا کررکھ دیا۔

جیل میں قیدیوں پر خواہ کتنا ہی ظلم ہوتا ہو لیکن انھیں کھانا بھی ملتا ہے اور پینے کے لئے پانی بھی یہاں تک کے بیماری کی صورت میں علاج کی سہولت بھی ہوتی ہے لیکن کرفیو کی صورت میں ان سب کی تلاش میں نکلنے والوں کی صرف لاشیں ہیں گھر کو لوٹتی ہیں۔ یہ ظلم کا ایک ایسا سلسلہ ہے جس کے سامنے بڑے بڑے فرعون بھی شرما کر رہ جاتے ہیں۔ گزشتہ تین ہفتوں سے بھی زیادہ عرصہ اس ظلم کے تسلسل میں گزر چکا ہے لیکن پاکستان کے حکمرانوں کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ وہ اس پر کسی جارحیت کا مظاہرہ کرنے کی بجائے اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح وہ پاکستانی جو کشمیر پر ہونے والے ظلم و ستم پر مسلسل کرب و اذیت کا شکار ہیں اور ظلم کو جواب جذبہ جہاد سے دینے کے لئے تیاروآمادہ ہیں اور طالبِ اذن ہیں کہ اگر پاکستان کو بین الاقوامی قوانین کی وجہ سے کسی مشکل کا سامنا ہے تو وہ کچھ فاصلے پر کھڑا ہو جائے تاکہ ہم پاکستانی بھارت کے ظلم کو از خود سنبھال سکیں۔

پاکستان کے لئے مشکل یہ ہے کہ وہ پاکستان کے عوام کو ایسا نہ کرنے کے لئے اور پاکستانیوں کو کشمیر میں داخلے سے منع کرنے کے لئے کوئی جواز بھی پیش نہیں کر سکتا۔ پاکستان افغانستان میں روس کی مداخلت کے موقع پر ایسا کر چکا ہے اور جذبہ جہاد کا سہارا لے کر لاکھوں مجاہدین کو افغانستان میں نہ صرف داخلے کی اجازت دے چکا ہے بلکہ ان کی ہر قسم کی مدد بھی کرتا رہا ہے۔ وہی صورت حال اس وقت مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہو چکی ہے۔

کشمیر کی آزادی کی تحریک کو کچلنے کے لئے بھارت کی لاکھوں فوجیں نہ صرف کشمیر میں داخل ہو چکی ہیں بلکہ کشمیریوں کی جان و مال، عزت و آبرو کو پامال کر رہی ہیں اور ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ افغانستان میں روسی فوجوں کا داخل ہونا اور کشمیر میں بھارتی درندگی کو دو زاویہ نظر سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ اگر افغانستان میں مجاہدین کو افغان سرحدوں کے اندر تک داخل ہونے کی اجازت تھی اور وہ جہاد تھا تو کیا وجہ ہے کہ جہاد کی وہی روح کشمیر کی موجودہ صورت حال میں اپنا روپ بدل چکی ہے۔ یہ وہ صورت حال ہے جو حکومت کے لئے ایک امتحان بنی ہوئی ہے لیکن حکومت اس امتحان میں کودنے کی بجائے، جہاد کے جذبے کو کسی نہ کسی صورت دبانے میں اور عوام کا غم و غصہ کم کرنے میں مصروف نظر آتی ہے۔

آج کی حکموت ہو یا اس پرویز مشرف کے دور کی حکومت جس کے دور میں پاکستان نے امریکہ کے آگے لیٹ جانے کا مظاہر کیا تھا، کوئی فرق نظر نہیں آرہا۔ اُسے بھی معلوم تھا کہ اگر افغانستان میں جاری جہاد کو تہس نہس نہ کیا گیا، امریکہ کو اپنی مرضی نہیں چلانے دی گئی تو پاکستان کی اپنی سلامتی (مشرف کے خیال میں ) خطرے میں پڑجائے گئی۔ وہی انداز موجودہ حکومت کا ہے۔ یہ بھی بِنا امریکہ کی مرضی، کوئی بھی ایسا قدم اٹھانے کے لئے تیار نہیں جو ٹرمپ اور مودی کی پیشانیوں پر بل پڑجانے کا سبب بن جائیں۔

یہ بات محض ہوا میں نہیں کہی جارہی بلکہ پاکستان کا پاکستان میں بھارتی قونصل خانہ بند نہ کرنا، اپنا سفارت خانہ بھارت میں کھلا رکھنا، بھارتی سفیر کو واپس نہ بھیجنا، پاکستان کے سفیر کو بھارت چھوڑ دینے کا حکم نہ دینا، بھارت پر اپنی فضائی حدود بند نہ کرنا، کرتار پور راہداری پر مسلسل کام جاری رکھنا اور کشمیر میں جاری ظلم و ستم کے باوجود کسی جارحانہ انداز کو اختیار نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ جو کچھ بھی امریکہ کے صدر سے ملاقات میں طے کر لیا گیا ہے اسی پر سختی سے عمل پیرا رہتے ہوئے پاکستان کے عوام کے دلوں میں بھارت کے خلاف بھرکتی ہوئی آگ کو کسی نہ کسی طرح سرد کرکے کشمیر کے اس مسئلے کو بھی دیگر اہم امور کی طرح قصہ ماضی بنا کر رکھ دینا، جیسے انداز بتا رہے ہیں کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری کی پوری دال ہی کالی ہے۔

ایسے عالم میں جبکہ حکومت کی ہر بزدلانہ پالیسی روز روشن کی طرح عیاں اور اظہر من الشمس ہے، امیر جماعت اسلامی کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ملاقات ایک ایسا عمل ہے جو عقل کی کسی بھی کسوٹی پر پرکھ کر ہی نہیں دے رہا۔ شاہ صاحب اور ان کے پیرومرشد خان صاحب کے منھ سے نکلنے والا ایک ایک جملہ چیخ چیخ کر یہ بتا رہا ہے کہ پرویز مشرف کی طرح ”سب سے پہلے پاکستان“ کے نعرے کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی نئی حکمت عملی ہے ہی نہیں۔ پرویز مشرف بھی ڈالر لیتے رہے اور سب سے پہلے پاکستان کا وظیفہ پڑھتے رہے اور موجودہ حکمرانوں کی آنکھوں میں بھی ڈالرز ہی لہرارہے ہیں۔ ڈالرز کی چمک نے ان کی بصارت اور بصیرت دونوں کو چندیا کر رکھ دیا ہے۔

جب صورت حال بالکل واضح اور صاف صاف ہو اور حکومت کی ہر پالیسی نگاہوں کے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہو تو پھر وہ کون سی توقعات رہ گئیں تھیں جن کو بنیاد بنا کر وزیر خارجہ سے ملاقات کی گئی۔ کیا یہ حکمران امریکہ کے علاوہ بھی کسی کی سننے اور ماننے کے لئے تیار ہیں۔ جن کے لہو کو کراچی تا خیبر، کروڑوں عوام کے جذبہ جہاد کے نعرے نہ گرما رہے ہوں اور عوام کا جاہ و جلال جن کے جذبے میں ہلچل بپا کرنے میں کوئی کردار ادا نہ کر رہا ہو، کیا وہ ایک جماعت اسلامی کے امیر کی بات کو اہمیت دیں گے۔

زبان کا کیا ہے، وہ چاہے جس کے اقدام کو حدیث قدسی بنادے اور جس کی میٹھی سے میٹھی بات کو کڑوے زہر میں تبدیل کردے، لیکن میرے نزدیک موجودہ ملاقات میرے ہی ایک شعر کی روشنی میں اس سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی کہ

اب بھی پانی کی طلب کی تو سرابوں سے حبیب
اب تو یہ ریت کی دیوار گرادی جائے

لیکن لگتا ہے کہ پاکستان میں ساری تحریکیں اس وقت سے پہلے چٹان بن ہی نہیں پاتیں جب تک ”چٹانوں“ والے پس پشت نہ ہوں۔ شہ رگ پر دودھاری خنجر چل چکا ہے لیکن کیونکہ ”اہلِ چٹان“ کو اس معاملے میں کسی قسم کی کوئی دلچسپی نہیں اس لئے پاکستان میں ہر اٹھنے والی تحریک ریت کے گرد و غبار سے زیادہ سے حیثیت اختیار کرتی نظر نہیں آرہی اور مجھے یقین ہے کہ کچھ ہی ہفتوں میں کشمیریوں کی حمایت میں اٹھنے والی یہ ساری دھول مٹی بیٹھ جائے گی اور کشمیریوں کی صرف آہیں اور سسکیاں ہی فضا میں گونجتی رہ جائیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •