خدارا نمک پاشیاں تو نہ کریں

پورے ملک میں کوئی ایک بھی ایسا فرد نہیں جس کو اس بات کا اعتراف نہ ہو کہ ملک میں مہنگائی نے قیامت برپا کی ہوئی ہے۔ حد یہ ہے کہ وزیر اعظم سمیت ان کی پوری کابینہ اس بات سے منکر نہیں کہ ان کی حکومت مہنگائی کے سامنے بند باندھنے میں ناکام رہی ہے۔ تمام وزرا و مشیران، بشمول وزیر اعظم پاکستان، مہنگائی کا اعتراف تو کرتے نظر آتے ہیں لیکن وہ اس کی توجیہات کے طور پر

Read more

ہم پر حکومت کون کرتا ہے؟

پاکستان میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے بعد یہ بات آج تک سمجھ میں نہیں آ سکی کہ ریاست پاکستان کے اصل حکمران کون ہیں۔ بے شک پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان ہی تھے لیکن جس انداز میں ان کو شہید کیا گیا وہ اس بات کی جانب واضح اشارہ تھا کہ یہاں حکمرانی کے لائق وہی ہے جس کو دیکھنے کے لئے بصارت کی نہیں بصیرت کی ضرورت ہے۔ لیاقت علی خان کے بعد تو

Read more

شکست کے ذمہ داروں کی صرف نشاندہی کافی نہیں

پی ٹی آئی کے سربراہ اور ملک کے وزیر اعظم عمران خان کا کے پی کے کے بلدیاتی انتخابات میں اپنی ہار قبول کرنا اور پارٹی کے ذمے داروں کی غلطیوں اور کوتاہیوں پر برہم ہو کر ان کے خلاف کارروائی کرنے کا اعلان یقیناً ایک ایسا قدم ہے جس کو اگر سراہا نہیں جائے تو زیادتی ہوگی۔ کے پی کے میں ایک بڑی شکست کا منہ دیکھنے کے بعد انھوں نے کہا ہے کہ ”خیبرپختونخوا میں نالائقیوں کے سبب

Read more

سنیے ذرا” جہاں میں ہے "خود کا” فسانہ کیا

پاکستان میں اب تک جتنی بھی حکومتیں تشکیل پاتی رہیں ان کے پاس اتنی لمبی چوڑی وزیروں، مشیروں اور ترجمانوں کی فوجِ ظفر موج کبھی نہیں رہی جتنی موجودہ حکومت کے پاس ہے۔ وزرا و مشیران کی اس سے بھی زیادہ طویل فہرست رکھنا بے شک کوئی ایسی بات نہیں جس کو بہت زیادہ ہدفِ تنقید بنایا جائے۔ حکومتی امور کو مختلف وزارتوں میں تقسیم کرکے ہر حکومت کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ تمام حکومتی امور آسانی سے انجام

Read more

کیا محدود اوورز کے میچز کرکٹ ہیں؟

کسی زمانے میں کرکٹ کا کھیل صرف ٹسٹ میچوں تک ہی محدود ہوا کرتا تھا۔ ہر ٹسٹ میچ 5 روزہ ہونے کے باوجود بھی شائقین کیلئے اتنی کشش رکھتا تھا کہ اسٹیڈیم تماشائیوں سے اس بری طرح بھرجاتا تھا کہ شائقین نشستیں پُر ہوجانے کے بعد باؤنڈری لائن تک آکر بیٹھ جایا کرتے تھے۔ اسٹیڈیم کی ارد گرد کی ایسی عمارتیں جہاں سے میچ دیکھا جا سکتا تھا، دیکھنے والے ان کی چھتوں اور بالکونیوں سے میچ کا نظارہ کیا

Read more

آبیل مجھے مار

سچ یہ ہے کہ میں نے یہ محاورہ بارہا سنا، کسی حد تک اس کا مفہوم بھی سمجھ میں ضرور آیا لیکن صحیح معنوں میں اس کا اصل مفہوم دو تین دن قبل پوری طرح سمجھ میں آ گیا۔ اسی سے ملتا جلتا ایک عامیانہ سا محاورہ اور بھی ہے جس کا مفہوم ہے کسی ایسی مصیبت یا مسئلہ کا رخ خوامخواہ اپنی جانب موڑ کر لوگوں کی لعنت ملامت اپنے گلے میں ڈال لینے کی مذموم حرکت کرنا۔ ایسا

Read more

سندھی بنو

میرے ایک آفس کولیگ نے سندھ کے ایک مرحوم لیڈر کا کلپ لگایا جس کا نچوڑ یہی تھا کہ سندھ میں رہنا ہے تو سندھی بن کر رہنا ہوگا۔ بات کچھ اس لئے سمجھ سمجھ میں نہ آ سکی کہ کیا سندھ اور پاکستان دو الگ الگ ممالک ہیں؟ سندھ پاکستان کا ہی ایک صوبہ ہے اور ہم سب اس ناتے سے پاکستانی ہوئے پھر سندھی بن کر رہنے کا مفہوم کیا ہوا۔ ایک بات اور حیران کن تھی اور

Read more

ویکسینیشن کراؤ ورنہ…

بات رویوں اور سلوک کی بھی ہوتی ہے۔ صبر، تحمل، بردباری اور گفتگو میں مٹھاس ہمارا یعنی مسلمانوں کا شیوہ ہوا کرتا تھا لیکن ہم ان سب کو یکسر بھلا چکے ہیں اور ہر کام ڈرا کر، خوفزدہ کر کے اور سزاؤں پر سزا دے کر نکالنا چاہتے ہیں۔ مسائل کو حل کی جانب لے جانے کی بجائے ان کو الجھا کر رکھ دینے کے عادی ہو گئے ہیں جبکہ وہ اقوام جن سے ہم اس بنیاد پر نفرت کرتے

Read more

کشمیر الیکشن

کشمیر کے الیکشن کو غیر شفاف کہنے والے اتنے درست نہیں جتنا کہ خیال کر بیٹھے ہیں۔ وہ تمام کشمیری جو ایک بڑی خونریزی کے بعد پاکستان کے زیر نگیں آ گئے تھے وہ سب کے سب اس وقت سے لے کر تا دم تحریر حکومت وقت کے حق میں ہی فیصلہ دیتے آئے ہیں اور وہ تمام کشمیری جن پر بھارتی تسلط رہا ہے وہ سب کے سب آج کے دن تک آزادی کی جد و جہد میں مصروف ہیں اور آزادی حاصل کرنے کے لئے مسلسل قربانیاں در قربانیاں دیتے چلے آ رہے ہیں۔

Read more

عمران بڑا اپدیشک ہے

اس بات میں اب کوئی شک اور شبہ نہیں رہ گیا ہے کہ کل قومی اسمبلی کے فلور پر عمران خان نے جو تقریر کی اسے اگر ماضی میں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہونے والے بین الکلیاتی یا بین الصوبائی تقریری مقابلوں میں شامل کر لیا جائے تو وہ لازماً اول انعام کی مستحق ہوتی اور اگر انفرادی مقابلوں کی بجائے ٹیموں کی بنیاد پر مقابلہ ہو رہا ہوتا تو وہ 1992 کے کرکٹ ورلڈ کپ سے بھی کہیں

Read more

کسی دربان کی ضرورت نہیں

میدان حشر لگا ہوا تھا، تاحد نگاہ خوفناک آگ اگلتے غار تھے، سوال کرنے والے نے سوال کیا کہ یہ کیسے غار ہیں، جواب ملا یہ سب گناہگاروں کے غار ہیں، یہ فلاں ملک کا ہے، وہ فلاں ملک کا ہے، وہ فلاں قوم کا ہے اور وہ فلاں فلاں قبیلے کا ہے، سوال کرنے والے نے پھر سوال کیا کہ ہر غار پر ایک بہت قوی الجثہ دربان ہاتھ میں آگ کا گرز لے کر کیوں کھڑا ہے؟ جواب

Read more

اچھے برے حکمران جزا و سزا کی صورت ہوتے ہیں

اس میں کسی قسم کی دو آرا نہیں پائی جاتیں کہ ملک میں بھوک، افلاس، بے روزگاری اور مہنگائی نے ایسے پنجے گاڑے ہیں کہ افراد تو افراد، خاندان کے خاندان خودکشیوں پر خودکشیاں کرتے نظر آرہے ہیں۔ آج سے تین چار دہائیوں قبل اگر کوئی ایک فرد بھی مہنگائی یا بے روز گاری کے ہاتھوں مجبور ہو کر خودکشی جیسا قبیحہ فعل کر گزرتا تھا تو حکومتی مشینری ہل کر رہ جایا کرتی تھی اور اڑوس پڑوس کا یہ

Read more

کیا سندھ میں سندھی اکثریت میں ہیں؟

اگر دیبل کو مرکز مان لیا جائے تو ماضی میں دیبل پر ایک لشکر کشی اس کے مغرب یعنی عرب کی جانب سے ہوئی تھی جس کے نتیجے میں دیبل نہ صرف مسلمانوں کے قبضے میں آ گیا تھا بلکہ کچھ ہی عرصے میں مسلمانوں نے جس طرز حکمرانی کا نمونہ پیش کیا تھا وہ اتنا اعلیٰ تھا کہ جب محمد بن قاسم کو سندھ سے واپس بلا یا گیا تو سندھ کی فضا کا کچھ ایسا عالم تھا کہ

Read more

امن و امان کا بہانہ یا کچھ اور

اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی کے حالات کئی دہائیوں سے بہت دگر گوں رہے ہیں اور یہاں وقفے وقفے سے کئی جنگ پلاسیاں لڑی جاتی رہی ہیں لیکن ارباب اختیار و اقتدار نے کبھی اس بات پر سنجیدگی کے ساتھ غور نہیں کیا کہ اس خرابی حالات میں خود ارباب اقتدار و اختیار کا کتنا ہاتھ رہا ہے۔ کراچی کے حالات کی خرابی کا آغاز ایوبی دور سے ہوا تھا جب ایوب خان کو مادر ملت کے مقابلے

Read more

صحافت یا بلیک میلنگ

جس طرح ہر لسانی، علاقائی، مذہبی، مسلکی اور بیشمار اداروں کی ہر اکائی اس زعم میں مبتلا ہے کہ ان سے بڑا صادق، امین، دیانتدار، سر تا پا ایمان سے لبالب اور ریاست کا وفادار کوئی ہو ہی نہیں سکتا بالکل اسی طرح صحافیوں کو بھی اس بات کا بڑا گھمنڈ ہے کہ پوری کائنات میں ان سے زیادہ نڈر، بیباک، بہادر، ہمیشہ سچ بولنے، کہنے، لکھنے اور آزاد صحافت کرنے والا کوئی اور موجود ہی نہیں۔ بے شک جس

Read more

سیاسی مکس اچار بنانے کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے

ایک طویل عرصے تک پورے پاکستان میں ”جئے سندھ“ کا مطلب عام فہم زبان میں ”سندھی“ ہوا کرتا تھا۔ اپنے سیکنڈری اسکول گوانگ دور میں اسلامی جمعیت طلبہ کے دو سالانہ اجتماعات میں شرکت کے موقعوں پر جمعیت کے وہ تمام ساتھی جن کا تعلق بلحاظ علاقہ و زبان سندھ سے ہوا کرتا تھا ان کو اکثر کئی سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور ان تمام سوالات کا تعلق جی ایم سید کی تحریک ”جئے سندھ“ سے ہی ہوا کرتا تھا۔ با الفاظ دیگر اہل سندھ کی دوسری بڑی پہچان جئے سندھ ہی بن گئی تھ

Read more

پاکستان تیزی سے ترقی کرتا ملک

پاکستان نے گزشتہ 3 برسوں میں جتنی ترقی کی ہے شاید ہی دنیا کے کسی ملک نے کی ہو۔ ہر دن ہر دن سے، ہر ہفتہ ہر ہفتے سے، ہر مہینہ ہر مہینے سے اور ہر آنے والا برس ہر جانے والے برس سے بہتر سے بہتر تر اور خوشحال سے خوشحال ہوتا چلا گیا لیکن افسوسناک پہلو یہ سامنے آیا کہ تمام میڈیا والوں نے ترقی کرتے پاکستان کی اصل شکل پاکستانی عوام کے سامنے پیش کرنے سے گریز

Read more

جرم صرف مہاجر کہنا ہے سمجھنا نہیں

ہجرت اپنے علاقے سے کسی اور علاقے کی جانب کوچ کر جانے کو کہا جاتا ہے۔ اس کوچ کر جانے کا مقصد و مدعا کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہجرت بسلسلہ روز گار، کسی بھی قسم کے عشق کا سودا دل و دماغ میں سما جانا، حالات کی ناسازگاری کا نقل مکانی پر مجبور کر دینا، اپنے ہی وطن میں اپنوں کے ہاتھوں زندگی کو عذاب بنا دیا جانا، کسی عظیم مقصد کے فروغ کے لئے کسی دوسری سر زمین

Read more

حکومت کا موقف ہمیشہ دو ٹوٹ ہی رہا ہے

آج 10 مئی 2021، روز نامہ جسارت میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق امیر جماعت اسلامی کراچی نے ماہ رمضان میں جمعۃ الوداع کو روزہ دار فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی جانب سے مسجد اقصیٰ پر حملے میں 2 فلسطینیوں کی شہادت اور 200 سے زائد کے زخمی ہونے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”فلسطین کئی روز سے جنگ زدہ علاقہ بنا ہوا ہے، اسرائیلی فوج گزشتہ کئی ہفتوں سے فلسطینیوں پر حملے کر کے ان

Read more

پی پی 84، خوشاب کے ووٹروں کو سلام

کھیل کود ہو یا زندگی اور زندہ دلی کے درمیان کسی بھی قسم کا مقابلہ، ہار جیت بہر لحاظ مقدر ہے۔ ویسے بھی اگر مسلم لیگ نون کے مقابل اس حلقے سے تحریک انصاف کا امیدوار ہار گیا ہے تو کچھ عجب اس لئے نہیں کہ یہاں سے مسلم لیگ نون ہی کے نمائندے ملک وارث کلو کو 2018 کے انتخاب میں کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ ملک وارث کلو کی وفات کی وجہ سے خالی ہونے والے نشست پر ہونے

Read more

عمران خان کو اصل شکایت کس سے ہے؟

وزیر اعظم عمران خان بھی خوب آدمی ہیں۔ نہ جانے کیا بات ہے کہ اپنے منہ سے جو بھی ارشاد فرماتے ہیں، معاملہ اس کے برعکس سامنے آتا ہے۔ کرسی اقتدار پر براجمان ہونے سے کچھ برس قبل تک وہ بانی ایم کیو ایم سے بھی کہیں زیادہ، افواج پاکستان کو جو کچھ کہتے رہے، پاکستان ہی کیا، دنیا کے کسی بھی ملک کے سیاست دان نے شاید ہی اپنے ملک کی کی افواج کو اتنا مطعون کیا ہو۔ وہ

Read more

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ ”ایران ایک ہمسایہ ملک ہے اور ہم سب ایران کے ساتھ اچھے اور خصوصی تعلقات کی خواہش رکھتے ہیں“ ۔ العربیہ ٹیلی ویژن کو دیے گئے انٹرویو میں ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ”ایران کا طرزعمل منفی ہے لیکن ہم اب بھی اسے پڑوسی ملک کی حیثیت سے دیکھتے ہیں اور اچھے تعلقات استوار کرنے کے خواہش مند ہیں تاہم ایران اپنے متنازع جوہری پروگرام

Read more

لولی پاپ کی سوچوں سے باہر نکلنا ہو گا

پاکستانی سیاست میں جب بھی اپوزیشن اور حکومت اس صورت آمنے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں کہ بہر لحاظ اپوزیشن طاقتور اور حکومت کمزور نظر آنے لگتی ہے یا صورت حال کچھ یوں ہو جاتی ہے کہ اگر حکومت کوئی سمجھوتہ کرنے کی بجائے سخت تادیبی کارروائی پر کمر کس لے تو بجائے حکومتی مشکلات کم ہونے کے معاملات مزید الجھ جاتے ہیں، سلجھا نہیں سکتے۔ اس صورت حال کے پیش نظر حکومت پسپائی اختیار کر کے مذاکرات کا راستہ

Read more

وزیر اعظم صاحب! قوم بالکل بھی ناسمجھ نہیں

کل وزیراعظم پاکستان جلوزئی (پشاور) میں نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ ”جزا و سزا کا تصور نہ ہو تو نظام تباہ ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کی بالادستی کا مطلب بار بار سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں جو پاکستان میں لوگوں کو سمجھ میں نہیں آ رہا۔ طاقتور لوگ قانون کے نیچے نہیں آنا چاہتے، پی ڈی ایم جیسا اتحاد بنا لیتے ہیں، وہ چاہتے

Read more

جمہوریت یا آمریت، فیصلہ ضروری ہے

یہ پاکستان کی بد قسمتی ہے کہ 1958 کے بعد سے بدترین آمریت کے جس دور کا آغاز ہوا تھا وہ تا دم تحریر جاری ہے اور یقین واثق ہے کہ اب یہ دور آمریت پاکستان کا مقدر بن کر مرزا غالب کے اس شعر کی مثل ہو چکا ہے جس میں فرمایا گیا تھا کہ قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں ایوبی اور یحیائی دور کے

Read more

اسلام کی تبلیغ کریں، جبر مسلط نہ کریں

جہاں تک مسالک پر چلنے یا اس کے مطابق عبادات یا عمل کرنے کی بات ہے، کہا یہی جاتا ہے کہ اپنا مسلک بے شک نہ چھوڑو لیکن کسی دوسرے کے مسلک کو بھی نہ چھیڑو۔ اگر امن و امان کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ بات بہت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ معاشرے میں انتشار اور بے چینی کا سب سے بڑا سبب ہی ”اختلاف“ ہوا کرتا ہے۔ اب مسالک ہوں یا مذاہب، ان کا ہونا ہی ”اختلاف“

Read more

سستا گھر ہاؤسنگ اسکیم کس کے لیے ہے؟

وزیراعظم سستا گھر ہاؤسنگ اسکیم کے تحت حضرو میں 600 سستے پلاٹ فراہم کیے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق 400 کنال پر مشتمل اسکیم میں 3 مرلے کے 400 پلاٹ بے گھر لوگوں کو دیے جائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سستا گھر اسکیم میں بے گھر لوگوں کو 5 مرلے کے 200 پلاٹ بھی فراہم کیے جائیں گے۔ عرب نیوز کے مطابق حکومت پاکستان نے فنانسنگ سکیم کی معاونت کے لیے کریڈٹ گارنٹی ٹرسٹ قائم کر دیا ہے

Read more

روزوں کا اصل مقصد تقویٰ پیدا کرنا

میں نے بچپن میں رسالہ ”نور“ میں ایک نظم پڑھی تھی جو لفظ بہ لفظ مجھے ایسی یاد ہوئی کہ رمضان المبارک کی آمد آمد کے ساتھ ہی بے اختیار میں اسے پہلے اپنے ہم عمروں کے ساتھ گنگنانے لگتا تھا اور اب اپنے پوتا پوتیوں اور نواسہ نوا سیوں کے سامنے سنانے لگتا ہوں۔ مجھے اس نظم کے شاعر کا نام تو یاد نہیں رہا لیکن نظم کچھ یوں ہے کہ پھر سے روزوں کا مہینہ آ گیا آج

Read more

بے حسی کی انتہا

بادشاہ کا بس نہیں چلتا تھا کہ اپنے عوام پر ظلم کا پورا پہاڑ ہی توڑ کر رکھ دے۔ اس وقت تو اس کے جاہ و جلال کی کوئی انتہا ہی نہیں رہی جب عوام نے باوجود ظلم و ستم اس کے پاس فریاد کے لئے آنا ہی چھوڑ دیا۔ روا رکھے جانے والے ظلم پر جب فریادی روتے، دھوتے، کراہتے، چیختے اور چلاتے اس کے پاس آتے تو اس کے اذیت پسند مزاج کو بہت تسکین حاصل ہوتی اور

Read more

سنتے جاؤ اور کانوں کو خوش کیے جاؤ

ایک بادشاہ کے دربار تک ملک کا غریب مگر بہت نامور مغنی رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ نام تو بادشاہ نے بھی سنا ہوا تھا لہٰذا جب مغنی نے کچھ سنانے کی خواہش کا اظہار کیا تو بادشاہ نے درخواست قبول کرتے ہوئے اسے اجازت عطا کر دی۔ مغنی نے دربار میں اپنی آواز کا ایسا جادو جگایا کہ بادشاہ سمیت سارے درباری جھوم جھوم اٹھے۔ بادشاہ نے مغنی کے لئے کچھ تحفے دینے کے اعلان کے ساتھ

Read more

ملکی ترقی کیلئے عوام کا سرکار پر اعتماد ضروری ہے

پرانے زمانے کے اکثر بادشاہ بھی درویش صفت ہوا کرتے تھے۔ اہل علم کی قدر کرنا، ادباء اور شعراء کی عزت افزائی اور بزرگوں کا احترام ان کی نظر میں بہت اہمیت رکھتا تھا۔ عالموں اور بزرگوں کا ادب اتنا ملحوظ رکھا جاتا تھا کہ کسی بھی مسئلہ کا حل معلوم کرنے کی ضرورت پڑ جاتی تو عالموں اور بزرگوں کو دربار میں طلب کرنے کی بجائے بادشاہ خود چل کر ان کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔

اسی قسم کا ایک مسئلہ ایک نیک دل بادشاہ کو اس وقت پیش آیا تو بادشاہ اپنے ملک کے ایک بہت بڑے بزرگ کی خدمت حاضر ہوا تاکہ ان سے دعائیں بھی لے سکے اور امور مملکت چلانے کے لئے نکتے کی باتیں بھی جان سکے۔

Read more

کیا پی ڈی ایم نے اپنا ہدف حاصل کر لیا؟

پاکستان میں پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا کہ حکومت مخالف اتحاد وجود میں آیا ہو۔ کئی دہائیوں سے یہی سلسلہ ہے جو چلتا چلا آ رہا ہے۔ اگر دیانت دارانہ تجزیہ کیا جائے تو کبھی کوئی اتحاد اپنے بنیادی مقصد میں کبھی ناکام نہیں رہا۔ جتنے بھی سیاسی اتحاد اب تک وجود میں آئے انہوں نے اپنے اپنے اہداف لازماً پورے کیے ۔ ایسے ہی اتحادوں کے نتیجے میں کبھی حکومتیں گریں اور کبھی حکومتیں نہیں بھی گریں تب بھی

Read more

سوشل میڈیا کا محتاط استعمال اہم ہے

انسان کی لاتعداد ایجادات ایسی ہیں جن کا نفع نقصان یا اچھا برا ہونے سے از خود کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ ان کا استعمال مثبت اور منفی، دونوں انداز میں بالکل برابر کا ہوتا ہے۔ ایسی ایجادات کو اپنی ذات یا انسانیت کے لئے جتنا منافع بخش بنایا جا سکتا ہے، اتنا ہی اپنی ذات یا انسانیت کو نقصان پہنچانے کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لاؤڈ اسپیکر سے لے کر ریڈیو، ٹی وی، موبائل فونز یا

Read more

کورونا کا پھیلاؤ اور حکومت کی غیر سنجیدگی

کورونا ویسے تو جب سے ملک میں داخل ہوا ہے جانے کا نام لیتا ہوا نظر نہیں آیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے حکومت پاکستان اور پاکستانیوں کی تمام تر لا پرواہیوں کے باوجود، یہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لینے میں ناکام و نامراد ہوتا جا رہا تھا۔ اموات کی تعداد جو کہ اب بھی زیادہ تشویشناک نہیں لیکن یہ تعداد 105 سے گھٹتے گھٹتے 20 تک آ گئی

Read more

پاکستان میں سر آئینہ و پس آئینہ کی کشمکش

پاکستان کے وجود میں آنے کے فوراً بعد قائد اعظم محمد علی جناحؒ کو جو تحفظات تھے وہ ”سر آئینہ و پس آئینہ“ والے ہی تھے اور تھے بھی بہت شدید۔ عوام کی طاقت تو پوری دنیا کے سامنے تھی جنھوں نے فرنگیوں اور اہل ہند، دو شیروں کے جبڑوں سے ایک خطہ زمین چھین کر پاکستان حاصل کر لیا تھا لیکن اس بات سے بے خبر تھے کہ ان کے حصے میں کچھ بھی نہیں آنا۔ ہونا تو یہ

Read more

پاکستانی سیاست میں مہروں کی نشست و برخاست

سیاست بھی ایک نہایت بے رحم کھیل ہے۔ یہ ایسی بساط ہے جس پر پھیلے ہوئے کسی بھی مہرے کے مطلق یہ پیش گوئی مشکل ہے کہ کسے کب چلایا اور کب پٹوایا جائے گا۔ صرف ایک پیادہ بڑھ جانے سے جنگ کا نقشہ بدل کر رہ جاتا ہے اور مخالف کو اپنی پہلے سے سوچی چال کا اعادہ کرنا پڑ جاتا ہے۔ ایک معمولی لغزش بساط کو بالکل الٹ کر رکھ دیتی۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ شاطر ہر

Read more

لاک ڈاؤن اسمارٹ ہو یا مکمل، تعلیم دشمن ہے

جب پورے ملک میں بصد مشکل چند سو کیسز سے زیادہ کووڈ 19 کے مریض ظاہر ہونے شروع نہیں ہوئے تھے، پورا ملک مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ بازار ہوں، ایک شہر سے دوسرے شہر آنا جانا ہو، حتیٰ کہ گلیوں میں بلا وجہ گھومنا پھرنا ہی کیوں نہ ہو، ہر قسم کی نقل حرکت پر مکمل پابندیاں لگا دی گئی تھیں۔ ساری ملیں اور کارخانے خاموش کرا دیے گئے تھے۔ ملکوں کے درمیان ہر قسم کی

Read more

کورونا سے نئے معاہدات

پاکستان کے ایک طاقتور ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے کورونا کو قابو میں کرنے کے لئے کورونا سے کامیاب مذاکرات کے بعد ایک تحریری معاہدہ کیا ہے جس سے اس بات کی امید ہو چلی ہے کہ پاکستان میں اگر کورونا کو ختم نہ بھی کیا جا سکا تب بھی اتنا ضرور ہو سکے گا کہ اس کے پھیلاؤ میں ہوش اڑا دینے جیسا اضافہ نہیں ہو سکے گا جس کے تحت روزانہ 50 سے زائد افراد سفر

Read more

نئی پابندیاں شرعی ہیں یا غیر شرعی؟

تازہ ترین شائع ہونے والی خبر کے مطابق حکومت نے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے گرے لسٹ سے نکالنے کی شرط جس کے تحت تمام مساجد کاریکارڈ طلب کیا گیا تھا، جس پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ مساجد کے منتظمین کو چندے کے حصول، زیر ملکیت دکان یا گھر کی تفصیلات دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ حکومت سندھ نے صوبے بھر کی تمام مساجد کے ذرائع آمدن معلوم کرنے کے لیے فارم جاری کردیے ہیں۔

Read more

سوئی اٹک گئی

”سوئی اٹک گئی“ بولا جانا اردو میں ایک محاورے کی شکل تو اختیار کر گیا لیکن آج کل بہت ہی کم لوگ اس بات سے واقف ہوں گے کہ اس محاورے کی پیدائش کب اور کیسے ہوئی۔ مجھے اس کی تاریخ پیدائش کا درست علم تو نہیں لیکن اندازہ یہی ہے اس کی عمر ڈیڑھ دو سو برس سے شاید ہی کچھ زیادہ ہو۔ جانتے تو کافی نو جوان بھی ہوں گے لیکن نو عمر اس آلے کی ایجاد سے

Read more

حکمتیار اور سراج الحق کا امریکہ سے افغان مارشل پلان کا مطالبہ

تازہ ترین خبر کے مطابق امیر جماعت اسلامی پاکستان اور حزب اسلامی افغانستان کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ ”افغانستان میں افغان عوام کی حقیقی نمائندہ حکومت کا قیام وقت کی ضرورت ہے، امریکی فوج افغانستان سے نکل جائے، عالمی طاقتیں افغانستان کی تعمیرنو کے لئے مارشل پلان کی طرز پر امدادی پیکج کا اعلان کریں“

Read more

تم اللہ تعالیٰ کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟

جب کوئی انسان پیدا ہوتا ہے تو فطرت کی جانب سے اس کے دماغ میں ہزاروں لاکھوں ”سافٹ ویئرز“ ڈال دیے جاتے ہیں جو اس کی عمر کے ساتھ ساتھ دنیا میں پیش آنے والی ضرورتوں کے مطابق اجاگر سے اجاگر تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ابتداً اسے یہ شعور دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی غذا کیسے اور کہاں سے حاصل کرے گا اور اپنی راحتوں اور مشکلات کا اظہار کیسے کرے گا۔ بے شک تم اللہ تعالیٰ کی

Read more

عمران خان کا فیصلہ دانشمندانہ ہے یا عاجلانہ؟

عمران خان نے بروز جمعرات 4 فروری 2021 شام 6 بجکر 45 منٹ ہر ٹی وی ناظرین سے خطاب کیا۔ ویسے تو ان کے خطاب سے قبل جو اعلان ہوا تھا ، اس کے مطابق انھیں ٹی وی ناظرین سے نہیں، قوم سے خطاب کرنا تھا لیکن ممکن ہے کہ قوم کو مخاطب کرنے کا ان کا ارادہ یا تو اچانک بدل گیا ہو یا ارادے بدل دینے والوں نے بدل دیا ہو۔

جب کوئی حکمران قوم سے خطاب کرتا ہے تو اس کے آداب کافی مختلف ہوا کرتے ہیں، قومی ترانے اول و آخر بجائے جاتے ہیں، خطاب سے قبل تلاوت کی جاتی ہے، ترجمہ سنایا جاتا ہے اور جو تقریر ہوتی ہے اس میں قوم کے لئے مسائل اور ان کے حل کے لئے منصوبہ بندیوں کا ذکر کیا جاتا ہے ، لیکن آج کے خطاب میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا بلکہ ان کے خطاب کا انداز ماضی کے چوہدری نثار کا سا تھا کہ وہ جب بھی کوئی پریس کانفرنس کرتے، یوں لگتا جیسے محلے کی کوئی خاتون گھر گھر جا کر ہمیشہ اپنی بہو بیٹیوں کی برائیاں کرتی رہتی ہو اور ایسی مظلومانہ زندگی گزار رہی ہو جس کے بڑھاپے کے سارے سہارے چھین لئے گئے ہوں اور جوان اولاد اس کا بڑھاپا خراب کرنے کے درپے ہو۔

Read more

طوطا طوطی اور الو کی کہانی

کسی طوطے طوطی کا ایک بستی سے گزر ہوا۔ سستانے کے لئے بستی کے ایک گھنے درخت پر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر کے بعد طوطی نے محسوس کیا کہ پوری بستی پر ویرانی پھیلی ہوئی ہے۔ کہیں کوئی چہل پہل دکھائی نہیں دے رہی۔ طوطی نے ماحول کی اس وحشت ناکی کی جانب اپنے طوطے کی توجہ دلائی تو طوطے نے کہا کہ تو سچ ہی کہتی ہے۔ میں بھی ایسا ہی محسوس کر رہا ہوں۔ طوطی نے سوال کیا

Read more

نوشتۂ دیوار

روزنامہ جسارت میں شائع ہونے والی ایک خبر بنا کسی ترمیم و تحریف نقل کر رہا ہوں تاکہ ”نوشتۂ دیوار“ کا مطلب اور مفہوم قارئین کو اچھی طرح سمجھ میں آ جائے۔ شائع ہونے والی خبر کچھ یوں ہے کہ ”وزیر اعظم عمران خان خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور پہنچے جہاں انہوں نے کئی اجلاسوں کی صدارت کی۔ دورے میں ان سے خیبرپختونخوا کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے ملاقات کی تاہم اب اس اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ

Read more

پاکستانی ٹیم کی جیت خوب لیکن کمزوریوں پر بھی نگاہ رکھیے

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے جنوبی افریقہ کے خلاف کرکٹ کا معرکہ بہت آسانی سے سر کر لیا۔ ٹی 20 کے تین میچوں میں سے 2 میچ اپنے نام کیے اور 2 ٹسٹ میچوں کی سیریز میں جنوبی افریقہ کی ٹیم پر بالکل ہی چونا پھیر کر رکھ دیا اس طرح دونوں سیریز اپنے نام کر کے نہ صرف ٹیم کا حوصلہ بہت زیادہ بلند کیا بلکہ کھلاڑیوں میں اس جیت کی وجہ سے ایک نئی تازگی سی دوڑ گئی۔ جس کی وجہ سے یہ امید ہو چلی ہے کہ آئندہ کھیلی جانے والی جتنی بھی سیریز ہوں گی وہ بھی پاکستان اپنے حق میں کرنے میں کامیاب و کامران ہو گا۔

جیت اپنی جگہ لیکن 3 ٹی 20 اور دو ٹیسٹ میچوں میں جو کمزوریاں سامنے آئیں ، وہ کمزوریاں پاکستان کو کسی بھی وقت شکست در شکست سے دو چار کر سکتی ہیں اور اگر ان کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش نہ کی گئی یا ان سے چشم پوشی اختیار کر کے جیت کو اسی طرح مناتے رہے جس طرح اب تک مسلسل منایا جا رہا ہے تو یہ رویہ پاکستان کی کرکٹ کے زوال کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

Read more

مکان ’گھر‘ اور ملک ’ریاست‘ کیسے بنتا ہے؟

امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق نے لاہور میں مرکزی تربیت گاہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”موجودہ حکومت اور نظام دونوں ناکام ہو گئے، ملک میں گڈ گورننس کا نام نشان تک نہیں۔ حکومت مافیاز کے ہاتھوں مکمل یرغمال بنی ہوئی ہے۔ الیکشن کمیشن وزیراعظم کے سینیٹ الیکشن کی نگرانی سے متعلق دیے گئے بیان کا نوٹس لے اور ان سے وضاحت طلب کرے۔ گمشدہ افراد کی مائیں بہنیں پارلیمنٹ کے سامنے بیٹھی ہیں ان کی آہوں

Read more

کیا تبدیلی سرکار ملازمین کو دھوکا دے رہی ہے؟

’’ہم آئے تو ائی ایم ایف سے قرضے نہیں لیں گے، کیا آپ کو اچھا لگے گا کہ آپ کا وزیراعظم بھیک مانگتا پھرے، سن لو اے آئی ایم ایف والو! آج کی تاریخ کے بعد اگر کوئی قرضہ پاکستان کو دیا تو ہم (پی ٹی آئی کی پاکستانی حکومت) اس قرضے کی ایک پائی بھی واپس نہیں کریں گے، پٹرول، بجلی اور گیس سستی کریں گے کیونکہ یہ غریبوں کا ایندھن ہیں، اگر نوبت قرض لینے کی آ گئی

Read more

کنوئیں سے نکل کر کھائی میں نہ جا گریں

جسارت کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال، کیا پاکستان آئی ایم ایف کے چنگل سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو سکتا ہے، کے جواب میں جناب اکرم سہگل، ڈاکٹر شاہد حسن، ڈاکٹر عتیق الرحمن، عبدالقادر میمن اور ظفر اقبال نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”پاکستان کو آئی ایم ایف کے شکنجے سے نکلنے کے لیے امریکی غلامی ترک کرنا ہوگی، امریکا آئی ایم ایف کی مدد سے پاکستان کو دھمکاتا ہے، راہداری منصوبہ امریکا کی آنکھوں

Read more

کراچی کے مسائل: سیٹی بجے گی تو کام نکلے گا

کراچی میں جماعت اسلامی کراچی کے امیر جناب حافظ نعیم الرحمن صاحب گزشتہ تین چار برس سے کراچی کے مختلف مسائل کے حل کے سلسلے میں سرگرم عمل ہیں، ریلیاں نکال رہے ہیں، جلوسوں کی قیادت کر رہے ہیں، جلسوں سے خطاب فرما رہے ہیں اور دھرنے دے رہے ہیں۔ ان کی پوری کوشش ہے کہ کسی بھی طرح متعلقہ محکمہ جات کی توجہ ان معاملات کی جانب مرکوز ہو جائے جن سے کراچی دوچار ہے لیکن کسی بھی محکمے

Read more

سرکاری اعلان ہوا ہے سچ بولو

انسان کو اللہ تعالیٰ نے ایسی شکل و صورت دی ہے کہ اس کی کسی بات، ادا، لباس، حلقہ احباب، طور طریق، وضع قطع اور رہن سہن کو سامنے رکھ کر یا دیکھ کر یہ اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کہ وہ اندر سے کیسا ہے۔ اکثر یہی بات دیکھی گئی ہے کہ ظاہر سے کچھ نظر آنے والے باطن سے اس کے بالکل برعکس ہوتے ہیں جس کی وجہ سے نیک بد اور بد نیک ثابت ہوتے ہیں۔ جو

Read more

لگے کی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

انسان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ اس کو کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے ، اسی طرح جنوں کے متعلق بھی فرمان ہے کہ آگ سے اور لو کے تھپیڑوں سے پیدا کیے گئے ہیں۔ دنیا میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ان کی پیدائش کسی نہ کسی خمیر کے نتیجے میں ہی وجود میں آتی ہے۔ کہیں بھی کوئی غلاظت پڑی ہو، کوئی جانور ہلاک ہو جائے، انسان مر جائے یا انسانوں کے بنائے ہوئے گٹر

Read more

جو ہم آپس میں لڑتے ہیں

یوں تو یک جہتی کشمیر ہر سال 5 فروری کو منا یا جاتا ہے لیکن اس سال ایک دن قبل یعنی رواں ماہ کی 4 تاریخ کو اس ”یکجہتی“ کا ٹریلر پاکستان کی قومی اسمبلی میں چلا کر پوری دنیا کو یہ بتایا گیا کہ ہم از خود کتنے متحد ہیں۔ قومی اسمبلی میں کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی اور انھیں یہ یقین دلانے کے لئے کہ ہم سب ان کی ہر جد و جہد، ہر غم اور ہر کرب

Read more

دونوں کی قریب کی نظریں خراب ہیں؟

”بھارت میں یوم جمہوریہ کے موقع پر کسان مظاہرین ٹریکٹر ریلی، تمام سیکورٹی رکاوٹوں کو توڑتی ہوئی دارالحکومت نئی دہلی میں داخل ہو گئی اور مظاہرین نے لال قلعہ پر دھاوا بول کر عمارت پر بھارتی پرچم گرا کر خالصتان کا جھنڈا لہرا دیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی پنجاب کے کسان مودی سرکار کی متنازع زرعی پالیسی کے خلاف 3 ماہ سے نئی دہلی کی سرحدوں پر سراپا احتجاج تھے اور گزشتہ روز بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع

Read more

کہ دل اُجلتا نہیں ہاتھ پاؤں دھونے سے

دھوکا، فریب، مکر، دروغ گوئی اور غلو، جیسے پوری قوم کی گھٹی میں پڑ گئے ہیں۔ کوئی ایک کام بھی ایسا نہیں جو ان تمام برائیوں سے پاک صاف ہو۔ اچھا مال دکھا کر جعلی مال بیچ دینا۔ سو سو قسمیں کھا کر قیمت فروخت کو یہ کہہ کر بتانا کہ ہم اس قیمت پر بھی نقصان کا سودا کر رہے ہیں۔ حد یہ کہ کسی شے کی قیمت فروخت تک کو اعشاریہ کے بعد 99 کو اتنا چھوٹا لکھنا کہ اس پر توجہ بھی نہ جا سکے اور اس پر بھی عالم یہ ہونا کہ وصول پورا ایک روپیہ کر لینا۔

Read more

حکومت کو ہرا ہرا کیسے دکھائی دیتا ہے؟

ہمارے وزیراعظم، صدر مملکت، پی ٹی آئی کے وزرائے اعلیٰ، گورنرز، مشیران و ترجمانان حکومت کی فوج ظفر موج پاکستان کا کوئی فورم اور پریس کانفرنسوں میں کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے جس میں نہایت شدت کے ساتھ یہ راگ نہ الاپا جا رہا ہو کہ پاکستان کی معیشت اس وقت تاریخ کے بلند ترین مقام پر ہے اور اب اس کو اتنا استحکام حاصل ہو چکا ہے جو پڑوس کے ممالک میں سے کسی کو حاصل

Read more

”میں این آر او نہیں دوں گا“

بچپن میں ایک کہانی سنی تھی جس کا عنوان تھا ”چچا چھکن“ ۔ چچا چھکن کے 4 بھتیجے تھے۔ بہت دولت مند لیکن نہایت بیوقوف جبکہ چچا بہت چالاک اور عیار ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت سفاک بھی تھے۔ انھوں نے اپنے عیاری کے فن سے اپنے بھتیجوں کی دولت کا ایک بہت بڑا حصہ ہڑپ کر لیا تھا بلکہ ان کی بیویوں تک کو اپنے بھتیجوں کے ہاتھوں جان سے مروادیا تھا۔ آخر ایک دن وہ بھتیجوں کی گرفت

Read more

توہین مذہب اور علما کے فتووں کا معاملہ

دیکھا یہی گیا ہے کہ سرکاری علما سرکار کی چاپلوسی میں اس بات کا لحاظ بھی نہیں رکھ پاتے کہ اسلام کے سلسلے میں کوئی بھی بات کہتے ہوئے احتیاط سے کام لیں۔ اسی کانفرنس میں موجود نور الحق قادری صاحب فرماتے ہیں کہ ”پاکستان کی منزل صرف معتدل اسلامی ریاست ہے“ ۔ اب کوئی صاحب عقل یہ سمجھائے کہ کیا اسلامی ریاست کبھی غیر معتدل بھی ہو سکتی ہے۔ اسلام ہے ہی امن و سلامتی کا نام۔ امن و سلامتی کی بنیادی شرط ہی اس کا ہر معاملے میں نہایت متوازن ہونا ہے۔ جہاں بھی کسی معاملے میں ذرہ برابر کوئی اونچ نیچ ہوگی، وہیں سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہونا شروع ہو جائے گا۔

Read more

جب گھڑے چکنے ہو جائیں

مرنے سے قبل گورکن نے اپنے بیٹے سے کہا کہ میں اپنی اس خبیث حرکت کی وجہ سے بہت بدنام ہوں۔ میں ڈر رہا ہوں کہ کہیں مرنے کے بعد دنیا مجھے بد دعائیں نہ دے تو بیٹے نے اطمینان دلایا کہ ابا جان آپ فکر نہ کریں، میں ایسے کام کروں گا کہ لوگ آپ کی کفن چوری کو بھول کر آپ کے حق میں دعائیں کیا کریں گے۔ بیٹے کی بات سن کر باپ کی مشکل آسان ہوئی اور اس نے سکون کے ساتھ موت قبول کر لی۔

Read more

یہ الجھن کسیے سلجھے گی؟

ایک ریاست کے متعدد محکمے، ادارے اور شعبے ہوا کرتے ہیں جن کی مضبوطی اور استحکام ایک مستحکم اور خوشحال ریاست کی ضمانت ہوتے ہیں۔ ان میں سے چند شعبے تو کسی بھی قسم کی کمزوری یا خراب کار کردگی دکھانے کے متحمل کسی صورت نہیں ہو سکتے۔ ان میں جہاں داخلہ و خارجہ کلیدی حیثیت رکھتے ہیں وہیں دفاع بھی ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ ادارے کسی صورت دو آرا یا دو سوچیں برداشت نہیں کر سکتے۔ داخلی محکمے جہاں ملک کی امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے بے حد ضروری ہوتے ہیں وہیں خارجی معاملات میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا شش و پنج کی کیفیت دنیا سے کمزور تعلقات رکھنے کی صورت میں ریاست کے لئے مسائل کھڑی کر سکتی ہے۔

Read more

فوجی وضاحت کے بعد ابہام کی گنجائش نہیں

پاک فوج کے ترجمان کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر تشویش کا اظہار بجا سہی لیکن اگر ہر جانب سے ایک ہی بات الفاظ بدل بدل کر بار بار کی جا رہی ہو تو پھر اس بات پر صرف تشویش کا اظہار ہی کافی نہیں بلکہ اس پر سنجیدگی کے ساتھ غوروفکر کی ضرورت کو بھی محسوس کیا جانا زیادہ سود مند ہو گا۔ کسی زمانے میں ہر وہ بات جو بہت ہی محتاط الفاظ میں کوئی کوئی ہی کیا کرتا تھا اب اس بات کو بہت کھل کر اور واضح لفظوں میں ہزاروں لاکھوں افراد کے مجمع سے خطابات میں کہا جا رہا ہے۔ جب ایک بات اس قدر زباں زد عام ہو جائے تو پھر بقول آتش یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا

Read more

کیا امریکا پاکستان کے بارے میں اپنی سوچ بدل چکا؟

پاکستان کی تقریباً تمام سیاسی جماعتیں، عوام کے درمیان موجود مخصوص تہذیب و ثقافت کی حامل آبادیاں، جہادی و سیاسی تنظیمیں اس بات سے خوب اچھی طرح آگاہ ہیں کہ ان سب کو کن کن موقعوں پر کس کس طرح استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ جس طرح کچھ طاقتور حلقے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے ان سب کو مختلف موقعوں کی مناسبت سے استعمال کرتے رہے ہیں بالکل اسی طرح پاکستان بھی کئی دہائیوں سے امریکی مفادات کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ پاکستان کو امریکا جن جن مقاصد کے لئے استعمال کرتا رہا ہے وہ پاکستان کی مدد اور تعاون کے بغیر حاصل بھی نہیں کیے جا سکتے تھے اور اگر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے تو آج بھی پاکستان امریکا کی اتنی ہی بڑی ضرورت ہے جتنی کل تھا۔ خاص طور سے جب تک افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا اس وقت تک پاکستان کو نیٹو سے الگ کر دینا امریکا کے لیے ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہو گا۔

Read more

صرف سیاست میں ہی غیر سنجیدگی نہیں

ہم ٹاس ہارنے کے باوجود بھی بہت شاندار کھیلے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ایک مایہ ناز کھلاڑی اظہر علی کے جب یہ الفاظ میرے کانوں میں پڑے تو میں نے گھبرا کر اپنے دائیں بائیں دیکھا کہ یہ غیر سنجیدہ بات میرے علاوہ اور کوئی تو نہیں سن رہا۔ بے شک میرے دائیں بائیں تو کوئی نہیں تھا لیکن میں یہ بات کرائس چرچ کے کرکٹ گراؤنڈ میں اظہر علی کے ساتھ کولھے سے کولھا ملا کر بیٹھا ہوا تو

Read more

گاؤں نہیں، چادر پکڑنے والوں کو گزاریں

وزیر اعظم پاکستان جب بھی مہنگائی کے خلاف نوٹس لیتے ہیں، عوام کے دھڑکتے دل کچھ دیر کے لئے دھڑکنا بھول جاتے ہیں۔ ان کے ہر نوٹس کے بعد گرانی کی شدید گولہ باری ہوتی ہے اور لوگ زمین پر اوندھے لیٹ کر بچنے کی کوشش کے باوجود اس کی زد میں آ کر ایک مرتبہ پھر شدید کھائل ہو جاتے ہیں۔ کل سنہ 2020 کے اختتامی چند گنٹوں قبل انھوں نے آنے والے 2021 کے استقبال کے طور پر

Read more

کیا ہے کس نے اشارہ؟

کراچی و حیدر آباد کو ملا کر ایم کیو ایم (پاکستان) نے کل 6 نشتوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ جس وقت پی ٹی آئی نے ان کو نفیس قرار دے کر حکومت میں شامل کیا تھا اس وقت راقم نے ایک کالم تحریر کیا تھا جس میں اس یقین کا اظہار کیا تھا کہ ایم کیو ایم کی 6 نشتوں کو 6 نہیں 6 سو سمجھا جائے۔ وجہ اس خدشے کی یہ تھی کہ ایم کیو ایم ہر دور

Read more

نہیں نہیں قانون سب کے لئے برابر نہیں

وزیر اعظم پاکستان عمران خان فرماتے ہیں کہ ”مولانا فضل الرحمن نے اثاثے بنائے، انہیں نیب کے سامنے سرنڈر کرنا ہوگا، کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں“ ۔ نیب نے ان ہی الزامات کی وجہ سے کئی مرتبہ مولانا کو نیب میں طلب کیا ہے جس پر مولانا نے نہ صرف نیب کے سامنے پیش ہونے سے انکار کیا ہے بلکہ واضح الفاظ میں اس بات کا اعلان بھی کیا ہے کہ نیب ایسا کر سکتی ہے تو کر کے

Read more

ہماری آواز صرف طوطی کی آواز نہ سمجھی جائے

دنیا بھر کے مسلمانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ فلسطینی مسلمان کس حالت میں ہیں۔ میانمار کے مسلمانوں پر کیا گزر رہی ہے، چین کے ایغور کیسی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں اور بھارت کشمیریوں کے ساتھ ہی نہیں خود بھارت میں سیکڑوں برسوں سے رہنے والے مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھے ہوئے، ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔ ان سب شواہد کے باوجود اگر اقوام عالم کو کہیں ظلم یا غیر مسلوں کے ساتھ کہیں امتیازی

Read more

لو وہ بھی کہہ رہے ہیں

اردو کے کچھ اشعار ایسے ہیں جو نہ صرف زباں زد عام ہیں بلکہ ان کا استعمال ضرب المثل اور محاوروں کے بطور ہوتا رہتا ہے جیسے یہ شعر کہ

ہم دعا لکھتے رہے اور وہ دغا پڑھتے رہے
ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کر دیا

ہم نے مساجد توڑ پھوڑ کر ان ڈھیر لگا دیا۔ مدرسوں کے گرد گھیرا تنگ کر کے رکھ دیا۔ اسلام آباد جیسی قیمتی زمین مندر تعمیر کرنے کے لئے وقف کردی۔ 4 سو سے زائد ٹوٹ پھوٹ کا شکار مندروں کی تزئین و آرائش کا ذمہ لیا۔ توہین رسالت کرنے اور اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے والوں کو کھلی اجازت دی کہ جس طرح چاہیں ملک کے طول و عرض میں ان کی عظمت و احترام کی دھجیاں بکھیرتے رہیں۔ ان کی راہ میں رکاوٹ بننے والے افراد اگر جذبہ ایمانی میں کسی کے خلاف کوئی کوئی کارروائی کر گزریں تو ان کو تختہ دار پر بھی کھینچ دیا۔

Read more

کورونا معاہدات کی خلاف ورزیاں

جب کورونا 2020 کے اوائل میں پاکستان پر حملہ آور ہوا تھا تو ہر جانب اس نے خوف و دہشت کی ایسی فضا قائم کر کے رکھ دی تھی کہ کلیجہ منہ کو آنے لگا تھا۔ اس کی وجہ دنیا کا حد سے زیادہ خوف زدہ ہوجانا تھا۔ جب دنیا کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور دنیوی ہر سہولت سے مالامال ممالک ہی خوف زدہ ہو گئے ہوں تو پاکستان ان کے مقابلے میں ”چہ پدہ چہ پدی کا شوربہ“ سے

Read more

سیاست میں آخری بات ہوا ہی نہیں کرتی

اس بات میں کوئی شک نہیں پی ڈی ایم میں کوئی بھی ایسی جماعت شامل نہیں جس کے متعلق یہ بات کہی جا سکے کہ وہ کسی نہ کسی دور میں کسی نہ کسی سطح پر صوبائی یا وفاقی حکومت میں شامل نہ رہی ہو یا مختلف اوقات و ادوار میں کسی نہ کسی حکومت کی حمایت نہ کرتی رہی ہو لیکن اس بات کو بھی مد نظر رکھناق چاہیے کہ پاکستان میں کسی بھی سیاسی یا عوامی حکومت کو

Read more

کورونا کو رونے سے بہتر احتیاط اور شکر

پاکستان میں کورونا پوری دنیا کے مقابلے میں جس بری طرح رسوا ہوا تھا وہ سب اللہ کی مہربانی تھی۔ ہماری اللہ تعالیٰ سے نہ تو کوئی رشتے داری تھی اور نہ ہی ہمارے اعمال ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے خوش ہو سکتا تھا لیکن ہماری ناشکری کا عالم دیکھئے کہ ہم نے کورونا کے حملے کی ناکامی کو اپنی قوت بازو قرار دیا اور ایسا لگا جیسے کورونا کی تباہ کاریوں کے مہلک واروں سے بچ جانا انسانی کارنامہ رہا ہو۔

ممکن ہے کہ اس میں انسانی کاوشوں کو بھی کسی حد تک دخل رہا ہو لیکن وہ عمل دخل کیا اور کس قسم کا تھا، اس کے لئے بھی کوئی ایسی دلیل ہے جس کو بیان کرنا قابل ذکر کہا جا سکے۔ کیا ہم نے کورونا کے وائرس کو ہلاک کرنے کی کوئی تیر بہدف دوا تیار کرلی تھی، کیا ہم اس کے خلاف کوئی ویکسین تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے یا ایسی دیوار چین کھڑی کرلی تھی جس سے سر ٹکرا ٹکرا کر کورونا کا جرثومہ اپنی موت آپ مر تو سکتا تھا لیکن پاکستان میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ اگر ایسا کچھ کر ہی لیا تھا تو اب کورونا کی دوسری لہر پاکستان میں کیسے دندناتی پھر رہی ہے۔

Read more

زندگی روز نئی ایک کہانی مانگے

پورے ملک میں موسم کا درجہ حرارت تیزی کے ساتھ گرتا جا رہا ہے لیکن سیاست کا پارہ ہے کہ ہر آنے والے دن کے ساتھ آسمان کی بلندیوں کی جانب چڑھتا جا رہا ہے۔ ایک جانب حکومت وقت کورونا کے ہاتھوں شدید پریشان ہے تو دوسری جانب سیاسی پارٹیوں کی اڑ اس کے لئے مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنی مرضی و منشا کے مطابق ملک کے ہر گوشے میں ریلیاں، جلوس اور جلسے کرنے کا مصمم ارادہ کر کے بیٹھی ہوئی ہیں تو دوسری جانب حکومت اپنا فرض اولین سمجھتے ہوئے ایسا کرنے میں مانع ہے۔

Read more

کراچی میں بڑھتے جرائم کا ذمہ دار کون؟

روزنامہ جسارت میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق گزشتہ 10 ماہ کے دوران قتل و غارت گری اور لوٹ مار کی وارداتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے جو بہت ہی تشویشناک بات ہے۔ 10 ماہ کے دوران 322 افراد کا قتل ہوجانا اور 18000 لوٹ مار کی وارداتیں ہونا کوئی ایسی بات نہیں جس کو کسی بھی لحاظ سے نظر انداز کیا جا سکے۔ یہ تو وہ واقعات ہیں جو کہ رپورٹ ہوئے جبکہ بیشمار واقعات ایسے ہیں

Read more

ٹریفک کا بڑھتا ہوا دباؤ اور تجاویز

پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں تیزی کے ساتھ بڑھتا ہوا ٹریفک ایک بہت بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے اور میرے اندازے کے مطابق آئندہ پانچ دس برسوں کے بعد یہ ممکن ہی نہیں رہے گا کہ موجودہ چھوٹی بڑی شاہراہوں پر ٹریفک بآسانی رواں دواں رہ سکے۔ ٹریفک کے یہ مسائل ان اوقات میں اور بھی عروج پر ہوتے ہیں جو اسکولوں، کالجوں کے کھلنے اور بند ہونے کے ہوتے ہیں۔ ویسے تو ملوں اور کارخانوں کے

Read more

کس نے کہہ دیا کہ مہنگائی ہے

عمران خان پاکستان کے وہ واحد حکمران ہیں جن کے متعلق ”میر“ دو صدی پہلے ہی فرما گئے تھے کہ مستند ہے میرا فرمایا ہوا سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا گزشتہ 22 برسوں سے انھوں نے جو کچھ بھی کہا ہے وہ پتھر کی لکیر ثابت ہوا ہے۔ وہ تو وہ، ان کے ایک وفاقی وزیر فیصل واڈا صاحب بھی ان ہی کی طرح پہنچے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے منہ سے نکلی ہوئی بات بھی آج تک

Read more

غلیل بنانے اور چڑیائیں مارنے کا ورد کب تک

قصہ یوں ہے کہ ایک شخص کے گھر بہت خوبصورت اور صحت مند بچہ پیدا ہوا۔ والدین ہی کیا تمام لواحقین کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانا ہی نہیں تھا۔ جب وہ بڑا ہوا تو اس کے سامنے بہت سارے کھیل کھلونے رکھے گئے مگر والدین کو پریشانی یہ تھی کہ وہ کسی بھی قسم کے کھلونے میں کوئی دلچسپی ہی نہیں رکھتا تھا اور ایسا لگتا تھا جیسے اسے کسی خاص کھلونے کی تلاش ہے۔ والدین نے سوچا کہ کیوں نہ اسے گود میں اٹھا کر بھرے بازار میں گھمایا جائے۔ ممکن ہے اسے اپنی پسند کے مطابق کوئی کھلونا پسند ہی آ جائے۔

بازار میں گھومتے گھومتے اچانک اس نے ایک جانب اشارہ کر کے شور مچانا شروع کر دیا۔ والد کی توجہ اس جانب گئی تو وہ ایک غلیل تھی۔ والد کو حیرت ہوئی کہ بچے کو کوئی کھلونا پسند بھی آیا تو غلیل آئی۔ خیر اس نے وہ غلیل اسے دلا دی۔ بچہ غلیل کو پاکر بہت خوش ہوا۔ وہ سارا دن اس سے کھیلتا رہتا۔ پھر ہوا یوں کہ بچہ آٹھ دس سال کا ہو گیا لیکن وہ والدین سے ہر وقت یہی کہتا رہتا کہ مجھے ربڑ دلاؤ میں غلیل بناؤں گا اور چڑیا ماروں گا۔

Read more

کیا صنم خانے سے کعبے کا پاسبان مل گیا

نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن نے نسل پرستی اور شیطانیت کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے۔ ڈیلاویئر میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب نسل پرستی کاخاتمہ کرنے کی جنگ کا وقت ہے، ہم لوگوں کو تقسیم نہیں متحد کریں گے اور امریکا کو ایک بار پھر دنیا بھر میں قابل احترام بنائیں گے۔ جوبائیڈن نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا میں شیطانیت کا سنگین دور ختم ہونے

Read more

کورونا، این سی اوسی اور مذاکرات

جب پوری دنیا میں کوویڈ 19 بری طرح پھیل رہا تھا بلکہ پھیل چکا تھا اس وقت پاکستان میں نہ صرف کرکٹ میچز اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری تھے بلکہ بسیں، عام سواریاں، مساجد، سنیما ہال، شاپنگ مال اور مارکیٹیں سب کی سب انسانوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں اور گوادر سے لے کر خیبر تک کروڑوں افراد کو اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ ”کورونا“ نامی کوئی جرثومہ جنم لے چکا ہے جس نے پوری دنیا کے کاروبار زندگی کا پہیہ جام کر دیا ہے، ملیں، کارخانے، دفاتر، بسیں، ٹرینیں، ہوائی جہاز غرض ہر قسم کی حرکات و سکنات نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بند کی جا چکی ہیں اور انسانوں کو گھروں تک محدود کر دیا گیا ہے، با الفاظ دیگر کوویڈ 19 نے پوری دنیا میں کرفیو لگا دیا ہے اور کسی کو گھر سے باہر جھانک لینے تک کی آزادی نہیں۔ ایک جانب پوری دنیا کا مار خوف یہ عالم اور پاکستان میں نہ دن کی کوئی پہچان تھی اور نہ رات کی، ہر جانب پورا پاکستان جاگ رہا تھا۔

Read more

خبر لیجیے دہن بگڑا

نواز شریف درست ہی کہتے تھے کہ اقتدار پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا بچھونا ہے۔ قوم یہ نہ سمجھے کہ اگر آپ نے ہمیں تخت اقتدار پر بٹھا دیا ہے تو ہم عیش و آرام میں ہیں۔ نواز شریف ہی کیا، ہر شریف انسان یہ بات خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ ذمہ داری کیسی بھی ہو، ہر ذمہ دار انسان کے لئے بڑی آزمائش ہوا کرتی ہے، لہٰذا کوئی بھی ذمہ دار انسان نہ تو خود سے آزمائش طلب کرتا ہے اور نا ہی اس کی خواہش اپنے دل میں رکھتا ہے۔ البتہ اگر آزمائش آہی جائے تو وہ آزمائش کو، من جانب اللہ سمجھ کر صبر، شکر اور استقامت کے ساتھ اس کا مقابلہ کرتا ہے۔

ذمہ داری تو ایک گھر کی ہی ہر ذمے دار انسان کی کمر دہری کر دیا کرتی ہے۔ چہ جائے کہ کسی پر پوری قوم و ریاست کی ذمہ داری آن پڑے۔ اتنا پہاڑ بوجھ آ پڑنے کے با وجود، اگر وہ زندہ بچ جائے تو بڑی بات ہے۔ میں نے اسلامی جمعیت طلبہ کے کئی رہنماؤں کے سر پر نظامت اعلیٰ کا تاج سجتے دیکھا ہے۔ اعلان ہونے کہ بعد کئی کئی گھنٹے بے ہوشی کے بعد بھی انھیں پہلے خطاب کے لئے کندھا دے کر اسٹیج تک لایا جاتا تھا، تب بھی وہ چند الفاظ سے زیادہ کچھ نہ کہہ پاتے تھے۔ احساس ذمہ داری جن کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہو، وہ خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ کسی بھی ذمے داری کی جواب دہی کوئی آسان کام نہیں اور پھر وہ ذمے داریاں جن کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہو، ان کا بوجھ تو نہ جانے کتنے ہمالیہ کے برابر ہوتا ہے۔

Read more

ہیں تاک میں شکاری نشانہ ہیں بستیاں

میں نے ایک موقع پر کچھ یوں کہا تھا:

کبھی منزل تو کبھی نقل مکانی مانگے

زندگی روز نئی ایک کہانی مانگے

پاکستان ایک ملک سے زیادہ تماشا اور تجربہ گاہ ہے، جہاں ہر چند سال کے بعد کوئی نا کوئی ایک تجربہ اور تماشا برپا کر دیا جاتا ہے۔ پاکستان کیا بنا کہ اس کے بنتے ہی تماشوں پر تماشے اور تجربوں پر تجربے شروع ہو گئے۔ جن مقاصد کے لئے عزت، آبرو، مال، دولت اور جانوں کی قربانیاں دی گئی تھیں، 14 اگست کا سورج طلوع ہوتے ہی اس مقصد عظیم کو تماشے میں تبدیل کر دیا گیا۔ جس سر زمین پر وعدوں اور دعووں کے مطابق خلافت کا اعلان ہونا چاہیے تھا، گورنر جنرل بننے کے اعلان کے ساتھ ہی اسی طوق غلامی کو گلے میں دوبارہ پہن لیا گیا، جس سے نجات کے لئے 1857ء سے جد و جہد کا آغاز کیا گیا تھا۔

Read more

وزیر اعظم زخموں پر نمک پاشی تو نہ کریں

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ ادارے قوم کو عزیز ہیں، قوم کو استحکام کی راہ پر ڈال دیا ہے اور قومی دولت کو لوٹنے والے صرف اور صرف این آر او کی تلاش میں ہیں، جو میں ان کو کسی بھی صورت نہیں دوں گا۔ پوری قوم اس وقت جس اذیت کے دور سے گزر رہی ہے، شاید اس کا احساس ابھی تک وزیر اعظم کو نہیں ہو سکا۔ اس لئے یہ وہی پرانا راگ الاپے جا رہے ہیں کہ وہ ملک کی دولت لوٹنے والوں کو کسی صورت نہیں بخشیں گے، چوروں ڈاکوؤں کو کسی بھی صورت کوئی چھوٹ نہیں دیں گے اور ان کے پیٹ پھاڑ کر ان میں بھری ساری دولت نکال کر ہی رہیں گے۔

اس حوالے سے اگر ان کی گزشتہ 27 ماہ کی کارکردگی دیکھی جائے، تو وہ نفی سے بھی نجانے کتنے درجے نیچے ہے۔ کیوں کہ اب تک نہ تو وہ، ان سے ایک پائی وصول کر پائے اور نا ہی کسی بھی قسم کی عدالت سے ان پر لگائے گئے الزامات کی تصدیق کر وا سکے ہیں۔ سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ نہ تو کوئی چور جیل میں ہے اور نا ہی کوئی لٹیرا مع ثبوت گرفت میں آ سکا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جن کو وہ چور کہہ رہے ہیں، ان سب نے نا صرف پورے ملک میں ان کے خلاف چور چور کا شور ڈالا ہوا ہے، بلکہ وہ نہایت طمطراق کے ساتھ ریلیاں، جلوس اور جلسے کرتے پھر رہے ہیں۔

Read more

چلیں مہنگائی کا حل ہم بتائے دیتے ہیں

ایک فلسفی ٹائپ کا کوئی خبطی، تین چار گھنٹوں سے کسی دیوار کے ساتھ کان لگائے کھڑا تھا۔ ایک صاحب بہت ہی دل چسپی کے ساتھ ان کو دیکھنے میں مصروف تھے۔ جب کئی گھنٹے گزر جانے کے با وجود، خبطی فلسفی کی پوزیشن میں کوئی فرق نہیں آیا، تو وہ اپنی جگہ سے اٹھے اور پاس جا کر ان سے پوچھا کہ حضرت کیا کر رہے ہیں؟ کچھ سننے کی کوشش کر رہا ہوں، اپنی پہلی پوزیشن پر سختی کے ساتھ قائم رہتے ہوئے، مختصر سا جواب دیا گیا۔ وہ صاحب بھی دیوار سے کان لگا کر کھڑے ہو گئے، لیکن چار پانچ منٹ تک انھیں اپنے کان میں کسی بھی قسم کی کوئی آواز یا سرگوشی نہیں سنائی دی، تو انھوں نے فلسفی نما خبطی سے کہا کہ حضرت، مجھے تو کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ جواب ملا، میں تین گھنٹے سے کان لگائے کھڑا ہوں، مجھے ابھی تک خود کچھ سنائی نہیں دیا۔ پھر بھی میں حوصلہ نہیں ہارا اور آپ ہیں کہ پانچ سات منٹ میں ہی پریشان ہو گئے۔

ہمارے ملک میں بھی ایک صاحب ایسے ہیں، جو بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے بے حد پریشان بھی ہیں اور گزشتہ ستائیس مہینوں سے اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ مہنگائی بڑھتی چلی جانے کا سبب معلوم کریں اور اس سیلاب بلا خیز کے آگے کسی طور کوئی بند بھی باندھنے میں کامیاب ہو جائیں، تا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی کا سد باب ہو سکے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انھیں نہ تو مہنگائی بڑھتی چلی جانے کا سبب معلوم ہو پا رہا ہے اور نا ہی یہ سمجھ میں آ رہا ہے کہ بند کہاں کہاں باندھے جائیں۔ کیوں کہ سیلاب بلا خیز چہار جانب سے پھوٹ بہا ہے اور اس کی سیلابی موجوں کی شدت کے آگے چٹانیں اور پہاڑ بھی ٹھہرتے دکھائی نہیں دے رہے۔

Read more

غباروں کی ہوا نکل گئی یا نکالی گئی؟

سماں تو ایسا باندھا گیا تھا، جیسے ہمالیہ کو آسمان پر اٹھا کر حکومت مخالف جلسہ گاہ میں جمع ہونے والوں پر پٹخ دیا جائے گا۔ ریلیوں کے راستوں پر چٹانیں کھڑی کر دی جائیں گی اور سینہ چاکان چمن کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے نمک پاشی کر کے ان کو عبرت کا نشان بنا کر رکھ دیا جائے گا، لیکن کل نا معلوم پھونکوں سے پھلائے غباروں کی ساری ہوا، ”پھس“ کر کے کیسے نکل گئی اور وہ غلغلہ کہ ہم حکومت مخالفت میں نکالی جانے والی چوروں کی ریلیاں، جلوسوں اور منعقد ہونے والے جلسوں کو ملک کے کسی گوشے میں نہیں ہونے دیں گے اور اگر کسی نے ایسا کرنے کی کوشش کی، تو اس کی ساری راہیں مسدود کر کے رکھ دی جائیں گی جیسے عزائم کیسے خاک میں مل گئے۔

ابھی ان اعلانات اور عزائم کو سامنے آئے بہت زیادہ دن نہیں ہوئے تھے کہ حکومت کی جانب سے واضح طور پر یہ فیصلہ سامنے آ گیا کہ ”ہم تو مذاق کر رہے تھے“۔ آپ کا اپنا ملک ہے۔ آپ کی اپنی جمہوریت ہے اور میرا جسم میری مرضی کی طرح آپ کی اپنی مرضی ہے، لہٰذا آپ بصد شوق اپنا شوق پورا کریں، ہم بھلا کون ہوتے ہیں آپ کو روکنے ٹوکنے والے۔

Read more

عمران خان کا اپنی ہی انتظامیہ پر عدم اعتماد

یہ بات تو پاکستان میں طے ہے کہ عوام کی رائے سے خواہ کوئی بھی حکومت تشکیل پا جائے، حتیٰ کہ کوئی ایسی خوش قسمت حکومت ہی کیوں نہ ہو، جس کو 100 فی صد نشستیں ہی کیوں نہ حاصل ہو جائیں، وہ اس ملک میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی برپا نہیں کر سکتی۔ ویسے بھی ہماری اسمبلیاں ہوں یا نام نہاد سینیٹ، ان کا قانونی دائرہء عمل فقط قانون سازی ہی ہے۔ بے شک انھوں نے غیر علانیہ طور پر کچھ ایسے بھی اختیارات حاصل کر لئے، جس کی بنیاد پر وہ ترقیاتی فنڈز پر بھی قابض ہو گئے ہیں، لیکن اصولی طور پر یہ دونوں ادارے ”مقننہ“ ہی کہلاتے ہیں۔

ترقیاتی فنڈ پر اختیار، مقامی حکومتوں کے ہوا کرتے ہیں لیکن بد قسمتی سے ایوب خان کے بی ڈی سسٹم اور پرویز مشرف کے دور میں دو مرتبہ بنائی جانے والی مقامی حکومتوں کے علاوہ کبھی ایسا ہوا ہی نہیں کہ ترقیاتی فنڈ کبھی گراس روٹ لیول تک منتقل ہوئے ہوں۔ کوئی صوبائی حکومت ہو یا وفاقی، اس نے یہ چاہا ہی نہیں کہ صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے ہاتھوں سے یہ فنڈ نکل کر یونین کونسلوں تک کی سطح تک منتقل ہو جائیں۔

Read more

سب بھارتی ایجنٹ ہیں تو پاکستان کدھر ہے؟

دنیا کے سات آٹھ عجوبے اپنی جگہ لیکن دنیا کے سارے عجوبوں کو ملا کر ایک عجوبہ عظیم مان بھی لیا جائے تو پاکستان کے آگے وہ سب عجوبے سورج کے سامنے رکھے چراغ بھی ثابت نہ ہو سکیں گے۔ پاکستان کا بن جانا، پھر اس کا دولخت ہو جانا، ہند و مسلم دونظریہ کی بنیاد کو ڈھا کر بنگالی و غیر بنگالی بن جانا۔ اتنا کچھ ہو جانے کے باوجود بھی اپنے مقصد وجود کی جانب نہ لوٹنا۔ بغیر

Read more

وضاحتوں پر وضاحتیں، آخر کیوں؟

گزشتہ دوتین دہائیوں سے قوم سخت اذیت کا شکار ہے کہ آخر پاکستان میں کتنے پاکستان ہیں اور ہر پاکستان کتنا آزاد و خود مختار ہے۔ ہر دوسرے تیسرے دن کوئی نہ کوئی یہ دعویٰ کر رہا ہوتا ہے میں ہی کل پاکستان ہوں اور پھر کچھ ہی دیر یا دن بعد پاکستان کے کسی ادارے کے سامنے کہنے والا بے بسی کی تصویر بنا نظر آ رہا ہوتا ہے۔ پاکستان کے ادارے تو پھر ادارے ہیں اور اپنا اپنا

Read more

مشرف کے مکے اور غالب کی اٹکھیلیاں

نواز شریف نے تیسری بار وزیر اعظم بننے کے فوراً بعد ارشاد فرمایا تھا کہ اقتدار پھولوں کی سیج نہیں ہوا کرتی مگر ان کو یہ احساس دو مرتبہ اقتدار سے دھتکارے جانے کے بعد ہوا تھا۔ سب سے پہلے اگر کوئی اسٹبلشمنٹ کی مکمل مدد اور تائید کے ساتھ آدھے پاکستان کے پورے تخت پر نہایت کر و فر کے ساتھ لاکر بٹھایا گیا تھا تو وہ بھٹو تھے جن کو تخت پر لانے کے لئے پاکستان کے آدھا رہ جانے کا غم اسٹیبلشمنٹ اور مغربی پاکستانیوں نے کبھی ایک دن کے لئے بھی نہیں منایا۔

ایک ایسا وزیر اعظم جس کو نہایت سجا و سنوار کر بڑی چاؤ کے ساتھ باقی ماندہ پاکستان پکڑا دیا گیا تھا اس کو اسی بیدردی کے ساتھ پہلے اقتدار سے علیحدہ کیا گیا اور پھر اس سے زندہ رہنے کا حق بھی چھین کر تختہ دار پر کھینچ دیا گیا۔ اس سب کہانی کی اہم ترین بات یہ ہے کہ جو قوتیں اسے وزارت خارجہ سے ترقی دے کر پاکستان کے وزیر اعظم بن جانے کی منزل تک لے کر آئی تھیں ان ہی قوتوں نے اسے اس جہان روانہ کر دیا جہاں سے کبھی کسی کی واپسی ممکن ہی نہیں۔

Read more

موسیؑ کے زمانے میں ایک فرعون تھا

کراچی ہی کا کیا، پورے پاکستان کا عالم یہ ہے کہ کوئی گلی، محلہ یا بازار ایسا نہیں رہ گیا جہاں آپ، آپ کی جان و مال، عزت، آبرو، خواتین، بچے اور بچیاں محفوظ تصور کی جا سکتی ہوں۔ گھر سے باہر تو خطرہ ہے ہی لیکن اگر کسی کے ذہن میں یہ بات ہو کہ گھر کی چار دیواری اس کی پناہ گاہ ہے تو یہ بھی سراسر غلط اور لغو ہے۔ ایسے عالم میں ہر فرد اپنی بہت ساری چیزیں یا تو گھر ہی چھوڑ آنا زیادہ مناسب سمجھتا ہے تا کہ گھر سے باہر نقصان اٹھانا بھی پڑ جائے تو دیگر بہت ساری پریشانیوں سے محفوظ رہ سکے۔

Read more

وظائف برائے رد بھوک اور مہنگائی

حکومتیں، ان کے وزرا اور سپورٹرز جہاں اپنے مخالفین پر ہلکا پھلکا طنز یا ان کے ماضی و حال کی کمزوریوں کو نمایاں کرکے پیش کرتے رہتے ہیں وہیں کچھ باتیں وہ بھی ہوا کرتی ہیں جن کو اگر مد نظر نہ رکھاجائے تو یہ محسوس کرنا نہایت مشکل ہوجاتا ہے کہ ہمارا تعلق ملک کے کس طبقے اور تہذیب سے ہے۔ کہتے ہیں خاموشی عالم کے علم کا زیور اور جاہل کے جہل کا پردہ ہوا کرتی ہے۔ جب

Read more

پاکستان بچانا ہے تو کراچی بچانا ہے

کراچی سے جمع ہونے والے ٹیکسوں کی ایک جھلک نے اہل پاکستان کے احساس کو جگایا یا نہیں، اہل کراچی کے دل کو سر سے پاؤں تک لرزا کر ضرور رکھ دیا۔ جس شہر کی صرف لیاقت آباد المعروف لالو کھیت کی مارکیٹ، پورے لاہور کی ساری مارکیٹوں کے کل ٹیکسوں سے کہیں زیادہ ٹیکس ادا کرتی ہو تو شہر بھر کے بازار کتنا ٹیکس ادا کرتے ہوں گے۔ اعتراف وہ ہوتا ہے جو مخالف کی زبان سے ہو رہا

Read more

چھبیس ماہ گزر چکے ہیں 34 اور گزر جائیں گے

وزیر اعظم پاکستان فرماتے ہیں کہ ”وہ کرپٹ عناصر سے لوٹی ہوئی رقم واپس لے کر تعلیم پر خرچ کرنا چاہتے ہیں“ ۔ اس عزم کا اظہار انھوں نے حکومت بنانے کے 26 ماہ بعد کیا ہے۔ ویسے تو وہ انتخابات سے بہت پہلے بھی کرپٹ عناصر اور لوٹی ہوئی دولت کے متعلق بہت کچھ کہتے رہے تھے اس لئے قوم کو اس بات کی قوی امید تھی کہ جن عناصر نے بھی ملک کی دولت چاروں ہاتھ پیروں سے

Read more

مجرموں سے ہمدردی: دال کالی ہے

جرائم ہیں کہ پورے ملک میں مسلسل بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں اور اب تو یہ عالم ہو گیا ہے کہ کچھ سنگین جرائم مشغلوں میں شمار ہونے لگے ہیں۔ جرم ایک عام انسان کرے یا قانون نافذ کرنے والے ادارے، جرم ہی ہوتا ہے۔ ہر وہ اقدام جو آئین و قانون سے ماورا ہو وہ بہر صورت لائق تعزیر ہوتا ہے۔ بے شک کوئی جرم کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو لیکن آئین سازی کے وقت آئین سازوں کی نگاہوں سے اس جرم کے خلاف کوئی قانون سازی ہی نہ کی ہو تو محض اپنی جانب سے یہ قیاس کرلینا کہ اس میں فرد یا اداروں کو سزا دینے کا اختیار حاصل ہے، میرے نزدیک یہ عمل ماورائے آئین ہی کہلائے گا۔

انسان زندگی کو با ضابطہ بنانے کے لئے کتنی ہی قانون سازی کر لے، زندگی کے ہر موڑ پر اسے یہ احساس ہوتا رہے گا کہ قانون سازی کے عمل میں کچھ نہ کچھ کمیاں رہ ہی گئی ہیں لہٰذا ان پر بھرپور نظر رکھنا اور وقت کے تقاضوں کے مطابق ان میں کمی یا بیشی کرتے رہنا ہی قوموں کو عروج کی جانب لے جانے کا سبب بنتا ہے اور جو قومیں ان پر توجہ نہیں دیتیں اور اپنے ہاتھوں بنائے ہر ضابطے کو حرف آخر سمجھ بیٹھتی ہیں ان کا آئین و قانون تالاب کے ٹھہرے ہوئے اس پانی کی طرح ہو جاتا ہے جو بالآخر بو دینے لگتا ہے۔

Read more

حکومت اور حکومت گر دونوں ابہام دور کریں

بات تو درست ہی ہے کہ خاتون رات کے اوقات میں بغیر کسی محرم کے نکلی ہی کیوں تھی۔ پھر یہ کہ اگر سفر ہی کرنا تھا تو بجائے جی ٹی روڈ سفر اختیار کرنے کے موٹروے کو کیوں منتخب کیا مگر ان سب سے پہلے اس بد قسمت خاتون سے یہ پوچھا جائے کہ وہ فرانس جیسے غیر اسلامی ملک سے ایک اسلامی ملک میں تشریف ہی کیوں لائی تھیں۔ نہ وہ پاکستان آتیں، نہ ان کو تنہا گاڑی

Read more

اللہ جانے ہم کس جانب چل نکلے ہیں

پاکستان اب ایسا ملک بنتا جا رہا ہے جس کو اسلامی پھر جمہوریہ اور پھر پاکستان، تینوں القابات سے پکارتے ہوئے ہر پاکستانی کا سر بار شرمندگی سے جھکتا چلا جاتا ہے۔ ہم سب تو پاکستان کے اندر رہتے ہیں اس لئے شرمندہ ہوں گے بھی تو ایک دوسرے کے سامنے ہی شرمسار ہو کر رہ جائیں گے لیکن میں سوچتا ہوں کہ وہ پاکستانی جو پاکستان سے باہر کسی مسلم یا غیر مسلم ملک میں قیام پذیر ہیں، غیر ملکیوں کا سامنا کس منہ سے کرتے ہوں گے۔

Read more

کراچی: دال ابھی سے جوتیوں میں بٹنے لگی

کراچی کے لئے یہ کوئی نئی خبر نہیں کہ کراچی کی بگڑی ہوئی شکل و صورت کے لئے اسے بیوٹی پارلر جانے کی نہ صرف اجازت دیدی گئی ہے بلکہ نکھار اور سنگھار میں اگر اربوں روپے بھی خرچ آئے، دیے جائیں گے بشرطیکہ موجودہ بارشوں کے سبب اس کی صورت شکل پر جو پھٹکار برسنے لگی ہے اسے بہر صورت دور ہوجانا چاہیے۔ حکومت کسی کی بھی رہی ہو، ہر حکمران کے لب پر یہی نعرہ مستانہ رہا کہ

Read more

پاکستان کو بچانا ہے تو کشمیر بچانا ہے

پاکستان میں اور بہت ساری باتوں کے علاوہ کچھ خبریں بھی ایسی ہوتی ہیں جن کو سمجھنے کے لئے کبھی کبھی الٹا لٹک نے کے باوجود بھی خبر کا پس منظر سمجھ میں آکر نہیں دیتا۔ ہوتا یوں ہے کہ اکثر یا تو کسی ایسی نشر ہوجانے والی خبر جس کی عوام کو خبر تک نہیں ہو پاتی، اس کی تردید آ رہی ہوتی ہے یا کسی ایسی ہی خبر یا بیان کا جوابی بیان یا خبر نشر کی جا

Read more

لے کے چٹکی میں نمک آنکھ میں بھر کر آنسو

کسی دربار میں ایک مشہور مغنی گیا۔ اس نے باد شاہ کو ایک خوبصورت نغمہ سنایا جو بادشاہ کے کانوں کو بہت بھلا لگا۔ بادشاہ نے داد بھی دی اور کہا چاندی تمہاری۔ مغنی نے خوش ہو کر ایک اور گیت سنایا۔ باد شاہ کے کانوں کو وہ بھی بھلا لگا۔ کہا سونا تمہارا۔ مغنی خوش ہو کر سناتا گیا اور باد شاہ کبھی موتیوں، کبھی ہیروں، کبھی اشرفیوں اور کبھی جاگیروں کا اعلان کرتا گیا۔ دربار سے فارغ ہو کر مغنی گھر پہنچا اور اپنے بیوی بچوں کو بہت خوش ہو کر بتایا کہ میرے گائے گیت اور نغمے باد شاہ کو بہت پسند آئے اور اس نے میرے لئے سونا، چاندی، ہیرے، جواہرات اور جاگیروں کا اعلان کیا۔

بیوی بچے بہت خوش ہوئے۔ کئی دن گزر جانے کے باوجود جب کوئی ایک چیز بھی اس تک نہ پہنچی تو مغنی کو تشویش ہوئی۔ وہ دربار پہنچ گیا اور بادشاہ سے عرض کی کہ میں نے آپ کو کئی خوبصورت گیت اور نغمے سنائے تھے اور آپ نے خوش ہو کر میرے لئے ہیرے، موتی، جواہرات اور جاگیروں کا اعلان کیا تھا۔ حضور کافی دن گزر گئے ہیں لیکن میں اب تک ان تمام انعامات سے محروم ہوں۔ بادشاہ نے مغنی کی بات سن کر کہا کہ اس میں دینے لینے کی بات کہاں سے آ گئی، تم نغمے اور گیت سنا کر میرا دل خوش کرتے رہے اور میں اعلانات کر کے تمہارا دل خوش کرتا رہا۔

Read more

بجلی کے بلوں کے جلنے سے دلوں کے جلنے تک

تازہ ترین خبروں کے مطابق کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کے الیکٹرک کے لئے ایڈجسٹمنٹ ٹیرف کے تحت بجلی 1.09 روپے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دیدی۔ بدھ کو کابینہ ڈویژن میں مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت ای سی سی کا اجلاس ہوا جس میں کے الیکٹرک کے لئے 2016 تا 2019 کے عرصے کے لئے سہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی بھی منظوری دی گئی۔ ایڈجسٹمنٹ کے مطابق کے الیکٹرک بجلی کی قیمتوں میں 1.09 روپے فی یونٹ کے حساب سے اضافہ کرسکے گی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ حکومت جو ہر قسم کی سبسڈی کے خلاف ہے اور عوام کو جن جن مدات میں حکومت سبسڈی ادا کیا کرتی تھی وہ سب واپس لے کر عوام پر مہنگائی کا اضافی بوجھ تو ڈال دیا گیا ہے لیکن کے الیکٹرک جیسا ادارہ جو عوام کو مسلسل بجلی کی کے جھٹکے پر جھٹکے دینے سے باز آ کر نہیں دے رہا، اسی اقتصادی اجلاس میں زر تلافی کی مد میں کے ای کو 4 ارب 70 کروڑ روپے جاری کرنے کی منظوری کے احکامات بھی جاری کر چکا ہے۔

Read more

انصاف نہیں کیا جائے گا تو عرش الٰہی تو لرزے گا

جب سے موجودہ حکومت کی داغ بیل پڑی ہے اس وقت سے پورے ملک میں توڑا پھوڑی کے علاوہ کوئی ایک کام، کام کا دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ توڑی جانے والی عمارتیں ایسی زمینوں پر تعمیر کی گئیں تھیں جس کو ناجائز یا قبضہ کی ہوئی جگہ کہا جاتا ہے۔ مزید توڑی جانے والی عمارتیں بھی یقیناً وہی ہیں جو ایسی زمینوں پر تعمیر ہیں جو قبضہ کی ہوئی جگہیں ہیں اور خصوصاً وہ

Read more

ناکامیاں پی ٹی آئی کے سر ہی کیوں؟

جماعت اسلامی کے امیر جناب سراج الحق نے آج کل اپنی توپوں کا سارا رخ موجودہ حکومت کی جانب موڑ رکھا ہے اور تقریباً ہر روز ان کی جانب سے حکومت پر زبردست گولہ باری کی جا رہے۔ ثمر باغ میں ورکرز کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ”ملک میں تبدیلی کے نام پر آنے والی تباہی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ لوگوں کی مشکلات اور مصیبتوں میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے۔ بے روزگاری نے لوگوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر دیے ہیں۔

ہر طرف پریشانیوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ سابق حکومتوں کی طرح یہ حکومت بھی اشرافیہ کی مسلط کردہ ہے جس کو عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔ اب عوام کے سوچنے اور ظلم و جبر کے اس نظام کے خلاف اٹھنے کا وقت ہے۔ حکومت نے کچھ کیا ہوتا تو وزرا کو بار بار پریس کانفرنسیں نہ کرنا پڑتیں۔ پی ٹی آئی حکومت معیشت کے حوالے سے مسلسل جھوٹ بول رہی ہے، ترقی کا پہیہ الٹا گھوم رہا ہے۔ کراچی ڈوب رہا ہے لیکن حکمران مخالفین پر الزام تراشیوں میں مصروف ہیں ”۔

Read more