کرۂ ارض اور سورج کے ٹکرانے سے پہلے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر فاسٹس کی قدیم المیہ جرمن لوک داستانوں میں کرہ ارض کی پیدائشکی بنیادی وجہ آسمانوں پر فرشتوں کے غول در غول کی ناختم ہونے والی بے لوث عبادت سے خدا کی اکتاہٹ بیان کی گئی ہے۔ آخر خدا نے بھی تو ان فرشتوں کو ہر نعمت سے نواز رکھا تھا۔ چنانچہ ابدی یکسانیت سے نجات کے لئے خدا نے فیصلہ کیا کہ کیوں نا ایک کھیل کھیلا جائے۔ چنانچہ اس نے حکم دیا کہ کائنات کی اتھاہ گہرائیوں میں بے مقصد گھومنے والے آگ کے گولے کو ٹھنڈا کر کے اس کے اوپر ایک ایسی مخلوق آباد کی جائے کہ جسے عقل ودیعت کر کے آزمایا جائے کہ وہ زمین پر تمام تر افتاد اورآزمائشوں کے باوجود بھی اس کا شکر بجا لاتی ہے یا کہ نہیں!

چنانچہ انسان کو خلق کیا گیا جس نے زمین پر برپا افراتفری میں خود کو پاکر دیکھا کہ بقا چھین کر جینے میں ہے۔ تاہم اسی کشمکش کے نتیجے میں گناہ کے احساس میں مغلوب ہو کر اس نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ اَن دیکھے خالق کے غصے کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے اسے زمین پر خدا کی عملداری قائم کرتے ہوئے اس کی حمدوثنا کے ساتھ اس کا شکر بجا لانا چاہیے۔ خالق اپنی اس تخلیق سے اس قدرلطف اندوز ہوا کہ اس نے کرۂ ارض کے سورج کو کسی دوسرے سورج سے ٹکراتے ہوئے فرشتوں سے کہا کہ کیوں نا یہ کھیل بار بار کھیلا جائے۔

اگرچہ اس قدیم تصوراتی داستان کا ہمارے عقائد کے علاوہ مادی حقائق سے بھی کوئی تعلق نہیں، تاہم جدید سائنسی تحقیق کے مطابق قوی شواہد موجود ہیں کہ زمین پرزندگی ایک سے زیادہ مرتبہ ظہور پذیرہو کر بالآخر مٹتی رہی ہے۔ کائنات کی 13.8 بلین سالوں پر محیط عمر کو جب ایک سالہ کاسمو کیلنڈر میں ڈھالا جاتا ہے تویکم جنوری کی علی الصبح ہونے والے ’عظیم دھماکے‘ کے نتیجے میں تخلیق پانے والی کائنات میں زندگی کرہ ارض پر کہیں جا کر 31 دسمبر کی صبح انگڑائی لیتی ہے اور سال کے محض آخری منٹ کے دوران موجود ہ نسلِ انسانی کی صورت میں ترقی کی حالیہ رفعتوں کوچھوتی ہے۔

سوال یہہے کہ کیا کرۂ ارض پر زندگی اپنی معراج کو چھونے کے بعد اس ’آخری منٹ‘ میں ایک بار پھرخود اپنے ہی ہاتھوں مٹنے والی ہے؟ ایسا معلوم ہوتاہے کہ ہم سے پہلے کرۂ ارض پر بسنے والوں نے زمین پر وہ اودھم مچایا کہ جس کے نتیجے میں ہر بار ممکنہ طورپر زمین کے گرد آلودگی کے گہرے سیاہ بادل تن گئے۔ سورج کی روشنی اور حرارت کے زمین پر نہ پہنچنے کی بناء پر زمین نے اناج اگلنا چھوڑا اور تاریکی میں ڈوب کر برف کی تہیں اوڑھ لیں۔ ایسے خدشات اب عام ہیں کہ موجودہ نسلِ انسانی بھی ایک بار پھر اسی انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔

ہزاروں سال قبل ہمارے آباؤ اجداد نے نامساعد زمینی اور سماوی افتاد کے ساتھ بقا کی جنگ لڑی۔ ایک ایسی جنگ جو سب سے طاقتور ہی جیتتا ہے۔ ہمارے اجداد نے یہ جنگ اپنی عقل کے بل پر جیتی۔ سخت موسموں سے لڑ کر جینا سیکھا، درندوں ا ور موذی حشرات ولارض کو زیر کیا۔ کمزورقبیلوں کو طاقت کی لاٹھی سے ہانکا اور بہتے پانیوں اور اناج اگلنے والی زمینوں کو قبضے میں لیا۔ اَن دیکھی آسمانی طاقتوں کے غیض وغضب سے پناہ کی خاطرمگر وحشی قبائل نے اپنے اپنے دیوتا گھڑ ے کہ جن کی چوکھٹوں پرسماوی مصائب وافتاد سے عافیت کی خاطروہ اپنے خون کے نذرانے گزارتے۔

اب ہزاروں سال سے انسان اپنے دیوتاؤں اور معبودوں کے لئے دھرتی پر خون بہا رہا ہے۔ زمین کے اندر اور اس کے سینے پر بکھرے وسائل کے لئے فساد برپا کیے ہوئے ہے۔ ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ ہی وہ اصول ہے کہ جو صدیوں سے جاری اس ابدی کشمکش کے پیچھے متعین وکارفرما ہے۔ مذاہب، رنگ ونسل اور قدرتی وسائل کی خاطر لڑی جانے والی جنگ وجدل سے انسانی تاریخ لبریز ہے۔ شاید ہی کسی قوم کا دامن طاقت کے بل بوتے پراپنے سے کمزور وں پر اپنے عقائد مسلط کیے جانے، یا ان کے وسائل پر غاصبانہ قبضے کے لئے برپا کی گئی قتل و غارت سے پاک ہو!

تاہم ترقی کے مدارج پھلانگتی نسلِ انسانی اخلاقیات کے آفاقی اصول بھی طے کرتی چلی گئی۔ خدا نے لاکھوں پیغمبر اتارے، فلسفی گزرے۔ عظیم تہذیبیں وجود میں آئیں اور مٹ گئیں۔ تما م تر قوانین و ضوابط کے باوجود آج بھی مگر معاملات اخلاقیات کی بجائے اندھی طاقت کے بل بوتے پر ہی طے پاتے ہیں۔ گو طاقت کے پیمانے بدل چکے، جنگو ں کی نوعیت اور مہلک ہتھیاروں سے متوقع تباہی کی شدت ناقابلِ بیان ہو چکی، بقاء کا آفاقی اصول مگر وہی ہے کہ جو ہمارے وحشی اجداد نے غاروں میں طے کیا تھا۔

اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کے سلسلے میں چند افریقی ممالک کے گھبراہٹ طاری کر دینے والے ویرانوں اور تاریک جنگلوں میں افلاس اور لرزا دینے والے قتل و غارت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ سوڈان اور ایتھوپیا کے بیچ لڑی جانے والی طویل جنگ کے نتیجے میں ان کی سرحد وں پر بچھی، سراسیمگی طاری کر دینے والی بے ترتیب بارودی سرنگوں کے اندر سے گزرنے کا موقع ملا کہ آئے روز جہاں انسان مرتے۔ مسلم شمالی سوڈان اور جنوب میں آباد عیسائی قبیلوں کے مابین سالوں پر محیط قتل و غارت کہ جس کا محرک مذہب کے علاوہ جنوب میں پھیلے تیل کے وسیع ذخائر بھی تھے، کہ جن پر قبضے کے لئے لاکھوں جان سے گئے۔

درندگی کی جو داستانیں مگر لائبیریا اور اس خطّے کے دیگر تباہ حال ممالک نے ساحلوں پر بکھری دولت پر تسلط کے لئے لکھیں، الفاظ ان کی منظر کشی سے قاصر ہیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ نفرت اور بربریت کے مارے متحارب گروہ شہروں کی گلیوں اور چوراہوں میں لاشے گرا کر سینے چاک کرتے، دل نکالتے اور کچا چباتے۔ ہمارے جیسے بزعمِ خودمہذب قوموں سے امن دستوں کے لئے چنے گئے افراد تاریک برّاعظم کے بسنے والوں کے ذہنی اور مادی افلاس پرتاسف کیا کرتے کہ قدرت نے ان نیم وحشییوں کو اس قدر خزانوں سے نواز رکھا ہے تو یہ حکمت اور انصاف سے کام کیوں نہیں لیتے؟

یہی سوال مگر مقدس سرزمین پربسنے والوں سے بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ جہاں ہزاروں پیغمبر اتارے گئے مگرخداکی چنیدہ اس قوم کے لوگوں نے بے کس اور لاچارفلسطینیوں کا جینا اجیرن کر رکھا ہے۔ سنا ہے نتن یاہو ہی مودی کا رہنما ومددگار ہے۔ مگرہندوستان کی سرزمین تو خود صدیوں پرانے ’دھرما‘ پر استوار ہے، حکمت اور دانائی سے پھوٹنے والے ویدوں اور قدیم کتابوں میں لکھے اپنیشندوں پرجیون بسرکرنے والے اہنسا کے ماننے والے، مودی کے زعفرانی بھگتوں کے ہاتھوں یرغمال کیسے ہوگئے؟

ہندوستانیوں کی اکثریت مودی کے مظالم کے پیچھے کھڑی ہے۔ ابھی کل تک صلح پر آمادہ پاکستانیوں کا موڈ بھی بدل چکا۔ وزیراعظم نے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا اعلان کیا ہے کہ جس سے مفر اب ان کے لئے بھی ممکن نہیں۔ کل ہی ایک مولانا پکارے، ’ٹیپو سلطان تجھے کس کا انتظار ہے؟ ‘ اب تو نہتے کشمیری بھی چیخ اٹھے، ’کہ تشدد نہیں، قید نہیں، ہمیں جان سے مارو‘ ۔ زمین پر تو فوج بٹھائی جا سکتی ہے مگر لوگوں کو غلام رکھنا اب مودی کے بسکی بات نہیں۔

مخمصہ مگر یہ ہے کہ بند گلی میں لوٹنے کو اب مودی کے پاس بھی راستہ کوئی بچا نہیں کہ مودی نے چناؤ ’ہندوتوا‘ کے نفرت انگیز بیانئے پرجیت رکھاہے! اب جبکہ انسانوں کو دستیاب مہلک جوہری ہتھیارکرۂ ارض کا کو بار بار تباہ کرنے کو کافی ہیں توآفاقی اخلاقیات نافذ کرنے والے دم سادھے بیٹھے ہیں۔ ایسے میں کیا ہزاروں صدیوں پرانی حکمت و دانش میں گندھے خطے کے لوگ مودی کی گانٹھی گرہیں کھول پائیں گے؟ یاکہ نسلِ انسانی کے اپنے ہاتھوں ایک با رپھر، کرہ ارض کیتاریکی میں ڈوبنے اورتہہ در تہہ برف میں لپٹے جانے کا وقت آن پہنچا ہے؟ نا جانے کتنے ارب ہا سالوں کے بعد زندگی یہاں دوبارہ پھوٹے گی!

فرسودہ جرمن لوک داستانوں کے ’عظیم کھیل‘ کا خدا تو کرہ ارض کے انجا م سے ہر بارلطف اٹھاتا ہے۔ مگر ہم جس خدا کی عبادت کرتے ہیں، اپنی تخلیق کے اس قدربھیانک انجام پر اس کے ردّعمل کا بیان ہمارے بس کی بات نہیں۔ یہ تو لیکن ہمیں یاد پڑتاہے کہ یہ وہی تخلیق ہے کہ جس کے خلق سے پہلے بے لوث عبادت کرنے والے فرشتوں نے دست بدست اپنے ربّ سے ملتمس ہو کر اسے اپنے اس ارادے سے باز رہنے کی عرض گزاری تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •