ارشاد جاگیرانی کی بلیک میلنگ، سحرش شاہ کی قابل اعتراض تصاویر اور بے شرم دانشور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کل بروز بدھ 28 اگست 2019 کو کراچی کی بلوچ کالونی میں واقع سندھ ٹی وی کے آفس میں ایف آئی اے کی ٹیم نے چھاپا مار کر مارننگ شو کے میزبان ارشاد جاگیرانی کو گرفتار کیا یاد رہے کہ سندھ ٹی وی کے مارننگ شو کے میزبان اپنی شاعری، ریڈیو اور ٹی وی پر میزبانی کی وجہ سے سندھ میں جانے اور پہنچانے جاتے ہیں۔ جیسے ہی ارشاد جاگیرانی کی گرفتاری کی خبر سندھ کے مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر چلی سندھ کے باشعور صحافی، شاعر اور ادیب اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے نظر آئے تو کسی نے آزاد صحافت پر حملہ قرار دے کر احتجاج شروع کر دیا. کچھ حلقوں نے شاعروں اور ادیبوں کے لب بند کر کے زنجیروں میں جکڑنے کی بات کی۔

تھوڑی دیر کے بعد یہ خبر سامنے آئی کہ سندھ ٹی وی کے مارننگ شو کے میزبان اور شاعر کی گرفتاری ایف آئی اے کے سائبر ونگ کی طرف سے ٹی این ٹی وی کی میزبان سحرش شاہ کی شکایت پر عمل میں آئی ہے کہ ارشاد جاگیرانی ان کی کچھ قابل اعتراض تصاویر کی وجہ سے کافی عرصے سے ان کو بلیک میل کر کے پیسے مانگ رہا ہے۔ یاد رہے کہ کچھ دیر کے بعد سندھ ٹی وی کے مارننگ شو کے میزبان ارشاد جاگیرانی کو ایف آئی اے نے آزاد کر دیا۔

مگر ان تمام تر صحافیوں، دانشوروں، انقلابی شاعروں کی طرف سے اس کی اس مجرمانہ حرکت پر افسوس کا اظہار تک نا کیا گیا نہ ہی کے ٹی این ٹی کی میزبان سحرش شاہ کے ویڈیو بیان پر ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ چند صحافیوں، شاعروں ادیبوں نے ارشاد جاگیرانی کی ہمدردی میں لگائی ہوئی پوسٹ صرف سوشل میڈیا سے ہٹا دی مگر ابھی بھی کچھ باغیرت سندھ دوست لکھاری، ادیب اور شاعر ارشاد جاگیرانی کے حق اور ایف آئی اے کے ظلم کے خلاف سراپا احتجاج نظر آ رہے ہیں اور کئی ارشاد جاگیرانی کی طرف سے سندھ دوستی پر بنائی جانے والی وڈیوز کو سوشل میڈیا پر شیئر کر کے ارشاد جاگیرانی کو سندھ کا سچا سپوت ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔

سب سے بڑی حیرت کی بات یہ کہ سندھ ٹی وی مسلسل اپنی اسکرین پر یہ ٹکر چلا رہا ہے کہ ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن (جن کا تعلق بھی صوبہ سندھ سے ہے) نے سندھ ٹی وی کے آفس پر چھاپا مارنے پر ان سے معذرت کی ہے اور چھاپا مارنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کروائی ہے۔ چلو یہ بات تسلیم کر لی جائے کہ ایک شخص کے ذاتی فعل کی وجہ سے کسی بھی ادارے پر چھاپا مارنا غیر ضروری ہے مگر حیرت ہے کہ آج پھر وہی میزبان ارشاد جاگیرانی سندھ ٹی وی پر مارننگ شو میں ایک خاتون کا انٹرویو کرتے نظر آئے۔

یہاں پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ کہاں گئے صحافتی اصول کہاں گئی سندھ دوستی کی مثالیں دینے والے دانشوروں اور شاعروں کی غیرت جو سندھ کی تہذیب اور تمدن کی بات کرتے ہیں؟ کیا شاہ لطیف کی سورمیاں اور شیخ ایاز کی شاعری بھی ہماری غیرت جگانے میں ناکام ہو چکی ہے؟

کیا سندھ کے ان غیرت مندوں کو ام رباب چانڈیو کے انصاف کے حصول کے لیے صرف ننگے پاؤں ہی نظر آتے ہیں؟ مگر سحرش شاہ کو بلیک میلنگ کرنے والا اپنا ہم پیالہ شاعر، ادیب اور صحافی کہلوانے والا ارشاد جاگیرانی نظر نہیں آتا؟ جو ایک کمزور خاتون کی تصویروں کو ہتھیار بنا کر اسے بلیک میل کر کے پیسے بٹورنا چاہتا ہے۔ کیا یہ سندھ ٹی وی کی لیے ڈوب مرنے کا مقام نہیں جو سندھ دوستی کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے مگر خواتین کو ہراساں اور بلیک میل کرنے والی کی حمایت کرتے نظر آ رہے ہیں؟

کیا معروف لوگ اپنی شہرت کی وجہ سے اسی طرح خواتین کی عزتوں سے سرعام کھیلتے رہیں گے اور ہمارا غیرت مند معاشرہ صرف انہی عورتوں کو کوستا اور بدکردار کہتا رہے گا جو اپنی مبینہ قابل اعتراض تصویروں کی وجہ سے بلیک میل ہونے کے بجائے ان کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں گی؟ سوال تو یہ ہے کہ چلو بھر پانی میں آخر کس کو ڈوب مرنے کی ضرورت ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •