ترجیحات ہمیں خود ہی طے کرنی ہیں

بی بی سی کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین نے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اردن اور اسرائیل کے درمیان، بقول اُن کے، ”ایک ناکام فلسطینی ریاست“ کی حمایت نہیں کرے گی نیز یہ کہ اسرائیل کو حق ہے کہ وہ غربِ اردن کے کچھ حصوں کو ضم کر لے اگرچہ ایسی کارروائی بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہو گی۔ اپنے بیان میں مزید زور پیدا کرتے ہوئے انھوں دلیل کے طور پر یہ بات بھی کہی کہ اگر سکیورٹی کی وجہ سے اسرائیل اپنی افواج کو غربِ اردن میں رکھتا ہے تو یہ ایسے ہی ہو گا جیسے امریکہ نے اپنی افواج جرمنی، جاپان اور جنوبی کوریا میں تعینات کی ہوئی ہیں۔

Read more

سب مسائل کا ایک ہی حل

گزشتہ دنوں ویزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے ایران کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے دوران جہاں خان صاحب کی اور بہت ساری مصروفیات رہیں وہیں اہم ترین بات جو سامنے آئی تھی وہ توانائی کے حصول کے سلسلے کی تھی۔ پاکستان اس وقت بہت سارے دیگر مسائل اور بحران کے علاوہ توانائی کے بحران کا بھی شکار ہے جس میں بجلی اورپٹرول کی شدید کمی کا سامنا تو ہے ہی، ساتھ ہی ساتھ گیس کی کمی بھی پاکستان کو کسی بھی وقت ایک بہت بڑے خسارے میں مبتلا کر سکتی ہے۔

Read more

نئے پاکستان میں سب کچھ پرانا

مولوی صاحب دوپہر کے کھانے کے وقت گھر پہنچے تو گھر مرغے کے سالن کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔ کھانا سامنے آیا تو حیران ہوئے کہ پلیٹ میں مرغے کے گوشت کا سالن پڑا تھا۔ بیگم سے پوچھا آج یہ مرغے کا سالن کیسے؟ ہمارے گھر تو کوئی شاگرد دال بھی لا کر نہیں…

Read more

ہماری ریاست ہمیشہ دیر کر دیتی ہے

جب مشرقی پاکستان ہاتھ سے نکلنے کے قریب تھا تو افواج پاکستان کی جانب سے ایک آخری کوشش کی گئی کہ حالات کی کشیدگی کو کسی طرح کم کیا جائے۔ چنانچہ جنرل نیازی جو اس وقت مشرقی پاکستان میں تعینات تھے تو انھوں نے دو کاموں کا آغاز کیا۔ ایک جانب تو وہ بیشمار قیدی…

Read more

این آر او پھر کیا ہوتا ہے

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت جاتی ہے تو جائے کسی کو ”این آراو“ نہیں دوں گا۔ یہ بات وہ الیکشن جیتنے سے قبل بھی ایک تسلسل کے ساتھ کہتے رہے ہیں اور اب بھی کہنے کی حد تک، اسی بات پر قائم ہیں۔ وزیر اعظم جب جب بھی اپنی اس بات کو دہراتے ہیں ان سے پوچھنے والے، یہ ضرور دریافت کرتے ہیں کہ ”این آر او“ مانگ کون رہا ہے؟ اس سوال کا جواب کبھی حکومتنی بینچوں کی جانب سے تسلی بخش نہیں آیا۔ وزیر اعظم کے ”ترجمانوں“ کی جانب سے اکثر یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ چوری کا پیسہ لوٹا دو تو ڈیل اور ڈھیل دونوں مل سکتی ہیں۔

Read more

افغان امن کی واحد ضمانت: سنجیدہ مذاکرات

افغانستان وہ بد قسمت ملک ہے جس میں گزشتہ 40 برسوں سے جنگ کے بادل نہ صرف منڈلا رہے ہیں بلکہ نہایت گھن گرج کے ساتھ برس بھی رہے ہیں۔ وہ افغانستان جو ماضی قریب میں دنیا کا ابھرتا ہوا ملک بنتا جارہا تھا اب پتھروں کے زمانے کے مناظر پیش کرتا ہوا نظر آرہا ہے۔ ایک طویل عرصے سے جاری جنگ نے افغان عوام کی ہرکیفیت پر، خواہ وہ معاشی ہو، اقتصادی ہو یا ذہنی و جسمانی، بہت بری طرح اثر ڈالا ہے۔ مسلسل جنگ کی وجہ سے وہ کئی صدیوں پیچھے چلا گیا ہے۔ دنیا کے برابر آنے اور اپنے عوام کو ہر لحاظ سے دنیا کے دوسرے ممالک کے ساتھ کھڑا کرنے میں اس کو ایک طویل عرصہ درکار ہے اور وہ بھی اس صورت میں جب ملک پر چھائے بد امنی اور جنگ کے بادل چھٹ جائیں اورافغانستان مکمل امن کا گہوارہ بن جائے۔

Read more

پاکستان کو اس بحرانی صورت حال سے نکلنا ہو گا

حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہیں۔ ریاست کا وجود ہی حکومت سے وابستہ ہوتا ہے۔ کوئی ملک دنیا میں ایسا نہیں ہوگا جو بنا حکومت ہو۔ اقتدار پر کون ہے اور طرز حکومت کیا ہے، دنیا کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ دنیا کو غرض اگر ہوتی ہے تو کسی بھی ملک کی حکومت سے ہوتی ہے۔ اُسی بنیاد پر دنیا کے ممالک ایک دوسرے سے مربوط ہوتے ہیں۔ ہر قسم کے معاہدے ہوتے ہیں۔ تجارتی، اقتصادی، معاشی، معاشرتی، خارجی اور داخلی معاملات طے پاتے ہیں۔

دنیا کو ایک غرض یہ بھی ہوتی ہے کہ ملکوں کا طرز حکمرانی کیسا ہے۔ بادشاہت ہے، جمہوریت میں پارلیمانی نظام ہے یا صدارتی نظام ہے، یک پارٹی حکومت ہے یا کثیر الجماعتی حکومت بنائی گئی ہے۔ المختصر دنیا کو کسی ملک کے اندرونی معاملات سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی لیکن جو بات دنیا کا ہر ملک ہر دوسرے ملک میں دیکھنا پسند کرتا ہے وہ اس ملک کے عوام کا اطمینان ہوتا ہے۔ اگر کسی ملک کے باسی امن، چین اور سکون کے ساتھ زندگی گزارنے کے بجائے غیر یقینی اور بد امنی کی زندگی گزار رہے ہوں تو دنیا میں تشویش کی لہر دوڑنے لگتی ہے۔

Read more

بے حسی کی حدیں پارنہ کریں

ایک نہیں پورے 14 جیتے جاگتے انسانوں کو بسوں سے اتارا گیا، ان کو شناخت کیا گیا، لائن سے کھڑا کیا گیا اور سفاکی کے ساتھ گولیاں مار کر شہید کردیا گیا لیکن ایسا لگا جیسے وہ انسان نہیں بلکہ مکھی مچھر تھے جن کو ہلاک کردیا گیا۔ خبروں کے مطابق بلوچستان کے ضلع گوادر میں مکران کوسٹل ہائی وے پر نامعلوم مسلح افراد نے 14 مسافروں کو شناخت کرکے بسوں سے اتارنے کے بعد قتل کردیا۔ مقتولین میں اکثریت سیکورٹی اہلکار وں کی تھی۔یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی لیکن اس سے کہیں بڑھ کر سفاکیت یہ ہوئی کہ پاکستان کا میڈیا سارا دن حکومتی سطح پر شہید اور زخمی ہوجانے والے اُن وزرا کا سوگ مناتا رہا جن کو یا تو وزارتوں سے فارغ کردیا گیا تھا یا ان کے محکمہ جات تبدیل کردیئے گئے تھے

Read more

اسدعمرکے فیصلے پرنظرثانی کی جائے

کسی بھی عمارت کو اگر توڑنے کے بعد نیا بنانا ہو تو اس معمار کو کس طرح ہوشمند کہا جاسکتا ہے جو پرانے ملبے کو تعمیر میں استعمال کرے۔ پرانا سارا سامان اپنی مدت گزار چکا ہوتا ہے۔ کیا گارا، کیا اینٹیں، کیا بجری، کیا دروازے، کیا کھڑکیاں اور کیا سریا۔ کوئی ایک شے بھی…

Read more

عوام کو جھوٹ سننے اور ماننے کا نشہ لگ گیا ہے

پاکستان کے خواب کی تعبیر اگر الٹی ہو سکتی ہے تو موجودہ حکمرانوں کی کہی بات اور کیا گیا ہر دعویٰ اگر خام ثابت ہو جائے تو اس میں عجب کیا۔ تاریخ کچھ یہی بتا رہی کہ برصغیر انڈو پاک کے مسلمان ایک طویل عرصے جو بھی سودا کرتے چلے آرہے ہیں اس میں خسارہ…

Read more